Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»ترک دوست، پرویز مشرف انتقال کرگئےپرویزمشرف اگر پاکستان کےچیف ایگزیکٹو نہ ہوتےتو ترک صدراور وزیراعظم ان کوکبھی شرفِ ملاقات نہ بخشتے
    پاکستان

    ترک دوست، پرویز مشرف انتقال کرگئے

    پرویزمشرف اگر پاکستان کےچیف ایگزیکٹو نہ ہوتےتو ترک صدراور وزیراعظم ان کوکبھی شرفِ ملاقات نہ بخشتے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید5فروری , 2023Updated:5فروری , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    سابق صدر پرویز مشرف
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    پاکستان   کے  سابق صدر پرویز مشرف  جو ترکیہ، اتاترک  اور ترکیہ کے سیاسی نظام سیکولرازم سے بہت متاثر تھے طویل بیماری کے بعد انتقال کرگئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف طویل عرصے سے دبئی کے امریکن اسپتال میں زیرِ علاج تھے۔

    پرویز مشرف 7 اکتوبر 1998ء کو چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے پر فائز ہوئے۔

    پرویز مشرف نے 12 اکتوبر 1999ء کو اس وقت کے وزیراعظم  نواز شریف حکومت کا تختہ الٹ دیا اور  اقتدار  سنبھالنے کے صرف دس روز  بعد ہی ترکیہ کا دورہ کیا۔

    سابق صدر پرویز مشرف

    اس دورے کی اصلی وجہ ان کی ترکیہ سے گہری محبت  تھی   کیونکہ انہوں نے  اپنے   بچپن  کے  چند سال ترکیہ میں گزارے تھے ۔ ان کے والد مشرف الدین صاحب دراصل انقرہ میں سفارتخانہ پاکستان میں اکاونٹنٹ کے طور  پر بھی فرائض ادا کرچکے  تھے جبکہ پرویز مشرف کو یہاں اپنے  ترکیہ میں قیام کے  دوران  اتاترک اور سیکولرازم کے بارے میں جاننے کا موقع میسر آیا۔ پرویز مشرف اتاترک کے برپا کردہ  انقلابات  سے بہت متاثر تھے اور اس کا ذکر   انہوں نے  ہمیشہ اپنے دورہ ترکیہ کے موقع پر کیا۔وہ ترکیہ میں نافذ سیکولرز م کو پاکستان میں بھی متعارف  کروانا چاہتے تھے اور ان کو یقین تھا کہ صرف اسی طریقے سے پاکستان میں انتہا پسندی کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے    لیکن ان کے راستے  میں کئی ایک مشکلات کھڑی  تھیں  جس کی وجہ سے وہ  اسے عملی جامہ  نہ  پہناسکے۔  اپنے ترکیہ میں قیام کے دوران  انہوں نے ترکیہ کے فٹ بال کلب  بیشکتاش  میں بھی گہری دلچسپی لی تھی  اور ان کے کئی ایک میچوں میں شرکت کی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ  جب وہ   ترکیہ کے دورے پر  آئے تو بیشکتاش کلب نے ان کے  لیے  خصوصی پروگرام  مرتب کیا۔

     سابق صدر پرویز مشرف بیشکتاش کلب میں 

    پرویز مشرف کے ساتھ اگرچہ مجھے تین بار انٹرویو  کرنے کا موقع میسر آیا ہے اور انہوں نے ہر بار بڑی محبت اور  خلوص سے  مجھے انٹرویو دیا  شاید اس کی بڑی وجہ ان کے والد صاحب  مشرف الدین  کے ساتھ میرے ذاتی مرسم تھے  ۔  پرویز مشرف  کے والد مشرف الدین صاحب اسلام آباد میں ” ترکیہ پاکستان دوستی کی انجمن کے نائب صدر تھے  جبکہ میں  اس انجمن کا سیکرٹری جنرل تھا اور اس دور میں نیشل  انسٹیٹیوٹ آف ماڈرن  لینگوئج(جو کہ اب یونیورسٹی   میں ڈھل چکا ہے  )  میں ترکی زبان کے لیکچرر کی حیثیت سے   پاک فورسز کےافسران  اور سویلین کو ترکی زبان پڑھایا کرتا تھا۔ اسی وجہ سے راقم کو پرویز مشرف سے رابطہ قائم کرنے  کی وجہ سے کبھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

    سابق صدر پرویز مشرف اور سابق صدر عبللہ گل

    پرویز مشرف  نے اقتدار سنبھالنے  کے فوراً بعد ہی  یعنی دس روز کے اندر اندر ترکیہ کے دورے کی خواہش ظاہر  کرتے ہوئے سب کو حیران کردیا تھا کیونکہ ترکیہ میں   کنعان ایورن کے مارشل لاء کے بعد سویلین   حکومت قائم   ہو چکی تھی  اور لوگ   کنعان ایورن  کے  سویلین اقتدار  پر قبضہ کرنے کی وجہ سے فوج سے  ناراض تھے۔ اس لیے جب  پاکستان کےنئے  چیف ایگزیکٹوکی جانب سے ترکیہ کے دورے کی خواہش  سے آگاہ کیا گیا تو ترک حکام تذبذب کا شکار ہوگئےلیکن وہ پاکستان جیسے دوست اور برادر ملک کو ناراض کرنا بھی نہیں  چاہتے تھےاس لیے انہوں نے بادل ناخواستہ کیونکہ وہ ترک عوام کو  یہ تاثر بھی دینا نہیں چاہتے تھے کہ ترک حکام فوجی ڈکٹیٹر  کی آو  بھگت کررہے ہیں،   انہوں نے بڑی سوچ بچار کے بعد   نئے چیف ایگزیکٹو  پرویز مشرف کے دورہ ترکیہ کرنے کی حامی بھرلی۔ پرویز مشرف نے ترکیہ پہنچنے کے بعد سب سے پہلے اپنے ہردلعزیز رہنما  اتاترک  کے مزرار پر حاضری دی اس کے بعد انہوں نے   صدر سیلمان دیمرل  سے  ملاقات کی۔ یہ ملاقات  بڑی تعمیری اور مثبت  ثابت ہوئی  لیکن صدر دیمرل نے   بڑے نرم اور مشفقانہ  انداز میں پرویز مشرف کو اقتدار   جلد از جلد سویلین کو سونپنے  اور کنعان ایورن کی طرح  کی غلطی  کو نہ دہرانے کی تلقین کی   اور ان پر واضح کردیا کہ فوج میدانِ جنگ میں  اور  سول انتظامیہ  ملکی نظم و نسق   میں کردار ادا کرے تو پھر ہی  ملک ترقی  اورکامیابی  کی جانب گامزن ہوسکتا ہے۔

     سابق صدر پرویز مشرف اور صدر رجب طیب ایردوان

    صدر    سیلمان دیمرل  سے ملاقات کرنے کے بعد   چیف ایگزیکٹو  پرویز مشرف نے ترکیہ کے  اس وقت کے ترکیہ کے ہر دلعزیز  اور فاتح  قبرص وزیراعظم  بلنت ایجوت سے  وزارتِ اعظمیٰ  میں ملاقات  کی۔  (پاکستان دوست ،  ایک سچے سوشلسٹ رہنما ، جو زندگی بھر  عام  سے ایک فلیٹ میں قیام پزیررہے جہاں راقم کو بھی کئی بار جانے کا اتفاق ہوا     ور ان کی اہلیہ  روشن ایجوت  نے ہمیشہ خود  آو بھگت کرنے میں کوئی  کسر نہ چھوڑی   جبکہ پاکستان  کے کسی  وزیر اعظم   تک ہی نہیں   بلکہ وزیر تک رسائی جوئے شیر لانے سے کم نہیں  ہوتی )   بلنت ایجوت عوام دوست انسان تھے جنہیں مارشل لاء سے  شدید نفرت  تھی ، اب ان کے لیے   بڑی  انہونی  صورتِ حال تھی ایک طرف دوست اور برادر ملک پاکستان  تھا  ۔خیر انہوں نے پاکستان کی خاطر یہ  کڑوا گھونٹ بھی نگل لیا  اور پرویز مشرف   سے ملاقات پر رضامندی ظاہر کردی ۔ یہاں پر یہ عرض کردوں  کہ بلنت  ایجوت ترکیہ اپنے دور  کے عظیم سوشلسٹ رہنما تھے  جن کو ترک قوم  ترکیہ کا سب سے ایماندار  وزیراعظم قرار دیتی ہے اور جو ایک  عام سے گھر میں  کسی خدمتگار پر بھروسہ کیے بغیر    زندگی بسر  کرتے تھے۔  بلنت ایجوت انگریزی  زبان  پر بھی مہارت رکھتے تھے ۔ اس لیے پرویز مشرف کے ساتھ ہونے   والی ملاقات   میں   انہوں نے ترجمان کا سہارا  لیے بغیر  پرویز مشرف کو جلد از جلد اقتدار  عوامی نمائندوں کو سوپننے کی تلقین کی اور کہا کہ فوج  کو محاذ پر ملکی سرحدوں کے تحفظ  کی جانب ہی توجہ مبذول  رکھنی چاہیے۔  اسی دورے کے دوران انہوں نے سفارتخانہ پاکستان میں پاکستان کمیونٹی سے خطاب کیا اور کمیونٹی کے سوالات کا جواب بھی بڑی خندہ  پیشانی سے دیے۔  

    سابق صدر پرویز مشرف اور ڈاکٹر فرقان حمید

    پرویز مشرف  کی سب سے اہم خوبی  جو ان کو دیگر لیڈروں سے ممتاز  کرتی ہے  ان کا  ہر سوال کا بڑی خندہ پیشانی سے جواب دینا ہے۔ وہ بڑے صبر و تحمل سے،   غصے کا اظہار کیے بغیر بڑے مدلل طریقے  سے جواب  دینے   کے فن سے آگاہ تھے۔

    ترک عوام دراصل آج بھی پاکستان کے سابق صدر پرویز   مشرف کا بڑے گہرے دل سے احترام کرتی ہے۔اس لیے صدر پرویز مشرف نے  جب بھی ترکیہ کا دورہ کیا ان کو  ترک عوام نے انہیں  بڑی پزیرائی  بخشی،   اس کی وجہ صدر پرویز مشرف کا ترک دوست ہونا اور اتاترک  سے گہری وابستگی کا اظہار کرنا ہے۔

     

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    نوجوان ترک نسل آمرانہ نظام کے ڈیموکریسی پر یقین اور بیلٹ باکس سے ختم کرنے کے لیے تیار

    آمرانہ نظام کوڈیموکریسی سےتبدیل کریں گے:کلیچدار اولو

    Next Article

    پاکستان کا یوم یکجہتی کشمیر پر کشمیریوں کی غیر متزلزل حمایت کا اظہار

    اقوام متحدہ کا کشمیریوں کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت کے لیے قوم کی بھرپور حمایت کا اظہار

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.