Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»ترکیہ کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا جائزہ
    کالم اور مضامین

    ترکیہ کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات کا جائزہ

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید9مئی , 2023Updated:9مئی , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    صدارتی امیدوار
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    )ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار اُردو  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اورقائم  اتحاد   سے متعلق  خبروں، تبصروں اور سروئیز  کو  بلا امتیاز  جگہ دی  جاتی ہے۔ ان تمام خبروں  اور سروئیز کے  ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    تحریر: شبانہ ایاز

    ترکیہ  صدارتی انتخابات کے لیے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے جیسے جیسے 14 مئی قریب آرہا ہے سیاسی جماعتوں اورصدارتی امیدواروں نے اپنے انتخابی کام کو تیز تر کردیا ہے۔

    ترکیہ کی اپوزیشن کے بیانیے کے مطابق اس بار انتخابات اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کے لیڈر کمال کلیچ دار اولو جیتیں  گے۔

    اس حوالے سےآقسوئے  ریسرچ کے بانی آرتن آقسوئے  نے جمہوریت ٹی وی پر اپنا تجزیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات غالباً دوسرے راؤنڈ میں جائیں گے۔

    آقسوئے کے مطابق 6 فروری کے زلزلے کے بعد جب انہوں نے سروے کیا تو  1.2 کی برتری انہوں نے حکمران بلاک کے لئے دیکھی۔ لیکن حزب اختلاف کے کمال  کلیچ دار اولو  کے اس دعوے سے کہ ان کے اقتدار میں آنے کے بعد  ترکیہ کی معیشت بہتر ہوگی سے لوگوں کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے ۔

     انتخابات کے لیے صدر اردوان کے انتخابی وعدوں کا اندازہ لگاتے ہوئے ہوئے آقسوئے  نے کہا کہ قدرتی گیس یا دیگر وعدوں کو عوام میں پسند کرنے کی شرح بہت زیادہ ہے۔ لیکن اس سے لوگوں کی ووٹنگ کے رویے میں کوئی زیادہ تبدیلی نہیں آئی۔ اگر حکومت گزشتہ ماہ لوگوں کو قدرتی گیس کا بل نہ بھیجتی تو اس کا بہت اثر انتخابات کے رزلٹ پر ہو سکتا تھا۔ گزشتہ سال کی آخری سہ ماہی میں حکومت نے کچھ ایسے اقدامات کیے تھے جس سے 4.8 فیصد تک حکومت کے ووٹوں میں  اضافہ دیکھا گیا تھا۔

    انتخابات کا  نتیجہ دوسرے راونڈ  میں: آقسوئے

      ان کے مطابق ترکیہ کی سیاست کی تاریخ رہی ہے کہ الیکشن سے ایک یا دو ہفتے پہلے سرپرائز دیا جاتا ہے، لیکن اس سے بظاہر نہیں لگتا کہ اب ووٹوں میں کوئی بڑی تبدیلی آئے گی۔لیکن عوام کا مزاج بدلتے بھی دیر نہیں لگتی۔

     اس وقت ووٹوں کا ایک قابل ذکر حصہ مسٹر انجے کو جا رہا ہے ۔لوگوں کا یقین بڑھ گیا ہے کہ اپوزیشن جیت جائے گی ۔

     تازہ ترین سروے کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے کہ جو یہ سمجھتے ہیں کہ اپوزیشن جیت جائے گی۔ آقسوئے کے مطابق کلیچ دار اولو کی امیدواری کے اعلان سے پہلے 51 فیصد ووٹروں کا خیال تھا کہ ایردوان اور 49 فیصد لوگوں کا خیال تھا کلیچ دار اولو جیتیں گے۔  صدارتی امیدواروں کا اعلان ہونے کے بعد شرح اس کے برعکس نکلی۔51 فیصد ووٹروں کا خیال تھا کہ کلیچ دار اولو  جیت جائیں گے۔

    صدارتی امیدوار

     اب تک کی تازہ ترین معلومات اور سروے کے مطابق 56 فیصد لوگوں کا یقین ہے کہ اپوزیشن جیت جائے گی۔

    پناہ گزینوں کا معاہدہ اپوزیشن کی انتخابی مہم کا حصہ ہے۔اپوزیشن کا کہنا ہے کہ شامی مہاجرین کو شام واپس جانا چاہئے ۔

    ایردوان کے حریف، کمال کلجدار اولو کا کہنا ہے کہ وہ ‘معاہدے پر دوبارہ گفت و شنید’ کرنا چاہتے ہیں۔ پناہ گزینوں کی صورت حال کے بھاری بوجھ کی وجہ سے، عوام میں شدید بے اطمینانی ہے  اور اپوزیشن کا واضح وعدہ ہے کہ وہ مہاجرین کے مسئلہ  کو حل کرے گی۔

    اس معاہدے پر 18 مارچ 2016 کو یورپی یونین اور ترکی کے درمیان دستخط کیے گئے تھے تاکہ  “یورپ میں غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو کنٹرول کیا جا سکے اور انہیں ترکی کی سرزمین پر رکھا جا سکے۔”

    معاہدے کا دائرہ کافی وسیع ہے۔ سب سے پہلے، پناہ کے متلاشی جو ترکی سے یونان گئے تھے، انہیں واپس ترکی بھیج دیا گیا۔ بدلے میں، یورپی یونین نے ترکی کو 3 بلین یورو (تقریباً 65 بلین TL) ادا کئے تھے۔

     اگر ووٹرز کو یہ یقین ہو گیا کہ ان کا امیدوار جسے وہ سپورٹ کر رہے ہیں،نہیں جیت پائے گا تو ہو سکتا ہے کہ لوگ ووٹ ہی نہ ڈالنے جائیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ میں ووٹ کاسٹ کرنے کے شیڈول کا سپرئم الیکشن کمیشن نے اعلان کردیا
    Next Article انقرہ میں سفیر پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید کی رہائش گاہ پر پاکستان سول ایوارڈز کی تقریب  کاانعقاد
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    8جنوری , 2026

    طاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس

    5جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.