Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»24سال بعد ترک لیرا کی طویل عرصے گرواٹ کا نیا ریکارڈ ، صدر ایردوان اور ان کی کابینہ ڈالر کی اونچی اُڑان روک سکے گی؟ ترکیہ کی تازہ اقتصادی صورتِ حال پر ڈاکٹر فرقان حمید کا تجزیہ
    ترکیہ

    24سال بعد ترک لیرا کی طویل عرصے گرواٹ کا نیا ریکارڈ ، صدر ایردوان اور ان کی کابینہ ڈالر کی اونچی اُڑان روک سکے گی؟

    ترکیہ کی تازہ اقتصادی صورتِ حال پر ڈاکٹر فرقان حمید کا تجزیہ

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید18جون , 2023Updated:18جون , 2023کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    صدر ایردوان اور وزیر خزانہ مہمت شمشیک
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

     

     

     

    بلومبرگ کی تازہ ترین خبروں کے مطابق  ترکیہ میں 24 سال کے طویل عرصے کے بعد پہلی بار اتنی طویل مدت کے دوران  مسلسل ترک لیرے  کی قدرو قیمت میں کمی آتی جا رہی ہے اور یہ سلسلہ  ابھی  بھی جاری ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق گزشتہ ہفتے ڈالر کے مقابلے میں ترک لیرے  میں   11 فیصد کی کمی  دیکھی گئی ہے تو اس ہفتے  اس میں ایک فیصد مزید کمی واقع ہوئی ہے۔

    بلوم برگ

    بلومبرگ کے مطابق   حکومت 18 ماہ میں 200 بلین ڈالر صرف ترک لیرے  کو مستحکم رکھنے کے لیے  خرچ  کرچکی ہے لیکن  اتنی بڑی رقم آگ میں جھونکنے  کے باوحود (ضائع کیے جانے  کے باوجود )   ترک لیرا اپنی ساکھ برقرار نہیں رکھ سکا ہے۔  لیکن اس کے باوجود ترک عوام صدر ایردوان اور ان کی پالیسیوں  پر مکمل بھروسہ کیے ہوئے ہیں۔ 

    ترک عوام کا صدر ایردوان  پر آنکھیں بند کرکے اعتماد کرنا

    صدر ایردوان پر عوام کا آنکھوں بند اعتماد

    کیا وجہ ہے کے عوام  کی بہت بڑی تعداد نے ملک کی خستہ اقتصادی صورتِ حال کے باوجود صدر ایردوان   پر مکمل اعتماد  جاری رکھا ہوا ہے۔   

    میں اس سے قبل کے پروگرام میں بھی  کہہ چکا ہوں کہ ڈیمو کریسی کی  تاریخ میں دنیا میں کوئی ایسا لیڈر موجود نہیں ہے جس نےڈیمو کریسی   کے  اصولوں  کے مطابق   21 برس تک  مسلسل عوام کے دلوں پر حکمرانی کی ہو۔ یہ اعزاز  صرف صدر ایردوان ہی  کو حاصل ہے  اور انہوں نے  2023 کے صدارتی انتخابات بھی  جیتتے ہوئے گینیس بک آف ورلڈ ریکارڈ میں اپنا نام درج کروالیا  ہے۔

    گنیس بک آف ورلڈ ریکارڈ

    صدر رجب طیب ایردوان  نے یہ کامیابی   دراصل  اپنی ماضی کی کامیابیوں کے بل بوتے پر   حاصل کی ہے اور عوام  کو اس بات کا احساس ہے کہ صدر ایردوان نے اس سے قبل  جو وعدے کیے ہیں ان کو پورا کیا ہےکیونکہ ترک سیاستدان  ایردوان سے قبل  ہمیشہ بڑے بلند  و بانگ دعوے کیا کرتے تھے۔ مثلا تانسو چیلر نے انتخابات  جیتنے کے لیے ہر ترک کو ایک گاڑی اور ایک مکان دینے کا وعدہ کیا  تھا ، لیکن  وہ کہتے ہیں ناہ  وہ عدہ  ہی کیا جو وفا  ہو جائے۔   تو یہی  سب کچھ ترک سیاستدانوں کا خاصہ تھا جسے  ایردوان نے تبدیل کرکے رکھدیا۔

    صدر ایردوان کی  جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی  2002 میں   برسر اقتدار آئی تو  ملک کی اقتصادی صورتِ حال  موجودہ صورتِ حال سے بہت سنگین تھی  اور  افراطِ زر کی شرح  آسمان کی بلندیوں  کو چھو رہی تھی یعنی تین   ڈیجٹ190 فیصد کے لگ بھگ افراطِ زر  موجود تھا ۔

    2001 میں ترک لیرا ، لیراں لیراں ہوچکا  تھا

    ایردوان دور سے قبل ترک لیرا

    کیا آپ جانتے ہیں 2001 میں   ایک ڈالر میں کتنے لیرے  تھے ؟ آپ سنیں گے تو حیران رہ جائیں گے۔ سن 2001 میں ترک لیرا،  لیراں  لیراں ہوچکا تھا  اور ایک ڈالر  کے مقابلے میں ترک  لیرے کی قدرو قیمت  ایک ملین دو لاکھ ترک  لیرا تھی  یعنی بوریوں میں ترک لیرے کو جمع کیا جاتا تھا۔

    جی ہاں ۔ جب ایردوان نے  اقتدار سنبھالا تو یہی صورتِ حال  تھی اور اس صورتِ حال سے نکلنے ہی کے لیے عوام نے صدر ایردوان کو ووٹ دیے تھے۔      ایردوان نے  ملک کے عوام کو  اس مشکل سے نکالنے کے لیے ملک کی   اقتصادیات کی جانب خصوصی توجہ دی اور ملک کو   ترقی کی راہ پر گامزن  کردیا  اور  غیر ملکی سرمایہ کاری  کے لیے کھولے جانے والے دروازوں نے ترکیہ کی ترقی  میں بڑا اہم کردارا دا جبکہ  ان سے قبل  ترکیہ  میں کبھی بھی  غیر ملکی سرمایہ کاری  صفر اعشاریہ  چار فیصد یا صفر اعشاریہ پانچ فیصد  سے نہ بڑھی تھی لیکن صدایردوان کے اس اقدام سے   ترکیہ کی تاریخ میں پہلی بار غیر ملکی سرمایہ کاری پانچ فیصد  کی حد  کو بھی عبور کرگئی۔

    تاریخ ساز فیصلہ

    ترک لیرا سے 6 صفر ہٹانے کا تاریخ ساز فیصلہ

    31 دسمبر  2004 کو ایردوان کابینہ نے   ترکیہ  تاریخ کا  منفرد فیصلہ کیا اور  ترک لیرا کی مسلسل گرتی ہوئی ساکھ کو بحال کرنے کے لیے ترک لیرا سے 6  صفر ہٹا دیے گئے اور نیو ٹرکش لیرا کے اجراء  سے  ایک ڈالر  کے مقابلے    1٫34 لیرا کی نئی قدرو قیمت مقرر  کردی گئی۔  

    اس دوران ترکیہ میں  متعارف کردہ اصلاحات  نے یورپی یونین پرمثبت اثرات مرتب کیے اور ترکیہ نے  3 اکتوبر   2005 کو یورپی یونین کی مستقل رکنیت  کے لیے رجوع کیا۔ ترکیہ کا یورپی یونین کی مستقل رکنیت کے لیے رجوع کرنا ہی تھا کہ ترک  کرنسی   نیو ٹرکش  لیرا کی قدرو و قیمت میں  بے حد اضافہ ہوگیا اور ایک ایسا وقت بھی جب   ایک ترک لیرا ایک ڈالر کے قریب پہنچ گیا  جس پر   ترک مصنوعات  فرموں نے  ارزاں نرخوں پر  مال تیار کرنے کے لیے  دوسرے ممالک کا رخ کیا۔ (یہ بھی ایردوان ہی کا دور تھا) جس پر حکومت کومالی پالیسی میں نرمی اختیار  کرنا پڑی۔ یہ ترکیہ کااقتصادی لحاظ سے  سنہری دور  تھا اور یہ سب کچھ ایردوان  ہی کی وجہ سے ممکن ہو ا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ترک عوام  آج بھی آنکھیں بند  صدر ایردوان پر بھروسہ کررہے ہیں۔

    ترک لیرا کی قدرو قیمت میں کمی کا آغاز

    ترک لیرا کی مسلسل گرواٹ

    اور پھر 2008 میں عالمی اقتصادی بحران برپا ہوا  لیکن اس عالمی  بحران کے ترکیہ پر   کوئی  زیادہ منفی اثرات مرتب نہ ہوئے بلکہ صدر ایردوان کے بقول  عالمی اقتصادی بحران، ترکیہ کو چھو کر گزرگیا۔

    تاہم ترکیہ میں  فلاٹنگ کرنسی سسٹم پر عمل درآمد کے نتیجے میں 2013 میں  ترک لیرے کی قدرو قیمت میں  کمی دیکھی گئی اور ایک ڈالر   دو لیرے کے مساوی ہوگیا۔  

    اور  پھر 7 جون 2015 میں ترکیہ میں عام انتخابات سے قبل سیاسی کشیدگی میں اضافے   کے نتیجے میں   ترک لیرے کی قدور قیمت میں مسلسل کمی ہوتی چلی گئی اور  اگست 2015 میں ایک ڈالر  تین لیروں کے مساوی ہوگیا۔

    2017 میں ایک ڈالر میں چار لیرے  اور 24 جون 2018 کے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں پانچ لیرے ایک ڈالر کے مساوی ہوگئے۔

    دیکھا جائے تو ترک لیرے  کی قدرو قیمت میں چند سال تک کوئی زیادہ کمی نہ دیکھی گئی تاہم  نومبر 2020 میں ایک ڈالر 8٫58 کی سطح پر پہنچ گیا اور پھر اسٹیٹ  بینک کے گورنر کو تبدیل کیے جان کے نتیجے میں  ترک لیرا نے ایسی  جمپ لگائی کہ یہ  ایک ڈالر کے مقابلے میں   13٫50 لیرے تک گرگیا اور  پھر دو دسمبر  2021 کو وزیر خزانہ کی تبدیلی نے رہی سہی کسر  بھی پوری کردی  مسلسل  ترک  لیرے کی قدور قیمت میں کمی اور عوام کے  ڈالر خریدنے کی دوڑ نے حکومت کو ڈالر کی خرید کو روکنے کے لیے بند باندھنا  پڑا  اور اس کے لیے حکومت نے currency protection سسٹم  یعنی کرنسی تحفظاتی  نظام  جسے ترکی زبان میں  Kur koruma کہا جاتا ہے نظام متعارف کروایا۔ (اس نظام پر بعد میں کسی پروگرام میں روشنی ڈالوں گا )

    ترکیہ کی تاریخ میں متعارف کروائے جانے والے  اس نئے  نظام  سے اگرچہ فوری طور  عوام کے ڈالر خریدنےکی دوڑ پر تو قابو پالیاگیا لیکن  اس نظام کی بدولت  ترکیہ کی تار یخ میں بڑے منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں اور حکومت کو اس سلسلے میں فرق کو اپنی جیب سے دینا پڑرہا ہےجس کے  منفی اثرات  ترک خزانے  پر مرتب ہو رہے ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous ArticleIMF کے ساتھ مذاکرات, پاکستان کو دیوالیہ کرنے کیلئے عالمی سیاست، مخالف بیرونی قوتیں چاہتی ہیں پاکستان سری لنکا بن جائے۔ وزیر خزانہ پاکستان اسحاق ڈا
    Next Article

    صدر ایردوان نے عید سے قبل عوام کی خوشیوں کو دوبالا کردیا، اصغری (کم از کم ) اجرت 11٫402 ترکش لیرا مقرر کردی

    اب سرکاری ملازمین کی تنخواہ 22 ہزار ترکش لیرا کرنے کا اعلان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.