Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ کی سیاسی تاریخی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری، استنبول سمیت ترکیہ کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پرلامتناہی مظاہرے جاری کیا ایردوان کو امام اولو سے خطرہ لاحق ہے؟کیا امام اولو صدارتی امیدوار ہیں ؟
    ترکیہ

    ترکیہ کی سیاسی تاریخی میں زلزلے کے جھٹکوں کا سلسلہ جاری، استنبول سمیت ترکیہ کے مختلف شہروں میں بڑے پیمانے پرلامتناہی مظاہرے جاری

    کیا ایردوان کو امام اولو سے خطرہ لاحق ہے؟کیا امام اولو صدارتی امیدوار ہیں ؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید20مارچ , 2025Updated:20مارچ , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    استنبول-مظاہرے
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    استنبول کے مئیر  اکرم امام اولو کو حراست میں لیے جانے کے بعد نہ صرف استنبول میں بلکہ انقرہ ، ادانہ، مانیسا  ، بحیر اسود کے شہروں  سمیت  ازمیر  میں درجہ حر      ارت منفی ہونے کے باوجود    شدید مظاہروں کا لا متناہی سلسلہ جاری ہے ۔

    ترکیہ میں طویل عرصے بعد اتنی بڑی تعداد میں مظاہرے دیکھے جا رہے ہیں ۔ ترکیہ کی تمام بڑی بڑی بڑی یونیورسٹیاں  جو بین الاقوامی طور پر  بڑی شہرت رکھتی ہیں اکرم امام اولو کے حق میں مظاہرے جاری  ہیں۔ ترکیہ کی تاریخ میں  شدید سرد ی میں اتنی  بڑی تعداد میں مظاہرے نہیں دیکھے گیے ہیں۔

    یاد رہے 18مارچ  کو اچانک ان کی ڈگری کو رات کے وقت  کالعدم قرار دیے  جانے ( کالعدم قرار دیے جانے کی وجہ  آگے بتائی گئی ہے)  کی اگلی صبح یعنی 19 مارچ  اکرم امام اولو کو بدعنوانی اور ایک دہشت گرد گروہ کی معاونت کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔ اپوزیشن جماعت نے اس گرفتاری پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے ‘اگلے صدر کے خلاف بغاوت کی کوشش’ قرار دیا ہے۔

    ریپبلکن پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما اور استنبول کے میئر اکرم امام اولو کو طویل عرصے سے صدر رجب طیب ایردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ امام اولو نے صدر ایردوان اور ان کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کو اس وقت حیران کن شکست دی تھی جب 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں وہ استنبول کے میئر کے عہدے پر دوبارہ کامیاب ہوئے تھے۔ امام اولو نے استنبول کے شہر پر اپنی حکمرانی برقرار رکھی، جسے ترکیہ کے سیاسی حلقوں میں صدر ایردوان کی ‘بدترین سیاسی شکست’ کے طور پر دیکھا گیا تھا۔

    استنبول ترکیہ کا سب سے بڑا شہر ہے جہاں تقریباً 20 ملین لوگ بستے ہیں، اور یہ شہر ترکیہ کی معیشت، تجارت، سیاحت اور مالیات میں ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔ بہت سے ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ امام اولو 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں بھی کامیابی حاصل کریں گے اور اس کے بعد ان کی سیاسی طاقت میں مزید اضافہ ہوگا۔ اس کے علاوہ، سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ امام اولو ترکیہ کے صدر ایردوان کے لیے ایک بڑا خطرہ بن چکے ہیں، خاص طور پر اس بات کے پیش نظر کہ ایردوان 2023 میں تیسری بار صدر منتخب ہوئے ہیں، اور آئین کے مطابق وہ 2028 کے بعد دوبارہ صدر نہیں بن سکتے۔ تاہم، ان کے ناقدین کا کہنا ہے کہ ایردوان آئین میں ترمیم کر سکتے ہیں تاکہ وہ ایک اور مدت کے لیے صدر بن سکیں۔

    کیا اکرم امام اولو ایردوان کوشکست سے دوچار کرستے ہیں؟

    اکرم امام اولو

    اکرم امام اولو نے بزنس مین کے طور پر اپنی پہچان بنائی اور پھر ترکیہ کی اپوزیشن جماعت سی ایچ پی کے پلیٹ فارم سے سیاسی منظر پر قدم رکھا۔ 2019 کے بلدیاتی انتخابات میں استنبول کے میئر منتخب ہونے کے بعد انہوں نے ایک سیاسی طاقت بن کر ابھرنے کی راہ ہموار کی۔ ان کی کامیابیوں کے بعد، انہوں نے سی ایچ پی کو ایک نیا رنگ و روپ دیا اور اس جماعت کی مقبولیت میں اضافہ کیا۔ امام اولو کی سیاسی حکمت عملی نے ایردوان کے ووٹرز کو بھی اپنی جانب متوجہ کیا، جس سے ایردوان کے لیے یہ خطرہ پیدا ہو گیا کہ امام اولو مستقبل میں صدارتی انتخابات میں کامیاب ہو کر ان کا اقتدار ختم کر سکتے ہیں۔

    امام اولو کی جماعت CHPکے کے صدارتی امیدوار نامزد کرنے کے لیے  23 مارچ کو پارٹی کے صدارتی امیدوار کے انتخابات  ہونے والے ہیں اور ان انقرہ کے مئیر جو اس سے قبل امام  اولو کے حریف سمجھے جا رہے تھے نے امام اولو کے صدر منتخب ہونے کے حق میں ووٹ دینے کا اعلان  کرکے ان کے CHPکے واحد صدارتی امیدوار ہونے کو قبول کرلیا ہے اور اس طرح امام اولو 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے پارٹی کے صدارتی امیدوار کے طور پر منتخب ہوں گے۔

    امام اولو  کی یونیورسٹی ڈگری کالعدم

     18 مارچ کو استنبول یونیورسٹی نے اچانک امام اولو کی ڈگری کو کالعدم قرار دے دیا، کیونکہ ترکیہ کے آئین کے مطابق صدر کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے امیدوار کا یونیورسٹی کا گریجویٹ ہونا ضروری ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ اقدام صدر ایردوان نے امام اولو کو صدارتی انتخابات سے باہر رکھنے کے لیے کیا۔

    جس رات ان کی ڈگری کالعدم قرار دی گئی، اس کے اگلے دن 19 مارچ کو صبح سویرے درجنوں پولیس اہلکاروں نے استنبول میں امام اولو کے گھر پر چھاپہ مارا اور انہیں بدعنوانی کے الزامات میں حراست میں لے لیا۔ جب پولیس اہلکار ان کے گھر کے باہر ان کی حراست  کے لیے موجود تھے، تو امام اولو نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو پوسٹ کی، جس میں انہوں نے بڑے پرعزم الفاظ میں کہا کہ ‘ان کی آواز کو خاموش نہیں کیا جا سکتا، ترک اور دنیا بھر کے جمہوریت پسند افراد ان کے ساتھ ثابت قدم رہیں گے۔’

    استنبول سراچ حانے میں مظاہروں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ

    استنبول-سراچ حانے

    استنبول کے سراچ حانے علاقے میں استنبول کے میئر اکرم امام اولو  کے حراست  میں لیے  جانے  کے بعد بڑے پیمانے پر  احتجاجی مظاہرہ ہوا، جس میں ہزاروں  افراد نے  شدید ردی  جبکہ درجہ حرارت منفی  چار درجے تک گر چکا ہے شرکت کی اور اپنی آواز دنیا تک پہنچانے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    چئیرمین ری پبلیکن پیپلز پارٹی اوزگور اوزیل

    چئیرمین CHPاوزگور اوزیل

      اس موقع پر ری پبلیکن پیپلز پارٹی (CHP) کے چیئرمین اوزگور اوزیل نے عوام سے سڑکوں پر نکلنے کی اپیل کی اور کہا کہ “یہ سڑکیں اور چوک  ہمارے ہیں”۔ اوزیل نے اپنی تقریر میں پولیس کی جانب سےمظاہرین  پر  کیے جانے والے  شدید ردِ عمل کا اظہار کرتے ہوئے  پولیس سے اشتعال انگیزی   سے  دور رہنے کا مطالبہ کرتے ہوئے  عوام سے  سڑکوں پر نکلنے کی کال دی ہے۔ ان کی کال پر ہزاروں کی تعداد میں شدید سردی کے باوجود سڑکوں  پر نکل آئے  اور امام اولو  کے حق میں مظاہرہ کیا ہے۔

    CHP کے چیئرمین اوزیل کے ساتھ انقرہ  کے میئر منصور یاواش بھی اس مظاہرے میں  شامل ہوئے۔ امام اولو  کے حراست میں لیے جانے کے بعد  مئیر انقرہ ،  منصور یاواش نے اپنے بیرون ملک کے تمام پروگرام منسوخ کر دیے اور استنبول واپس آ گئے تاکہ اس احتجاج میں شریک ہو کر عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کر سکیں۔ انہوں نے اسموقع پر خطاب کرتے ہوئے  کہا کہ وہ عوام کے حقوق کا دفاع کرنا  اپنا فرض سمجھتے ہیں ۔

    اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے ری پبلیکن پیپلز پارٹی کے چئیرمین   اوزیل نے کہا کہ وہ  عوامی حقوق کے حصول کے لیے تشدد سے گریز کرتے ہوئے سڑکوں پر اپنے احتجاج کو جاری رکھیں گے۔  انہوں نے کہا کہ ہم سب کا مقصد عوام ک کے  حقوق کا دفاع کرنا ہے اور ہم اپنے حقوق کی بازیابی تک چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  استنبول کے عوام اور ترکیہ کے عوام کی آواز دبائی نہیں جا سکتی، اور اس مظاہرے کے ذریعے یہ واضح ہو گیا کہ عوام اپنے حقوق کے لیے متحد ہیں اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں۔انہوں نے حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ  ہم بڑے صبر و تحمل سے کام لے رہے ہیں  اور عم اپنے عوام کی خطار کسی قسم  کی قربانی دینے   سے دریغ نہیں کریں گے اور عوام کے حقوق کے تحفظ  کے لیے سڑکوں اور گلیوں میں نکلنے کا سلسلہ اور مظاہرہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں گے۔ انہوں نے کہا کہ  یہ مظاہرہ صرف ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ عوامی طاقت اور ان کے حقوق کے لیے ایک واضح پیغام  ہے۔  عوام نے یہ ثابت کیا کہ وہ اپنے حقوق کے دفاع کے لیے کوئی بھی قدم اٹھانے کے لیے تیار ہیں، اور یہ جدوجہد صرف ایک دن کی بات نہیں  ہے بلکہ ، بلکہ ایک طویل المدت مقصد کے حصول کے لیے  ہے۔

    ریپبلکن پیپلز پارٹی (CHP) نے اعلان کیا ہے کہ وہ استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے میئر اکرام امام اولو کی حراست کے جواب میں کل رات ساڑھے آٹھ  بجے 14 میٹروپولیٹن شہروں اور 21 صوبوں میں ایک ریلی نکالے گی۔

    وہ علاقے جہاں ریلی نکالی جائے گی

    میٹروپولیٹن شہر: ادانا، انقرہ، انطالیہ، آیدن، بالیک ایسر، برصا،دینزلی ، ایسکی شہر،  استنبول، ازمیر، مانیسا، مرسین، مولا، تیکرداغ شامل ہیں۔

    ترکیہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں طلبا کے مظاہرے

    طلبا کے مظاہرے

    باسفورس یونیورسٹی کے طلباء نے نارتھ کیمپس سے Hisarüstü تک مارچ کیا اور بڑی تعداد میں انہوں نے  مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    ازمیر میں زیر تعلیم طلباء، جنہوں نے استنبول میٹروپولیٹن بلدیہ کے میئر ایکرم امامو اولو کی حراست پر ردعمل ظاہر کیا، بورنووا بیوک پارک میں یکجا ہوئے ۔ طلباء جو آق پارٹی  کے صوبائی ہیڈ کوارٹر کی طرف مارچ کرنا چاہتے تھے انہیں پولیس کی مداخلت کا سامنا کرنا پڑا۔

    طلبا کے مظاہرے

    استنبول میٹروپولیٹن میونسپلٹی کے میئر اکرام امام اولو کی حراست پر ملک بھر میں ردعمل جاری ہے۔ انقرہ یونیورسٹی کے طلباء نے کیمپس میں اپنا احتجاج مکمل کرنے کے لیے یونیورسٹی سے باہر نکلنے کی کوشش کرتے ہوئے رکاوٹوں پر قابو پانے کی کوشش کی۔ طلباء پر آنسو  گیس کا استعمال کیا گیا  اور  چند  طلباء کو حراست میں لے لیا گیا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ کی سیاست میں مئیر استنبول کے حراست میں لیے جانے پر شدید بھونچال ، مئیر استنبول ، اکرم امام اولو 106 ساتھیوں سمیت حراست میں

    ترکیہ کے مختلف شہروں انقرہ، استنبول اور ازمیر میں مظاہرے جاری

    Next Article

    امام اولو نے ایردوان کے اقتدار کو ہلا کر رکھ دیا ، سینٹرل بینک کے 10 ارب ڈالر مارکیٹ میں جھونکنے کے باوجود کرنسی کی قدر میں 12 فیصد گراوٹ

    23 مارچ CHPکے صدارتی امیدوار کا انتخاب اور مظاہرے ایک ساتھ

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.