Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»
    پاکستان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید13اگست , 2025Updated:13اگست , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر : ڈاکٹر فرقان حمید

    دنیا میں بعض رشتے تاریخ کی کتابوں میں قید ہو کر محض یادگار بن جاتے ہیں، اور بعض رشتے وہ ہوتے ہیں جو صدیوں کی گرد سے نہ صرف محفوظ رہتے ہیں بلکہ وقت کے ساتھ مزید تابناک ہو جاتے ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان کا تعلق محض دو ریاستوں کا باہمی تعاون نہیں، بلکہ یہ دو روحوں کا ملاپ ہے، دو دلوں کی دھڑکن ہے، اور دو  اقوام  کی وہ رفاقت ہے جس کی بنیاد محبت، قربانی، اخلاص، اور برادرانہ ایثار پر استوار ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ

    یہ تعلق اُس وقت کا ہے جب پاکستان کا تصور ابھی نقشہء عالم پر نمودار نہیں ہوا تھا۔ برصغیر کے مسلمان، جن کے دل خلافتِ عثمانیہ کی محبت سے لبریز تھے، انہوں نے اپنی جمع پونجی، اپنے زیورات، حتیٰ کہ اپنے مکان و دکان  بیچ کر خلافتِ عثمانیہ کے دفاع کے لیے عطیات بھیجے۔ تحریکِ   خلافت کے عنوان سے برپا ہونے والی یہ بے مثال مہم تاریخِ عالم کی وہ روشن مثال ہے جہاں  ایک  سلطنت کی بقاء کے لیے برصغیر پاک و ہند  کے مسلمان سینہ سپر ہو گئے۔

    بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح

    اور اس طرح جب 14 اگست 1947 کو پاکستان معرضِ وجود میں آیا تو ترکیہ ان اولین ممالک میں شامل تھا جنہوں نے اسے نہ صرف تسلیم کیا بلکہ ایک برادر اسلامی ریاست کی حیثیت سے گلے لگایا۔ اس کے بعد وقت نے بے شمار کروٹیں بدلیں، حکومتیں آئیں اور گئیں، عالمی حالات تبدیل ہوئے، مگر پاکستان اور ترکیہ کے مابین تعلقات میں کبھی بھی محبت اور اخوت کی گرمی کم نہ ہوئی۔جب بات ترکیہ اور پاکستان کی ہو، تو جذبہ رسمی نہیں، خالص ہوتا ہے۔ ترکیہ کے ساتھ  ہمارے انتہائی گہرے مراسم گزشتہ 76 سال سے تسلسل سے قائم ہیں۔ ترکیہ اور پاکستان میں دوستی کا باضابطہ معاہدہ 1951ء اور باہمی تعاون کا معاہدہ 1954ء میں وجود میں آیا ۔

    پاک -ترک مثالی تعلقات

    ترکیہ نے جب کبھی بھی پاکستان کو مشکلات میں گھرا ہو دیکھا ہے اس نے فوری طور پر  اپنے اس دوست اور برادر ملک کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ پاکستان کے حکمران بھی ہمیشہ ترکیہ کی مخلصانہ مدد اور تعاون کو مشکور نظر سے دیکھتے رہے ہیں۔ترکیہ اور پاکستان  کے  تعلقات ہمیشہ مثالی رہے ہیں جہاں ترکیہ ہمیشہ مسئلہ کشمیر پر پاکستان کے مؤقف کی غیر مشروط  اور کھل کر حمایت کرتا رہا ہے وہیں پاکستان نے مسئلہ قبرص پر ترکیہ کا بھرپور ساتھ دیا۔ اسی لیے تو ترک پاکستانیوں کو اپنا سچا اور  بے لوث دوست اور برادر سمجھتے ہیں۔  مسئلہ کشمیر  اور مسئلہ قبرص  کے بارے میں دونوں ممالک ایک دوسرے ملک کی  موقف کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔ مسئلہ کشمیر  کے حل میں مددگار ہونے اور بین الاقوامی  پلیٹ فارم پر  پاکستان کا بھر پور ساتھ دینے کے لحاظ سے  شاید ہی کسی دیگر ملک نے پاکستان کی اس قدر کھل کر حمایت کی ہو جس قدر ترکیہ نے کی ہے۔ترکیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے لے دنیا کے مختلف بین الاقوامی اداروں میں تنظیم اسلامی  کانفرنس کے  کشمیر کمیٹی  کے چیرمین ہونے کے ناطے جو کرداد ادا کیاہےاور  ہندوستان کی ناراضگی کی  ذرہ بھر   بھی پرواہ نہ کرتے ہوئے پاکستان کے موقف کی جس طریقے سے ترجمانی کی ہے شائد ہی کسی دیگر ملک نے کی ہو۔

    صدر ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف

     مسئلہ کشمیر پر صدر رجب طیب ایردوان کی تقریریں، اقوام متحدہ میں پاکستانی موقف کی دوٹوک حمایت، اور بھارتی مظالم پر ان کا کھرا مؤقف صرف سفارتی لب و لہجہ نہیں بلکہ بھائیوں کی طرح کلمۂ حق کہنا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان دونوں ممالک کو “ایک قوم، دوریاستیں ” “Tek millet, iki devlet”کہنے کے علاوہ   اردو میں ” یک جان دو قالب “Bir can iki kalp بھی کہا جاتا ہے۔

      اس طرح قبرصی ترک  جو  1974 ء  کی قبرص جنگ میں تنہا رہ گئے تھے صرف پاکستان  ہی   نے اپنے ترک بھائیوں کی جانب مدد کا ہاتھ بڑھایا تھا۔ پاکستان نے قبرص کی  جنگ کے موقع پر اپنے جنگی طیاروں کو  ترکی کی نگرانی میں دینے کے بارے میں جو کھلا چیک دیا تھا   اور  بعد میں پاکستان  نے  شمالی قبرصی ترک جمہوریہ کا  بیورو (سفارت خانے کی سطح   کا دفتر) کھولتے ہوئے اپنی دوستی کی مہر ثبت کردی تھی  اور آج تک  مسئلہ قبرص  سے متعلق پاکستان کی قبرص سے متعلق پالیسی میں ذرہ بھر  بھی  کوئی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ترکیہ اور پاکستان کے درمیان گہرے، لازوال اور بے مثال تعلقات دونوں ممالک کے عوام کیلئے ایک ایسا اثاثہ ہیں جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔

    پاک ترک تعلقات بلندیوں  پر

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان

    ترک صدر رجب طیب ایردوان پاکستان  کے بہت ہی گرویدہ انسان ہیں۔ وہ پاکستان کے قومی شاعر  علامہ محمد اقبال کی شاعری اور فلسفے سے بہت متاثر ہیں اور اسی وجہ سے جب بھی انہیں جلسہ عام میں  خطاب کرنے کا موقع میسر آتا ہے  وہ علامہ اقبال کے اشعار  کو اس طریقے سے پیش کرتے ہیں کے پورے مجمعے کو اقبال کے سحر میں کھونے پر مجبور کردیتے ہیں۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی  کے موقع پر  جب  بیشتر اسلامی ممالک نے خاموشی اختیار کی یا رسمی بیانات پر اکتفا کیا تو وہیں ترک صدر رجب طیب ایردوان نے دو ٹوک انداز میں پاکستان کے حق میں آواز بلند کی۔ اُن کا کھل کر اور واضح انداز میں پاکستان کی حمایت کا اعلان وہ تاریخی لمحہ تھا جس نے پاکستانی عوام کے دل جیت لیے۔ ترک صدر نے کسی سفارتی لفاظی یا نپی تلی زبان کے بجائے، برادرانہ محبت اور اخلاص سے بھرپور انداز میں پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی اور وزیراعظم شہباز شریف کو “اپنا بھائی” قرار دے کر تعلقات میں جذباتی گہرائی کا اظہار بھی کیا۔

    ترکیہ کی حمایت صرف زبانی یا علامتی نہیں رہی۔ جنگ کے دوران پاکستان کی جانب سے ترکیہ کے تیار کردہ جدید ترین ڈرونز کا استعمال ایک عملی مثال بن کر سامنے آیا۔ ان ڈرونز نے بھارتی تنصیبات کو کامیابی سے نشانہ بنایا، اور دشمن کو واضح پیغام دیا کہ پاکستان تنہا نہیں۔ ان ڈرونز کی بدولت پاکستان کو نہ صرف عسکری برتری حاصل ہوئی بلکہ دشمن کے حوصلے بھی پست ہوئے۔ اس اسٹریٹجک تعاون نے واضح کر دیا کہ ترکیہ، پاکستان کے لیے صرف جذباتی حمایت پر اکتفا نہیں کرتا، بلکہ عملی میدان میں بھی کندھے سے کندھا ملا کر کھڑا ہے۔

    جب دنیا کی بڑی طاقتیں( چین کو چھوڑ کر ) اور اسلامی ممالک مصلحتاً  خاموشی اختیار  کیے ہوئے تھے، ترکیہ وہ واحد اسلامی ملک تھا جس نے پاکستان کی مکمل اور ببانگ دہل حمایت کی۔ چاہے سفارتی محاذ ہو یا میڈیا، چاہے عسکری تعاون ہو یا عوامی ہمدردی، ہر ہر سطح پر ترکیہ نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان  میں ترکیہ کا سر فخر سے بلند ہے۔ ترک حکومت اور عوام نے ایک بار پھر ثابت کر دیا کہ ترکیہ صرف ایک ملک نہیں، ایک نظریہ ہے ،  اُمتِ مسلمہ کے اتحاد، غیرت، اخوت اور وفاداری کا نظریہ۔

    شہباز – ایردوان قاردیش

    وزیراعظم شہباز شریف- صدر ایردوان

    صدر ایردوان  کے دل میں پاکستان کے موجودہ وزیراعظم  شہباز شریف کے ساتھ اس وقت سے گہرے، برادرانہ اور دوستانہ مراسم قائم چلے آرہے ہیں جب وہ صوبہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ۔

    راقم کو اچھی طرح یاد ہے ایردوان جو  اس وقت مسندِ وزاتِ  اعظمیٰ پر فائض  تھے   اور راقم   اُردو مترجم   کے طور پر  فرائض  کررہا تھا  وزیرعلیٰ اعلی شہباز شریف  اور وزیراعظم  رجب طیب ایردوان کے  درمیان  ہونے والی   ملاقات کےموقع پر   وزیراعظم ایردوان   کے ان الفاظ کو کبھی ذہن  سے نہیں جھٹک سکا ہے  جو انہوں نے  شہباز شریف کے بارے میں کہے تھے ”  میرا بھائی شہباز  دنوں ممالک کے درمیان تعاون کو جلد از جلد عملی شکل دینا چاہتا ہے ۔  میں نے اپنے پاکستانی بھائیوں  میں صرف  شہباز ہی کو عملی اقدامات  اٹھانے کے معاملے میں  بڑا  جلدباز پایا ہے اور  مجھے یقین   ہے  وہ ضرور اپنے مقصد میں کامیاب ہوں گے” ترکی کے اس وقت کے وزیراعظم  ایردوان نے کہا تھا کہ  ” پاکستان ہمارے لیے سب سے بڑھ کر  ہے  اور ہم  پاکستان    کے لیے وہ کچھ کرسکتے ہیں جو  کوئی دیگر ملک سوچ بھی نہیں سکتا۔ “

    پاکستان کے عوام آج جب ترکیہ کے ان جذبوں، امداد، عسکری تعاون اور اخلاقی حمایت کو دیکھتے ہیں، تو اُن کے دل فخر سے لبریز ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستانی نوجوان ترکیہ کے جھنڈے کے رنگ اپنے چہروں پر سجاتے ہیں تو  ترک نوجوان  “جیوے جیوئے پاکستان ”  قومی نغمہ گنگنا کر اور خوشی سے سرشار ہو کر پاکستان کی فتح کو اپنی فتح  قرار دیتے ہیں۔ 

    پاک -ترک تعلقات کو فروغ دینے میں سفیرِ پاکستان کا کردار

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید صدر ایردوان کے ساتھ

    ترکیہ میں پاکستان کے  سفیر  ڈاکٹر یوسف جنید  جو اس سے قبل طویل  عرصے سے   استنبول میں  قونصلر جنرل  کے طور پر  فرائض ادا کرچکے ہیں اور انہوں نے استنبول میں اپنے  اس قیام کے دوران ترکیہ کے  تمام ہی اعلیٰ حکام کے ساتھ  اپنے دوستانہ اور برادرانہ  مراسم استوار کیے   اور ان کے ساتھ  ہمیشہ ہی  ترکیہ سے دور ہونے کے دور میں بھی اپنے  اس رابطے کو جاری رکھا  جس کو وہ موجود دور میں سفیر پاکستان ہونے کے ناتے بڑی  خوش اسلوبی  سے استعمال  کررہے ہیں ۔انہوں نے   جس  طرح بڑے  پیمانے پر پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو فروغ دینے کے لیے  مختلف تقریبات کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے وہ اپنی مثال آپ ہے۔ انہوں نے  جس طریقے سے پاکستانی طلبا   کے ترکیہ کی مختلف یونیورسٹیوں میں اسکالر شپ  دلوانے اور ان کی تعداد میں اضافہ کرنے میں جو کامیابی حاصل کی ہے اس کے اثرات کو ترکیہ میں  پاکستانی طلبا کی بڑھتی ہوئی تعداد  سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ سفیر پاکستان نے  جس طریقے سے ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی شعبے میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے اپنی کاوشیں صرف کی ہیں ہم سب نے ان  کی ان کوششوں کوپاک بھارت کشیدگی کے دوران  ترکیہ کے پاکستان کے ساتھ گہرے تعاون اور بھارت کی جانب سے ترکیہ  کے خلاف بڑے پیمانے پابندیاں لگانے کی مہم کے دوران واضح  طور پر  محسوس کیا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ ان  کے اعلیٰ ترک حکام کے ساتھ قریبی مراسم  کا ہونا ہے  اور اس طرح  ان کو  پاک ترک تعلقات کو    بلندیوں تک پہنچانا ہے۔ سب نے دیکھا ہوگا  کہ یومِ پاکستان اور دیگر تمام ہی تقریبات میں اتنی بڑی تعداد میں اعلیٰ  ترک حکام شرکت کرتے ہیں  جس سے دیگر ممالک کے سفرا ء حیران و ششدر ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں ترک حکام کی  سفیر پاکستان کی تقریب میں شرکت   سے ترکوں کے دلوں میں    پاکستان کی اہمیت اور پاکستان سے دلی محبت اور چاہت کا اظہار ہوتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ترکیہ کے وزیر خارجہ حقان فیدان اور وزیر قومی دفاع یشار گیولر کا پاکستان کا اہم دورہ: خطے میں اسٹریٹجک شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہو رہا ہے

    بھارت میں ترک وفد کی پاکستان آمد سے کھلبلی اور افرا تفری پیدا ہوگئی

    Next Article ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں یومِ آزادی پاکستان کی تقریب ملی جوش و جذبے سے منائی گئی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.