Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»6 ستمبر 1965 یومِ دفاع پاکستان ، جنگی ،عظمت، قومی اتحاد کا ناقابلِ فراموش دن جس نے معرکہ حق کی بنیاد رکھی اور اپنی فتح کی مہر ثبت کردی
    پاکستان

    6 ستمبر 1965 یومِ دفاع پاکستان ، جنگی ،عظمت، قومی اتحاد کا ناقابلِ فراموش دن جس نے معرکہ حق کی بنیاد رکھی اور اپنی فتح کی مہر ثبت کردی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید5ستمبر , 2025Updated:5ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    پاک فوج جس نے دنیا پر اپنی مہر ثبت کردی
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    ایک ناقابلِ فراموش دن

    6 ستمبر یومِ دفاع پاکستان

    پاکستان کی تاریخ میں 6 ستمبر 1965ء وہ دن ہے جو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ یہ محض ایک عسکری دن نہیں بلکہ قومی غیرت، اجتماعی اتحاد اور دفاعی عظمت کا استعارہ ہے۔ اس دن دشمن نے رات کی تاریکی میں جارحیت کی، لیکن ایک چھوٹا اور نوزائیدہ ملک اپنے محدود وسائل کے باوجود ایسی جرات اور بہادری سے کھڑا ہوا کہ دنیا حیران رہ گئی۔

    بھارتی جارحیت اور پاکستان کا دفاع

    6 ستمبر کی صبح جب بھارتی افواج نے لاہور اور سیالکوٹ کے محاذوں پر بھرپور حملہ کیا تو ان کا مقصد پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کو نقصان پہنچانا اور لاہور کو فتح کر کے دنیا کو پیغام دینا تھا کہ پاکستان ایک کمزور ملک ہے۔ مگر پاکستانی افواج نے دشمن کی پیش قدمی روک کر ثابت کیا کہ دفاعی حکمت عملی اور عوامی اتحاد کسی بھی بڑے جارح کے خوابوں کو توڑ سکتے ہیں۔

    لاہور کا محاذ: عزیمت کی مثال

    بھارتی افواج نے لاہور پر قبضے کی بھرپور کوشش کی، لیکن پاک فوج نے شدید مزاحمت کرتے ہوئے دشمن کے خواب چکنا چور کر دیے۔ برکی اور چونڈہ کے معرکے اس جنگ کی سب سے روشن مثالیں ہیں، جہاں پاکستانی فوجیوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے سرحدوں کو محفوظ بنایا۔ لاہور کے شہری بھی اپنی افواج کے ساتھ کھڑے ہوئے اور یہ معرکہ ایک قومی جدوجہد کی صورت اختیار کر گیا۔

    سیالکوٹ اور چونڈہ کی لڑائی

    ٹینکوں کی جنگ

    سیالکوٹ کے محاذ پر ہونے والی چونڈہ کی لڑائی دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگوں میں شمار ہوتی ہے۔ بھارت نے سینکڑوں ٹینک جھونک دیے، مگر پاکستانی جوانوں نے نہ صرف اس پیش قدمی کو روکا بلکہ دشمن کو بھاری نقصان اٹھانے پر مجبور کیا۔ اس معرکے نے یہ ثابت کر دیا کہ جذبہ ایمان اور حب الوطنی جدید ترین جنگی مشینری پر بھی بھاری پڑ سکتا ہے۔

    فضائی جنگ اور ایم ایم عالم کا کارنامہ

    پاک فضائیہ

    پاکستان ایئر فورس نے 1965ء کی جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا۔ سکواڈرن لیڈر ایم ایم عالم نے ایک منٹ سے بھی کم وقت میں دشمن کے پانچ طیارے مار گرائے، جو آج بھی فضائی تاریخ کا ایک ناقابلِ شکست ریکارڈ ہے۔ پاک فضائیہ کی برتری نے نہ صرف زمینی افواج کی مدد کی بلکہ قوم کے حوصلے بھی بلند کر دیے۔

    بحریہ کا دوارکا پر حملہ

    پاک بحریہ

    پاک بحریہ نے بھی دشمن کو حیران کر دیا۔ بھارتی ساحلی شہر دوارکا پر حملہ پاک بحریہ کی تیاری، جرات اور حکمت عملی کی روشن مثال تھا۔ اس کارروائی نے بحیرہ عرب میں بھارتی منصوبوں کو ناکام بنا دیا اور پاکستان کی سمندری حدود کو محفوظ بنایا۔

    عوامی اتحاد: ایک سیسہ پلائی دیوار

    پاک فوج

    یہ جنگ صرف فوجی معرکہ نہیں تھی بلکہ ایک قومی جدوجہد تھی۔ پاکستانی عوام نے خون کے عطیات دیے، شہریوں نے رضاکارانہ خدمات انجام دیں، خواتین نے زخمیوں کی تیمارداری کی اور بچوں نے فوج کے لیے چندہ جمع کیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت تھا کہ 1965ء کی جنگ فوج اور عوام کے اتحاد کی بدولت لڑی اور جیتی گئی۔

    سیاست اور عالمی منظرنامہ

    پاکستان نے اس جنگ میں عالمی برادری کو یہ پیغام دیا کہ وہ اپنی بقا اور دفاع کے لیے ہر قربانی دینے کو تیار ہے۔ اگرچہ بڑی طاقتیں خاموش رہیں، لیکن پاکستان کی سیاسی قیادت نے دنیا کے سامنے جارحیت کو بے نقاب کیا۔ اس مؤقف نے عالمی رائے عامہ کو متاثر کیا اور پاکستان کی خارجہ پالیسی کو نئی جہت دی۔

    ثقافتی و ادبی پہلو

    1965ء کی جنگ نے پاکستانی ادب اور ثقافت کو بھی نئی توانائی بخشی۔ ریڈیو پاکستان سے نشر ہونے والے ملی نغمے مثلاً “ایہہ پتر ہٹاں تے نئیں وکدے” اور “اے راہِ حق کے شہیدو” آج بھی دلوں کو گرماتے ہیں۔ شعرا نے اپنی تخلیقات کے ذریعے عوام کے جذبے کو بلند کیا اور مصوروں نے اپنی تصویروں میں جنگی عزم کو امر کر دیا۔ یوں یہ جنگ ایک ثقافتی علامت بھی بن گئی۔

    اعزازات اور شہداء کی یادگار

    اس جنگ میں پاکستان کے کئی سپوتوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ نشانِ حیدر اور دیگر اعلیٰ فوجی اعزازات انہی شہداء کی قربانیوں کا اعتراف ہیں۔ یہ اعزازات نہ صرف ایک فوجی روایت ہیں بلکہ قومی یادداشت کا حصہ ہیں جو آنے والی نسلوں کو قربانی اور وفاداری کا سبق دیتے ہیں۔

    10 مئی 2025 کی فضائی کامیابی: تسلسل کی علامت

    پاک فضائیہ

    حال ہی میں 10 مئی 2025ء کو پاک فضائیہ نے ایک بار پھر دنیا کو حیران کیا جب بھارتی جارحیت کا جواب دیتے ہوئے 6 بھارتی طیارے ان کی حدود ہی میں مار گرائے۔ یہ کامیابی 1965ء کی یاد تازہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی ظاہر کرتی ہے کہ پاکستان آج بھی اپنے دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار اور مستحکم ہے۔ دنیا کے کئی ممالک نے اس کے بعد اپنی فضائیہ کی تربیت کے لیے پاکستان کا رخ کیا، جو پاک فضائیہ کی پیشہ ورانہ مہارت کا عالمی اعتراف ہے۔

    جنگی حکمت عملی اور کمانڈروں کا کردار

    اس جنگ میں ایئر مارشل نور خان، ایئر مارشل اصغر خان اور دیگر جرنیلوں کی حکمت عملی قابلِ ذکر ہے۔ انہوں نے اپنی بہترین منصوبہ بندی کے ذریعے ایک کم وسائل رکھنے والی فوج کو اس مقام پر پہنچایا کہ اس نے بڑے دشمن کو میدان میں ناکام بنا دیا۔ یہی قیادت پاکستان کی عسکری تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

    قومی فتح کی ہمہ گیر معنویت

    پاک فوج

    ستمبر 1965ء کی جنگ محض ایک فوجی معرکہ نہیں تھی بلکہ یہ پاکستان کی قومی تاریخ کا ایسا لمحہ ہے جس نے عسکری عظمت، سیاسی بصیرت، عوامی اتحاد اور ثقافتی توانائی کو یکجا کر دیا۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ جب قوم متحد ہو تو بڑے سے بڑا دشمن بھی ناکام ہوتا ہے۔ آج بھی یہ دن ہمیں یقین دلاتا ہے کہ پاکستان کی سرزمین مضبوط ہاتھوں میں ہے اور اس کے دفاع کے لیے قوم اور فوج ایک ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    ڈاکٹر جمال سانگو: پاک-ترک دل کی دھڑکن، مقبولیت کا منفرد باب، ثقافت اور تہذیب کا سفیر، پاکستان اور ترکیہ دوستی کا لازوال نشان

    الوداع قونصلر جنرل جمال سانگو ، پاکستان آپ کو miss کرے گا

    Next Article

    ترکیہ، پاک ا فوا ج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے ،ترکیہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا: وزیرقومی دفاع یشار گیولر

    پاک-ترک تعلقات سفارتی بیان نہیں ، دلوں کی دھڑکن ہیں : سفیر پاکستان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.