Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان کمیونٹی»ترکیہ، پاک ا فوا ج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے ،ترکیہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا: وزیرقومی دفاع یشار گیولر پاک-ترک تعلقات سفارتی بیان نہیں ، دلوں کی دھڑکن ہیں : سفیر پاکستان
    پاکستان کمیونٹی

    ترکیہ، پاک ا فوا ج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے ،ترکیہ ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا: وزیرقومی دفاع یشار گیولر

    پاک-ترک تعلقات سفارتی بیان نہیں ، دلوں کی دھڑکن ہیں : سفیر پاکستان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید6ستمبر , 2025Updated:6ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    یومِ دفاع و شہداء پاکستان، انقرہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

     

    6 ستمبر1965ء یومِ دفاع و شہداء پاکستان

    6 ستمبر1965ء یہ محض ایک تاریخ نہیں، یہ وہ چراغ ہے جو ہر پاکستانی دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے۔ یہ وہ دن ہے جب زمین کے ذرے ذرے نے گواہی دی کہ مادرِ وطن کے سپوت اپنے لہو سے سرحدوں کو سینچ کر آزادی کے گلشن کو ہمیشہ شاداب رکھتے ہیں۔ یومِ دفاع قربانی کی وہ لازوال کہانی ہے جسے وقت کی گرد مٹا نہیں سکی، اور نہ کبھی مٹا سکے گی۔

    6 ستمبر1965ء یومِ دفاع و شہداء پاکستان

    اسی دن کی یاد کو زندہ رکھنے کے لیے ترکیہ کے دل، انقرہ میں پاکستانی سفارت خانے کی فضاؤں میں پاکستان اور ترکیہ کی برادری کی دھڑکنیں ایک ساتھ سنائی دیں۔ یہ تقریب محض سفارتی اجتماع نہیں تھی بلکہ دو  اقوام  کے ایک دل اور ایک دھڑکن ہونے کا جیتا جاگتا ثبوت تھی۔

    پاکستان کی تاریخ کا ہر ورق قربانیوں اور عزم و حوصلے کی لازوال داستانوں سے لبریز ہے۔ 6 ستمبر 1965 صرف ایک دن نہیں بلکہ یہ پاکستان کی تاریخ میں جرأت و بہادری کی ایسی علامت ہے جس نے قوم کو وحدت کے اٹوٹ رشتے میں پرو دیا۔ اسی دن پاکستانی قوم اور مسلح افواج نے اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن کی جارحیت کو روک کر دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔ یہی دن ہر سال یومِ دفاع و شہداء پاکستان کے طور پر منایا جاتا ہے تاکہ اُن عظیم جان نثاروں کو یاد کیا جا سکے جنہوں نے وطنِ عزیز کی حفاظت میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔

    انقرہ میں شایانِ شان تقریب

    6 ستمبر1965ء یومِ دفاع و شہداء پاکستان

    امسال بھی ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں سفارت خانہ پاکستان نے یومِ دفاع و شہداء پاکستان عقیدت و احترام کے ساتھ منایا۔ یہ تقریب نہ صرف پاکستانیوں کے لیے ایک یادگار موقع تھی بلکہ ترکیہ اور پاکستان کے دیرینہ رشتوں کی تازہ تجدید بھی ثابت ہوئی۔ اس موقع پر پاکستان کی مسلح افواج کی جرأت، قربانیوں اور مادرِ وطن کے دفاع کے لیے غیر متزلزل عزم کو شاندار خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔

    مہمانانِ خصوصی کی شرکت

    مہمانِ خصوصی وزیر قومی دفاع یشار گیلور

    تقریب کی عظمت میں اضافہ اس وقت ہوا جب ترک وزیرِ قومی دفاع عزت مآب یاشار گیولر بطورِ مہمانِ خصوصی شریک ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ رکنِ پارلیمنٹ برہان قایا ترک، رکنِ پارلیمنٹ سراپ یازیجی، چیف آف جنرل اسٹاف جنرل سلجوق بائرکتار اولو، کمانڈر آف ترک لینڈ فورسز جنرل متین توک ایل،  کمانڈر آف ترک ایئر فورس جنرل ضیاء جمال قاضی اولو، سابق نائب وزیراعظم بلنت آرنیچ سمیت بڑی تعداد میں ترک عسکری و سول حکام، غیر ملکی سفیروں، ملٹری اتاشیوں، میڈیا نمائندگان اور ترکیہ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے نمائندگان نے شرکت  کی ۔ یہ اجتماع اس بات کی جیتی جاگتی دلیل تھا کہ پاکستان اور ترکیہ  کا رشتہ صرف الفاظ یا دعوؤں تک محدود نہیں، بلکہ عملی حقیقت ہے جسے ہر موقع پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔

    پاک-ترک تعلقات کا روشن مستقبل  اور  غیر متزلزل یکجہتی

    وزیر قومی دفاع یشار گیولر

    مہمانِ خصوصی وزیرِ قومی دفاع یاشار گیولر نے اپنے کلیدی خطاب میں پاکستان اور ترکیہ کے گہرے اور برادرانہ تعلقات کو خراجِ تحسین پیش  کرتے ہوئے پاکستان کے ساتھ اپنے دلی تعلق کو بڑے پُرجوش انداز میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ، پاکستان کی مسلح افواج کی قربانیوں کو سلام پیش کرتا ہے اور ہر مشکل گھڑی میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا رہے گا۔ انہوں نے مشترکہ دفاعی منصوبوں، تربیتی تعاون اور انسدادِ دہشت گردی کے اقدامات کو مزید آگے بڑھانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ ساتھ ہی پاکستان میں سیلاب کے باعث ہونے والے نقصانات پر گہری ہمدردی اور دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ترک عوام کی دعاؤں اور نیک خواہشات کا پیغام بھی دیا۔ ان کے الفاظ یہ واضح کرتے ہیں کہ پاک-ترک تعلقات محض سفارتی بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی اقدامات پر مبنی ہیں۔

    سفیرپاکستان کا خطاب: 1965 کا معرکہ ،  تاریخ کا روشن باب

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید

    پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جُنید نے اپنے خطاب میں سامعین کو 1965 کی جنگ کے اس تاریخی دن کی یاد دلائی۔ انہوں نے کہا “یہ دن پاکستانی قوم اور مسلح افواج کے اتحاد، عزم اور جرأت کی علامت ہے۔ 6 ستمبر 1965 کو ایک عددی اعتبار سے کہیں بڑی دشمن فوج نے پاکستان پر بلااشتعال حملہ کیا، لیکن ہماری مسلح افواج نے عوام کی غیر متزلزل حمایت کے ساتھ بھرپور جواب دیا اور مادرِ وطن کے ہر انچ کا دفاع کیا  جسے  تاریخ کے صفحات پر سنہری حروف سے لکھا گیا ہے  یہ دن ہماری جرأت، اتحاد اور قربانی کی لازوال نشانی ہے۔”

    معرکۂ حق  اور  حالیہ کامیابی

    دفاعی اتاشی ائیر کموڈور عمران نور نیازی

    سفیر پاکستان نے حالیہ “معرکۂ حق” کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جیسے 1965 میں دشمن کو سبق سکھایا گیا، ویسے ہی حالیہ بھارتی جارحیت کا جواب بھی بھرپور قوت اور غیر معمولی ضبط کے ساتھ دیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ نہ صرف مادرِ وطن کے ایک ایک انچ کا دفاع کرنا جانتی ہیں بلکہ امن قائم رکھنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہیں۔

    مسئلہ کشمیر اور جنوبی ایشیا میں امن

    پاکستانی سفیر نے اس موقع پر مسئلہ کشمیر پر بھی واضح مؤقف پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن، مسئلہ جموں و کشمیر کے منصفانہ اور پُرامن حل سے وابستہ ہے، جو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق ہونا چاہیے۔ انہوں نے ترک قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کیا کہ وہ مسلسل پاکستان اور کشمیری عوام کے حق میں آواز بلند کرتے رہے ہیں۔

    پاک-ترک  یکجہتی ، ایک لازوال حقیقت

    پاکستانی سفیر نے ترکیہ کی قیادت اور عوام کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ  ہمیشہ پاکستان کے ساتھ رہا ہے، چاہے وہ کشمیر کا مسئلہ ہو، یا قدرتی آفات کے لمحات۔ پاک-ترک تعلقات محض سفارتی بیانات نہیں بلکہ دلوں کی دھڑکنوں میں بسا ایک رشتہ ہیں۔ انہوں نے دفاعی صنعت میں تعاون، عوامی سطح پر روابط اور اسٹریٹجک شراکت داری کو دونوں ملکوں کے لیے نئی بلندیوں کا پیش خیمہ قرار دیا۔

    شہداء کی قربانیاں ،  عزم کی تجدید

    6 ستمبر1965ء یومِ دفاع و شہداء پاکستان

    تقریب کا اختتام شہداء کو خراجِ عقیدت اور قومی عہد کی تجدید پر ہوا۔ یہ عہد کہ پاکستان کی آزادی، سلامتی اور وقار پر کبھی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ سفارت خانہ پاکستان انقرہ میں گونجتے یہ الفاظ ہر دل کی آواز تھے کہ پاکستان ہمیشہ زندہ رہے گا، اور اس کے شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

    اختتامی لمحات اور ضیافت

    پاکستان کے لزیذ پکوان

    انقرہ میں یومِ دفاع و شہداء پاکستان کی یہ تقریب نہ صرف پاکستان کی تاریخ کی ایک عظیم یاد دہانی تھی بلکہ پاک-ترک تعلقات کے لازوال رشتے کا بھی مظہر تھی۔ یہ تقریب اس حقیقت کی غماز ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کا رشتہ وقتی مصلحتوں پر نہیں بلکہ ایمان، قربانی اور اخوت پر مبنی ہے۔ دنیا بھر میں جہاں کہیں بھی پاکستانی اور ترک اکٹھے ہوتے ہیں، وہاں ایک ہی جذبہ نظر آتا ہے۔پاکستان اور ترکیہ کی یہ برادری اُس چراغ کی مانند ہے جو ہر طوفان میں روشن رہتا ہے۔

    تقریب کے اختتام پر پاکستانی کھانوں کی خوشبو نے محفل کو ایک اور رنگ عطا کیا۔ بریانی، کباب، اور چائے کی مہک نے حاضرین کو یہ یاد دلایا کہ ثقافت اور ذائقہ بھی محبت کے وہ پل ہیں جو دلوں کو قریب کرتے ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کے رشتے میں کبھی دوری نہیں آئی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article6 ستمبر 1965 یومِ دفاع پاکستان ، جنگی ،عظمت، قومی اتحاد کا ناقابلِ فراموش دن جس نے معرکہ حق کی بنیاد رکھی اور اپنی فتح کی مہر ثبت کردی
    Next Article صدر ایردوان :اسٹیل ڈوم کے ساتھ نئے دفاعی دور کا آغاز ، اسرائیل کے وزیراعظم پر کڑی تنقید ، اپوزیشن کو انتباہ ، نوجوان جوڑوں کے لیے خوشخبری
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.