Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»صدرایردوان کاوزیراعظم نتَن یا ہو کو منہ توڑ جواب، القدس کو نامحرم ہاتھوں کی نجاست سے آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ہماری جدوجہد آخری دم تک جاری رہے گی
    ترکیہ

    صدرایردوان کاوزیراعظم نتَن یا ہو کو منہ توڑ جواب، القدس کو نامحرم ہاتھوں کی نجاست سے آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی

    آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ہماری جدوجہد آخری دم تک جاری رہے گی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید17ستمبر , 2025Updated:17ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    صدر رجب طیب ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    صدر ایردوان کا اسرائیل کے وزیر اعظم نتَن یا ہو کو منہ توڑ جواب

    صدر رجب طیب ایردوان

    جب اسرائیلی وزیرِ اعظم نتَن یا ہو نے تکبر بھرے لہجے میں یہ کہا کہ ’ اے ایردوان  یہ القدس تمہارا نہیں ہمارا ہے ‘ تو اس کا جواب دنیا کے کسی اور لیڈر نے نہیں بلکہ ترکیہ کے مردِ آہن رجب طیب ایردوان نے دیا۔

     وزارتِ خارجہ کی نئی عمارت  کی سنگِ بنیاد تقریب سے صدائے ایردوان نے نہ صرف نتَن یا ہو کے گھمنڈ کو توڑا بلکہ پوری امتِ مسلمہ کو یہ پیغام دیا کہ ‘القدسِ شریف کو نامحرم ہاتھوں کی نجاست سے آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی۔’

    ایردوان نے براہِ راست نتَن یا ہو کو   مخاطب کرتے ہوئے کہا کہہٹلر کے دلدادہ ان کرداروں کا زخم شاید کبھی مندمل نہ ہو، مگر ہم مشرقی القدس پر اپنے حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔’یہ الفاظ محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ ایک عہد اور عزم کا اقرار ہیں۔

    ترکیہ کا عزم، امت کی آواز

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر ایردوان نے زور دے کر بتایا کہ ترکیہ کی خارجہ پالیسی کا محور امن، استحکام اور بھائی چارہ ہے۔ مگر اس امن پسندی کو کسی طور کمزوری سمجھا نہ جائے۔

    انہوں نے کہا کہ ‘ہم کھوکھلے نعروں یا سستی سیاست کے پیچھے نہیں بھاگتے۔ ہماری نظریں اپنے اہداف پر جمی ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین کے اندر ہوں یا اس کے باہر۔ آج ترکیہ ایک ایسا ملک ہے جو اپنی حکمتِ عملی خود طے کرتا ہے اور اپنی قوتِ ارادی سے انہیں نافذ کرتا ہے۔ ہم شطرنج کے ماہر کھلاڑی کی مانند ہر چال سوچ سمجھ کر چلتے ہیں۔ کوئی بھی اشتعال ہمیں اپنے مقصد سے نہیں ہٹا سکتا۔ نہ ہم کسی سازش میں پھنسیں گے اور نہ ہی کسی کی دھمکیوں سے مرعوب ہوں گے۔ سفارت کاری کی زبان شائستگی ہے، مگر یہ بدتمیزی کے سامنے خاموش رہنے کی دلیل نہیں۔ ہم کل بھی ڈٹے تھے، آج بھی ڈٹے ہیں اور کل بھی ڈٹ کر کھڑے رہیں گے۔’

    یہ بیان صرف ترک صدر کا نہیں بلکہ ایک پورے خطے کے دل کی آواز ہے ،  ایک ایسی آواز جو خاموشی کو شرمندگی سمجھتی ہے اور حق کی ہر صدا کو بلند رکھتی ہے۔

    غزہ کے لہو میں ڈوبی انسانیت

    غزہ

    ایردوان نے دنیا کو یاد دلایا کہ غزہ کے معصوم بچے اسرائیلی بمباری کے نیچے زندگی کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے دوٹوک الفاظ میں  کہا کہ ‘ ہمیں کوئی طاقت ان مظلوم فلسطینیوں کی حمایت سے نہیں روک سکتی۔’

    ان کے خطاب میں شام، یمن، لبنان اور قطر تک کی تکالیف کا ذکر تھا ۔   یہ جنگ محض فلسطینیوں کی نہیں بلکہ پوری امت کی آنکھوں کے سامنے ہو رہی انسانیت کی پامالی ہے۔ ان کے الفاظ کا وزن اس وقت محسوس ہوتا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ ‘جو لوگ بچوں کے خون پر اپنے مستقبل کی عمارت کھڑی کرنا چاہتے ہیں، وہ تاریخ کے کوڑے دان میں پھینکے جائیں گے۔ ظلم کبھی دوام نہیں پاتا۔’

    القدس: امتِ مسلمہ کی مشترکہ امانت

    القدس

    صدر ایردوان نے تاریخ کے آئینے میں جھانکتے ہوئے یاد دلایا کہ ترک قوم نے چار سو برس تک القدس کی خدمت کا شرف پایا۔ وہ عرصہ اسی بات کا ثبوت ہے کہ القدس کبھی کسی ایک قوم کی ملکیت نہیں رہا، بلکہ یہ سب مذاہب کے ماننے والوں کے لیے امن و آشتی کا گہوارہ رہا۔

    انہوں نے کہاکہ ‘ہمارے دل کا ایک حصہ مکّہ ہے، دوسرا مدینہ، اور ان دونوں کے اوپر ایک نازک پردے کی مانند القدس سایہ فگن ہے۔ القدس پورے عالمِ اسلام کا مشترکہ سرمایہ، حافظہ اور میراث ہے۔ ہم اسے کسی نامحرم کے ناپاک ہاتھ میں نہیں جانے دیں گے۔’

    یہ الفاظ دراصل دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کی زبان ہیں ۔  ایک ایسا عہد جسے زبانی جمع خرچ سمجھا نہیں جا سکتا۔

    27 سالہ موقف اب بھی زندہ ہے

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر ایردوان نے یاد دلایا کہ استنبول  میئر شپ کے دورِ اقتدار میں 27 برس پہلے جو مؤقف اپنایا گیا تھا، آج بھی وہی مؤقف زندہ ہے اور بالکل اسی شدت کے ساتھ برقرار ہے۔ انہوں نے کہا کہ نتَن یا ہو جیسے لوگ شاید اس تاریخی ذمہ داری اور روایات سے ناخبر ہوں،

    مگر ترکیہ اس موقف پر ڈٹا رہے گا، انہوں نے کہا کہ ‘ہم القدس پر اپنے حقوق سے ایک انچ بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ وہ چاہیں تو غصے میں بپھرتے رہیں، ہمارا عزم کم نہیں ہوگا۔’

    مستقبل کا نقشہ: مشرقی القدس کے ساتھ آزاد فلسطین

    آزادفلسطین

    خطاب کے آخر میں صدر ایردوان نے واضح طور پر اعلان کیا کہ ترکیہ پوری قوت کے ساتھ ایک آزاد، خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے سرگرم ہے، جس کا دارالحکومت مشرقی القدس ہوگا۔ ان کے الفاظ میں ‘یہ ہمارا سیاسی فریضہ ہے اور ایمان کا تقاضا بھی۔ 1967ء کی سرحدوں کی بنیاد پر قائم ہونے والی ایک آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔’

    یہ بيان ترکیہ  کی خارجہ پالیسی کا وہ بنیادی ستون ہے جو نہ صرف خطے بلکہ عالمی سیاست میں ایک واضح سمت کا پیغام دیتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleغزّہ جل رہا ہے اور عرب اسلامی رہنما قطر میں بانسری( طویل بھاشن دے رہے ہیں ) بجا رہے ہیں۔ فارسی مقولہ ہے ’آمدند، نشستند، گفتند و برخاستند ‘
    Next Article

    پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ: تاریخ کا نیا باب، ولی عہدمحمد بن سلمان کی وزیراعظم شہباز شریف کوغیر معمولی دعوت اور فقید المثال استقبال

    معاہدے سے پاکستان حرمین شریفین کےبراہ راست تحفظ کا شریکِ کار

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.