Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ: تاریخ کا نیا باب، ولی عہدمحمد بن سلمان کی وزیراعظم شہباز شریف کوغیر معمولی دعوت اور فقید المثال استقبال معاہدے سے پاکستان حرمین شریفین کےبراہ راست تحفظ کا شریکِ کار
    پاکستان

    پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ: تاریخ کا نیا باب، ولی عہدمحمد بن سلمان کی وزیراعظم شہباز شریف کوغیر معمولی دعوت اور فقید المثال استقبال

    معاہدے سے پاکستان حرمین شریفین کےبراہ راست تحفظ کا شریکِ کار

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید17ستمبر , 2025Updated:17ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    وزیراعظم شہباز شریف- ولی عہد محمد بن سلمان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    پاک سعودی اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ: تاریخ کا نیا باب

    وزیراعظم شہباز شریف-سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

    بین الاقوامی تعلقات میں بعض اوقات چند دنوں کے اندر ایسے واقعات رونما ہوتے ہیں جو دہائیوں پر محیط تاریخ کا رخ موڑ دیتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی منظر سامنے آیا جب وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف، قطر کے دورے پر موجود تھے۔ قطر میں قیام کے دوران سعودی ولی عہد محمد بن سلمان نے نہایت شائستگی اور گرمجوشی کے ساتھ وزیراعظم کو سعودی عرب کے سرکاری دورے کی دعوت دی۔ یہ دعوت محض ایک رسمی اعلان نہ تھی بلکہ اس میں دو برادر ممالک کے تعلقات کی نئی جہتیں پوشیدہ تھیں۔

    شہباز شریف نے بلا تاخیر یہ دعوت قبول کر لی اور محض دو روز بعد ہی ان کے قدم سعودی سرزمین پر پہنچے۔ ریاض ایئرپورٹ پر سعودی شاہی پروٹوکول کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا، جسے دیکھ کر ہر آنکھ کو یہ احساس ہوا کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات ایک نئے عہد میں داخل ہو رہے ہیں۔

    قصر یمامہ میں سعودی ولی عہد نے خود وزیراعظم کا استقبال کیا۔ شاہی دیوان میں گارڈ آف آنر، سعودی مسلح افواج کے دستوں کی پریڈ اور روایتی شاہی شان و شوکت نے اس تاریخی ملاقات کو ایک ایسا رنگ دیا جو کم ہی کسی دوسرے سربراہِ حکومت کے حصے میں آیا ہو۔ یہ محض استقبال نہ تھا بلکہ اس میں ایک غیر معمولی پیغام چھپا تھا: پاکستان آج بھی سعودی عرب کے لیے ویسا ہی قابلِ اعتماد بھائی اور شراکت دار ہے جیسا گزشتہ آٹھ دہائیوں سے رہا ہے، مگر اب یہ تعلق ایک نئے فریم ورک اور زیادہ مضبوط بنیادوں پر استوار ہونے جا رہا ہے۔

    ریاض میں تاریخی دفاعی معاہدہ

    وزیراعظم شہباز شریف-سعودی ولی عہد محمد بن سلمان

    ریاض میں منعقدہ اجلاس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اور وزیراعظم شہباز شریف نے “اسٹریٹجک باہمی دفاعی معاہدے” (SMDA) پر دستخط کیے۔ معاہدے کے الفاظ بظاہر سادہ ہیں مگر ان کے اندر پوری خطے کی سلامتی اور عالمی سیاست پر اثر انداز ہونے والی گہرائی چھپی ہوئی ہے۔

    اعلامیے کے مطابق اگر کسی ایک ملک پر حملہ ہوتا ہے تو اسے دونوں ممالک پر حملہ تصور کیا جائے گا۔ یہ معاہدہ صرف عسکری تعاون یا فوجی مشقوں تک محدود نہیں بلکہ دونوں ممالک کو ایک مشترکہ دفاعی حصار میں پرو دیتا ہے۔ اس کے ذریعے پاکستان کو براہِ راست “حرمین شریفین کے تحفظ” کا شریکِ کار بنا دیا گیا ہے اور سعودی عرب کو پاکستان کی عسکری طاقت کا شراکت دار بنا کر اسلامی دنیا میں ایک نیا توازن پیدا کیا گیا ہے۔

     ماضی کے معاہدوں پر موجودہ  معاہدے کی برتری

    پاکستان – سعودی عرب

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات ہمیشہ خصوصی نوعیت کے رہے ہیں:

    • 1960ء اور 1970ء کی دہائیاں: پاکستانی افسران نے سعودی افواج کی تربیت کی اور دفاعی اداروں کی تنظیم نو میں بنیادی کردار ادا کیا۔
    • 1982ء کا دفاعی معاہدہ: پاکستانی یونٹس مستقل طور پر سعودی عرب میں تعینات ہوئے اور فضائیہ، بری فوج اور انجینئرنگ میں تعاون فراہم کیا گیا۔
    • 1990ء کی دہائی: خلیجی جنگ کے دوران پاکستان نے سعودی عرب کو عسکری مشاورت اور محدود فوجی دستے فراہم کیے۔
    • 2000ء کے بعد: تعاون زیادہ تر تربیت، انسدادِ دہشت گردی اور مشترکہ مشقوں تک محدود رہا۔

    موجودہ معاہدہ ان سب پر بھاری ہے کیونکہ یہ محض تربیت یا محدود تعاون نہیں بلکہ ایک جامع، تحریری اور ادارہ جاتی فریم ورک ہے۔ اب یہ معاہدہ ممکنہ طور پر مشترکہ دفاع، ہتھیاروں کی خرید و فروخت، ٹیکنالوجی ٹرانسفر اور خطے میں مشترکہ سلامتی حکمت عملی کو بھی کور کرتا ہے۔

    پاکستان کا کردار: اسلامی دنیا کی واحد ایٹمی قوت

    پاکستان

    پاکستان ہمیشہ سے مسلم دنیا میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ واحد اسلامی ملک ہے جس کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ موجودہ معاہدے میں سعودی قیادت نے پاکستان کو نہ صرف ایک فوجی شراکت دار بلکہ ایک حتمی دفاعی ڈھال کے طور پر قبول کیا ہے۔

    پاکستانی افواج کی پیشہ ورانہ مہارت اور قربانی سعودی قیادت کے لیے ایک تسلی بخش حقیقت ہے۔ سعودی عرب جانتا ہے کہ پاکستان نہ صرف اپنے دفاع بلکہ امتِ مسلمہ کے دفاع کے لیے بھی کھڑا ہوتا ہے۔ یہی اعتماد اس معاہدے میں جھلکتا ہے، جہاں پاکستان کو حرمین شریفین کے تحفظ کا باقاعدہ حصہ دار بنایا گیا ہے۔

    قطر پر اسرائیلی حملہ اور پاکستان کی بڑھتی ہوئی مانگ

    قطر پراسرائیل کا فضائی حملہ

    قطر پر اسرائیلی حملے نے عرب دنیا کو چونکا دیا۔ امریکہ پر طویل عرصے تک انحصار کرنے والے ممالک کو اچانک احساس ہوا کہ واشنگٹن اکثر اوقات اسرائیل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے اور مسلمانوں کے تحفظ میں غیر جانبدار نہیں۔

    پاکستان نے ماضی میں دو بار اسرائیلی فضائیہ کے طیاروں کو گرا کر اپنی برتری ثابت کی تھی  حالانکہ پاکستان اسرائیل سے ہزاروں کلومیٹر دور واقع ہے۔ اس تاریخی حقیقت نے مسلم دنیا کو یاد دلایا کہ اگر کوئی ملک واقعی اسلامی دنیا کے دفاع کے لیے کھڑا ہو سکتا ہے تو  بلا شبہ وہ پاکستان ہے۔

    یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کو ایک نئی اُمید دیتا ہے کہ اگر اسرائیل یا اس کے اتحادی کسی بھی ملک پر جارحیت کریں تو پاکستان اور سعودی عرب مل کر اس کا مقابلہ کریں گے۔ یہ محض دوطرفہ دفاعی تعاون نہیں بلکہ اسلامی عسکری اتحاد کی جانب ایک نمایاں قدم ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کی بڑھتی ہوئی عالمی مقبولیت

    وزیراعظم شہباز شریف  عالمی رہنماوں کے ساتھ

    اس معاہدے کا ایک اہم پہلو وزیراعظم شہباز شریف کی عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی مقبولیت ہے۔ حالیہ مہینوں میں انہوں نے سعودی ولی عہد کے علاوہ ترک صدر رجب طیب ایردوان، چینی صدر شی جن پنگ، اور دیگر عالمی رہنماؤں کے ساتھ بھی خوشگوار ماحول میں اور گھل مل کر  ان سب سے ملاقاتیں کی ہیں ،ان سے ملاقات کرنے والے تمام ہی رہنما  وزیراعظم شہباز شریف سے لازمی طور پر متاثر ہوئے ہیں۔

    شہباز شریف کی عملی قیادت، فوری فیصلے کرنے کی صلاحیت اور عوامی خدمت کا جذبہ انہیں ایک “ڈوئر لیڈر“  (Doer Leader) کے طور پر پیش کرتا ہے۔ سعودی ولی عہد کے ساتھ فقید المثال ملاقات اور پروٹوکول نے عالمی سطح پر بھی پاکستان کی پوزیشن کو مستحکم کیا ہے۔

    عوامی تعلقات میں نئی پیش رفت

    پاکستان-سعودی عرب

    پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات صرف حکومتی سطح تک محدود نہیں، بلکہ عوامی سطح پر بھی ان کے اثرات واضح ہیں:

    • پاکستانی محنت کشوں کے لیے مزید سہولتیں متوقع ہیں۔
    • سعودی سرمایہ کاری کے بڑے منصوبے پاکستان میں آئیں گے، جس سے معاشی ترقی کے نئے دروازے کھلیں گے۔
    • دونوں ممالک کے تعلیمی اور ثقافتی تعلقات میں اضافہ ہوگا۔

    یہ عوامی تعاون ظاہر کرتا ہے کہ یہ تعلق صرف سیاسی یا عسکری نہیں بلکہ دلوں اور معیشت کا رشتہ بھی ہے۔

    خطے پر اثرات: ایران، اسرائیل اور بھارت کے تناظر میں

    ایران

    پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ اتحاد تہران کے لیے اہم اشارہ ہے۔ ایران جانتا ہے کہ پاکستان کے ساتھ سعودی دفاعی شراکت داری خطے میں توازن پیدا کرتی ہے، اور یہ ایران کے خلاف محاذ نہیں بلکہ استحکام کی علامت ہے۔

    اسرائیل

    یہ معاہدہ اسرائیل کے لیے سب سے بڑا پیغام ہے کہ مسلم دنیا اب منتشر نہیں بلکہ اتحاد کی طرف بڑھ رہی ہے۔ کسی بھی جارحیت کا مطلب ہوگا پورے اتحاد کے خلاف کھڑا ہونا۔

    بھارت

    بھارت کے لیے یہ معاہدہ ایک اسٹریٹجک جھٹکا ہے، کیونکہ پاکستان کو سعودی عرب کی عسکری پشت پناہی حاصل ہو چکی ہے۔ اب پاکستان کے خلاف کسی بھی مہم جوئی کو خطے کے مفادات کے خلاف سمجھا جائے گا۔

    امتِ مسلمہ میں پاکستان کا بڑھتا ہوا مقام

    یہ معاہدہ پاکستان کی مسلم دنیا میں کلیدی حیثیت کو مزید اجاگر کرتا ہے۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت، فوج کی مہارت، اور جرات مندانہ موقف مسلم دنیا میں اس کے بڑھتے ہوئے اثر کو واضح کرتے ہیں۔ یہ معاہدہ امتِ مسلمہ میں اعتماد، اتحاد اور مشترکہ دفاع کی نئی امید دیتا ہے۔

    مستقبل کا منظرنامہ اور تاریخی موڑ

    معاہدے کے اثرات صرف دفاع تک محدود نہیں:

    • معاشی تعاون اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع۔
    • دفاعی صنعت اور ٹیکنالوجی میں شراکت۔
    • سفارتکاری میں مؤثر کردار۔
    • عالمی سطح پر پاکستان کی بڑھتی ہوئی پوزیشن۔

    پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان SMDA محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ تاریخ کا ایک نیا باب ہے۔ یہ ظاہر کرتا ہے کہ:

    • دونوں ممالک اب ایک دوسرے کے حقیقی عسکری شراکت دار ہیں۔
    • امتِ مسلمہ میں اتحاد کی نئی امید جنم لے چکی ہے۔
    • عالمی سطح پر پاکستان کی پوزیشن مضبوط ہو رہی ہے۔
    • وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت پاکستان کو ایک نئی شناخت دے رہی ہے۔

    قطر پر اسرائیلی حملے کے بعد یہ معاہدہ امتِ مسلمہ کو پیغام دیتا ہے کہ وقت صرف بیانات کا نہیں بلکہ عملی اتحاد اور مشترکہ دفاع کا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کا یہ فیصلہ دراصل آنے والی صدی کے لیے اسلامی دنیا کی سلامتی اور بقا کی ضمانت ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    صدرایردوان کاوزیراعظم نتَن یا ہو کو منہ توڑ جواب، القدس کو نامحرم ہاتھوں کی نجاست سے آلودہ کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جائے گی

    آزاد فلسطینی ریاست کے لیے ہماری جدوجہد آخری دم تک جاری رہے گی

    Next Article

    جھپیاں ہی جھپیاں ،پاکستان کی لاٹری نکل آئی، شہباز کی اونچی پرواز، شہباز شریف اور جنرل عاصم منیر کی بدولت پاکستان کی قسمت جاگ اٹھی

    اسلامی ممالک پاکستان سے دفاعی معاہدہ کرنے کے لیے قطار میں

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.