Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»صدر رجب طیب ایردوان کا دورہ امریکہ ، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اہم خطاب اور 25 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات
    ترکیہ

    صدر رجب طیب ایردوان کا دورہ امریکہ ، اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اہم خطاب اور 25 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اہم ملاقات

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید22ستمبر , 2025Updated:22ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    صدر ایردوان امریکہ میں
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    صدر رجب طیب ایردوان اقوامِ متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے امریکہ کے شہر نیویارک میں اپنی مصروفیات  جاری رکھے  ہوئے ہیں۔  

    صدر ایردوان امریکہ کی امریکہ میں مصروفیات

     ان کا یہ دورہ ترکیہ کی بین الاقوامی سطح پر اسٹریٹجک قیادت، دفاعی صنعت، اقتصادی مفادات اور خطے میں اثر و رسوخ کو مزید مستحکم کرنے کے حوالے سے نہایت اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ دنیا بھر کے میڈیا ادارے اس تاریخی دورے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، اور توجہ خاص طور پر ایردوان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے درمیان وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات پر مرکوز ہے۔

    F-16 اور F-35 پروگرام: دفاعی شراکت داری کی نئی سمت

    ایف-16 طیارے

    اسرائیلی میڈیا Jerusalem Post کے مطابق، ایردوان اور ٹرمپ کی ملاقات ترکیہ اور امریکہ کے تعلقات میں ایک حساس اور نازک موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔ ملاقات کا مرکزی محور F-16 اور F-35 لڑاکا طیاروں کی خریداری کے معاہدات ہوں گے، جو ترکیہ کی دفاعی خودمختاری اور خطے میں اثر و رسوخ کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ اس کے علاوہ، اسرائیل اور غزہ کے مسئلے پر ترکیہ کی سفارتی پوزیشن کو اجاگر کرنا بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔

    ایف-35 طیارے

    ترکیہ کی اسٹریٹجک اور اقتصادی حیثیت مضبوط

    یونانی میڈیا Pentapostagma کے مطابق، ایردوان امریکہ کے دورے میں F-35 پروگرام میں دوبارہ شمولیت اور امریکی قدرتی گیس کی فراہمی کو ترجیح دے رہے ہیں۔ طویل عرصے تک جاری S-400 دفاعی نظام کے تنازع کی وجہ سے ترکیہ F-35 پروگرام سے خارج رہا، لیکن ٹرمپ کے دور میں اس مسئلے کے حل کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ علاوہ ازیں، ترکیہ کی لیبیا کے ساتھ اقتصادی شراکت داری، توانائی کے شعبے میں اقدامات، اور دیگر علاقائی منصوبوں میں مستحکم کردار، امریکہ اور دیگر عالمی کھلاڑیوں کے نزدیک ترکیہ کی اسٹریٹجک حیثیت کو مزید مستحکم کر رہا ہے۔

    غزہ اور فلسطین: عالمی قیادت کی ترجمانی

    غزہ

    فرانسیسی میڈیا France24 نے رپورٹ کیا کہ ایردوان اور ٹرمپ کی ملاقات دونوں فریقین کے لیے “اسٹریٹجک اور تجارتی موقع” ہے۔ ایردوان نہ صرف امریکی دفاعی اور تجارتی تعلقات کو مضبوط کریں گے بلکہ F-35 پروگرام کے تنازع کو حل کرنے کی بھی کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ، غزہ اور فلسطین کے انسانی اور سیاسی مسائل کو اجاگر کر کے وہ عالمی سطح پر ترکیہ کی قیادت اور اثر و رسوخ کو واضح کریں گے۔

    عالمی رہنماؤں کا ردعمل

    امریکی میڈیا Bloomberg کے مطابق، ایردوان کا دورہ ترکیہ کی دفاعی خودمختاری کو مضبوط کرنے اور خطے میں ایک فعال اور طاقتور کھلاڑی کے طور پر اس کے کردار کو مستحکم کرنے کے نقطہ نظر سے اہم ہے۔ اسپین کے Democrata کے مطابق، یہ ملاقات امریکی-ترک تعلقات میں ایک سنگِ میل ثابت ہو سکتی ہے، جس سے ترکیہ کی علاقائی قیادت اور عالمی اسٹریٹجک اثر و رسوخ مزید مضبوط ہوگا۔

    غزہ کی آواز

    غزہ خون میں نہایا ہوا غزہ

    امریکی میڈیا Northern BC کے مطابق، ایردوان اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے دوران غزہ میں جاری انسانی بحران کی آواز بنیں گے اور اسرائیل کی کارروائیوں کو اجاگر کریں گے۔ وہ خطے میں امن و استحکام کے پیغام کے ساتھ دفاع اور تجارتی امور پر جامع مذاکرات کریں گے۔

    دورے کا پس منظر اور عالمی اہمیت

    ایردوان 23 ستمبر کو نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں خطاب کریں گے، جس میں اسرائیل کی جانب سے غزہ میں مظالم، فلسطین کی ریاست کے طور پر پہچان، اور بین الاقوامی اقدامات پر بات متوقع ہے۔ اجلاس کے دوران مختلف ریاستی اور حکومتی سربراہان سے ملاقاتیں بھی طے ہیں، جن میں 22 ستمبر کو فلسطین کانفرنس اور 24 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی اجلاس میں خطاب شامل ہے۔ ٹرمپ کے ساتھ 25 ستمبر کو وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات میں اہم موضوعات F-16 اور F-35 طیاروں کی فراہمی اور دفاعی تعاون ہوں گے۔

    ترکیہ کی عالمی حکمت عملی اور خطے میں اثر و رسوخ

    یہ دورہ ترکیہ کی بین الاقوامی حکمت عملی، دفاعی خودمختاری اور اقتصادی مفادات کو مضبوط کرنے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر اس کے اثر و رسوخ اور قیادت کو بھی واضح کرے گا۔ ایردوان کی مذاکراتی حکمت عملی، عالمی اور علاقائی رہنماؤں کے ساتھ تعلقات، اور ترکیہ کی توانائی و دفاعی کامیابیاں، خطے میں ترکیہ کی مرکزی حیثیت کو مزید اجاگر کر رہی ہیں۔

    صدر ایردوان کا یہ دورہ نہ صرف ترکیہ کے داخلی اور خارجی مفادات کے لیے اہم ہے بلکہ عالمی سطح پر ترکیہ کی قیادت، خطے میں استحکام، اور بین الاقوامی تعلقات میں اس کے کردار کو مزید مستحکم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔ عالمی میڈیا کی گہری نظر اور بین الاقوامی رہنماؤں کی توجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ترکیہ اب خطے میں نہ صرف ایک فوجی اور اقتصادی طاقت بلکہ ایک اسٹریٹجک رہنما کے طور پر ابھرا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleسفارتخانہ پاکستان کاپاکستان ایمبیسی انٹرنیشنل اسٹڈی گروپ کے تعاون سے سیرت النبی ﷺ بین الاقوامی کانفرنس: امن، عدل اور اخوت کا مینارِ نور
    Next Article

    غزہ میں سو فیصد نسل کشی جاری ہے اور اس کا اصلی مجرم نتَن یا ہو ہے ، حماس ایک دہشت گرد تنظیم نہیں بلکہ فلسطین کی آزادی کی مزاحمتی تحریک ہے

    ترکیہ کو یورپی یونین کی رکنیت سے محروم رکھنا غیر منصفانہ ہے : ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.