Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»غزہ میں 23 ماہ سے جاری نسل کشی اب نسل کشی سے بڑھ کر اجتماعی قتلِ عام کی صورت اختیار کر چکی ہے، مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر غالب رہاہم نے اعداد و شمار اور تصاویر کے ذریعے دنیا کے سامنے اسرائیلی بربریت اور ظلم کو بے نقاب کیا : صدر ایردوان
    ترکیہ

    غزہ میں 23 ماہ سے جاری نسل کشی اب نسل کشی سے بڑھ کر اجتماعی قتلِ عام کی صورت اختیار کر چکی ہے، مسئلہ فلسطین اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر غالب رہا

    ہم نے اعداد و شمار اور تصاویر کے ذریعے دنیا کے سامنے اسرائیلی بربریت اور ظلم کو بے نقاب کیا : صدر ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید29ستمبر , 2025Updated:29ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    صدر رجب طیب ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    صدرِ ترکیہ رجب طیب ایردوان نے کابینہ اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں امریکہ کے حالیہ دورے کو منفی رنگ دینے کی کوشش کر رہی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ دورہ نہایت کامیاب ثابت ہوا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ انتہائی پُر ثمر ملاقات ہوئی، جس کے مثبت نتائج آنے والے دنوں میں سب کے سامنے ہوں گے۔

    ” فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی پر غالب رہا”

    صدر ایردوان نے کہا کہ نیویارک میں ہونے والی اقوام متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی میں اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود فلسطین کا مسئلہ نمایاں رہا۔صدر ایردوان نے کہا کہ امریکہ کے شہر نیویارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود فلسطین کا مسئلہ مرکزی حیثیت اختیار کر گیا۔ انہوں نے اپنے خطاب میں غزہ میں جاری اس قتل و غارت گری کو اجاگر کیا جو اب نسل کشی کی حدود سے بڑھ کر اجتماعی قتلِ عام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔”صدر ایردوان نے اپنے خطاب میں اعداد و شمار اور تصاویر کے ذریعے دنیا کے سامنے اسرائیلی بربریت کو بے نقاب کیا اور عالمی برادری کو فوری اقدام پر زور دیا۔

    “نیتن یاہو  کرسی بچانے کے لیے دنیا کو آگ میں جھونک رہا ہے”

    صدر رجب طیب ایردوان

    صدر ایردوان نے اسرائیلی وزیراعظم پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہاکہ بدعنوانیوں کی تحقیقات میں گھِر جانے والا نیتن یاہو محض اپنی کرسی بچانے کے لیے دنیا کو جنگ کی طرف دھکیل رہا ہے۔ اب یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ اسرائیل میں ریاستی عقل کے بجائے محض خون اور انتشار پر پلنے والی ایک قاتل ٹولی اقتدار میں ہے۔

    “امریکہ کا دورہ بہت کامیاب رہا”

    صدر ایردوان نے نیویارک میں اپنے مختلف رابطوں اور امریکی صدر ٹرمپ سے ملاقات کو نہایت کامیاب قرار دیتے ہوئے کہا: “اس کے مثبت اثرات ہم آنے والے دنوں میں دیکھیں گے۔” انہوں نے مزید بتایا کہ ملاقات میں غزہ میں جاری مظالم، روس۔یوکرین جنگ اور شام میں استحکام کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

    “اقوام متحدہ میں غزہ کی نسل کشی کو پوری دنیا کے سامنے رکھا”

    صدر ایردوان نے کہا: “اس سال ہم نے ایک مضبوط اور جامع وفد کے ساتھ اقوام متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی میں شرکت کی اور ہر لحاظ سے اس اجلاس سے بھرپور فائدہ اٹھایا۔ ترک نژاد امریکی برادری کے نمایاں رہنماؤں سے لے کر کاروباری حلقوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں تک، ہم نے مختلف طبقات سے ملاقاتیں کیں۔ بالخصوص ترکیہ کی طرف سے پیش کردہ سرمایہ کاری اور تجارتی مواقع کو اپنے مہمانوں کے سامنے رکھا۔ اقوام متحدہ کے عین سامنے واقع ہمارا ‘ترک ہاؤس’ ایک بار پھر سفارت کاری کا مرکز بن کر سب کی توجہ کا مرکز رہا۔”

    انہوں نے مزید کہا: “اسرائیل کی رکاوٹوں کے باوجود فلسطین کا مسئلہ اقوام متحدہ کی 80 ویں جنرل اسمبلی پر غالب رہا۔ فرانس اور سعودی عرب کی شراکت داری میں دو ریاستی حل پر کانفرنس میں غیر معمولی دلچسپی دیکھی گئی۔ اگلے روز، میں نے اپنی وزارتِ عظمیٰ کے دور سے لے کر اب تک 13 ویں مرتبہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں ہم نے غزہ میں جاری اس ظلم کو اجاگر کیا جو 23 ماہ سے بلا تعطل جاری ہے اور جو نسل کشی سے بڑھ کر اجتماعی قتلِ عام کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ ہم نے اعداد و شمار اور تصویروں کے ذریعے دنیا کو اس وحشت کا گواہ بنایا اور عالمی برادری کو اسرائیل کی بربریت کے خلاف فوری اقدام اٹھانے کی دعوت دی۔”

    صدر ایردوان نے بتایا کہ صدر ٹرمپ اور خطے کے رہنماؤں کی شرکت سے ہونے والا غزہ اجلاس نہایت سود مند رہا۔ “ہم نے اس پر غور کیا کہ غزہ میں بہتے خون کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا سکتے ہیں۔ اسی طرح ماحولیاتی سربراہی اجلاس میں 2053 تک خالص صفر اخراج کے ہدف کی جانب ہماری اصلاحات کو بیان کیا۔ شام، لیبیا، کویت، انڈونیشیا، فرانس، کینیڈا اور ویتنام سمیت کئی ممالک کے ساتھ دو طرفہ ملاقاتیں ہوئیں، جبکہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل سے بھی ملاقات کی گئی۔”

    “10 ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا”

    صدر ایردوان

    صدر ایردوان نے نیتن یاہو پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا: “بدعنوانیوں کی تحقیقات سے گھِر جانے والا نیتن یاہو اپنی کرسی بچانے کے لیے خطے اور دنیا کو آگ کے دہانے پر لے آیا ہے۔ اب یہ بات سب پر عیاں ہو گئی ہے کہ اس کے اردگرد کوئی ریاستی عقل نہیں بلکہ محض خون اور انتشار پر پلنے والی ایک قاتل ٹولی ہے۔ دنیا کے چند ممالک کے سوا کوئی بھی اسرائیل اور نیتن یاہو حکومت کے ساتھ کھڑا ہونا یا ان کے ساتھ تصویر کھنچوانا نہیں چاہتا۔”

    انہوں نے بتایا کہ “جنرل اسمبلی میں 10 مغربی ممالک نے فلسطین کو تسلیم کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ سلامتی کونسل کے دو مستقل ارکان کی جانب سے فلسطین کو تسلیم کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ آج 158 ممالک فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے ہیں اور ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ اس جدوجہد کی قیادت کرنے والے ملک کے طور پر ترکیہ نے بنیادی کردار ادا کیا ہے۔”

    ایردوان نے مزید کہا: “(برطانیہ اور فرانس) اگرچہ تاخیر سے ہی سہی لیکن سلامتی کونسل کے دو رکن ممالک کا فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے۔ ہم ہر حال میں اپنی زمین، آزادی اور وقار کی حفاظت کرنے والے فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اسرائیل کی اصل نیت آزاد فلسطین کے وجود کو ختم کرنا ہے۔”

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    وائٹ ہاؤس میں وزیراعظم شہباز شریف کی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے غیر معمولی اہمیت کی حامل ملاقات، صدر ٹرمپ نے پاکستان کو ایک نئی شناخت بخشی، صدر ٹرمپ کا پاکستانی رہنماؤں کو غیر معمولی خراجِ تحسین

    پاکستان کا سیاسی چہرہ اب ایک نئے اعتماد کے ساتھ دنیا کے سامنے

    Next Article

    صدر ایردوان کا ترک قومی اسمبلی میں تاریخی خطاب ، قبلہ اول القدس کا دفاع آخری دم تک کرتے رہیں گے، اسرائیل کے ساتھ تجارت مکمل طور پر منقطع

    ترک معیشت ترقی کی جانب گامزن ، ترک لیرا مضبوط ، اسٹیٹ بینک کے ریزرو 179 بلین ڈالر تک پہنچ گئے ہیں

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.