Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»اسرائیل کے حملے خطے کے استحکام کیلیے براہِ راست خطرہ ہیں، غزہ میں فوری قتلِ عام روکا جائے ، فلسطین میں دو ریاستی حل پائیدار اور منصفانہ امن کا واحد راستہ ہے: ایردوان
    ترکیہ

    اسرائیل کے حملے خطے کے استحکام کیلیے براہِ راست خطرہ ہیں، غزہ میں فوری قتلِ عام روکا جائے ، فلسطین میں دو ریاستی حل پائیدار اور منصفانہ امن کا واحد راستہ ہے: ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید7اکتوبر , 2025Updated:7اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    اسرائیل
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    اسرائیلی حملے خطے کے لیے سب سے بڑا خطرہ: صدر ایردوان

    ترک ریاستوں کی تنظیم

    صدر رجب طیب ایردوان نے آذربائیجان میں منعقدہ  ترک ریاستوں کی تنظیم کے 12ویں سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوءے کہا کہ اسرائیلی حکومت کے حملے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ ہمارے خطے کے استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ اسی ملک کی موجودہ حکومت سے ہے۔

    صدر رجب طیب ایردوان آج آذربائیجان کے صدر الہام علییف کی دعوت پر باضابطہ سرکاری دورے پر آذربائیجان پہنچے، جہاں انہوں نے قبالا شہر میں منعقدہ ترک ریاستوں کی تنظیم (TDT) کے 12ویں اجلاس میں شرکت کی۔

    اپنے خطاب میں صدر ایردوان نے کہا کہ “اسرائیلی حکومت کے حملے اس امر کا ثبوت ہیں کہ خطے کے امن و استحکام کو سب سے بڑا خطرہ اسی حکومت سے لاحق ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین میں دو ریاستی حل ہی پائیدار اور منصفانہ امن کا واحد راستہ ہے۔

    ترک ریاستوں کی تنظیم

    انہوں نے  کہا کہ ہم ایسے عالمی نظام کے سامنے ہیں جس میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل انسانیت کے ضمیر کو مجروح کرنے والے کئی مسائل پر خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

    انہوں نے شام کی صورتحال پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ شام کو بے شمار مشکلات کا سامنا ہے، تاہم گزشتہ 9 ماہ میں شامی حکومت کی پیش رفت مستقبل کے لیے امید کی کرن ہے۔

    صدر ایردوان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ غزہ میں قتلِ عام رکنے کے حوالے سے حالیہ دنوں میں جو پیش رفت ہوئی ہے، وہ اطمینان بخش ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ “اسرائیل کے حملے خطے کے استحکام کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں اور شام میں امن و سلامتی کا قیام ناگزیر ہے۔

    اسرائیل کو میز پر نہیں بلکہ  بہ زورِ  ہتھیار   روکنا ہوگا  : دولت باہچے لی

    دولت باہچے لی

    دریں اثنا ء  صدر ایردوان   کے اتحاد میں شامل جماعت نیشنلسٹ  موومنٹ پارٹی (MHP)کے چئیرمین  دولت  باہچے لی  نے کہا ہے کہ اگر اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر نہیں روکا جا سکتا تو اسے اسلحے کے زور پر روکنا ہوگا۔

    نیشنلسٹ  موومنٹ پارٹی کے سربراہ دولت باہچے لی  نے پارلیمان کے افتتاحی اجلاس میں سی ایچ پی کی غیر حاضری پر ردِعمل دیتے ہوئے اپنی تقریر میں غزہ کے حوالے سے بھی دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل کو مذاکرات کی میز پر نہیں روکا جا سکتا تو اسے ہتھیار سے روکا جانا چاہیے۔ غزہ کو اپنی زنجیروں سے آزاد کرانا ناگزیر ہو چکا ہے۔

    نیشنلسٹ  موومنٹ پارٹی (MHP)کے چئیرمین  دولت  باہچے لی  نے کہا ہے کہ غزہ کا مسئلہ دنیا کے ایجنڈے پر نمایاں ہے۔ حماس کی جانب سے امن منصوبے پر مثبت اشارہ جزوی سکون کے لیے باعثِ اطمینان ہے، لیکن یہ عمل اب بھی مشکلات اور خطرات سے بھرا ہوا ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کہ اسرائیل مذاکرات کے دوران تخریب کاری کرے گا یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل انسانیت اور امن کی ہر امید کا دشمن ہے۔ اگر مصر میں جاری مذاکرات رک جاتے ہیں اور اسرائیل اپنی جنگ، تشدد اور نسل کشی جاری رکھتا ہے، تو پھر ہر طرح کے عسکری اقدامات ناگزیر اور جائز ہو جائیں گے۔ اگر اسرائیل کو میز پر نہیں روکا جا سکتا، تو اسے میدان میں اور ہتھیار کے ذریعے روکنا تاریخ کا فیصلہ کن لمحہ بن سکتا ہے۔

    دو ریاستی حل کے سوا کوئی راستہ باقی نہیں رہا

    دولت باہچے لی

    نیشنلسٹ  موومنٹ پارٹی (MHP)کے چئیرمین  دولت  باہچے لی  نے مزید کہا کہ “سمود فلوٹیلا” کے شرکا کو ترکی واپس لانا ایک بڑی کامیابی ہے اور اس میں حصہ لینے والے سب افراد مبارکباد کے مستحق ہیں۔ میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں فلسطین کو تسلیم کرنے والے ممالک کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں۔انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ حماس کوئی دہشت گرد تنظیم نہیں، بلکہ ایک مزاحمتی تحریک ہے۔ اصل دہشت گرد وہ اسرائیل ہے جو ظلم اور بربریت کی انتہا کر چکا ہے۔

    انہوں نے کہا کہ حماس کی طرف سے امن منصوبے پر مثبت ردِعمل حوصلہ افزا ہے، لیکن راستہ کٹھن اور سازشوں سے بھرا ہوا ہے۔ جنگ کے خاتمے اور حماس کی شمولیت کے لیے اصل مرکز مصر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو سے ملاقات سے قبل ترکیہ اور دیگر ممالک کے ساتھ اجلاس کیا، جس میں غزہ منصوبے میں تبدیلیاں کی گئیں۔  غزہ کو زنجیروں سے آزاد کروایا جانا چاہیے۔ ہم تجویز دیتے ہیں کہ خطے کے ممالک کی مشترکہ کاوشوں سے ایک ’القدس معاہدہ‘ تشکیل دیا جائے۔ فوری طور پر جنگ بندی کا اعلان ہونا چاہیے اور صیہونی درندگی کو قبضہ شدہ علاقوں سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کیا جانا چاہیے۔

    آخر میں  باہچے لی  نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اسپین کے وزیراعظم کے اس قول کا حوالہ دیا:
    “تاریخ خاموش رہنے والوں کا فیصلہ کرے گی” — اور وہ بالکل درست تھے۔انہوں نے زور دیا کہ مزید خون بہنے سے پہلے یہ سلسلہ رُکنا چاہیے۔ دو ریاستی حل کے سوا کوئی اور راستہ باقی نہیں رہا۔ 1967 کی سرحدوں کے مطابق فلسطینی ریاست قائم کی جائے اور اسے اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دی جائے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان، عالمی منظرنامے پر دوسری ابھرتی معیشت، بلومبرگ کی حیران کن رپورٹ، پاکستان کی مالیاتی بہتری کی رفتار دنیا کے بیشتر ترقی پذیر ممالک کے لیے حیرت انگیز مثال
    Next Article صدر ایردوان: ترکیہ طے کردہ معاہدے کی تمام شقوں کے نفاذ کی باریک بینی سے نگرانی کرے گا
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.