Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»پاکستان اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کرسکتا،قومی سلامتی، ریاستی وقار اور نئی حکمتِ عملی
    پاکستان

    پاکستان اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کرسکتا،قومی سلامتی، ریاستی وقار اور نئی حکمتِ عملی

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید17اکتوبر , 2025Updated:17اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    افغان طالبان کی دہشت گردی
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

     (ترکیہ کی پہلی  اور واحد  غیر جانبدار اُردو  نیوز ویب سائٹ ہے۔ اس ویب  سائٹ  میں ترکیہ کی بر سر اقتدار  اور اپوزیشن تمام  ہی  جماعتوں  اورقائم  اتحاد   سے متعلق  خبروں، تبصروں اور سروئیز  کو  بلا امتیاز  جگہ دی  جاتی ہے۔ ان تمام خبروں  اور سروئیز کے  ذرائع  ترک میڈیا اور ایجنسیاں ہی ہیں ۔اس  نیوز ویب سائٹ  کا ان خبروں اور تبصروں سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے)

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    پاکستان اب مزید دہشت گردی قبول نہیں کرسکتا

    قومی سلامتی، ریاستی وقار اور ایک نئی حکمتِ عملی کی ضرورت

    پاکستان اس وقت اپنی تاریخ کے ایک ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں خاموشی جرم کے مترادف بن چکی ہے۔ دہائیوں سے جاری دہشت گردی نے ہمارے ملک کے خمیر کو زخم دیا، معیشت کو کمزور کیا، عوام کے اعتماد کو متزلزل کیا اور عالمی سطح پر ہمارے وقار کو مجروح کیا۔ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان، اپنی ریاستی خودمختاری اور عوامی سلامتی کے تحفظ کے لیے ایک واضح، منضبط اور فیصلہ کن راستہ اختیار کرے۔

    دہشت گردی محض بندوق کی گولی یا بارود کا دھماکہ نہیں،  یہ ذہنوں کی آلودگی، نظریات کی گمراہی اور قوم کے اندرونی امن پر حملہ ہے۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جو نسلوں کو مفلوج کر دیتا ہے۔ لہٰذا اس کے خاتمے کے لیے صرف عسکری طاقت نہیں بلکہ سیاسی بصیرت، سفارتی مہارت، معاشرتی اتحاد، اور فکری مزاحمت درکار ہے۔

    تاریخی تناظر: خدمت، قربانی اور ناقدری

    پاکستان نے گزشتہ چار دہائیوں میں لاکھوں افغان مہاجرین کو پناہ دی۔ ہم نے اپنی زمین، اپنے اسکول، اپنے ہسپتال، حتیٰ کہ اپنے گھروں کے دروازے کھول دیے۔ دنیا کی تاریخ میں شاید ہی کوئی اور ملک اتنی بڑی انسانی قربانی دے سکا ہو۔ ہم نے ان مہاجرین کے دکھوں کو اپنا دکھ سمجھا، ان کے بچوں کو تعلیم دی، ان کے زخموں پر مرہم رکھا۔

    مگر افسوس کہ اس انسانی ہمدردی کا اکثر غلط فائدہ اٹھایا گیا۔ کچھ عناصر نے اسی سرزمین کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف نفرت، دہشت گردی اور انتہا پسندی کی آبیاری کی۔ یہ کہنا درست نہ ہوگا کہ سب افغان یا سب مہاجرین ایسے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ کچھ مخصوص گروہ اور ان کے سہولت کار، پاکستان کی جڑوں میں زہر گھول رہے ہیں۔

    یہی وہ لمحہ ہے جہاں ہمدردی اور ریاستی ذمہ داری کا فرق واضح ہونا چاہیے۔ انسانیت کا احترام اپنی جگہ، لیکن قومی سلامتی ہر ملک کے لیے اولین ترجیح ہوتی ہے۔

    دہشت گردی کا بوجھ: معاشی، انسانی اور نفسیاتی زخم

    پاکستان نے دہشت گردی کے خلاف جو قیمت چکائی ہے، وہ اعداد و شمار سے کہیں زیادہ دردناک ہے۔ ہزاروں شہری اور فوجی شہید ہوئے، کروڑوں ڈالر کا نقصان ہوا، سرمایہ کار بھاگ گئے، اور عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص متاثر ہوا۔

    ہمارے شہروں کے بازار، اسکول، مسجدیں اور حتیٰ کہ فوجی تنصیبات تک دہشت گردی کے نشانے پر رہیں۔ اس کے نتیجے میں نہ صرف خوف کی فضا پیدا ہوئی بلکہ عوام کے دلوں میں عدم تحفظ کا احساس بھی گہرا ہوتا چلا گیا۔

    دہشت گردی صرف جوابی  کاروائی سے روکنا ممکن

    جب سے طالبان افغانستان میں برسر اقتدسار آئے ہیں پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں مسلسل اضافہ ہوتا چال گیا ہے ۔ حالانکہ پاکستان  ہی نے ان کے اقتدار کی راہ ہموار کی تھی  اور انہیں اپنا بھائی  سمجھتے ہوئے  ان کو ہر  ممکنہ تعاون فراہم کیا لیکن  طالبان نے پاکستان کی پیتھ پیچھے چھرا گھونپنے کا سلسلہ اقتدار میں آنے کے بعد سے جاری رکھا ہوا ہے  اور  2024ء سے اب تک  طالبان کی دہشت گرد کاروائیوں کے نتیجے میں  پاکستان میں پانچ ہزار پاکستانیوں کو شہید کرچکے ہیں۔ طالبان دراصل   جنونیوں  کی  فوج ہے ان کے ساتھ ڈیل بھی ان کے  خلاف کاروائی کرتے ہوئے کیا جاسکتا ہے۔  طالبان دہشت گرد جیسے ہی پاکستان میں دہشت گردی کی کاروائی میں ملوث ہوں  ان کا پتہ لگا کر ان کے اپنے ہی وطن میں ان کو نشانہ بنایا جائے  اور اگر اس کے لیے طیاروں یا ڈرونز کی ضرورت پڑے تو ان کو بھی استعمال کرنے سے گریز نہ کیا جائے۔ پاکستان کی موجودہ پالیسی  جس پر خدا خدا کرکے اب عمل درآمد شروع کردیا گیا ہے  کے نتیجے میں اس کے دو رس نتائج  سامنے آئیں گے اور طالبان پاکستان میں دہشت گردی کے واقعات میں ملوث ہونے سےقبل ہزار بار سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے۔

    پاکستان میں دہشت گردی کی جڑوں کو کاٹنے کے لیے ریاستی اداروں، عوام، اور علاقائی شراکت داروں کو ایک جامع حکمتِ عملی اپنانی ہوگی۔

    • سرحدی نگرانی کو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے مضبوط کیا جائے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت روکی جا سکے۔
    • ویزہ اور شناختی نظام کو شفاف بنایا جائے تاکہ صرف قانونی داخلہ ممکن ہو۔
    • انٹیلی جنس نیٹ ورک کو مقامی سطح پر فعال کیا جائے تاکہ بروقت کارروائیاں ممکن ہوں۔
    • انتہا پسندی کے بیانیے کا فکری جواب دیا جائے، علما، اساتذہ، اور نوجوانوں کے ذریعے۔
    • سفارتی سطح پر افغانستان سے تعاون بڑھایا جائے تاکہ مشترکہ دشمن کے خلاف دوطرفہ اقدامات کیے جا سکیں۔
      یہ اقدامات پاکستان کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی برادری میں ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر بھی مضبوط مقام دیں گے۔

    طاقت اور حکمت کا امتزاج: درست راستہ

    ترکیہ کی مثال ہمارے سامنے ہے ،  جہاں ریاست نے دہشت گردی کے مراکز کو نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ داخلی اتحاد، سفارت کاری، اور قومی شعور کو بھی مضبوط کیا۔ پاکستان کو بھی اسی عقلِ سلیم کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

    ہمارا مقصد انتقام نہیں، تحفظ ہے؛ ہماری منزل جنگ نہیں، امن ہے۔ اگر کسی گروہ یا تنظیم کے پاس اسلحہ ہے تو ریاست کے پاس قانون، اخلاق اور عزم ہے۔

    پاکستانی افواج، انٹیلی جنس ادارے اور سویلین حکومت کو ایک مشترکہ لائحہ عمل کے تحت، ہدفی کارروائیوں اور جامع سماجی اصلاحات کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔ ہر کارروائی شواہد پر مبنی ہو، ہر قدم آئینی دائرے میں۔

    سرحدی حقیقتیں اور نئی سفارتی ضرورت

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان ایک تاریخی رشتہ ہے،  ثقافتی، لسانی، اور خاندانی بندھن۔ لیکن یہ بندھن ریاستی خودمختاری کی جگہ نہیں لے سکتا۔ دنیا کے کسی بھی دو ممالک کے درمیان، خواہ وہ کتنے ہی قریبی کیوں نہ ہوں، آمد و رفت کے لیے قانونی نظام ہوتا ہے ،  پاسپورٹ، ویزا، اور نگرانی۔

    یہ اصول دشمنی نہیں بلکہ نظم و ضبط کا تقاضا ہے۔ اگر بھارت اور پاکستان جیسے سابق متحدہ خطے میں تقسیم کے بعد خاندانی روابط کے باوجود سخت ویزا نظام برقرار ہے تو افغانستان اور پاکستان کے درمیان بھی ایسا نظام ناگزیر ہے۔

    قانونی آمد و رفت، منظم سرحد، اور شفاف نگرانی نہ صرف سلامتی کو مضبوط کرتی ہے بلکہ حقیقی اور دیانت دار تعلقات کو فروغ دیتی ہے۔

    داخلی اصلاحات: قوم کی طاقت عوام میں

    دہشت گردی کے خلاف سب سے مؤثر جنگ میدان میں نہیں، ذہنوں میں لڑی جاتی ہے۔ جب ایک قوم شعور یافتہ ہو، جب اس کے نوجوانوں کے پاس تعلیم، روزگار، اور امید ہو تو کوئی انتہا پسند انہیں بہکا نہیں سکتا۔

    مدارس، جامعات، میڈیا، اور مذہبی اداروں کو قومی بیانیے کا حصہ بنانا ہوگا۔ دہشت گردی کا مقابلہ صرف بندوق سے نہیں بلکہ کتاب، قلم اور علم سے کیا جا سکتا ہے۔

    ہمیں اپنی نوجوان نسل کو بتانا ہوگا کہ جہاد کا مطلب فساد نہیں، بلکہ علم، انصاف اور انسانیت کی حفاظت ہے۔

    معیشت، استحکام اور امن کا تعلق

    امن اور ترقی لازم و ملزوم ہیں۔ کوئی بھی ملک اس وقت تک خوشحال نہیں ہو سکتا جب تک اس کے شہری خوف سے آزاد نہ ہوں۔ سرمایہ کار وہاں آتا ہے جہاں امن ہو، اسکول وہاں بنتے ہیں جہاں بم نہ پھٹیں، اور سیاح وہاں جاتے ہیں جہاں خوف نہ ہو۔

    لہٰذا دہشت گردی کے خلاف جنگ دراصل پاکستان کے معاشی مستقبل کی جنگ ہے۔ جب امن لوٹے گا تو سرمایہ بھی لوٹے گا، روزگار بڑھے گا، اور قوم خوشحال ہوگی۔

    سفارت کاری: بات چیت کی طاقت

    پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی میں توازن پیدا کرنا ہوگا۔ افغانستان کے ساتھ سخت مگر منصفانہ بات چیت، ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے ساتھ تعاون، چین اور ترکیہ جیسے اتحادیوں کی حمایت،   یہ سب مل کر پاکستان کے لیے ایک مضبوط دفاعی ڈھال بن سکتے ہیں۔

    علاقائی استحکام صرف اس وقت ممکن ہے جب سب ملک دہشت گردی کو مشترکہ دشمن سمجھ کر ایک دوسرے کے ہاتھ مضبوط کریں۔ پاکستان اس مقصد کے لیے قیادت کا کردار ادا کر سکتا ہے، جیسا کہ ماضی میں بھی کیا۔

    مذہبی انتہا پسندی کا فکری خاتمہ

    دہشت گردی کے پیچھے جو نظریاتی زہر چھپا ہے، وہ سب سے خطرناک ہے۔ یہ زہر مذہب کے نام پر نفرت، تشدد اور خونریزی کو جائز قرار دیتا ہے۔

    علماء، مشائخ، اور دینی ادارے اس محاذ پر ریاست کے سب سے بڑے اتحادی بن سکتے ہیں۔ جب مساجد سے امن، محبت اور وحدت کا پیغام گونجے گا، تو نفرت کے سوداگر خود بخود بے نقاب ہو جائیں گے۔

    اسلام کا پیغام رحمت للعالمین ﷺ کا پیغام ہے ، اس میں تلوار صرف ظلم کے خلاف اٹھتی ہے، انتقام کے لیے نہیں۔

    پناہ گزینوں کی پالیسی: انسانیت اور تحفظ کا توازن

    پاکستان کو اب ایک واضح، شفاف اور قانونی پناہ گزین پالیسی وضع کرنی ہوگی۔ ان لاکھوں افغان باشندوں میں سے جو دہائیوں سے یہاں رہ رہے ہیں، ان کے جائز حقوق اور بنیادی سہولتوں کا احترام کیا جائے، مگر ان میں موجود مشتبہ عناصر کے خلاف شواہد کے مطابق کارروائی ہو۔

    ریاست کو اجتماعی سزا نہیں بلکہ انفرادی انصاف پر یقین رکھنا چاہیے۔ یہی اصول پاکستان کو ایک مہذب اور باوقار ملک کے طور پر دنیا کے سامنے مضبوط کرے گا۔

    قومی اتحاد ،  سب سے بڑا ہتھیار

    دہشت گردی کے خلاف سب سے مضبوط ہتھیار بندوق نہیں بلکہ اتحاد ہے۔ اگر قوم اپنے اختلافات بھلا کر ایک نکتے پر متفق ہو جائے ،  کہ پاکستان کی بقا ہر ذاتی مفاد سے بڑھ کر ہے ،  تو کوئی دشمن ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔

    یہ وقت سیاست سے اوپر اٹھنے، ذاتی پسند ناپسند بھلانے، اور صرف پاکستان کے مفاد میں سوچنے کا ہے۔ یہ جنگ نہ فوج کی اکیلی ہے، نہ حکومت کی؛ یہ پوری قوم کی جنگ ہے۔

    پاکستان اب مزید دہشت گردی برداشت نہیں کرسکتا۔ اس ملک نے امن کے نام پر بہت خون بہا دیا، اور اب اسے اپنے شہریوں کے مستقبل کے لیے واضح فیصلے کرنے ہیں۔

    ہمیں ایسا نظامِ امن درکار ہے جو طاقت کے ساتھ انصاف، سختی کے ساتھ ہمدردی، اور ریاستی وقار کے ساتھ انسانی اقدار کا امتزاج ہو۔

    وقت آگیا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین سے ہر دہشت گرد اور ہر سہولت کار کو قانون کے مطابق ختم کرے، اپنے اداروں کو مضبوط کرے، اور دنیا کو بتا دے کہ یہ ملک اب خوف میں نہیں جئے گا۔

    یہ عزم پاکستان کے عوام، افواج، علما، سیاست دانوں، اور دانشوروں — سب کا مشترکہ وعدہ ہے۔ ہم امن چاہتے ہیں، مگر عزت کے ساتھ؛ ہم دوستی چاہتے ہیں، مگر وقار کے ساتھ؛ اور ہم ترقی چاہتے ہیں، مگر اپنی خودمختاری کے سائے میں۔یہی پاکستان کا نیا عہد ہونا چاہیے،  امن، قانون، وقار، اور اتحاد۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان کا نام غزہ بین الاقوامی استحکام فورس (ISF) میں سب سے نمایاں
    Next Article پاکستان نے ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS-1 کی کامیاب لانچ کے ذریعے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.