Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان کمیونٹی»انقرہ سفارتخانہ پاکستان میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، ظلم کے خلاف استقامت، اتحادِ امت اور انصاف کی پکار
    پاکستان کمیونٹی

    انقرہ سفارتخانہ پاکستان میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، ظلم کے خلاف استقامت، اتحادِ امت اور انصاف کی پکار

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید27اکتوبر , 2025Updated:27اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    انقرہ میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    انقرہ،سفارتخانہ پاکستان میں یومِ سیاہ کشمیر کی یاد میں ایک پُر وقار اور بامعنی تقریب کا اہتمام کیا گیا، جس نے نہ صرف ترکیہ بلکہ عالمی سطح پر ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ جموں و کشمیر کے مظلوم عوام کی جدوجہد محض ایک جغرافیائی تنازع نہیں، بلکہ یہ انسانی وقار، انصاف اور آزادی کی وہ لازوال کہانی ہے جو ظلم کے سائے میں بھی روشن ہے۔
    اس سال بھارت کے غیر قانونی قبضے کو پورے اٹھہتر (78) برس مکمل ہو چکے ہیں،  وہ دن جب 27 اکتوبر 1947 کو بھارتی افواج نے اقوامِ متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے وادی کشمیر پر جبراً تسلط قائم کیا۔

    سفارتخانہ پاکستان انقرہ میں یومِ سیاہ کشمیر

    تقریب میں ترکیہ کی ممتاز شخصیات، سفارتی نمائندگان، دانشوروں، میڈیا اہلکاروں اور سول سوسائٹی کے اراکین نے شرکت کی۔ ان میں سابق وزیرِ زراعت جناب محمد مہدی ایکر، سعادت پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان جناب محمود اریکان، سابق وزیرِ خاندانی و سماجی خدمات اور تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کے ذیلی ادارے SESRIC کی ڈائریکٹر جنرل محترمہ زہرہ سلچوق، جیو اسٹریٹیجک فForesight انسٹیٹیوٹ کے صدر جنرل (ر) گرائے آلپر کے نام نمایاں تھے۔

    یہ تقریب محض ایک رسمی اجتماع نہیں تھی بلکہ ایک ایسی فکری اور اخلاقی گواہی تھی جس نے دنیا کو یاد دلایا کہ کشمیر صرف ایک خطہ نہیں، بلکہ ایک ایسی سرزمین ہے جس کی مٹی انصاف کی پیاسی اور روح آزادی کی متلاشی ہے۔

    سابق وزیرِ زراعت جناب محمد مہدی ایکر

    اپنے پُرجوش خطاب میں جناب محمد مہدی ایکر نے کہا کہ دنیا کی کوئی طاقت اس قوم کی آزادی کو سلب نہیں کر سکتی جس نے ظلم کے اندھیروں میں بھی اپنی اُمید کا دیا روشن رکھا ہو۔ اُنہوں نے کہا کہ بھارتی قبضے کے باوجود کشمیری عوام کا حوصلہ اور عزم دنیا کے لیے مثال ہے۔ انہوں نے یقین ظاہر کیا کہ وہ دن ضرور آئے گا جب ظلم کے سائے چھٹ جائیں گے اور کشمیری قوم اپنی ناقابلِ تنسیخ حقِ خودارادیت کو حاصل کر کے تاریخ میں ایک نئی صبح رقم کرے گی۔

    سعادت پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان جناب محمود اریکان،

    سعادت پارٹی کے چیئرمین اور رکنِ پارلیمان جناب محمود اریکان نے اپنے خطاب میں کہا کہ کشمیر کا مسئلہ سیاست سے کہیں بڑھ کر انسانیت، وقار اور ضمیر کا امتحان ہے۔انہوں نے کہا کہ کشمیر اور غزہ جیسے المیے اس بات کی یاد دہانی ہیں کہ امتِ مسلمہ کے زخم ایک جیسے ہیں اور ان کا مداوا صرف اتحاد و اخوت میں پوشیدہ ہے۔ اُنہوں نے زور دیا کہ مسلم دنیا کو محض بیانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کی ضرورت ہے، تاکہ دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کے حقوق کی پاسداری کی جا سکے۔
    اُنہوں نے عالمی برادری، خصوصاً اقوامِ متحدہ اور تنظیمِ تعاونِ اسلامی سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے زیرِ تسلط جموں و کشمیر میں جاری مظالم کے خاتمے کے لیے اپنا مؤثر کردار ادا کریں اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق اس مسئلے کا منصفانہ اور پُرامن حل یقینی بنائیں۔

    سابق وزیرِ خاندانی و سماجی خدمات زہرہ سیلچوق 

    محترمہ زہرہ سلچوق نے اپنی تقریر میں تنظیمِ تعاونِ اسلامی (OIC) کی جانب سے کشمیری عوام کی جدوجہد کے لیے غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔ اُنہوں نے کہا کہ او آئی سی ہمیشہ کشمیری عوام کے ساتھ کھڑی رہی ہے اور بارہا عالمی فورمز پر بھارتی افواج کے مظالم اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی مذمت کرتی رہی ہے۔
    اُنہوں نے زور دیا کہ اقوامِ متحدہ کی وہ قراردادیں فوری طور پر نافذ کی جائیں جو کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو تسلیم کرتی ہیں۔ محترمہ زہرہ نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ محض ایک سیاسی یا سرحدی تنازع نہیں بلکہ عالمی ضمیر کا امتحان ہے ،  ایک ایسا امتحان جس میں انصاف اور انسانیت دونوں کو کڑی آزمائش کا سامنا ہے۔

    جیو اسٹریٹیجک فForesight انسٹیٹیوٹ کے صدر جنرل (ر) گرائے آلپر

    جیو اسٹریٹیجک Foresight انسٹیٹیوٹ کے صدر جنرل (ر) گرائے آلپر نے کہا کہ جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کی بنیاد کشمیر کے منصفانہ حل سے جڑی ہوئی ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ جب تک کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہوتا، خطے میں پائیدار امن کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ اُنہوں نے اس امر پر تشویش ظاہر کی کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اور مسلسل ریاستی جبر نہ صرف خطے کے استحکام کے لیے خطرہ ہیں بلکہ عالمی امن کے توازن کے لیے بھی ایک چیلنج بن چکے ہیں۔
    اُنہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہیے کہ وہ خاموش تماشائی بننے کے بجائے اپنی اخلاقی اور قانونی ذمہ داریاں پوری کرے اور انصاف کے تقاضے پورے کرے۔

    سفیرِ پاکستان ڈاکٹر یوسف جنید

    پاکستان کے سفیر، ڈاکٹر یوسف جُنید نے اپنے جامع اور ولولہ انگیز خطاب میں کہا کہ یومِ سیاہ کشمیر صرف ایک یادگار دن نہیں، بلکہ ایک اجتماعی ضمیر کی گونج ہے جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ظلم کے خلاف خاموشی خود ایک جرم ہے۔
    اُنہوں نے کہا کہ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 کو بین الاقوامی قوانین اور کشمیری عوام کی خواہشات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جموں و کشمیر پر قبضہ کیا، اور اُس دن سے آج تک کشمیری عوام ظلم و جبر کی اذیت ناک داستان رقم کر رہے ہیں۔
    انہوں نے بھارتی قابض افواج کے سنگین مظالم ،  ماورائے عدالت قتل، بلا جواز گرفتاریوں، خواتین کی بے حرمتی اور آبادیاتی تناسب میں تبدیلی کی خطرناک کوششوں کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب کچھ عالمی برادری کے ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی ہے۔

    سفیر یوسف جُنید نے ترکیہ کے عوام اور حکومت، بالخصوص صدر رجب طیب ایردوان کے اصولی اور بہادرانہ مؤقف کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر ایردوان نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سمیت متعدد عالمی فورمز پر جس جرات اور وضاحت کے ساتھ کشمیر کے حق میں آواز بلند کی ہے، وہ نہ صرف پاکستان بلکہ پوری امتِ مسلمہ کے دلوں میں گہرا اثر رکھتی ہے۔
    انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان برادرانہ تعلقات ایمان، ثقافت اور مشترکہ اقدار کی بنیاد پر قائم ہیں، اور یہی روح دونوں ملکوں کو مظلوم اقوام کے دفاع میں ایک صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔

    آخر میں سفیر جُنید نے زور دیا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک مسئلہ کشمیر کشمیری عوام کی خواہشات اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق حل نہیں ہوتا۔
    انہوں نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ عالمی برادری اپنے وعدوں کو یاد کرے ، کیونکہ کشمیر کا زخم محض ایک قوم کا زخم نہیں، بلکہ انسانیت کی پیشانی پر ایک ایسا داغ ہے جو تبھی مٹے گا جب انصاف قائم ہوگا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleدہشت گردی کے خاتمے کے لیے ٹھوس اقدامات نہ کیے تو پاکستان اپنی سرزمین کے دفاع کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہے
    Next Article ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں چار روزہ استنبول تکنیکی مذاکرات ناکام ،خواجہ آصف: اگر افغانستان نے فتنہ الخوارج (TTP) کو لگام نہ دی، تو پاکستان عملی اقدام سے گریز نہیں کرے گا
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.