Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں چار روزہ استنبول تکنیکی مذاکرات ناکام ،خواجہ آصف: اگر افغانستان نے فتنہ الخوارج (TTP) کو لگام نہ دی، تو پاکستان عملی اقدام سے گریز نہیں کرے گا
    ترکیہ

    ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں چار روزہ استنبول تکنیکی مذاکرات ناکام ،خواجہ آصف: اگر افغانستان نے فتنہ الخوارج (TTP) کو لگام نہ دی، تو پاکستان عملی اقدام سے گریز نہیں کرے گا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید28اکتوبر , 2025Updated:28اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    استنبول تکنیکی مذاکرات ناکام
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں   چار روزہ استنبول تکنیکی مذاکرات  ناکام 

    امن   کی امید   ضد کی بھینٹ چڑھ گئی

    استنبول کے سمندری کنارے جب پاکستان اور افغانستان کے وفود ایک مرتبہ پھر آمنے سامنے بیٹھے، تو فضا میں صرف رسمی سفارتی گفتگو نہیں، بلکہ برسوں کے اعتماد، شک اور امید کی ملی جلی کہانی گونج رہی تھی۔ ترکیہ کی میزبانی میں ہونے والے یہ چار روزہ مذاکرات جنوبی ایشیا کے اس پیچیدہ خطے کے لیے کسی نازک سرجری سے کم نہ تھے۔ترکیہ ثالث بن کر دونوں کے درمیان ایک پل تعمیر کرنے کی سعی کر رہا تھا ۔

    پہلا دن: تعارف، توقعات، اور خاموش بےاعتمادی

    مذاکرات کے پہلے دن دونوں وفود رسمی مسکراہٹوں اور شائستہ جملوں کے تبادلے سے آغاز کرتے ہیں۔ پاکستانی وفد کی قیادت ایک تجربہ کار سفارتی ٹیم کر رہی تھی جس کے ساتھ سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ماہرین بھی شامل تھے۔ ان کا مقصد واضح تھا:

    افغان سرزمین کو بھارت اور فتنہ الخوارج (TTP) کے خلاف استعمال ہونے سے روکنا۔

    افغان وفد، جس کی سربراہی نائب وزیرِ خارجہ نے کی، ابتدا ہی سے دفاعی انداز میں گفتگو کرتا دکھائی دیا۔ پاکستانی وفد نے ٹھوس شواہد پیش کیے، جن میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانے، سرحد پار حملوں کی تفصیلات، اور بھارتی خفیہ ادارے را کے ساتھ تعلقات کے ثبوت شامل تھے۔
    تاہم افغان وفد نے روایتی انکار اور تاخیر کی حکمتِ عملی اپنائی ،  وہی پرانی پالیسی، جو اسلام آباد سے ہر ملاقات میں دہرائی جاتی رہی ہے۔

    دوسرا دن: تلخ جملے، سخت مؤقف

    دوسرا دن دراصل مذاکرات کی اصل حقیقت کا آئینہ دار ثابت ہوا۔ پاکستانی وفد نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ہم نے بارہا صبر کیا، مگر اب پاکستان اپنی سرزمین پر کسی حملے کو برداشت نہیں کرے گا۔

    وزیرِ دفاع خواجہ آصف کا یہ پیغام بھی پہنچایا گیا کہ اگر افغانستان نے فتنہ الخوارج (TTP) کو لگام نہ دی، تو پاکستان عملی اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔اس سخت مؤقف پر افغان وفد کے چہروں پر ناگواری کے آثار نمایاں ہوئے۔کچھ اراکین نے تلخ لہجے میں جواب دیے، بعض نے میز چھوڑنے تک کی دھمکی دی۔
    ترکیہ کے ثالث ابراہیم قالن  اور قطری مبصرین نے بیچ میں آ کر فضا کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی۔ مگر تلخی کی لکیر کھنچ چکی تھی ،  ایک ایسی لکیر جو ان مذاکرات کے بقیہ دو دنوں تک مٹ نہ سکی۔

    تیسرا دن: ثالثی کی کوششیں اور تعطل کی دھند

    تیسرے روز ترک اور قطری وفود نے صورتحال سنبھالنے کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات تجویز کیے۔
    ترکیہ نے پیشکش کی کہ وہ سرحدی نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور انسدادِ دہشت گردی تعاون کے لیے ایک مشترکہ سہ فریقی میکانزم تشکیل دے۔
    قطر نے بھی یاد دہانی کرائی کہ طالبان نے دوحہ معاہدے میں عالمی برادری سے وعدہ کیا تھا کہ افغان سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

    پاکستانی وفد نے ان تجاویز کو سراہا مگر اس شرط پر کہ عملی ضمانت دی جائے ،  صرف وعدے نہیں۔
    افغان وفد اس نکتے پر رکا رہا کہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کیا جائے، اور یوں تیسرا دن بے نتیجہ مگر شائستہ خاموشی میں گزر گیا۔

    چوتھا دن: امید کا غروب اور حقیقت کا ظہور

    مذاکرات کے آخری دن، صبح ہی سے فضا بھاری تھی۔پاکستانی وفد نے آخری موقع کے طور پر ایک تحریری مسودہ پیش کیا، جس میں چھ بنیادی مطالبات شامل تھے:

    1. TTP اور BLA کے کیمپوں کی بندش
    2. پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث افراد کی حوالگی
    3. مشترکہ سرحدی گشت
    4. میڈیا پروپیگنڈہ بند کرنا
    5. افغان وزارتِ داخلہ کی سطح پر براہِ راست رابطہ سیل کا قیام
    6. آئندہ حملوں کی صورت میں مشترکہ تحقیقاتی کمیشن کی تشکیل

    افغان وفد نے ان میں سے کسی ایک نکتے پر بھی واضح جواب نہیں دیا۔
    ان کا کہنا تھا  کہ ہم ہر مسئلے پر غور کریں گے، لیکن ابھی کسی فیصلے پر نہیں پہنچ سکتے۔

    یوں چار دن بعد جب دونوں وفود نے استنبول کی میز چھوڑی، تو امن کی امید سرد، اور حقیقت کی دیوار مزید بلند ہو چکی تھی۔

    پاکستان کا مؤقف: صبر کی انتہا اور دفاع کا عزم

    پاکستان نے اپنے مؤقف میں کوئی ابہام نہیں چھوڑا۔اسلام آباد کی طرف سے صاف پیغام دیا گیا کہ ہم افغانستان کے دشمن نہیں، مگر اپنی سرزمین کے دفاع میں کسی سے رعایت نہیں کریں گے۔
    خواجہ آصف، جنرل ندیم انجم، اور دیگر سیکیورٹی ماہرین نے واضح کیا کہ پاکستان کی سرحدی خودمختاری سرخ لکیر ہے۔
    افغان طالبان سے توقع تھی کہ وہ اپنی زمین کو بھارتی پراکسیوں سے پاک کریں گے، مگر تاحال وہ وعدے الفاظ سے آگے نہیں بڑھے۔

    ترکیہ و قطر کا کردار: پل کے دونوں سِروں پر روشنی

    ترکیہ نے ہمیشہ کی طرح برادرانہ نرمی اور سفارتی حکمت سے کام لیا۔استنبول میں ترک وزارتِ خارجہ کے اعلیٰ حکام مسلسل دونوں وفود سے علیحدہ ملاقاتیں کرتے رہے۔
    انہوں نے بارہا زور دیا کہ اسلامی ممالک کو باہمی تنازعات بات چیت سے حل کرنے چاہئیں۔قطر نے بھی اسی جذبے کے تحت اعتماد سازی کی کوشش کی۔اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ نہ ہو سکا۔

    ناکامی یا تاخیر؟ حقیقت کا دوسرا رُخ

    بظاہر مذاکرات ناکام ہوئے، مگر پسِ پردہ کچھ دروازے بند نہیں ہوئے۔ترک سفارت کاروں نے عندیہ دیا کہ نومبر میں ایک فالو اپ ٹیکنیکل میٹنگ ممکن ہے۔پاکستان نے اپنے داخلی سیکیورٹی پلان پر عمل تیز کر دیا ہے ،  سرحدوں پر اضافی نگرانی، انٹیلی جنس نیٹ ورک کی وسعت، اور ممکنہ انسدادی کارروائیوں کے لیے گرین سگنل تیار ہے۔
    افغان حکومت کو یہ اشارہ صاف مل چکا ہے کہ پاکستان اب مزید انتظار کے موڈ میں نہیں ہے۔

    چار دن کی کہانی، ایک سبق

    استنبول کے یہ چار دن دراصل جنوبی ایشیا کی سیاست کا نچوڑ تھے ،جہاں امن کی خواہش اور اقتدار کی ضد ایک دوسرے سے مسلسل برسرِپیکار ہیں۔
    پاکستان اب ایک ایسے مرحلے پر پہنچ چکا ہے جہاں سفارت اور دفاع، دونوں کو ایک ساتھ چلانا ہوگا۔
    افغان طالبان کے لیے یہ موقع تھا کہ وہ ایک ذمہ دار ریاست کا کردار ادا کرتے، مگر انہوں نے موقع ضائع کر دیا۔

    ترکیہ کی میزبانی نے ایک بار پھر یہ ثابت کیا کہ امتِ مسلمہ کے اندر اب بھی خیر کے چراغ روشن ہیں۔
    اور پاکستان نے یہ پیغام دیا کہ ہم امن چاہتے ہیں، لیکن کمزوری نہیں۔

    کیا امید کی کوئی کرن موجود ہے؟

    چار دنوں کی ناکامی، دراصل چار سچائیاں اجاگر کر گئی:

    1. پاکستان کا صبر اب ایک انتباہ بن چکا ہے۔
    2. افغان قیادت کو اپنی ترجیحات طے کرنی ہوں گی۔
    3. بھارت کی مداخلت کو مزید برداشت نہیں کیا جائے گا۔
    4. اور ترکیہ کا ثالثی کردار مستقبل میں بھی امن کا دروازہ کھول سکتا ہے۔

    استنبول کی خنک ہوا میں شاید ان مذاکرات کی تلخی باقی ہو،مگر پاکستان کی نیت، ترکیہ کی کوشش، اور امتِ مسلمہ کی امید اب بھی زندہ ہے۔
    شاید یہی امید کسی نئے دن کے آغاز کا سبب بنے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ سفارتخانہ پاکستان میں یومِ سیاہ کشمیر کی تقریب ، ظلم کے خلاف استقامت، اتحادِ امت اور انصاف کی پکار
    Next Article ترک وزارتِ خارجہ: افغانستان اور پاکستان جنگ بندی جاری رکھنے اور استنبول میں 6 نومبر سے امن مذاکرات دوبارہ شروع کرنےپر متفق
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.