Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»کیا ترکیہ نے بھارت کا اپاچی ہیلی کاپٹر حاصل کرنے کا خواب پاش پاش کردیا؟
    ترکیہ

    کیا ترکیہ نے بھارت کا اپاچی ہیلی کاپٹر حاصل کرنے کا خواب پاش پاش کردیا؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید15نومبر , 2025Updated:15نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    اپاچی ہیلی کاپٹر
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید 

    جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن ہمیشہ سے حساس رہا ہے۔ پاکستان، بھارت، چین اور خلیجی خطے کے بدلتے ہوئے مفادات نے دفاعی منصوبہ بندی کو غیر معمولی پیچیدگیوں سے بھر دیا ہے۔ ایسے میں بھارت کے لیے Apache AH-64E جیسے جدید حملہ آور ہیلی کاپٹروں کی بروقت ترسیل محض عسکری ضرورت نہیں بلکہ ایک سیاسی اور اسٹریٹجک ترجیح بھی ہے۔

    مگر یہ منصوبہ اس وقت بحران کا شکار ہو گیا جب بھارتی فوج کے لیے تیار کیے گئے Apache ہیلی کاپٹروں کو لے جانے والا An-124 مال بردار   طیارہ (یوکرینی ڈیزائن کا سوویت دور کا بھاری طیارہ ) طیارہ اچانک امریکہ واپس لوٹ گیا۔بھارت میں میڈیا نے جس سرعت سے اس واقعے کو ترکیہ کے ساتھ جوڑ کر فضائی حدود کی بندش کا الزام عائد کیا، اس نے نہ صرف نئی سفارتی بحث چھیڑ دی بلکہ خطے کے تجزیہ کاروں کو ایک مرتبہ پھر ترکیہ -بھارت-پاکستان مثلث کی طرف متوجہ کر دیا ہے۔

    اس رپورٹ میں ہم اس واقعے کے تمام پہلوؤں کو خبر، پس منظر، علاقائی سیاست، سفارتی تجزیے اور دفاعی اثرات کے تناظر میں قدم بہ قدم سمجھیں گے۔

    جرمنی سے برطانیہ،  پھر امریکہ کی غیر متوقع واپسی، کہانی کہاں سے شروع ہوئی؟

    30 اکتوبر کو جرمنی کے شہر لائپزگ میں کھڑے An-124 طیارے پر Apache AH-64E ہیلی کاپٹر انتہائی احتیاط کے ساتھ لوڈ کیے گئے۔ یہ خاص طور پر بھارت کے لیے تیار کیے گئے تھے، ان پر بھارتی آرمی ایوی ایشن کے رنگ اور نشانات واضح دکھائی دے رہے تھے۔

    یکم نومبر کو طیارہ جرمنی سے روانہ ہو کر امریکی ریاست ایریزونا کے Mesa Gateway Airport پہنچا، جہاں آخری تکنیکی تیاری کے مراحل مکمل کیے گئے۔اس کے بعد طیارہ اپنے اگلے پڑاؤ East Midlands Airport (UK) کی طرف روانہ ہوا، جہاں سے اسے براہِ راست بھارت جانا تھا۔

    مگر 8 دن کی خاموشی کے بعد اچانک یہ خبر سامنے آئی کہ طیارہ بھارت جانے کے بجائے دوبارہ Mesa لوٹ گیا ہے۔ بعد میں تصاویر وائرل ہوئیں جن میں Apache ہیلی کاپٹرز کو طیارے سے اتارتے دکھایا گیا۔

    یہ ناقابلِ فہم موڑ تھا، کیونکہ اس سطح کی لاجسٹک پروازیں مکمل پلان اور واضح ٹائم لائن کے ساتھ ہوتی ہیں۔ کہیں نہ کہیں کوئی بڑی رکاوٹ ضرور آئی تھی۔ سوال یہ تھا: وہ رکاوٹ کیا تھی؟

    بھارتی میڈیا کا ترکیہ پر  فضائی حدود کی بندش   کا الزام

    بھارتی میڈیا نے بغیر ثبوت کے براہِ راست ترکیہ ہ کو نشانہ بنایا۔کئی بڑے ڈیجیٹل پورٹلز نے یکساں بیانیہ پیش کیا کہ ترکیہ  نے An-124 کے لیے اوور فلائٹ اجازت نہیں دی۔بھارت نے اسے اس طرح رپورٹ کیا جیسے کوئی بڑا سفارتی بحران پیدا ہو گیا ہو۔دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ ترکیہ نے کوئی بیان دیا اور نہ امریکہ نے، مگر خاموشی کا مطلب تائید نہیں ہوتا، بلکہ یہ سفارتی احتیاط بھی ہو سکتی ہے۔

    بھارتی میڈیا کی جانب سے ترکیہ ہ پر الزام کا پس منظر بھی اہم ہے اور اسے پورا سمجھے بغیر یہ معاملہ ادھورا رہتا ہے۔

    ترکیہ ، بھارت تعلقات: کشیدگی کی جڑیں کہاں ہیں؟

    • کشمیر پر ترکیہ کا واضح موقف

    صدر رجب طیب ایردوان دو ٹوک انداز میں کشمیر کے مسئلے کو عالمی فورمز میں اٹھاتے ہیں۔
    بھارت اسے پاکستان کی حمایت تصور کرتا ہے۔

    • پاکستان، ترکیہ اسٹریٹجک اتحاد

    عسکری مشقیں، دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرون صنعت، بحری تعاون، یہ سب بھارت کے لیے مسلسل تشویش کا باعث ہیں۔خصوصاً پاک فضائیہ کے Bayraktar TB2 ڈرونز نے خطے میں بھارت کی پوزیشن کو چیلنج کیا ہے۔

    • سفارتی سرد مہری : دونوں ممالک کا متضاد بیان

    بھارت کے اسرائیل کے ساتھ بڑھتے تعلقات اور ترکیہ ہ کی فلسطین کے حق میں مضبوط پالیسی نے بھی فاصلہ بڑھایا ہے۔ایسے ماحول میں بھارت کا ہر دفاعی مسئلہ تقریباً  ترکیہ  کارڈ  کے ساتھ جوڑ دینا قابلِ فہم تو ہے، مگر ضروری نہیں کہ حقیقت بھی ہو۔

    اپاچی AH-64E بھارت کا نازک دفاعی ہتھیار

    یہ ہیلی کاپٹر صرف ایک ہتھیار نہیں، بلکہ جنوبی ایشیا میں ملٹری بیلنس کا فیصلہ کن عنصر ہے۔

    اہم خصوصیات

    • Fire-and-forget Hellfire میزائل
    • ملٹی رول ٹارگٹ انگیجمنٹ
    • دشمن ٹینکوں، کمانڈ پوسٹس اور ریڈار سسٹمز کے خلاف کارگر
    • رات اور خراب موسم میں کارروائی
    • چین و پاکستان کے بلند پہاڑی علاقوں میں آپریشن کی صلاحیت

    بھارت ان ہیلی کاپٹروں کو لداخ، راجوری اور اروناچل سرحدوں پر تعینات کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے۔
    ایک معطل شدہ ترسیل بھارت کی عسکری منصوبہ بندی میں ایک خلا پیدا کرتی ہے۔

    اپاچی AH-64E  کا مسئلہ، کیا واقعی ترکیہ نے روکا؟

     ماہرین کی رائے

    • تکنیکی کلیئرنس (سب سے مضبوط امکان)

    An-124 روسی ساختہ طیارہ ہے، جبکہ ترکیہ نیٹو رکن ہے۔ روس-نیٹو تعلقات کے تناظر میں ایسے مال بردار جہازوں کے لیے خصوصی اجازت درکار ہوتی ہے۔ممکن ہے اجازت وقت پر نہ مل سکی ہو۔

    • ملٹری کارگو کی حساسیت

    جب کارگو ملٹری ہو تو ہر ملک اپنے ہوائی راستے کے استعمال میں انتہائی احتیاط برتتا ہے۔

    • سیاسی رکاوٹ (بھارتی دعویٰ)

    اگرچہ بھارتی تجزیہ کار اسے سیاسی پیغام قرار دے رہے ہیں، مگر کوئی ثبوت نہیں۔

    • امریکہ اور بھارت کے درمیان تکنیکی دستاویزات کی کمی

    بعض دفاعی مبصرین اسے بھارت–امریکہ کے درمیان کسی اندرونی اختلاف کا نتیجہ بھی قرار دیتے ہیں۔

    • بھارت کا اپنا فیس سیونگ بیانیہ

    بھارت کے دفاعی منصوبوں میں تاخیر کوئی نئی بات نہیں۔سیاست میں اکثر خارجی عوامل کو الزام دینا داخلہ کمزوریوں کو چھپانے کا آسان طریقہ ہوتا ہے۔

    خطے کے لیے اس تاخیر کے اہم اثرات

    • پاکستان کے لیے سفارتی کامیابی کی علامت

    بھارتی میڈیا کا ترکیہ ہ پر الزام دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ترکیہ  اب علاقائی سیاست میں فیصلہ کن طاقت بن چکا ہے۔

    • بھارت اور چین کے تناظر میں کمزوری کا تاثر

    چین کے ساتھ لداخ میں کشیدگی جاری ہے۔ ایسے حالات میں دفاعی تاخیر بھارت کے اندر اعتماد کو متاثر کرتی ہے۔

    • امریکہ کی پوزیشن

    امریکہ نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، جو خود ایک سوالیہ نشان ہے۔

    • ترکیہ کی خاموشی میں سفارتی حکمت

    انقرہ کسی ایسے واقعے پر فوری ردّعمل نہیں دیتا جو غیر مصدقہ ہو۔یہ رویہ ترکیہ   کی پیشہ ورانہ سفارتکاری کی علامت ہے۔

    مستقبل میں کیا ہوگا؟

    اس معاملے نے جس قدر سوالات کو جنم دیا ہے، ان میں سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ:

    اپاچی ہیلی کاپٹر اب بھارت کب پہنچیں گے؟

    اس کا براہِ راست اثر پڑے گا:

    • بھارت کی شمالی و مغربی سرحدی پالیسی پر
    • چین کے ساتھ اسٹریٹجک توازن پر
    • پاکستان کے لیے ملٹری پلاننگ پر
    • اور خطے میں امریکی اثر و رسوخ پر

    اگر یہ تاخیر طویل ہو جائے تو بھارت کے لیے یہ ایک بڑی دفاعی پسپائی شمار ہوگی۔

    حقیقت ابھی پسِ پردہ ہے مگر کہانی طویل ہو چکی

    An-124 کی واپسی محض ایک تکنیکی واقعہ نہیں۔اس کے اثرات سفارتکاری، دفاعی سیاست، خطے کی کشمکش، میڈیا بیانیے اور عالمی طاقتوں کے تعلقات تک پھیلے ہوئے ہیں۔

    بیان کی اہم صداقت یہ ہے کہ:

    • ترکیہ  نے کوئی الزام قبول نہیں کیا
    • امریکہ نے کوئی وضاحت نہیں کی
    • بھارت صرف میڈیا رپورٹس پر کھڑا ہے

    فی الحال اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ بھارت کا  اپاچی خواب عارضی طور پر چکنا چوڑ ہوگیا ہے،  مگر آنے والے ہفتوں میں یہ معاملہ ایک نئی سفارتی گرمی، نئے تنازعات اور نئی قیاس آرائیوں کو جنم دے سکتا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد ، لغو اور بدنیتی پر مبنی گمراہ کن دعووں کو یکسر مسترد کردیا
    Next Article ترکیہ ڈرونز کی تیاری میں دنیا میں تیسرے نمبر پر ، ترکیہ 17 ویں بڑی عالمی معیشت جبکہ فی کس آمدنی 17 ہزار ڈالر تک پہنچ گئی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.