Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»امریکی کانگریس کا تاریخی اعتراف: پاکستان کی فیصلہ کن فوجی برتری ، افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا: وزیراعظم پاکستان
    پاکستان

    امریکی کانگریس کا تاریخی اعتراف: پاکستان کی فیصلہ کن فوجی برتری ، افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا: وزیراعظم پاکستان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید20نومبر , 2025Updated:20نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    فوجی برتری
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    بھارت پر  پاکستان کی فوجی برتری پر امریکی کانگریس  نے مہر ثبت کردی

    امریکی کانگریس

    مئی 2025 کی وہ سحر انگیز صبح آج بھی خطّے کی جیوپولیٹیکل سٹرٹیجی میں لرزہ طاری کرتی  دکھائی دیتی ہے۔  چار روزہ جھڑپ، جو بظاہر ایک محدود تنازع تھا، دراصل جنوبی ایشیا کی طاقت کے میزان کو تبدیل کرنے والا ایک فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا۔ اس تصادم نے نہ صرف بھارت کی روایتی برتری کے سارے دعوے پاش پاش کر دیے بلکہ پاکستان کے دفاعی ماڈل، اس کی اسٹریٹجک ذہانت اور اس کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیت کو غیر معمولی چمک کے ساتھ دنیا کے سامنے رکھا۔

    لیکن سب سے اہم موڑ وہ تھا جب امریکہ کی کانگریس کے سامنے پیش کی جانے والی رپورٹ نے پہلی بار یہ اعتراف کیا کہ پاکستان نے بھارت کے خلاف فوجی کامیابی  حاصل کی۔ یہ جملہ صرف چار الفاظ پر مشتمل ہے، مگر اس کے اثرات خطّے کی اسٹریٹجک بساط پر زلزلے پیدا کرنے کیلئے کافی ہیں۔

    وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ روز دانش اسکول باغ کی تقریب میں اسی حقیقت کو ایک سیاسی بیانیے میں ڈھالا اور پوری قوم کو یاد دلایا کہ:
    جنگ کے میدان میں افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا ،  اور اس پر امریکی کانگریس نے بھی مہر لگا دی ہے۔

    یہ بیان محض سیاسی جذباتیت نہیں؛ یہ اس رپورٹ کا عکاس ہے جس میں ہر لفظ سائنسی تحقیق، عسکری ٹیکنالوجی، میدانِ جنگ کی حقیقتوں اور جدید جنگی تجزیات پر مبنی ہے۔

    پاکستان کی فضائی و زمینی فتح ،  چار دنوں میں بھارت گھٹنوں کے بل

    وزیراعظم شہباز شریف

    وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں بتایا کہ پاکستان کی افواج نے صرف چار دنوں میں بھارت کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ یہی وہ چار دن تھے جن میں بھارت کے اعلیٰ ترین عسکری ماہرین کی ساری حکمت عملیاں زمین بوس ہوئیں، اور پاکستان نے غیر معمولی مستعدی سے نہ صرف بھارتی حملے کا جواب دیا بلکہ جارحیت کو خود بھارت کے اندر دھکیل دیا۔

    امریکی کانگریس میں جمع کرائی گئی رپورٹ کے مطابق:

    • پاکستان نے ابتدا میں بھارتی فضائیہ کے 5 طیارے مار گرائے
    • پھر مزید کارروائیوں میں تعداد 7 تک جا پہنچی
    • امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ کل 8 بھارتی طیارے تباہ ہوئے
    • پاکستان نے اپنے کسی بھی طیارے کے نقصان کی تردید کی
    • پاکستان نے بھارتی میزائل حملوں کے جواب میں بھارت کے 26 فوجی و انفراسٹرکچر اہداف کو نشانہ بنایا

    یہ وہ اعدادوشمار ہیں جن کی تصدیق یا تائید امریکی، یورپی اور چند آزاد تحقیقی اداروں نے بھی کی۔

    بھارت کی روایتی برتری کے دعوے ایک جھٹکے میں نیچے آ گئے؛ پاکستان نے پہلی بار اس شدت اور سٹرٹیجک ہم آہنگی سے اپنی فضائی طاقت کا استعمال کیا کہ بھارت کیلئے اس کا جواب نہ ممکن ہو گیا۔

    چینی ہتھیاروں کا کھیل بدل دینے والا کردار،  پاکستان کا ٹیکنالوجیکل ایج

    رپورٹ کا سب سے دلچسپ پہلو چین کی ٹیکنالوجی ہے، جس نے پاکستان کی کامیابی کو دوچند کر دیا۔

    رپورٹ کے مطابق:

    افواجِ پاکستان
    • پاکستان نے پہلی بار چینی HQ-9 ایئر ڈیفنس سسٹم کو عملی جنگ میں استعمال کیا
    • PL-15 ل طویل  رینج کے ایئر ٹو ایئر میزائل پاکستانی طیاروں نے مؤثر طریقے سے استعمال کیے
    • پاکستان نے چینی J-10C لڑاکا طیاروں کو عملی جنگی محاذ میں ترجیحی بنیاد پر استعمال کیا
    • مبینہ طور پر چین نے پاکستان کو براہِ راست انٹیلیجنس فیڈ مہیا کی
    • چین کی بحریہ نے بھی پاکستان کی ملٹی نیشنل مشق AMAN میں حصہ لیا، جس سے جنگی کوآرڈینیشن میں مدد ملی

    پاکستان نے ان ہتھیاروں کی مدد سے:

    ✔ رافیل جیسے بھاری اور مہنگے بھارتی طیارے کو نشانہ بنایا
    ✔ بھارتی میزائل حملوں کو ناکارہ بنایا
    ✔ بھارتی فضائیہ کی پیش قدمی روک دی
    ✔ جنگ کا پورا ایئر بیٹل اسپیس کنٹرول میں رکھا

    اسی لیے رپورٹ صاف لکھتی ہے کہ پاکستان کی جنگی کامیابی چینی دفاعی ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا لائیو شوکیس بن گئی ہے۔

    یہ چیز چین کیلئے بھی ایک تاریخی موقع تھی۔ دنیا کی سب سے بڑی اسلحہ مارکیٹ، یعنی مشرقِ وسطیٰ، افریقہ، یوریشیا اور جنوبی امریکہ کے ممالک کیلئے یہ عملی ثبوت بن گیا کہ چینی ہتھیار نہ صرف قابلِ اعتماد ہیں بلکہ میدانِ جنگ میں فیصلہ کن برتری دیتے ہیں۔

    جنگ کا بنیادی محرک ، بھارت کی غلط حکمتِ عملی

    یہ تمام تبصرے اور تجزیے ایک سوال پیدا کرتے ہیں: بھارت نے یہ جنگ کیوں چھیڑی؟

    رپورٹوں اور ماہرین کے مطابق بھارت:

    • پاکستان کے خلاف “کم وقت کا محدود حملہ” چاہتا تھا
    • رافیل، SCALP-EG اور براہموس میزائلوں کی سٹریٹجک ٹیسٹنگ کا خواہشمند تھا
    • چین کیلئے بھی بالواسطہ پیغام دینا چاہتا تھا

    لیکن بھارت کو یہ اندازہ نہیں تھا کہ پاکستان دفاع میں نہیں، حملہ آور کے مقابلے میں ایک قدم آگے ہو کر جواب دے گا۔

    دراصل بھارت نے پاکستان کی عسکری تیاریوں، انٹیلیجنس اپ گریڈیشن، چینی دفاعی اشتراک اور پاکستان ایئر فورس کی نئی حکمتِ عملی کو بری طرح کم سمجھا ،  جس کا نتیجہ اسے چار دنوں میں تاریخی شکست کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

    امریکی کانگریس کا اعتراف ،  پاکستان کیلئے سفارتی فتح

    US-China Economic and Security Review Commission (USCC) کی رپورٹ محض سکیورٹی ڈاکومنٹ نہیں ،  یہ ایک سفارتی انقلاب کے مترادف ہے۔

    اس رپورٹ کے اثرات:

    1. امریکہ نے خود قبول کیا کہ پاکستان نے جنگ میں برتری دکھائی
    2. بھارت کے ساتھ امریکی اسٹریٹجک تعلقات کو پہلا بڑا دھچکا لگا
    3. پاکستان کے کردار اور جنگی حکمت عملی پر عالمی اعتماد میں اضافہ ہوا
    4. خطے میں طاقت کا توازن کاغذی نہیں بلکہ عملی طور پر تبدیل ہوا
    5. چینی اسلحے کی عالمی پذیرائی بڑھی
    6. پاکستان کی دفاعی ڈپلومیسی ایک نئے دور میں داخل ہو گئی

    یہ سب کچھ ایسے ماحول میں سامنے آیا جب بھارت اپنی  عسکری معاشی اور ٹیکنالوجیکل برتری  کا شور کر رہا تھا ،  مگر امریکی کانگریس کی رپورٹ نے یہ تمام شور ایک ہی لمحے میں خاموش کر دیا۔

    میڈیا بیانیہ ،  جنگ کی دوسری بڑی لڑائی

    وزیراعظم شہباز شریف-فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر

    جنگ کے دوران میدان صرف لائن آف کنٹرول، فضائی حدود یا میزائل بیٹری تک محدود نہیں تھا۔ ایک اور محاذ بھی کھلا ہوا تھا ، بیانیہ کی جنگ۔

    پاکستانی میڈیا نے:

    • اپنی عسکری کامیابی کو طاقتور انداز میں پیش کیا
    • جنگی فوائد اور ٹیکنالوجیکل برتری کو نمایاں کیا
    • قومی بیانیے کو مضبوط کیا

    بھارتی میڈیا نے:

    • نقصان چھپایا
    • دعوے بدلتا رہا
    • ناقص معلومات پھیلائیں

    بین الاقوامی میڈیا میں بھی بھارت کا مؤقف کمزور ہوتا چلا گیا، جبکہ پاکستان کا دعویٰ مضبوط اور مستند رپورٹوں سے تقویت پاتا رہا۔

    یہ حقیقت آج بھی بھارت کے اسٹریٹجک حلقوں میں شدید تشویش کا باعث ہے۔

    خطرات، خدشات اور مستقبل کے سوالات

    اگرچہ یہ کامیابی تاریخی ہے، مگر چند بنیادی سوالات اپنی جگہ موجود ہیں:

    • کیا یہ جھڑپ مستقبل میں بڑے تنازع کا پیش خیمہ بن سکتی ہے؟

    خدشات موجود ہیں ،  خاص طور پر لائن آف کنٹرول اور لداخ کے محاذوں پر۔

    • کیا جوہری کشیدگی کا امکان بڑھ گیا ہے؟

    امریکی اور یورپی تجزیہ کار اس خطرے کو حقیقی قرار دے رہے ہیں۔

    • کیا پاکستان کا بڑھتا ہوا چینی انحصار فائدہ یا ممکنہ خطرہ؟

    یہ فائدہ بھی ہے، مگر سفارتی لچک برقرار رکھنا پاکستان کیلئے ناگزیر ہے۔

    • کیا بھارت یہ شکست قبول کر لے گا؟

    ممکن نہیں۔ بھارت مستقبل میں توازن بحال کرنے کیلئے جارحانہ رویہ اختیار کر سکتا ہے۔

    پاکستان کیلئے تین اہم اسٹریٹجک اسباق

    1- دفاعی خود انحصاری کی جانب سفر تیز کرنا ہوگا

    • جے ایف-17 بلاک 4 اور بلاک 5 پروگرام
    • طویل  رینج کے میزائل
    • اسلحہ ساز ڈرونز کی تیاری
    • مقامی ایئر ڈیفنس سسٹمز
      یہ پاکستان کے مستقبل کا راستہ ہے۔

    2- قومی انٹیلیجنس نیٹ ورک نے جنگ میں فیصلہ کن کردار ادا کیا

    اس صلاحیت کو مزید آگے بڑھانا ہوگا۔

    3-  جنگی بیانیے کی برتری،  پاکستان کی طاقت

    دنیا بیانیے کی جنگ جیتنے والوں کے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت کیا، اب اسے برقرار رکھنا ضروری ہے۔

    پاکستانی فوج کی کامیابی ، نیا سنگِ میل

    پاک فضائیہ بمقابلہ بھارتی فضائیہ

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ ایک مختصر جھڑپ ضرور تھی ،  مگر اس نے تاریخ بدل دی۔

    • پاکستان نے ثابت کیا کہ وہ کمزور نہیں
    • بھارت کی روایتی برتری کا بھرم ٹوٹ گیا
    • امریکہ کو زمینی حقائق تسلیم کرنا پڑے
    • چین کی ٹیکنالوجی نے اپنی صلاحیت ثابت کی
    • جنوبی ایشیا کا طاقت کا توازن تبدیل ہو گیا

    وزیراعظم شہباز شریف نے جو کہا، وہ آج صرف ایک جذباتی فقرہ نہیں ،  بلکہ عالمی حقیقت ہے:

    افواجِ پاکستان نے بھارت کو زناٹے دار تھپڑ رسید کیا، اور امریکی کانگریس نے اس پر مہر لگا دی ہے۔

    یہ جملہ اب محض قومی نعرہ نہیں ،  یہ ایک عالمی سطح پر تسلیم شدہ سچائی ہے۔
    پاکستان کے لیے یہ محض ایک جنگ نہیں، بلکہ ایک نیا آغاز ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleکھسیانا بھارت کھمبا نوچے، ترکیہ- پاکستان اتحاد پر بھارت کی نوحہ گری، بھارتی میڈیا میں پاک ترک اتحاد پر خوف کی لہر
    Next Article ترکیہ کے تولگا ایئر ڈیفنس سسٹم نے دنیا میں تہلکہ مچادیا ، سو فیصد اہداف کی درستگی
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.