Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترک جنگی طیارے قاآن(KAAN) نے عالمِ اسلام کے دو ازلی دشمن، بھارت اور اسرائیل کو جلا کر خاکستر کردیا
    ترکیہ

    ترک جنگی طیارے قاآن(KAAN) نے عالمِ اسلام کے دو ازلی دشمن، بھارت اور اسرائیل کو جلا کر خاکستر کردیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید26نومبر , 2025Updated:26نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    ترک جنگی طیارo قاآن KAAN
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    KAANجنگی طیارے سے  بھارت اور اسرائیل کی نیندیں حرام

    ترک جنگی طیارہ قاآنKAAN

    ترکیہ کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے KAAN نے ابھی پہلی دو آزمائشی پروازیں ہی مکمل کی ہیں مگر اس کے ارتعاشات انقرہ کے فضائی حدود سے کہیں باہر محسوس کیے جا رہے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ سے جنوبی ایشیا تک، دفاعی حلقوں میں ایک ہی سوال گردش کر رہا ہے: کیا ترکیہ واقعی پانچویں نسل کا جنگی طیارہ بنا چکا ہے؟
    اس سوال کا سب سے پریشان کن جواب خود ترکیہ کے روایتی حریف نہیں بلکہ ان کے دفاعی ماہرین دے رہے ہیں   اور ان میں سب سے نمایاں آواز اسرائیلی اور بھارتی میڈیا کی ہے، جو گزشتہ چند ہفتوں سے KAAN پر غیر معمولی تنقید کررہا ہے۔

    بھارتی میڈیا کا واویلا

    حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار Shay Gal نے صاف لفظوں میں اعتراف کیا ہے کہ ترکیہ نے وہ منزل حاصل کر لی ہے جو اسرائیل نے خود اپنے ہاتھوں چھوڑ دی تھی۔ دوسری جانب بھارتی میڈیا، خاص طور پر نئی دہلی کے بڑے ہندی اخبارات، KAAN کو خطرہ  ، غیر قابلِ پیش گوئی، اور ترکیہ کی بڑھتی ہوئی طاقت کا مسئلہ  قرار دے رہے ہیں۔

    یہ رپورٹ اسی منفی پراپیگنڈے، اس کے محرکات اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی اعتماد کا تفصیلی احاطہ کرتی ہے۔

    اسرائیلی اعتراف : ہماری ناکامی پر  ترکیہ نے اپنا کامیاب قدم رکھا

    اسرائیلی میڈیا

    Eurasian Times میں شائع ہونے والی ایک تفصیلی رپورٹ میں اسرائیلی دفاعی تجزیہ کار Shay Gal لکھتے ہیں:

    ترکیہ نے KAAN پروگرام کے ذریعے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ پانچویں نسل کے جنگی طیارے بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ہم نے Lavi منصوبہ امریکی دباؤ کے تحت چھوڑ دیا، مگر ترکیہ نے ہمت نہیں ہاری۔ یہی فرق آج اسے آگے لے آیا ہے۔

    یہ جملہ اسرائیل کے اندر دفاعی حلقوں میں بجلی بن کر گرا ہے۔

    ترک جنگی طیارہ قاآنKANN

    اسرائیل نے 1980 کی دہائی میں Lavi نامی جنگی طیارہ بنانے کا بلند ترین منصوبہ شروع کیا تھا۔ یہ پروگرام تکنیکی اعتبار سے F-16 کا بہتر ورژن سمجھا جاتا تھا۔ لیکن:

    • امریکہ کا سیاسی دباؤ
    • مالی مسائل
    • اور اسرائیلی پالیسی سازوں کی ہچکچاہٹ

    – بالآخر Lavi کے خاتمے کا سبب بنے۔

    Shay Gal نے پہلی بار ترکیہ کے مقابلے میں اسرائیل کی اس اسٹریٹجک ناکامی کا اعتراف کیا ہے۔
    وہ لکھتے ہیں:

     KAAN ترکیہ کی اس فیصلہ کن قوت کا نام ہے جو ہمیں Lavi کے بعد دوبارہ نظر نہیں آئی۔

    اسرائیلی میڈیا اس وقت دو حصوں میں تقسیم ہے:

    1. وہ حلقے جو KAAN کی رفتار اور صلاحیتوں سے خوفزدہ ہیں
    2. وہ جو اسے Non-Operational Dream کہہ کر عوام کو تسلی دینے کی کوشش کر رہے ہیں

    مگر دونوں گروہوں میں ایک چیز مشترک ہے:
    KAAN کو مسلسل زیرِ بحث رکھنا ، جو ظاہر کرتا ہے کہ تشویش اصل ہے، دکھاوا نہیں۔

    بھارتی میڈیا کی بے چینیKAAN خریدنا تباہی کو دعوت دینا ہے

    بھارت کے ہندی اور انگریزی اخبارات نے پچھلے چند ہفتوں میں KAAN پر متعدد رپورٹس شائع کی ہیں، جن میں سب سے زیادہ نمایاں Navbharat Times کا مضمون ہے، جس کا عنوان ہی اشتعال انگیز تھا:

    Buying KAAN is courting disaster

    )ترکیہ کا KAAN خریدنا تباہی کو دعوت دینا ہے(

    یہ رپورٹ بھارتی دفاعی اداروں کی اسی نفسیات کی آئینہ دار ہے جو چین کے J-20 پر بھی برسوں تنقید کرتے رہے، اور پھر عملی حالت کا اندازہ ہونے پر لقمہ توڑتے رہ گئے۔

    بھارتی میڈیا کی منفی رپورٹنگ میں درج ذیل نکات بار بار دہرائے جاتے ہیں:

    ترک جنگی طیارہ قاآنKANN
    • یہ کہ KAAN مکمل طور پر تیار نہیں۔
    • ترکیہ امریکی انجن F110 پر انحصار کر رہا ہے۔
    • KAAN کی سروس میں شمولیت غیر یقینی ہے۔
    • ترکیہ کے پاس F-35 کے مقابلے کا تجربہ نہیں۔
    • اور سب سے زیادہ دہرایا جانے والا دعویٰ: ترکیہ ایک ذمہ دار سپلائر نہیں۔

    اصولی سوال یہ ہے کہ بھارت ترکیہ کے پروگرام میں اتنی دلچسپی کیوں لے رہا ہے؟

    اس کی دو اہم وجوہات ہیں:

    1۔ بھارت کا اپنا AMCA منصوبہ 2010 سے اب تک صرف کاغذ پر ہے

    پانچویں نسل کا بھارتی جنگی طیارہ AMCA ابھی تک:

    • نہ پروٹو ٹائپ کے مرحلے میں ہے
    • نہ اس نے کوئی ٹیسٹ فلائٹ کی
    • نہ کوئی مخصوص ٹائم لائن ہے

    اس کے مقابلے میں KAAN چند سالوں میں:

    • ڈیزائن
    • ونڈ ٹنل
    • گراؤنڈ ٹیسٹنگ
    • پہلی پرواز
    • دوسری پرواز

    -سب مکمل کر چکا ہے۔

    یہ بھارت کے لیے سخت جھٹکا ہے۔

    2۔ ترکیہ کی دفاعی برآمدات کا بھارت کی مارکیٹ پر اثر

    ترک جنگی طیارہ قاآنKANN

    بھارت کے لیے سب سے پریشان کن عنصر یہ ہے کہ:

    • ترکیہ ڈرون مارکیٹ پہلے ہی لے چکا ہے،
    • اب جنگی طیاروں کی مارکیٹ میں بھی قدم رکھ رہا ہے۔

    KAAN اور TF-35000 انجن کی کامیابی بھارت کے لیے علاقائی فضائی توازن میں سنگین تبدیلی ثابت ہو سکتی ہے۔

    اسرائیل اور بھارت کا خوف ،  ایک مشترکہ نکتہ

    دونوں ممالک کی دفاعی پالیسیوں میں کئی اختلافات ہیں، مگر ترکیہ کے معاملے میں ان کا خوف ایک جیسا ہے۔

    1۔ ترکیہ کا دفاعی ماڈل امریکی کنٹرول توڑ رہا ہے

    KAAN کے ابتدائی بلاک میں F110 انجن ہے، جس پر امریکی لائسنس کا کنٹرول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیلی تجزیہ کار Gal نے لکھا:

    “امریکی کنٹرول اسے سست کر سکتا ہے، روک نہیں سکتا۔”

    بھارت بھی اسی نکتے کو بڑھا چڑھا کر پیش کر رہا ہے تاکہ عالمی خریداروں میں شبہات پیدا کیے جائیں۔

    2۔ ترکیہ کا عسکری عروج عالمی دفاعی مارکیٹ میں نئی قطار بنا رہا ہے

    • Bayraktar TB2 نے دنیا کی جنگی حکمت عملی بدل دی
    • AKINCI نے بھاری UAV کی تعریف تبدیل کی
    • KAAN اس فہرست میں نیا اضافہ ہے

    بھارت اور اسرائیل دونوں اسے اپنے لیے ایک مارکیٹ چیلنج سمجھتے ہیں۔

    3۔ ترکیہ کی دفاعی سفارت کاری ،  پاکستان، وسط ایشیا، خلیج، انڈونیشیا

    انڈونیشیا کے ساتھ 10 ارب ڈالر تک کی دلچسپی، امارات کی سرمایہ کاری، قطر کی شراکت  اور پاکستان  کو سب پر ترجیح دینا ،  یہ سب بھارت اور اسرائیل کے لیے پریشانی کا باعث ہیں۔

    KAAN کی وجہ سے خطے کے دفاعی توازن میں تبدیلی

    ترکیہ نے KAAN کی دو پروازوں میں واضح کر دیا:

    • Stealth کوٹنگ
    • ایڈوانسڈ ایرونامکس
    • AESA ریڈار
    • نیٹ ورک سینٹرک سسٹم
    • اور مستقبل کے لیے ہائپر سونک ہتھیاروں کی گنجائش

    -یہ سب محض دعوے نہیں، بلکہ ٹیسٹ شدہ نظام ہیں۔

    – TF-35000 وہ پیش رفت جس نے اسرائیل کو سب سے زیادہ خوفزدہ کیا

    اسرائیلی مبصرین مان رہے ہیں کہ:

    اگر ترکیہ نے اپنا انجن تیار کر لیا تو اسے کوئی نہیں روک سکے گا۔

    بھارتی میڈیا بھی اسی انجن کو نشانہ بنا رہا ہے، مگر ان کے پاس کوئی عملی دلیل نہیں۔

    بھارت اور اسرائیل کے منفی پراپیگنڈے کا اصل مقصد کیا ہے؟

    یہ پراپیگنڈا تین بڑے مقاصد رکھتا ہے:

    1-ترکیہ کے عالمی خریداروں کو خوفزدہ کرنا

    ترک جنگی طیارہ قاآنKANN

    انڈونیشیا، قطر، ملائیشیا، بنگلہ دیش، سعودی عرب ،  سب اس پروگرام پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔
    بھارت اور اسرائیل نہیں چاہتے کہ یہ ممالک روس یا امریکہ کے بجائے ترکیہ کی طرف دیکھیں۔

    2- ترکیہ کو تکنیکی رکاوٹوں میں الجھانا

    فوجی صنعت میں نفسیاتی دباؤ ایک اہم ہتھیار ہے۔
    منفی بیانیہ پھیلایا جاتا ہے تاکہ:

    • عوامی دباؤ بڑھے
    • بجٹ میں کٹوتی ہو
    • یا ترکیہ پروگرام سست کر دے

    مگر حقیقت یہ ہے کہ:

    KAAN سست پڑا ہے، رکا نہیں۔

    3-اپنے عوام کو مطمئن رکھنا

    بھارت اپنے عوام کو بتا رہا ہے:

    فکر نہ کریں، KAAN ہمارے لیے خطرہ نہیں۔

    حالانکہ دفاعی حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

    KAAN -ترکیہ کی وہ پیش رفت جو نظرانداز نہیں کی جا سکتی

    ترکیہ کی اس کامیابی کو نہ بھارت چھپا سکتا ہے، نہ اسرائیل جھٹلا سکتا ہے۔
    KAAN نے ترکیہ کو اس صف میں کھڑا کر دیا جس میں صرف چند ممالک ہیں:

    • امریکہ
    • چین
    • روس

    اور اب ،  ترکیہ۔

    یہی بات بھارت اور اسرائیل کے لیے سب سے زیادہ ناقابلِ قبول ہے۔

    خوف، نفسیاتی جنگ اور ابھرتا ہوا ترکیہ

    اس پوری بحث کا خلاصہ صرف ایک جملہ ہے:

    ترکیہ نے وہ کر دکھایا جس کا خیال بھی اس کے حریف نہیں کر رہے تھے

    اسرائیل کی پریشانی تکنیکی ہے۔
    بھارت کی پریشانی اسٹریٹجک ہے۔
    اور دونوں کی مشترکہ پریشانی یہ ہے کہ:

    ترکیہ اب دفاعی صنعت میں ایک لیڈر کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، فالوئر کے طور پر نہیں۔

    KAAN صرف ایک جنگی طیارہ نہیں ،
    یہ ترکیہ کی اس نئی شناخت کا اعلان ہے جو اسے مستقبل کی عالمی فوجی طاقتوں کی صف میں لا کر کھڑا کر رہی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترکیہ کے تولگا ایئر ڈیفنس سسٹم نے دنیا میں تہلکہ مچادیا ، سو فیصد اہداف کی درستگی
    Next Article ٹرمپ نے افغانی دہشت گرد کیوجہ سے تیسری دنیا کے تمام غیر ملکیوں پر امریکی دروازے بند کردیے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.