Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»ٹرمپ نے افغانی دہشت گرد کیوجہ سے تیسری دنیا کے تمام غیر ملکیوں پر امریکی دروازے بند کردیے
    پاکستان

    ٹرمپ نے افغانی دہشت گرد کیوجہ سے تیسری دنیا کے تمام غیر ملکیوں پر امریکی دروازے بند کردیے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید28نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
    امریکہ میں دہشت گردی
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی رپورٹ: ڈاکٹر فرقان حمید

    کیا طالبان  ہی دہشت گرد ہیں یا افغانی باشندوں کی فطرت میں دہشت گردی ہے ؟

    دنیا کے نقشے پر افغانستان ایک ایسا ملک ہے جو نصف صدی سے زیادہ عرصے سے بدامنی، بے چینی، داخلی خلفشار، بیرونی مداخلت، مذہبی انتہاپسندی اور قبائلی دشمنیوں کی آگ میں جلتا رہا ہے۔ لیکن اس صورتحال کا سب سے افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ افغانستان کے اندرونی مسائل صرف اس کی سرزمین تک محدود نہیں رہے؛ یہ جہاں بھی گئے، اپنے ساتھ وہی بدامنی اور انتشار لے گئے۔ آج دنیا کے امن پسند معاشرے ایک سوال پر یکجا دکھائی دیتے ہیں۔

    افغانی باشندے جو اسلحے کے بغیر نہیں جی سکتے

    آخر کیا وجہ ہے کہ افغان معاشرہ وہاں بھی سکون سے نہیں رہ پاتا جہاں انہیں عزت، پناہ، روزگار اور تحفظ فراہم کیا جاتا ہے؟

    یہ سوال محض جذبات کا اظہار نہیں، بلکہ تاریخ کے سفر میں بارہا اٹھایا گیا وہ سوال ہے جو ہر اس ملک نے پوچھا جس نے کبھی افغان باشندوں کو اپنے گھروں، معاشروں اور دلوں میں جگہ دی۔ بدقسمتی سے جواب تقریباً ہر جگہ یکساں ہے، جہاں افغان اکثریت یا بڑی تعداد میں موجود ہو، وہاں امن کم اور انتشار زیادہ دیکھا گیا۔

    امریکہ میں افغان پناہ گزین کی دہشت گردی؛ تیسری دنیا کے تارکینِ وطن کے لیے دروازے مزید تنگ

    امریکہ میں ایک افغان پناہ گزین کی جانب سے سیکیورٹی گارڈز پر حملے کے واقعے نے امریکی انتظامیہ کو سخت ردعمل دینے پر مجبور کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کے لیے نئی اور سخت تر پالیسیاں نافذ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

    ابتدائی تفصیلات کے مطابق، حملہ آور افغان باشندہ وہی روایتی پس منظر رکھتا ہے جس نے افغانستان کی کئی دہائیوں پر محیط جنگوں کو جنم دیا، وہ پس منظر جس میں بچپن سے لے کر جوانی تک بندوق، بارود اور خونریز گروہی تشدد زندگی کا لازمی حصہ بن جاتا ہے۔ امریکہ جیسے ملک نے اسے پناہ، تحفظ، رہائش اور بہتر مستقبل کا موقع فراہم کیا، مگر حملہ آور اپنی پرتشدد فطرت اور جنگ زدہ ذہنیت سے نجات نہ پاتے ہوئے ایک ایسے واقعے میں ملوث ہوا جس نے امریکی سیکیورٹی اداروں کو ہلا کر رکھ دیا۔

    امریکی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے مطابق، افغان پناہ گزین نے اچانک ایک چیک پوائنٹ پر موجود دو امریکی گارڈز کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے بعد حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا، مگر اس ایک سانحے نے امریکی حکومتی حلقوں میں ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے

    کیا افغان باشندے امریکی  معاشرے کے لیے سیکورٹی رسک بنتے جا رہے ہیں؟

    امریکی سیکورٹی گارڈ

    ذرائع کے مطابق، امریکی محکمہِ ہوم لینڈ سیکیورٹی اور محکمہِ انصاف نے ہنگامی مشاورت کے بعد یہ فیصلہ کیا ہے کہ

    • تیسری دنیا کے ممالک سے آنے والے تارکینِ وطن کی جانچ مزید سخت کی جائے،
    • اسکریننگ کے مراحل میں اضافہ کیا جائے،
    • اور امیگریشن کی منظوری کے لیے نئے سیکیورٹی معیار لاگو کیے جائیں۔

    حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ اس وسیع تر مسئلے کی نشاندہی کرتا ہے جس کا سامنا امریکہ برسوں سے کرتا آ رہا ہے: افغانستان اور دیگر جنگ زدہ ممالک سے آنے والے بعض افراد نہ صرف سماجی انضمام میں ناکام رہتے ہیں بلکہ بعض اوقات اپنی پرانی جنگجو ذہنیت کو چھوڑ بھی نہیں پاتے۔

    امریکی سیکورٹی گارڈ

    امریکی عوام میں بھی اس واقعے کے بعد تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔ مختلف سیاسی حلقے اب یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ‘ مہاجرین کے پروگرام پر فوری نظرِ ثانی’کی جائے اور ایسے افراد کو قبول کرنے سے پہلے ان کے ‘ذہنی پس منظر، عسکری وابستگیوں اور سابقہ سرگرمیوں’ کی مکمل چھان بین کی جائے۔

    ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے واقعات نہ صرف امریکہ میں آباد لاکھوں پرامن تارکینِ وطن کے لیے مشکلات بڑھاتے ہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی تیسری دنیا کے ممالک کے شہریوں کے لیے نئی رکاوٹیں کھڑی کر دیتے ہیں۔

    امریکی حکومت آئندہ چند دنوں میں نئی امیگریشن پالیسیوں کا اعلان کرے گی، جن کے بارے میں خیال ہے کہ وہ نہایت سخت، جامع اور سیکیورٹی-مرکوز ہوں گی۔

    اپنے محسنوں کا نشانہ بنانا افغانیوں کی فطرت ہے

    پاکستان: سب سے بڑا محسن، لیکن سب سے زیادہ نشانہ

    پاکستان وہ واحد ملک ہے جس نے افغانستان میں ہر بڑے بحران کے وقت سب سے زیادہ قربانیاں دیں۔
    چاہے 1979 کی سوویت جارحیت ہو، 1990 کی خانہ جنگی کا دور ہو، یا 2001 کے بعد جنگی بحران ، پاکستان نے ہمیشہ لاکھوں افغانوں کو اپنے دل اور سرحدیں کھول کر جگہ دی۔

    پاکستان نے:

    • 40 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین کو پناہ دی
    • انہیں مفت تعلیم، علاج، کاروبار اور شہریت کے مواقع دیے
    • خیبرپختونخوا اور بلوچستان کی معیشتوں پر غیر معمولی بوجھ اٹھایا
    • اپنے وسائل مہاجرین کی خدمت پر خرچ کیے

    لیکن اس احسان کا بدلہ احسان نہیں ملا۔
    پاکستان کو ملنے والا ‘شکریہ’  دہشت گردی، اسلحہ، منشیات، اسمگلنگ، اغوا برائے تاوان اور پاکستان دشمن عناصر کی پشت پناہی کی صورت میں ملا۔
    یہ حقیقت  بھی سب کو معلوم ہے کہ  پاکستان میں دہشت گردی کا آغاز افغان مہاجرین کے آنے کے بعد ہوا۔

    افغان مزاج: اسلحہ کی گود میں آنکھ کھلنا اور لاشوں کے درمیان پرورش پانا

    افغانی بچپن ہی سے اسلحہ چلاتے ہیں

    افغان معاشرے کی ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ وہاں ایک عام بچے کی آنکھ کھلتی ہی اس ماحول میں ہے جہاں بندوق، راکٹ لانچر، دستی بم، انتقام، قبائلی جھگڑے، خونریزی، غیرت کے نام پر قتل اور خاندانی دشمنیاں روزمرہ کا حصہ ہیں۔

    چالیس برس کی مسلسل جنگوں نے افغان معاشرے میں:

    • فہم و فراست
    • برداشت
    • مکالمہ
    • پُرامن ثقافت
    • ریاستی قانون
    • شہری ذمہ داریاں

    جیسے اوصاف کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔
    یوں ایک ایسا معاشرہ وجود میں آیا جو جنگ کو زندگی سمجھ بیٹھا ہے۔

    افغان معاشرے میں طاقت، بندوق اور تشدد کو عزت سمجھا جاتا ہے۔
    بدقسمتی یہ ہے کہ یہ عادات وہ جہاں بھی جاتے ہیں اپنے ساتھ لے جاتے ہیں ، یوں کسی بھی ملک کا امن متاثر ہوتا ہے۔

    افغان قیادت: مسلسل قتل، بغاوت اور اقتدار کی جنگ

    تاریخ میں شاذ و نادر ہی کوئی ملک ملے گا جس کی قیادت نے اتنی جلدی اور اتنی کثرت سے اپنی حکومتوں کو قتل و غارت، بغاوت یا بیرونی مداخلت کے ذریعے بدلتے دیکھا ہو۔
    افغانستان میں اقتدار کبھی پُرامن طور پر منتقل نہیں ہوا۔
    ملک کی سیاسی تاریخ گویا ایک مسلسل جنازہ ہے:

    • 1973 میں ظاہر شاہ کو ان کے اپنے کزن سردار داؤد خان نے ہٹا کر جمہوریہ قائم کی۔
    • کچھ سال بعد خود داؤد خان اپنے ہی فوجیوں کے ہاتھوں بغاوت میں مارے گئے۔
    • نور محمد ترہ‌کی چند ہی مہینے بعد قتل کر دیے گئے۔
    • حفیظ اللہ امین نے اقتدار سنبھالا، لیکن جلد ہی وہ بھی انجام کو پہنچے۔
    • 1979 میں سوویت افواج کی آمد پر ببرک کارمل کو لایا گیا۔
    • پھر نجیب اللہ آئے، جنہیں بعد میں طالبان نے مار ڈالا۔
    • مجاہدین آئے تو وہ اقتدار کی ہوس میں ایک دوسرے کے خون کے پیاسے ہو گئے۔
    • طالبان نے اقتدار لیا تو وہ بھی داخلی اختلافات کا شکار رہے۔
    • امریکہ نے مداخلت کی تو کرزئی اور پھر اشرف غنی نے حکومت سنبھالی ، لیکن دونوں ایک دوسرے سے شدید اختلافات کے باعث قومی اتحاد قائم نہ کر سکے۔
    • آخر کار دوبارہ طالبان کی حکومت آئی، جو آج بھی اپنے اندرونی جھگڑوں میں الجھی ہوئی ہے۔

    تاریخی طور پر دیکھا جائے تو افغانستان میں مسلسل بغاوت، قتل اور طاقت کی لڑائی ہی سیاسی روایت رہی ہے۔
    افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ روایت رکی نہیں ، صرف سرحد پار منتقل ہوئی۔

    دنیا میں افغان مہاجرین: جہاں گئے، امن متاثر ہوا

    دنیا کے کون سے ترقی یافتہ ملک نے افغان مہاجرین کو قبول نہیں کیا؟

    • ایران
    • پاکستان
    • ترکیہ
    • یورپ
    • امریکہ
    • کینیڈا
      سب نے اپنے  دروازے کھول دیے،
      مگر تقریباً ہر جگہ افغان شہریوں نے مقامی قوانین کی خلاف ورزی، منشیات، اسلحہ اور جرائم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔

    ترکیہ میں افغان باشندوں کے ہاتھوں:

    • پاکستانی شہریوں کے اغوا
    • جعل سازی
    • انسانی اسمگلنگ
    • جعلی پاکستانی شناخت کے استعمال

    جیسے واقعات شدید بڑھے۔
    یہاں تک کہ بعض افغان جنہوں نے پاکستان کی شہریت غیر قانونی طریقے سے حاصل کرلی تھی، وہی شہریت پاکستانی شہریوں پر ظلم کے لیے استعمال کرنے لگے۔
    یہ صورتحال پاکستان کے لیے انتہائی تکلیف دہ اور شرمناک ہے۔

    افغان معاشرے کا مستقل مسئلہ: دشمن کی تعریف بدلتی ہے، فطرت نہیں

    افغان معاشرے میں دشمنی کا تصور بھی عجیب ہے۔
    جس ملک نے انہیں سب سے زیادہ سہارا دیا ، وہی ان کا سب سے بڑا نشانہ بنا۔
    جس ملک نے انہیں تعلیم دی ، اسی کے خلاف انہوں نے پروپیگنڈا کیا۔
    جس ملک نے ان کے لیے سرحدیں کھولیں ، اسی کے خلاف انتہاپسندی اور دہشت گردی کی کارروائیاں کیں۔

    پاکستان کے مدارس میں جن لوگوں نے مذہبی تعلیم حاصل کی، وہی بعد میں پاکستان کے خلاف ہتھیار اٹھاتے ملے۔
    بھارت جیسے پاکستان دشمن ملک نے ان افغان گروہوں کو موقع پرستی کے تحت اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا۔
    افغان قیادت یا گروہ خوشی خوشی بھارت کے ہاتھوں میں کھلونا بن گئے۔

    حالانکہ پاکستان ہی وہ ملک بنا جس نے سب سے زیادہ قربانیاں دیں، اور سب سے زیادہ نقصان اٹھایا۔

    افغان مزاج اور دہشت گردی کی دنیا: ایک گہری بنیادی حقیقت

    افغانستان کے اندر تقریباً ہر بحران کا سبب ایک ہی ہے ،
    تشدد کو مسئلے کا حل سمجھنا۔

    دنیا میں دہشت گردی کی جڑیں جس طرح افغان جنگوں سے پھوٹیں، وہ تاریخ میں کم نظر آتی ہیں۔
    سوویت جنگ کے دوران:

    • اسلحہ پھیلا
    • ہیروئن کلچر پھیلا
    • غیر تربیت یافتہ جنگجو ریاستی عملداری کے بغیر طاقتور ہو گئے
    • عالمی طاقتوں نے انہیں استعمال کیا
    • پاکستان میدانِ جنگ بنا رہا

    روس کے جانے کے بعد:
    جو “مجاہدین” دنیا کے سامنے ہیرو سمجھے جاتے تھے، وہی اپنے ہی ملک کو تباہ کرنے میں لگ گئے۔
    یہاں تک کہ خانہ کعبہ میں قرآن پر حلف اٹھانے کی بھی کوئی عزت نہ رکھی گئی ، وعدے کیے، اگلے ہی دن توڑ دیے گئے۔
    افغان تاریخ میں وعدہ شکنی ایک معمول بن چکی ہے۔

    پاکستان کے لیے دہشت گردی ایک دائمی مسئلہ

    دو نسلیں گزر چکی ہیں مگر پاکستان آج بھی افغان مہاجرین، افغان گروہوں، افغان دہشت گردوں اور افغان سرزمین سے ہونے والی پاکستان دشمن کارروائیوں سے متاثر ہو رہا ہے۔
    اسی فیصد سے زیادہ دہشت گردی کے واقعات کی جڑیں افغانستان میں ملتی ہیں۔
    پاکستان نے بارہا سرحدی باڑ لگائی، بارڈر مینجمنٹ کی کوشش کی، سفارتی بات چیت کی ، مگر بدقسمتی سے جواب میں دھمکیاں، گالی گلوچ، یا پاکستان دشمن پروپیگنڈا ہی ملا۔

    طالبان حکومت نے بھی پاکستان کے اندر ہونے والی دہشت گردی کو روکنے میں کبھی مخلصانہ کردار ادا نہیں کیا۔
    بلکہ الٹا دشمن ملک بھارت کی جانب جھکاؤ بڑھتا گیا۔

    کیا افغان معاشرہ امن کے ساتھ رہ سکتا ہے؟ ایک سوال، کئی پہلو

    دنیا کے معاشروں میں رہنے والے افغانوں کا رویہ دیکھ کر یہ سوال شدت سے اٹھتا ہے۔
    کیوں؟
    وجہ بہت سادہ ہے:

    1. ان کی اجتماعی نفسیات جنگ کے ماحول میں پروان چڑھی۔
    2. افغانستان میں کبھی مضبوط ریاستی ادارے نہیں بن سکے۔
    3. قبائلی دشمنیاں نسلوں تک چلتی رہتی ہیں۔
    4. مذہب کی غلط تشریح نے انتہاپسندی کو بڑھایا۔
    5. طاقت اور اسلحہ کو عزت کا معیار سمجھا گیا۔
    6. زندگی میں امن نام کی کوئی چیز سیکھنے کو نہیں ملی۔

    دنیا میں شاید ہی کوئی ایسا ملک ہو جہاں افغان مہاجرین نے امن اور قانون کا احترام کیا ہو۔

     طالبان د نیا کے لیے مسلسل خطرہ، پاکستان کے لیے مستقل دردِ سر 

    تاریخ، واقعات، تجربات، معاشرتی رویوں، سیاسی طرزِ عمل، داخلی خانہ جنگیوں اور عالمی سطح پر افغان کردار کو دیکھ کر ایک سخت لیکن سچی حقیقت سامنے آتی ہے:
    افغان معاشرہ بدقسمتی سے پُرامن زندگی گزارنے کے لیے تیار نہیں۔
    یہ نہ صرف اپنے ملک کے لیے خطرہ بنے رہے، بلکہ جس جگہ گئے وہاں کی فضا کو بھی بے سکونی میں بدلتے رہے۔

    افغان باشندے اگر صرف اپنے ملک تک ہی محدود رہتے تو شاید دنیا کے مسائل کم ہوتے۔
    لیکن ان کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی نے دنیا کے کئی خطوں کو شدید متاثر کیا، خاص طور پر پاکستان کو۔

    افسوس یہ ہے کہ پاکستان نے ہمیشہ انہیں بھائی سمجھا ، اور جواب میں ہمیشہ دشمنی ملی۔
    پاکستان نے ہمیشہ مدد کی ، اور عوض میں ہمیشہ نقصان اٹھایا۔
    پاکستان نے ہمیشہ حفاظت دی ، اور بدلے میں دہشت گردی کا سامنا کیا۔

    یہ صورتحال عالمی برادری کے سامنے ایک بڑا سوال ہے:
    آخر کب تک دنیا افغانستان کی غلطیوں اور اس کے معاشرتی انتشار کی قیمت ادا کرتی رہے گی؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleترک جنگی طیارے قاآن(KAAN) نے عالمِ اسلام کے دو ازلی دشمن، بھارت اور اسرائیل کو جلا کر خاکستر کردیا
    Next Article ترک بغیر پائلٹ جنگی طیارہ قزل ایلما ، آسمانوں کا بے تاج بادشا ، ترکیہ گیم چینجر بن کر دفاعی نظام میں انقلاب برپا کررہا ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.