Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان
    پاکستان

    قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا پاکستان

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید25دسمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔17 Mins Read
    قائد اعظم محمد علی جناح کا پاکستان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی  تجزیہ  : ڈاکٹر فرقان حمید

    تاریخ گواہ ہے کہ قوموں کی تشکیل محض جغرافیہ، وسائل یا طاقت کے بل پر نہیں ہوتی بلکہ اس کے پس منظر میں ایک فکری عمل، ایک نظریہ اور سب سے بڑھ کر ایک ایسی قیادت کارفرما ہوتی ہے جو قوم کو اپنی منزل کا شعور دے، اس منزل کی اخلاقی، سیاسی اور تہذیبی معنویت واضح کرے اور پھر اسی نظریے پر قوم کو متحد کر دے۔ ایسی قیادت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کو یہ غیر معمولی قیادت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی صورت میں میسر آئی، جنہوں نے نہ صرف تاریخ کا دھارا بدلا بلکہ دنیا کے نقشے پر ایک نئی ریاست کا اضافہ کیااور وہ بھی طاقت، عسکری مہم جوئی یا انقلاب کے ذریعے نہیں بلکہ خالصتاً جمہوری، آئینی اور عوامی جدوجہد کے نتیجے میں۔

    یہ مضمون  اسی بنیادی مگر دانستہ طور پر نظرانداز کی جانے والی حقیقت کا تفصیلی جائزہ پیش کرتا ہے کہ پاکستان کا قیام عوامی مینڈیٹ، آئینی سیاست اور جمہوری جدوجہد کا نتیجہ تھا؛ اس میں فوج یا طاقت کے استعمال کا کوئی کردار نہیں تھا۔ مزید برآں، یہ تحریر قائداعظمؒ کے اس واضح وژن کو بھی اجاگر کرتی ہے جس میں نئی ریاست ایک فلاحی، جمہوری اور آئین پسند مملکت ہو، جہاں اقلیتوں کو مساوی حقوق حاصل ہوں اور فوج سول اتھارٹی کے تابع رہے۔

    قائداعظمؒ ،  تاریخ ساز قیادت

    قائداعظم محمد علی جناحؒ کی عظمت کو سمجھنے کے لیے محض ان کے سیاسی فیصلوں کو نہیں بلکہ ان کے فکری ارتقا کو سمجھنا ضروری ہے۔ وہ کسی جذباتی انقلابی لیڈر کے بجائے ایک آئین پسند، قانون دان اور جمہوری سیاست دان تھے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کے ممتاز مؤرخین انہیں جدید تاریخ کی منفرد ترین شخصیات میں شمار کرتے ہیں۔

    یونیورسٹی آف کیلیفورنیا، امریکہ کے معروف مؤرخ اور کتاب “Jinnah of Pakistan” کے مصنف پروفیسر اسٹینلے وولپرٹ (Stanley Wolpert) اپنی شہرۂ آفاق تصنیف کے دیباچے میں لکھتے ہیں:

    ‘Very few individuals significantly alter the course of history. Fewer still modify the map of the world. Hardly anyone can be credited with creating a new nation-state. Muhammad Ali Jinnah did all three.’

    (‘تاریخ کا دھارا بدل دینے والے افراد بہت کم ہوتے ہیں۔ دنیا کا نقشہ بدل دینے والے تو اس سے بھی کم ہوتے ہیں۔ اور ایک نئی قومی ریاست قائم کر دینے کا اعزاز تو شاذ و نادر ہی کسی کو حاصل ہوتا ہے۔ محمد علی جناحؒ وہ شخصیت ہیں جنہوں نے یہ تینوں کارنامے بیک وقت انجام دیے۔’)

    یہ محض تعریفی جملہ نہیں بلکہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ قائداعظمؒ نے نہ صرف برصغیر کی سیاست کا رخ موڑا بلکہ جنوبی ایشیا کے سیاسی نقشے کو ازسرِنو تشکیل دیااور یہ سب کچھ عوامی تائید کے بغیر ممکن نہیں تھا۔

    اسی طرح بھارت کے نامور سیاسی رہنما لال کرشن ایڈوانی نے قائداعظمؒ کے مزار پر تاثراتی کتاب میں تحریر کیا کہ ‘دنیا میں کئی لوگ تاریخ پر ان مٹ نقوش چھوڑ جاتے ہیں، مگر بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دراصل تاریخ تخلیق کرتے ہیں۔ قائداعظم محمد علی جناح ان ہی چند لوگوں میں سے ایک ہیں۔’

    یہ اعتراف خود اس سیاسی روایت کی جانب سے ہے جو قیامِ پاکستان کی شدید مخالف رہی اور یہی اس حقیقت کی سب سے بڑی گواہی ہے۔

    کانگریس سے مسلم لیگ تک ،  نظریاتی سفر

    قائداعظمؒ نے اپنے سیاسی کیریئر کا آغاز آل انڈیا کانگریس سے کیا۔ وہ ابتدا میں ہندو مسلم اتحاد کے سب سے بڑے علمبردار تھے۔ 1916ء کا معاہدۂ لکھنؤ ان کی اسی سوچ کا عملی اظہار تھا۔ اس دور میں انہیں ‘ہندو مسلم اتحاد کا سفیر’ کہا جاتا تھا۔

    تاہم جلد ہی کانگریس کی اکثریتی سیاست، وعدہ خلافی اور منافقانہ رویے نے یہ واضح کر دیا کہ متحدہ ہندوستان میں مسلمان ایک مستقل سیاسی اور تہذیبی اقلیت بن کر رہ جائیں گے۔ اسی ادراک نے قائداعظمؒ کو مسلم لیگ کی قیادت سنبھالنے پر مجبور کیا۔

    1934ء میں مسلم لیگ کی ازسرِنو تنظیم، 1940ء کی قراردادِ لاہور اور 1946ء کے انتخابات، یہ سب مراحل اس نظریاتی ارتقا کی کڑیاں ہیں جس کے ذریعے مسلمانوں کو ایک واضح سیاسی منزل ملی۔

    پاکستان ،  عوامی تحریک کی تاریخی مثال

    پاکستان کا قیام عالمی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔ یہ نہ کسی مسلح بغاوت کا نتیجہ تھا، نہ کسی فوجی فتح کا۔ 1946ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ کی بھاری کامیابی نے یہ ثابت کر دیا کہ ہندوستان کے مسلمان اجتماعی طور پر ایک علیحدہ ریاست چاہتے ہیں۔ یہی عوامی مینڈیٹ وہ اخلاقی قوت تھی جس کے سامنے برطانوی سامراج اور کانگریس دونوں کو جھکنا پڑا۔

    یہاں اس حقیقت کو پوری قوت سے بیان کرنا ضروری ہے کہ قیامِ پاکستان میں فوج کا کوئی کردار نہیں تھا۔ نہ کوئی عسکری تحریک، نہ کوئی جنرل، نہ کوئی بندوق، صرف ووٹ، دلیل اور سیاسی جدوجہد۔

    دنیا میں ایک نادر مثال

    تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ملے کہ ایک نئی ریاست محض جمہوری جدوجہد سے وجود میں آئی ہو۔ پاکستان اس لحاظ سے ایک منفرد کیس اسٹڈی ہےاور یہی اس کی اخلاقی بنیاد بھی ہے۔

    11 اگست 1947ء  اقلیتوں کے حقوق اور ریاستی وژن

    قائداعظمؒ کی 11 اگست 1947ء کی تقریر پاکستان کی نظریاتی اساس ہے۔ اس خطاب میں انہوں نے مذہبی آزادی، مساوات اور قانون کی حکمرانی کو نئی ریاست کے بنیادی اصول قرار دیا۔

    ’آپ آزاد ہیں، آپ آزاد ہیں اپنے مندروں میں جانے کے لیے، آپ آزاد ہیں اپنی مسجدوں میں جانے کے لیے… ریاست کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں کہ آپ کا تعلق کس مذہب، ذات یا نسل سے ہے۔‘

    یہ تقریر اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ قائداعظمؒ ایک ایسی ریاست چاہتے تھے جو نہ تھیوکریسی ہو، نہ آمریت بلکہ ایک فلاحی اور جمہوری مملکت ہو۔

    سول بالادستی اور فوج ،  قائداعظمؒ کا غیر مبہم مؤقف

    قائداعظمؒ شروع دن سے ہی فوج کے سیاسی کردار کے سخت مخالف تھے۔ ان کے نزدیک فوج کا کام ریاست کا دفاع تھا، سیاست کرنا نہیں۔ 1946ء میں رائٹرز کو دیے گئے انٹرویو میں انہوں نے واضح کیا کہ نئی ریاست میں اقتدار اعلیٰ عوام کے پاس ہوگا۔

    مشرقی بنگال، اسٹاف کالج کوئٹہ اور دیگر مواقع پر فوجی افسران سے خطاب میں انہوں نے آئین، حلف اور پیشہ ورانہ حدود پر بار بار زور دیا۔ جنرل گریسی کا 1947ء میں حکم عدولی کا واقعہ قائداعظمؒ کے خدشات کی عملی مثال تھا۔

    بعد از قیام ،  انحراف کی داستان

    بدقسمتی سے قائداعظمؒ کے انتقال کے بعد ریاستی سفر اس راستے پر نہ چل سکا جس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ فوجی مداخلت، آئین شکنی اور سیاسی انجینئرنگ نے اس جمہوری ریاست کو شدید نقصان پہنچایا جو عوامی جدوجہد سے حاصل ہوئی تھی۔

    قائداعظمؒ کا پاکستان اور آج کا سوال

    آج سب سے بنیادی سوال یہی ہے: کیا موجودہ پاکستان قائداعظمؒ کا پاکستان ہے؟ جب تک سیاست عوام کے منتخب نمائندوں کے پاس واپس نہیں آتی، جب تک فوج آئین کے تابع نہیں ہوتی، اور جب تک اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل نہیں ہوتے، قائداعظمؒ کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔

    جمہوری تسلسل کا ٹوٹنا ،  نظریۂ ضرورت سے عسکری سیاست تک

    قائداعظم محمد علی جناحؒ کے انتقال کے بعد سب سے بڑا المیہ یہ تھا کہ ریاستِ پاکستان اس فکری، آئینی اور جمہوری تسلسل کو برقرار نہ رکھ سکی جس کی بنیاد انہوں نے رکھی تھی۔ عوامی مینڈیٹ، پارلیمان کی بالادستی اور آئین کی حرمت، یہ سب اصول رفتہ رفتہ کمزور ہوتے گئے۔ سیاسی عدم استحکام اور کمزور قیادت نے ایک ایسا خلا پیدا کیا جسے بعد ازاں غیر جمہوری قوتوں نے پُر کیا۔

    عدالتی نظریۂ ضرورت نے اس انحراف کو قانونی جواز فراہم کیا، جبکہ فوجی مداخلت نے جمہوریت کے ارتقائی عمل کو بار بار منقطع کیا۔ یہ وہ راستہ تھا جس کے بارے میں قائداعظمؒ نے اپنی حیات میں واضح خدشات کا اظہار کیا تھا۔ ان کے نزدیک اگر فوج اور سول بیوروکریسی آئینی حدود سے تجاوز کریں تو ریاست کا جمہوری تشخص مجروح ہو جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی کچھ پاکستان کی تاریخ میں بارہا ہوا۔

    فوج، ریاست اور نوآبادیاتی ورثہ

    قائداعظمؒ اس حقیقت سے بخوبی آگاہ تھے کہ برطانوی ہندوستان کی فوج ایک نوآبادیاتی ذہنیت کی حامل تھی، جہاں وفاداری عوام یا آئین کے بجائے اقتدار کے مرکز سے جڑی ہوتی ہے۔ اسی لیے انہوں نے بار بار اس امر پر زور دیا کہ آزاد پاکستان کی فوج کو مزاج، فکر اور کردار کے اعتبار سے ایک قومی اور جمہوری فوج بننا ہوگا۔

    ان کا اسٹاف کالج کوئٹہ کا خطاب محض ایک رسمی تقریر نہیں بلکہ ایک آئینی لیکچر تھا۔ انہوں نے افسران کو یاد دلایا کہ ان کا حلف آئین سے وفاداری کا تقاضا کرتا ہے، نہ کہ کسی فرد، گروہ یا ادارے سے۔ یہ وہ نکتہ ہے جسے نظرانداز کرنے کی قیمت پاکستان نے دہائیوں پر محیط سیاسی عدم استحکام کی صورت میں ادا کی۔

    پاکستان کا تقابلی مطالعہ ،  عالمی تناظر میں

    اگر پاکستان کے قیام کا تقابلی مطالعہ دنیا کی دیگر نئی ریاستوں سے کیا جائے تو یہ انفرادیت مزید واضح ہو جاتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں بیشتر ریاستیں یا تو مسلح انقلابات، فوجی بغاوتوں یا بیرونی مداخلت کے نتیجے میں وجود میں آئیں۔ اس کے برعکس پاکستان ایک ایسی ریاست ہے جو عوامی سیاست، انتخابی عمل اور آئینی مذاکرات سے قائم ہوئی۔

    یہی وجہ ہے کہ قائداعظمؒ پاکستان کو ایک فلاحی جمہوری ریاست بنانا چاہتے تھے، نہ کہ سیکورٹی اسٹیٹ۔ ان کے نزدیک ریاست کی طاقت عوام کی رضامندی میں مضمر ہوتی ہے، نہ کہ بندوق کی نالی میں۔

    اقلیتیں، مساوات اور ریاستی اخلاقیات

    قائداعظمؒ کے تصورِ پاکستان میں اقلیتوں کا تحفظ محض ایک سیاسی وعدہ نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری تھی۔ ان کے نزدیک ریاست کی اخلاقی ساکھ کا دارومدار اس بات پر ہے کہ وہ اپنے کمزور شہریوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتی ہے۔ 11 اگست 1947ء کی تقریر اسی ریاستی اخلاقیات کا منشور ہے۔

    بدقسمتی سے وقت گزرنے کے ساتھ مذہب کو سیاست کا ہتھیار بنایا گیا، جس کے نتیجے میں اقلیتوں کا احساسِ تحفظ کمزور پڑا۔ یہ صورتِ حال قائداعظمؒ کے وژن کی صریح نفی ہے۔

    آج کا بحران ،  اصل سوال کیا ہے؟

    آج پاکستان کو جن بحرانوں کا سامنا ہے، سیاسی عدم استحکام، ادارہ جاتی تصادم، معاشی زوال، ان سب کی جڑ ایک ہی ہے: جمہوری اصولوں سے انحراف۔ سوال یہ نہیں کہ پاکستان کو کس نے بنایا تھا؛ سوال یہ ہے کہ پاکستان کو کس اصول پر چلنا تھا اور ہم نے اس اصول کو کیوں ترک کیا۔

    قائداعظمؒ کا پاکستان ایک آئینی ریاست تھا، جہاں ادارے ایک دوسرے کے تابع نہیں بلکہ آئین کے تابع تھے۔ جب تک اس اصول کی بحالی نہیں ہوتی، ریاستی بحران برقرار رہے گا۔

    قائداعظمؒ، جمہوریت اور قانون کی بالادستی ،  ایک نظریاتی ہم آہنگی

    قائداعظم محمد علی جناحؒ کے سیاسی فلسفے کا مرکز و محور جمہوریت اور قانون کی بالادستی تھا۔ بطور وکیل اور آئینی ماہر وہ اس حقیقت سے بخوبی واقف تھے کہ طاقت اگر قانون کے تابع نہ ہو تو ریاست جبر میں بدل جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے اپنی پوری سیاسی جدوجہد میں کبھی غیر آئینی، غیر جمہوری یا تشدد پر مبنی راستہ اختیار نہیں کیا۔ ان کے نزدیک مقصد کتنا ہی مقدس کیوں نہ ہو، اگر اس کے حصول کا طریقہ غیر آئینی ہو تو وہ مقصد اپنی اخلاقی حیثیت کھو دیتا ہے۔

    قائداعظمؒ کے نزدیک جمہوریت محض انتخابی عمل کا نام نہیں تھی بلکہ یہ ایک مکمل طرزِ حکمرانی تھی جس میں ادارے آئین کے تابع، حکومت عوام کے سامنے جواب دہ، اور شہری برابر کے حقوق کے حامل ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بار بار اس امر پر زور دیتے رہے کہ نئی ریاست کا آئین جلد از جلد تشکیل دیا جائے اور پارلیمان کو فیصلہ سازی کا اصل مرکز بنایا جائے۔

    عدلیہ، آئین اور ریاستی توازن

    قیامِ پاکستان کے بعد اگر عدلیہ اپنے آئینی کردار پر مضبوطی سے قائم رہتی تو شاید ریاستی تاریخ کا دھارا مختلف ہوتا۔ مگر بدقسمتی سے نظریۂ ضرورت کے تحت غیر آئینی اقدامات کو جائز قرار دے کر ریاستی توازن کو بگاڑ دیا گیا۔ یہ وہ مقام تھا جہاں قائداعظمؒ کے وژن سے سب سے بڑا انحراف ہوا۔

    قائداعظمؒ عدلیہ کو جمہوریت کا محافظ سمجھتے تھے، نہ کہ طاقت کا سہولت کار۔ ان کے تصور میں عدلیہ کا فرض یہ تھا کہ وہ آئین کی بالادستی کو ہر حال میں برقرار رکھے، خواہ اس کے لیے کتنی ہی طاقتور قوتوں کا سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔

    بیوروکریسی، سول سروس اور عوامی خدمت کا تصور

    قائداعظمؒ نے سول بیوروکریسی کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ نوآبادیاتی حاکمانہ ذہنیت ترک کر کے عوامی خدمت کے جذبے کو اپنائے۔ مشرقی بنگال میں سرکاری افسروں سے خطاب میں ان کے الفاظ دراصل ایک مکمل سول سروس چارٹر تھے، جن میں انہوں نے افسروں کو یاد دلایا کہ وہ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں۔

    بدقسمتی سے بیوروکریسی بھی وقت کے ساتھ عوام سے دور ہوتی چلی گئی اور طاقت کے مراکز کے قریب تر ہو گئی، جس سے جمہوری ڈھانچہ مزید کمزور ہوا۔

    بیوروکریسی، سول سروس اور عوامی خدمت کا تصور

    قائداعظمؒ نے سول بیوروکریسی کو بھی واضح پیغام دیا کہ وہ نوآبادیاتی حاکمانہ ذہنیت ترک کر کے عوامی خدمت کے جذبے کو اپنائے۔ مشرقی بنگال میں سرکاری افسروں سے خطاب میں ان کے الفاظ دراصل ایک مکمل سول سروس چارٹر تھے، جن میں انہوں نے افسروں کو یاد دلایا کہ وہ حکمران نہیں بلکہ عوام کے خادم ہیں۔

    بدقسمتی سے بیوروکریسی بھی وقت کے ساتھ عوام سے دور ہوتی چلی گئی اور طاقت کے مراکز کے قریب تر ہو گئی، جس سے جمہوری ڈھانچہ مزید کمزور ہوا۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو کیسی ریاست دیکھنا چاہتے تھے؟

    ہم آج کہاں کھڑے ہیں؟

    قائداعظمؒ کا تصورِ ریاست کسی وقتی سیاسی دباؤ، جذباتی ردِعمل یا محض مذہبی شناخت کے مطالبے کا نتیجہ نہیں تھا۔ یہ ایک طویل، مسلسل اور شعوری جدوجہد کا حاصل تھا جو آئینی سیاست، جمہوری اصولوں اور عوامی حمایت پر استوار تھی۔ انہوں نے برصغیر کے مسلمانوں کو نہ صرف ایک الگ قوم کے طور پر منظم کیا بلکہ انہیں یہ شعور بھی دیا کہ آزادی بندوق، تشدد یا عسکری طاقت سے نہیں بلکہ قانون، دلیل، ووٹ اور اصولی سیاست سے حاصل کی جاتی ہے۔

    ریاست اور عوامی حاکمیت

    قائداعظمؒ کے نزدیک ریاست کا سرچشمہ عوام تھے۔ وہ واضح طور پر اس بات پر یقین رکھتے تھے کہ اقتدارِ اعلیٰ کسی فرد، ادارے یا طاقت کے مرکز کے پاس نہیں بلکہ براہِ راست عوام کے پاس ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ انہوں نے پاکستان کے قیام کے بعد بار بار آئین سازی، قانون کی بالادستی اور منتخب اداروں کے استحکام پر زور دیا۔ ان کا پاکستان ایک ایسی جمہوری ریاست تھا جہاں حکمران جواب دہ ہوں، قانون سب پر یکساں لاگو ہو، اور شہری اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے ریاست پر اعتماد کر سکیں۔

    11 اگست 1947 کی تقریر دراصل اسی تصورِ عوامی حاکمیت کا عملی اعلان تھی۔ اس تقریر میں قائداعظمؒ نے واضح کیا کہ ریاست کا کام شہریوں کے مذہب، ذات یا نسل کی بنیاد پر امتیاز کرنا نہیں بلکہ انہیں برابر کے شہری حقوق فراہم کرنا ہے۔ یہ تقریر پاکستان کے آئینی و سیاسی مستقبل کا سنگِ بنیاد تھی، نہ کہ کوئی وقتی یا علامتی بیان۔

    مذہب: اخلاقی قوت، سیاسی ہتھیار نہیں

    قائداعظمؒ کے تصورِ پاکستان میں مذہب کو ایک اخلاقی، تہذیبی اور فکری قوت کی حیثیت حاصل تھی، نہ کہ سیاسی اقتدار کے حصول یا مخالفین کو کچلنے کے آلے کے طور پر۔ وہ اسلام کے ان آفاقی اصولوں پر یقین رکھتے تھے جو عدل، مساوات، رواداری، دیانت اور انسانی وقار کو فروغ دیتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے بارہا واضح کیا کہ ریاست کا شہریوں کے ذاتی عقائد سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔

    ان کے نزدیک اسلامی ریاست کا مطلب ایک ایسی فلاحی اور منصفانہ ریاست تھا جہاں کمزور محفوظ ہو، اقلیتیں برابر کے حقوق رکھتی ہوں، اور قانون طاقتور اور کمزور دونوں پر یکساں لاگو ہو۔ وہ مذہبی جبر، فرقہ واریت اور کسی ایک طبقے کی بالادستی کے سخت مخالف تھے۔ آج جب مذہب کو سیاست کے لیے استعمال کیا جاتا ہے تو یہ قائداعظمؒ کے تصورِ ریاست سے صریح انحراف ہے۔

    جمہوریت کے ذریعے حاصل ہونے والا پاکستان

    پاکستان کی تاریخ کا سب سے منفرد اور نظر انداز کیا جانے والا پہلو یہ ہے کہ یہ ملک کسی فوجی انقلاب، مسلح بغاوت یا طاقت کے استعمال کے بغیر وجود میں آیا۔ قائداعظمؒ نے ہندوستان کے مسلمانوں کو جمہوری طریقے سے منظم کیا، مسلم لیگ کو ایک عوامی نمائندہ جماعت بنایا، انتخابات کے ذریعے مینڈیٹ حاصل کیا، اور آئینی و قانونی دباؤ کے ذریعے برطانوی حکومت کو پاکستان تسلیم کرنے پر مجبور کیا۔

    یہ تاریخ میں ایک نادر مثال ہے کہ کروڑوں انسانوں کی اجتماعی سیاسی خواہش نے بغیر فوجی طاقت کے ایک نئی ریاست کی بنیاد رکھی۔ یہی وجہ ہے کہ قائداعظمؒ جمہوریت کو پاکستان کی روح سمجھتے تھے اور اسے کمزور کرنے والی ہر سوچ کو پاکستان کے لیے خطرہ تصور کرتے تھے۔

    فوج اور سول بالادستی

    قائداعظمؒ کے نزدیک فوج ایک اہم قومی ادارہ ضرور تھی، مگر اس کا کردار واضح طور پر آئین اور منتخب سول قیادت کے تابع تھا۔ انہوں نے فوجی افسران کو بارہا یاد دلایا کہ وہ عوام کے خادم ہیں، حاکم نہیں۔ ان کے بیانات، احکامات اور عملی فیصلے اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ وہ سول بالادستی کے غیر متزلزل حامی تھے۔

    کشمیر کے معاملے پر جنرل گریسی کی حکم عدولی اور بعض فوجی افسران کی سیاسی دلچسپی نے قائداعظمؒ کو سخت تشویش میں مبتلا کیا۔ اسی لیے انہوں نے فوج کو آئین، حلف اور پیشہ ورانہ حدود کی پابندی کی بار بار تلقین کی۔ ان کے نزدیک ایک مضبوط ریاست وہ ہوتی ہے جہاں بندوق نہیں بلکہ آئین فیصلہ کن طاقت ہو۔

    آج کا پاکستان اور قائداعظمؒ کا وژن

    آج پاکستان جن سیاسی، آئینی اور ادارہ جاتی بحرانوں کا شکار ہے، ان کی بنیادی وجہ قائداعظمؒ کے تصورِ ریاست سے مسلسل انحراف ہے۔ عوامی حاکمیت کمزور ہو چکی ہے، آئین بار بار معطل یا مسخ ہوا، اور غیر منتخب قوتیں فیصلہ سازی میں غالب آ گئیں۔ نتیجتاً ریاست عوام سے دور اور ادارے اپنی اصل ذمہ داریوں سے ہٹتے چلے گئے۔

    قائد اعظمؒ کا پاکستان کوئی رومانوی تصور یا ماضی کا خواب نہیں بلکہ ایک واضح، قابلِ عمل اور آج بھی ممکن راستہ ہے۔ شرط صرف یہ ہے کہ ہم جمہوریت کو محض نعرہ نہیں بلکہ عملی نظام کے طور پر قبول کریں، آئین کو واقعی بالادست بنائیں، اداروں کو ان کی آئینی حدود میں واپس لائیں، اور مذہب کو سیاست کے آلے کے طور پر استعمال کرنا بند کریں۔

    قائداعظمؒ کا پاکستان عوام کے ذریعے، عوام کے لیے اور عوام کی مرضی سے قائم ہونے والی ریاست تھی۔ جب تک ہم اس بنیادی اصول کو تسلیم نہیں کریں گے، پاکستان کا بحران ختم نہیں ہوگا۔ یہ باب اسی حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ پاکستان کی بقا، استحکام اور ترقی کا واحد راستہ قائداعظمؒ کے تصورِ ریاست کی طرف واپسی ہے۔

    یہی اس مضمون  کا  پیغام ہے،اور یہی پاکستان کے مستقبل کی واحد امید۔

    کیا ہم قائداعظمؒ کے پاکستان کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں یا نہیں؟

    اگر جواب ہاں میں ہے تو راستہ بھی واضح ہے:جمہوریت کی حقیقی بحالی، آئین کی غیر مشروط بالادستی، عوامی حاکمیت کا احترام، اداروں کی آئینی حدود میں واپسی، اور مذہب کو سیاست کے ہتھیار کے طور پر استعمال کرنے کا مکمل خاتمہ۔

    قائداعظمؒ کا پاکستان کوئی افسانہ نہیں، کوئی ماضی کا خواب نہیں، بلکہ ایک قابلِ عمل، واضح اور زندہ تصور ہے۔ مسئلہ تصور میں نہیں، ہماری اجتماعی نیت اور عملی کمٹمنٹ میں ہے۔ جب پاکستان عوام کے ذریعے، عوام کے لیے اور عوام کی مرضی سے چلے گا، تب ہی یہ ملک حقیقی معنوں میں قائداعظمؒ کے پاکستان کے قریب آ سکے گا۔

    یہی اس مضمون  کا حتمی پیغام ہے، اور یہی تاریخ کا ہم سے سب سے بڑا تقاضا، اسی لیے کہا ہے کہ اس مضمون کو ہر پاکستانی کو پڑھنا چاہیے۔

    Top of Form

    Bottom of Form

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر ایردوان : پاکستان ہمارا سچا اور کھرا اتحادی ملک ہے، پاک ترک دوستی تا قیامت تک جاری رہے گی
    Next Article 2025ء میں عالمی رہنما کیسے پاکستان اور پاکستانی قیادت کے گرویدہ بن گئے ؟
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.