Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»خواجہ آصف : پاکستان نے بھارت کا دنیا کے سامنے ایسا منہ کالا کیا ہے جسےصاف کرنا اب بھارت کے لیے ممکن نہیں
    پاکستان

    خواجہ آصف : پاکستان نے بھارت کا دنیا کے سامنے ایسا منہ کالا کیا ہے جسےصاف کرنا اب بھارت کے لیے ممکن نہیں

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید6جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    وزیر دفاع خواجہ آصف
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    مئی 2025 کی پاک بھارت جنگ: طاقت کے توازن میں تبدیلی، بھارت کی سفارتی پسپائی اور پاکستان کا ابھرتا ہوا اسٹریٹجک کردار

    جنوبی ایشیا میں طاقت کے توازن پر اثر انداز ہونے والی جنگیں شاذ و نادر ہی مختصر ہوتی ہیں، مگر مئی 2025 میں پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی چار روزہ جنگ اس اصول کی ایک بڑی استثنا ثابت ہوئی۔
    یہ جنگ نہ صرف دورانیے میں مختصر تھی بلکہ اس کے نتائج غیر معمولی حد تک گہرے، ہمہ گیر اور دور رس ثابت ہوئے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، اس مختصر تصادم نے بھارت کے عسکری دعوؤں، سفارتی حیثیت اور علاقائی بالادستی کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا، جبکہ پاکستان ایک ایسے ملک کے طور پر ابھرا جس نے محدود مگر فیصلہ کن طاقت کے استعمال سے اپنے دفاع، وقار اور صلاحیت کو منوا لیا۔

    عالمی میڈیا کا اتفاقِ رائے: ایک غیر متوقع نتیجہ

    وزیر دفاع خواجہ آصف

    جنگ کے بعد عالمی میڈیا میں ایک غیر معمولی اتفاقِ رائے دیکھنے میں آیا۔
    الجزیرہ، بی بی سی، رائٹرز، ٹی آر ٹی ورلڈ اور نیویارک ٹائمز جیسے اداروں نے اپنی رپورٹنگ میں اس امر کی نشاندہی کی کہ:بھارت، جو گزشتہ ایک دہائی سے خود کو ‘ابھرتی ہوئی عالمی طاقت’ کے طور پر پیش کرتا رہا، ایک محدود مگر منظم پاکستانی ردعمل کے سامنے دفاعی اور سفارتی دونوں محاذوں پر پسپا دکھائی دیا۔

    الجزیرہ کے ایک تجزیے میں کہا گیا کہ یہ جنگ ‘پاور پروجیکشن کی ناکامی’  کی واضح مثال ہے، جہاں عددی برتری اور وسائل کے باوجود بھارت  کو منہ کی کھانا پڑی۔

    بھارت کی جنگ بندی کی اپیل: ایک غیر معمولی قدم

    پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق، جیسے ہی پاکستان نے بھارتی جارحیت کا مؤثر جواب دیا، نئی دہلی نے جنگ کو مزید بڑھنے سے روکنے کے لیے عالمی طاقتوں سے رابطہ شروع کر دیا۔

    انہوں نے بتایا کہ بھارت نے سب سے پہلے امریکا سے رابطہ کیا اور بعد ازاں چین سے بھی جنگ رکوانے کی درخواست کی۔
    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ قدم بذاتِ خود اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ بھارت صورتِ حال کو اپنے کنٹرول سے باہر جاتا محسوس کر رہا تھا۔

    بی بی سی کے ایک تجزیہ کار کے مطابق:

    ‘جب کوئی ریاست خود کو علاقائی طاقت قرار دیتی ہو مگر چند دنوں کی جنگ کے بعد عالمی ثالثوں کو متحرک کرے، تو یہ اس کے اسٹریٹجک اعتماد میں دراڑ کی علامت ہوتا ہے۔’

    پاکستان کی عسکری حکمتِ عملی: محدود مگر فیصلہ کن ردعمل

    پاکستانی مؤقف کے مطابق، اس جنگ میں اسلام آباد نے جارحیت میں پہل نہیں کی بلکہ بھارتی اقدامات کا مربوط، ناپ تول کر اور واضح پیغام کے ساتھ جواب دیا۔

    وزیر دفاع خواجہ آصف

    وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ پاکستان نے مئی میں یہ ثابت کر دیا کہ وہ کسی بھی جارحیت کا بروقت اور مؤثر جواب دینے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

    عسکری تجزیہ کاروں کے مطابق، پاکستان کی حکمتِ عملی فل اسکیل جنگ سے گریز اور اسٹریٹجک ڈیٹرنس پر مبنی تھی، جس کا مقصد دشمن کو واضح پیغام دینا تھا کہ کسی بھی مہم جوئی کی قیمت چکانا پڑے گی۔

    فضائی طاقت کا عملی مظاہرہ

    اس جنگ کا سب سے نمایاں پہلو پاکستانی فضائیہ کی کارکردگی رہی، جسے بین الاقوامی سطح پر خاصی توجہ ملی۔
    وزیر دفاع کے مطابق، پاکستانی طیارے اس جنگ میں عملی طور پر آزمائے گئے اور ان کی کارکردگی نے عالمی سطح پر اعتماد پیدا کیا۔

    ٹی آر ٹی ورلڈ کے مطابق:

    ‘جدید جنگ میں اصل قدر وہ نظام رکھتے ہیں جو میدانِ جنگ میں خود کو ثابت کریں، اور پاکستان نے یہی کر کے دکھایا۔’

    اسی اعتماد کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان کو دفاعی اور فضائی ٹیکنالوجی کے لیے بین الاقوامی آرڈرز موصول ہونا شروع ہو گئے۔

    معاشی پہلو: دفاعی برآمدات اور آئی ایم ایف کا سوال

    خواجہ آصف نے ایک غیر معمولی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دفاعی برآمدات میں اضافے کے باعث:’ممکن ہے کہ آنے والے مہینوں میں پاکستان کو آئی ایم ایف کی ضرورت نہ پڑے۔’

    ماہرین کے مطابق، اگرچہ یہ ایک محتاط امکان ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ دفاعی صنعت میں خود کفالت کسی بھی ملک کے لیے معاشی استحکام کی بنیاد بن سکتی ہے۔

    نریندر مودی اور بھارتی سیاست پر اثرات

    جنگ کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو اندرونِ ملک اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑا۔
    پاکستانی وزیر دفاع کے مطابق، مودی کی خارجہ اور سکیورٹی پالیسی کو شدید دھچکا لگا ہے۔

    بی بی سی کے مطابق، جنگ نے بھارت میں یہ سوال دوبارہ زندہ کر دیا ہے کہ آیا جارحانہ قوم پرستی واقعی بھارت کے طویل المدتی مفادات میں ہے یا نہیں۔

    وینزویلا، امریکا اور پاکستان کا تقابل

    خواجہ آصف نے عالمی سیاست کے تناظر میں کہا کہ پاکستان کے خلاف کسی وینزویلا طرز کے آپریشن کا تصور حقیقت پسندانہ نہیں۔

    انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی فوج منظم، تجربہ کار اور جدید صلاحیتوں سے لیس ہے، جسے عالمی سطح پر تسلیم کیا جاتا ہے۔

    افغانستان، ٹی ٹی پی اور پراکسی جنگ

    وزیر دفاع نے افغانستان اور ٹی ٹی پی سے متعلق سنگین خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر بھارت کے ساتھ روابط رکھتے ہیں، جس سے خطے میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے۔

    الجزیرہ کے مطابق، جنوبی ایشیا میں یہ پراکسی نیٹ ورکس مستقبل کے سکیورٹی منظرنامے کو مزید پیچیدہ بنا رہے ہیں۔

    مشرقِ وسطیٰ، ایران اور عالمی نظام کا بحران

    خواجہ آصف نے ایران، اسرائیل اور امریکا کے تناظر میں کہا کہ موجودہ عالمی نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔
    انہوں نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کو خطے میں بدامنی کی بڑی علامت قرار دیا اور مغربی طاقتوں کے دوہرے معیار پر سوال اٹھایا۔انہوں نے اس موقع پر دعا کی کہ ترکیہ نتنَ یا ہو کو اغوا کر لے جیسے  صدر ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر مادورو  کا اگا کیا ہے۔

    ایک نئی اسٹریٹجک حقیقت

    مئی 2025 کی جنگ نے واضح کر دیا کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یک طرفہ نہیں رہا۔
    پاکستان نے خود کو ایک ایسی ریاست کے طور پر منوایا ہے جو نہ صرف دفاع کی صلاحیت رکھتی ہے بلکہ عالمی دباؤ کے باوجود اپنے مؤقف پر قائم رہنے کی اہلیت بھی رکھتی ہے۔

    بین الاقوامی مبصرین کے مطابق، یہ جنگ بھارت کے لیے ایک اسٹریٹجک وارننگ اور پاکستان کے لیے عالمی سطح پر سنجیدگی سے لیے جانے کی علامت بن چکی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleطاقت کی نئی لغت، عالمی نظام کا انہدام اور وینزویلا کا خوف دنیا پرطاری، جس کی لاٹھی اس کی بھینس
    Next Article صدر ایردوان: 2026 کا سال اصلاحات کا سال ہے، اس وقت بھی اپوزیشن جماعت CHP آق پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹروں سے 9٫6 ملین پیچھے ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.