Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا
    پاکستان

    عوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید8جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔12 Mins Read
    پاک عوام اور فوج
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    (نوٹ: یہ کالم صرف اور صرف  پاکستان کے عوام اور فوج  کے درمیان مختلف حلقوں کی جانب سے پیدا کردہ  غلط فہمیوں  کو دور کرنے اور عوام اور فوج کو ایک دوسرے  کو گلے لگانے کی غرض سے نیک نیتی کے ساتھ تحریر کیاگیا ہے ججسے غلط معنی پہنانے سے گریز کیا جائے ۔ شکریہ۔)

    قوموں کی زندگی میں کچھ لمحے محض واقعات نہیں ہوتے بلکہ وہ ریاستی شعور کی تشکیلِ نو کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یہ وہ موڑ ہوتے ہیں جہاں قومیں اپنے ماضی، حال اور مستقبل کو ایک ہی فریم میں رکھ کر خود سے سوال کرتی ہیں: ہم کہاں کھڑے ہیں؟ ہم کہاں جانا چاہتے ہیں؟ اور اس سفر میں ریاست اور عوام کا باہمی رشتہ کیا ہونا چاہیے؟ پاکستان آج ایک ایسے ہی موڑ پر کھڑا ہے۔ یہ سوال محض سیاست کا نہیں بلکہ ریاستی توازن، ادارہ جاتی ہم آہنگی اور قومی اعتماد کا سوال ہے، اور اس سوال کے مرکز میں، خواہ کوئی مانے یا نہ مانے، پاکستان کی فوج اور عوام کے درمیان تعلق کھڑا ہے۔

    پاکستان کا قیام عالمی تاریخ میں ایک منفرد مثال ہے۔ یہ نہ کسی مسلح انقلاب کا نتیجہ تھا، نہ کسی فوجی مہم جوئی کا، نہ کسی خونریز بغاوت کا۔ یہ ریاست ووٹ، دلیل، آئینی جدوجہد اور سیاسی بصیرت کے ذریعے وجود میں آئی۔ برصغیر کے مسلمانوں نے اجتماعی طور پر یہ فیصلہ کیا کہ وہ ایک الگ ریاست چاہتے ہیں۔ یہی فیصلہ، یہی عوامی مینڈیٹ، وہ اخلاقی طاقت بنا جس کے سامنے برطانوی سامراج بھی جھکا اور کانگریس کی سیاسی چالیں بھی بے اثر ہو گئیں۔ قیامِ پاکستان میں نہ کوئی جنرل تھا، نہ کوئی بندوق، نہ کوئی عسکری تحریک، صرف سیاست، اصول اور عوام۔ یہی پاکستان کی اخلاقی بنیاد ہے اور یہی وہ نکتہ ہے جہاں سے آج کے آئینی و عسکری تعلقات کو سمجھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو ایک فلاحی، جمہوری اور آئینی ریاست بنانا چاہتے تھے۔ ان کے نزدیک ریاست کی طاقت بندوق کی نالی میں نہیں بلکہ عوام کی رضامندی میں مضمر تھی۔ فوج ان کے لیے ایک ناگزیر اور محترم قومی ادارہ ضرور تھی، مگر اس کا کردار واضح اور غیر مبہم تھا: آئین کے تابع، منتخب سول قیادت کے ماتحت، عوام کی محافظ، حاکم نہیں۔ انہوں نے فوجی افسران کو بارہا یاد دلایا کہ وہ عوام کے خادم ہیں، حکمران نہیں۔ یہی اصول پاکستان کو ایک مضبوط اور قابلِ احترام جمہوری ریاست بنا سکتا تھا۔

    بدقسمتی سے قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد ریاستی ڈھانچے میں وہ توازن برقرار نہ رہ سکا جس کی بنیاد رکھی گئی تھی۔ 1958 میں پہلا مارشل لا محض ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھا بلکہ ریاستی فلسفے کی تبدیلی تھی۔ جنرل ایوب خان کے دور میں صنعتی اور معاشی ترقی ہوئی، مگر اس کی قیمت جمہوریت کی معطلی کی صورت میں ادا کی گئی۔ ریاست مضبوط دکھائی دی مگر عوام فیصلہ سازی سے باہر ہوتے چلے گئے۔ اس کے بعد جنرل یحییٰ خان کا دور آیا جو پاکستان کی تاریخ کا سب سے المناک باب ثابت ہوا، مشرقی پاکستان کی علیحدگی۔ یہ محض عسکری شکست نہیں تھی بلکہ سیاسی بے وزنی کی شکست تھی۔

    ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں جمہوریت نے سانس لینا شروع کی، مگر جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا نے اس سانس کو بھی روک دیا۔ سیاسی پابندیاں، میڈیا پر قدغنیں اور خوف کی فضا نے معاشرے کو جکڑ لیا۔ عالمی حالات نے ضیاء الحق کو سہارا دیا، مگر اس کے اثرات آج تک پاکستان کے سیاسی اور سماجی ڈھانچے میں محسوس کیے جاتے ہیں۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف آئے، ایک اور دہائی، ایک اور تجربہ، اور ایک اور موقع ضائع۔

    مشرف کے بعد اگرچہ جمہوریت بحال ہوئی، مگر اقتدار کا مرکز مکمل طور پر منتخب اداروں کو منتقل نہ ہو سکا۔ براہِ راست مارشل لا کی بجائے پسِ پردہ نظم و نسق کا ایک نیا ماڈل سامنے آیا، انتخابات کی انجینئرنگ، حکومتوں کی تشکیل و تحلیل، سیاستدانوں کا محدود دائرہ۔ بظاہر آئینی مگر عملاً غیر شفاف۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان خاموش فاصلے پیدا ہونا شروع ہوئے۔

    پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ چار روزہ جنگ نے ایک حقیقت ایک بار پھر واضح کر دی کہ عسکری طاقت محض اسلحے کا انبار نہیں ہوتی۔ حکمتِ عملی، فیصلہ سازی، نظم و ضبط اور قیادت، یہی اصل قوت ہے۔ پاکستانی افواج نے محدود وسائل کے باوجود جس پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا، اس پر عالمی دفاعی ماہرین نے کھل کر تعریف کی۔ کمانڈ اینڈ کنٹرول، ڈیٹرینس اور فوری ردعمل کو سراہا گیا۔ عالمی میڈیا نے 2025 کو پاکستان کے لیے عسکری اعتماد کی بحالی اور اسٹریٹیجک واپسی کا سال قرار دیا۔

    یہاں ایک بنیادی سوال جنم لیتا ہے: اگر دنیا پاکستان کی فوج کو سراہ رہی ہے تو پاکستان کے عوام خاموش کیوں ہیں؟ یہ خاموشی بغاوت نہیں، یہ بیگانگی ہے، اور بیگانگی ریاستوں کے لیے سب سے خطرناک کیفیت ہوتی ہے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ احتجاج میں امید زندہ رہتی ہے مگر خاموشی میں فاصلہ بڑھتا ہے۔ آج پاکستان میں یہی خاموش فاصلہ سب سے بڑی دراڑ ہے۔

    یہ کہنا حقیقت کے خلاف ہوگا کہ پاکستانی عوام فوج سے نفرت کرتے ہیں۔ وہ فوج سے نہیں فوج چند سر پھرے کمانڈروں سے نفرت کرتے ہیں جو عوام کو  پاوں  تلے کچلنے اور ان کو جینے کا حق نہ دینے  کو اپنا اولین فرض سمجھتے ہیں ( پوری فوج  کو  اس کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا جیسے پولیس میں  چند ایک پولیس اہلکار عوام کو لوٹتے  ہیں یا دیگر اداروں میں لوٹ مار ہوتی ہے ) حالانکہ عوام کی بڑی تعداد ہی نہیں بڑے وثوق  سے کہہ سکتا ہوں  پاکستان کے تمام  لوگ ہی  آج بھی فوج کو اپنی سلامتی اور بقا کا ضامن سمجھتے ہیں( پاک بھارت جنگ میں عوام نے جس طرح فوج کی کھل کر حمایت کی  اس کی دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ) ، مگر عوام  پاک فوج کو اپنے دلوں میں بسانا چاہتے ہیں ، ان کو اپنے فیصلوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔اس لیے وہ   کچھ عرصے سے یہی پوچھتے چلے آرہے ہیں  کہ کیا ان کی رائے  کیے گئے فیصلوں میں شامل ہے؟فیصلوں سے اختلاف    کرنے والوں کو کیوں ہر بار غدار قر ار دیا   جاتا ہے؟ بانی پاکستان  قائد اعظم محمد علی  جناح  کی ہمیشرہ جو پاکستان کے قیام کی تحریک میں جناح صاحب کے شانہ بشانہ تھی  کو  سب سے پہلے غدار قرار دیا گیا۔ پھر قائد اعظم کے دست راست میں سے حسین سہروردی کو  غدار قرار دیا گیا۔( جتنی محنت انہوں نے پاکستان کو یکجا رکھنے میں  کی شاید  ہی کسی پاکستانی لیڈر نے کی ہو)  ۔پھر پاکستان کے عوامی لیڈر جس نے  پاکستان کے عوام کو پہلی بار سیاسی شعور دیا کو غدار قرار دے کر پھانسی پر ہی چڑھا دیا گیا۔ (بھٹو پاکستان کے پہلے سیاسی رہنما تھے جنہوں نے عوام میں  گھل مل جانے کے فلسفے کو فروغ دیا ورنہ اس سے پہلے پاکستان کے سیاسی رہنما عوام سے دور رہتے  ہوئے ہی سیاست  کرنے کو ترجیح دیتے رہے ہیں ) بھٹو کو سولی پر چڑھانے کے بعد ملک میں  ہر اس سیاسی رہنما کو غدار قرار دیا جانے لگا جو حکومت کے معاملات  کو سلجھانے کے لیے اپنی رائے پیش کرتا۔  بے نظیر بھٹو پر بھارت کو  سکھوں سے متعلق دسستاویزات فراہم کرنے کا الزام لگاتے ہوئے  غدار قرار دے دیا گیا۔ شاید پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں  فوج کے  علاوہ   ہر اس شخص کو غدار قرار دے دیا جاتا ہے جو معاملہ فہم ہوتا ہے اور  جو عوام کی تائید حاصل  کرتے ہوئے  عوام کے مسائل حل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔  ہمارے سامنے اس سلسلے میں نواز شریف کی مثال موجود ہے اگرچہ اس وقت  مسلم لیگ والے اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ ان پرغداری اور بد عنوانی کا الزام لگاتے ہوئے  دو تین بار اقتدار سے محروم کیا گیا حالانکہ وہ  پوچھتے  ہی رہ گئے  کہ مجھے کیوں نکالا؟ آصف علی زرداری  کو بھی کئی  بار غدار قرار دیا گیا اور پھر  ان کو اقتدار اعلیٰ پر بھی بٹھایا گیا۔  پاکستان  کو دنیا سے جو چیز سب سے الگ کرتی ہے وہ پہلے پاکستان کے سیاستدانوں کو غدار قرار دے  کر  اقتدار سے ہٹانا ، ان کو جیلوں میں ڈالنا اور پھر سب کچھ فراموش کرتے ہوئے انہیں   ایک بار پھر تخت پر بیٹھا دینا ہے۔ان دنوں اگرچہ  باری عمران خان کی ہے ۔ عمران خان پاکستان کی تاریخ کے واحد سیاستدان ہیں جنہیں پورے پاکستان میں اس بھر پور طریقے سےمقبولیت   حاصل ہے جو پاکستان کے کسی بھی سیاسی رہنما  کو آج تک نصیب نہیں ہوئی۔ (اس حقیقت کو کوئی بھی سیاسی جماعت اور فوج بھی  انکار نہیں کرسکتی  ) لیکن ان کے ساتھ بھی وہی ہوا جو اس سے قبل  مادرِ ملت فاطمہ جناح ، شہید ذوالفقار  علی بھٹو   اور بے نظیر بھٹو سے ہوا ۔ البتہ عمران خان  آصف علی زرداری اور نواز شریف سے اس لے مختلف ہیں کہ یہ دونوں رہنما( آصف علی زرادری  اور نواز شریف )  اپنے رویوں اور  پالیسی میں تبدیلی کرسکے ہیں  اس لیے دوبارہ سیاست میں میں فعال کردار ادا کررہے ہیں لیکن عمران خان ان سے مختلف  ابھی تک اپنی ضد پر قائم ہیں  اور انہیں اس سلسلے  میں اپنی زندگی کی بھی کوئی پراہ نہیں ہے اسی لیے  وہ ہر قسم کا دباو پڑنے کے باوجود بھی اپنے رویے  میں کسی قسم کی کوئی لچک پیدا نہیں کرسکے ہیں حالانکہ ان کے بارے میں یہ مشہور ہے وہ یو ٹرن  لینے کے بادشاہ ہیں لیکن اس معمالے میں ابھی تک ان کا کوئی   یو  ٹرن نہیں دیکھا  گیا ہے۔  

    پاکستان کی سب سے بڑی بیماری  یہ ہے کہ یہاں پر اختلافِ رائے رکھنے  والوں پر فوری طور پر غداری کا لیبل لگا دیا جاتا ہے۔جب تک ہم اس قسم کا لیبل لگانے سے باز نہیں آئیں گے پاکستان کو مشکل میں ڈالنے  یا دھکیلنے کا سبب بنتے رہیں گے۔ ہمیں آئین پر مکمل طور پر عمل درآمد کرتے ہوئے ملکی معاملات  کا چلانے کی ضرورت ہے۔

    قائداعظم محمد علی جناحؒ پاکستان کو  اسی لیے ایک فلاحی، جمہوری اور آئینی ریاست  بنانا  چاہتے تھے تاکہ  جس طرح انہوں نے پاکستان کو تشکیل دیا ہے ، آئندہ بھی اسی طریقے سے  آئین کی حدود کے اندر رہ کر پاکستان کے سیاسی نظام کو چلاتے رہیں۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ عسکری کامیابی اور عوامی حمایت کے درمیان رشتہ تب مکمل ہوتا ہے جب سیاسی اور سماجی ڈھانچے شفاف ہوں۔ جب عوام محسوس کریں کہ انتخابات ان کے ووٹ کی طاقت سے طے ہوتے ہیں، جب عدلیہ غیر جانبدار دکھائی دے، جب سیاستدان بااختیار نظر آئیں، تب عسکری کامیابی دلوں میں مستقل جگہ بناتی ہے۔ جمہوریت کسی ریاست کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی مضبوط ترین حفاظتی دیوار ہوتی ہے۔

    پاکستان میں مسئلہ یہ نہیں کہ فوج مضبوط ہے؛ مسئلہ یہ ہے کہ دیگر ادارے کمزور محسوس ہوتے ہیں۔ جب توازن بگڑ جائے تو الزام طاقتور پر آتا ہے، چاہے نیت کچھ بھی ہو۔ عدلیہ عوام کے اعتماد کی علامت ہوتی ہے؛ اگر یہ تاثر بنے کہ وہ طاقتور کے سامنے بے بس ہے تو ریاستی ڈھانچے پر سوال اٹھتے ہیں۔ اسی طرح اگر سیاستدان خود کو بے اختیار محسوس کریں تو جمہوریت کی وقعت کم ہو جاتی ہے اور یہ بالآخر فوج کے لیے بھی نقصان دہ ہوتا ہے۔

    خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں کا معاملہ خصوصی توجہ کا متقاضی ہے۔ یہ وہ خطے ہیں جنہوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں دیں، جن کے نوجوانوں نے شانہ بشانہ جانیں دیں، جن کے گھروں اور بازاروں نے آگ دیکھی۔ اگر آج انہی علاقوں میں تحفظات جنم لے رہے ہیں تو یہ دشمنی نہیں بلکہ سنے نہ جانے کا احساس ہے۔ ریاستیں اس وقت کمزور ہوتی ہیں جب قربانی دینے والے خود کو غیر متعلق محسوس کرنے لگیں۔

    بین الاقوامی عسکری اصولوں میں ایک بات واضح ہے: فوج کا وقار خاموشی اور آئینی حدود میں ہوتا ہے۔ براہِ راست سیاسی بیانات مداخلت کا تاثر پیدا کرتے ہیں،( جیسا کہ مختلف ٹالک شوز میں پاکستان کے بڑے بڑے اینکرز بھی اس سلسلے میں اپنی رائے پیش کرچکے ہیں )   اختلاف کو سخت روپ عطا  کرتے ہیں اور ادارے کو غیر ضروری تنقید کی زد میں لاتے ہیں(کسی بھی جمہوری ملک میں ایسا نہیں ہوتا )  جمہوری ریاستوں میں فوج کی آواز وزارتِ دفاع کے ذریعے، نپی تلی اور غیر سیاسی ہوتی ہے۔ پاکستان میں بھی یہی راستہ فوج کے وقار اور عوامی اعتماد دونوں کے لیے بہتر ہے۔

    یہ وقت تصادم کا نہیں بلکہ مصالحت کا ہے۔ عملی اقدامات جو بغیر کسی کمزوری کے، بلکہ مزید مضبوطی کے ساتھ اختیار کیے جا سکتے ہیں: سیاسی عمل سے واضح فاصلہ؛ انتخابی عمل میں مکمل غیر جانبداری؛ اختلافِ رائے کو غداری قرار دینے سے گریز؛ متاثرہ علاقوں میں سننے اور مکالمے کا عمل؛ اور اداروں کو مضبوط ہونے دینا۔ ایک مضبوط عدلیہ اور آزاد سیاست فوج کی ڈھال بنتی ہے، کمزوری نہیں۔

    ترکیہ کا تجربہ اس حوالے سے قابلِ غور ہے۔ وہاں بھی فوجی مداخلتیں ہوئیں، مگر فوج اور عوام کے درمیان احترام کا رشتہ ٹوٹنے نہ دیا گیا۔ 2016 کی ناکام بغاوت کے بعد آئینی حدود واضح کی گئیں، تطہیر ہوئی اور عوامی رابطہ بہتر بنایا گیا۔ آج ترکیہ میں فوج سیاست سے دور مگر عوام کے دلوں کے قریب ہے۔ یہی ماڈل پاکستان کے لیے بھی قابلِ عمل ہے کیونکہ تاریخ، جغرافیہ اور چیلنجز میں مماثلت موجود ہے۔

    میڈیا کا کردار بھی کلیدی ہے۔ سنسی خیزی اور محاذ آرائی وقتی توجہ تو دلا سکتی ہیں مگر دیرپا نقصان کرتی ہیں۔ ذمہ دار بیانیہ فوج کی قربانیوں کو تسلیم کرے، عوامی سوالات کو دبائے نہیں اور اداروں کے درمیان پل بنے،  دیوار  نہیں۔

    آخرکار تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ ہتھیار جنگ جتوا سکتے ہیں مگر ریاستیں عوامی اعتماد سے چلتی ہیں۔ پاکستان کی فوج نے میدانِ جنگ میں اپنی صلاحیت ثابت کر دی ہے۔ اب میدان اعتماد، شمولیت اور محبت کا ہے۔ اگر فوج سب کو برابر سمجھے، اختلاف کو دشمنی نہ بنائے اور سیاست کو سیاستدانوں کے سپرد کرے تو وہ نہ صرف سرحدوں کی محافظ رہے گی بلکہ عوام کے دلوں کی حکمران بھی بنے گی۔ طاقت کا اعلیٰ ترین درجہ یہ نہیں کہ فیصلے کیے جائیں، بلکہ یہ ہے کہ فیصلے قبول کیے جائیں۔ جو فوج عوام کے دلوں پر راج کرے، اسے تاریخ میں کبھی شکست نہیں ہوتی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر ایردوان: 2026 کا سال اصلاحات کا سال ہے، اس وقت بھی اپوزیشن جماعت CHP آق پارٹی کے رجسٹرڈ ووٹروں سے 9٫6 ملین پیچھے ہے
    Next Article دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.