Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع
    پاکستان

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید15جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔16 Mins Read
    پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحاد
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    عالمی دفاعی و سفارتی حلقوں میں پاکستان – ترکیہ اور  سعودی عرب  کے درمیان ایک ممکنہ سہ فریقی دفاعی اتحاد سے متعلق اطلاعات پر توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔ امریکی خبر رساں ادارے بلومبرگ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان –  ترکیہ اور  سعودی عرب  کے درمیان قائم ہونے والے دفاعی فریم ورک میں شمولیت کے لیے اعلیٰ سطحی اور پیش رفت کے مرحلے میں داخل مذاکرات کر رہا ہے، تاہم تینوں ممالک کی جانب سے تاحال کسی باضابطہ تصدیق یا تردید کا اعلان سامنے نہیں آیا۔

    بلومبرگ نے معاملے سے واقف ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ مجوزہ اتحاد کا مقصد خطے میں بڑھتی ہوئی سیکیورٹی غیر یقینی صورتحال کے تناظر میں اجتماعی دفاع اور بازدار صلاحیت کو مضبوط بنانا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس دفاعی بندوبست میں ایسے اصول شامل ہو سکتے ہیں جن کے تحت کسی ایک رکن ملک پر حملہ، تینوں ممالک کے خلاف تصور کیا جائے گا، جو نیٹو کے اجتماعی دفاعی تصور سے مماثلت رکھتا ہے۔

    دفاعی صلاحیتوں کا اشتراک، ایک نیا اسٹریٹجک ماڈل؟

    تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ممکنہ اتحاد کی اہمیت تینوں ممالک کی مختلف مگر تکمیلی دفاعی خصوصیات میں مضمر ہے۔ سعودی عرب کی مالی وسائل اور دفاعی سرمایہ کاری کی صلاحیت، پاکستان کی فوجی تجربہ کاری، میزائل اور جوہری پروگرام، اور ترکیہ کی بڑی، تجربہ کار فوج کے ساتھ ساتھ ابھرتی ہوئی دفاعی صنعت، اس اتحاد کو ایک کثیرالجہتی اسٹریٹجک پلیٹ فارم میں تبدیل کر سکتی ہے۔

    بلومبرگ کے مطابق ترکیہ اس ممکنہ اتحاد کو ایسے وقت میں زیر غور لا رہا ہے جب نیٹو کے مستقبل، امریکی وابستگی اور عالمی سلامتی کے ڈھانچے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ بالخصوص سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نیٹو سے متعلق بیانات کے تناظر میں ترکیہ اپنی قومی سلامتی اور دفاعی خودمختاری کو مزید مستحکم کرنے کے متبادل راستے تلاش کر رہا ہے۔

     رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ انقرہ، بدلتے ہوئے عالمی ماحول میں اپنی سلامتی کے لیے متبادل اور تکمیلی دفاعی انتظامات کو ضروری سمجھتا ہے۔

    علاقائی اور بین الاقوامی ردِعمل

    اگرچہ ترکیہ کی وزارتِ دفاع اور سعودی و پاکستانی حکام نے تاحال اس حوالے سے کوئی سرکاری بیان جاری نہیں کیا، تاہم اس امکان نے علاقائی میڈیا، بالخصوص اسرائیلی ذرائع ابلاغ میں تشویش کو جنم دیا ہے۔ اسرائیلی اخبارات نے اپنی رپورٹس میں کہا ہے کہ اگر ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایسا دفاعی اتحاد قائم ہوتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن پر نمایاں اثر ڈال سکتا ہے۔

    اسرائیلی تجزیہ نگاروں کے مطابق پاکستان کی جوہری صلاحیت کے ساتھ جڑا ہوا کوئی بھی کثیر ملکی دفاعی بندوبست خطے میں ایک نیا بازدار عنصر متعارف کرا سکتا ہے، جس کے اسٹریٹجک اثرات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

    پہلے سے قائم ترکیہ-پاکستان عسکری تعاون

    رپورٹس میں یہ بھی یاد دلایا گیا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں۔ ترکیہ نے پاکستان نیوی کے لیے جدید جنگی جہاز تعمیر کیے ہیں، جبکہ پاکستانی فضائیہ کے ایف-16 طیاروں کی اپ گریڈیشن میں بھی تعاون کیا گیا۔ اس کے علاوہ ڈرون ٹیکنالوجی اور جدید فضائی منصوبوں، جن میں ترکیہ کے پانچویں نسل کے جنگی طیارے کا پروگرام بھی شامل ہے، پر بات چیت جاری ہے۔

    بدلتا ہوا علاقائی تناظر

    تجزیہ کاروں کے مطابق یہ مذاکرات ایک ایسے علاقائی پس منظر میں ہو رہے ہیں جہاں جنوبی ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ دونوں میں سیکیورٹی خدشات بڑھ رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی، افغانستان سے متعلق سلامتی کے مسائل، اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری عدم استحکام، ایسے عوامل ہیں جو ممالک کو نئے دفاعی فریم ورکس پر غور کرنے پر مجبور کر رہے ہیں۔

    آگے کیا ہے؟

    فی الحال، اس ممکنہ سہ فریقی دفاعی اتحاد کی نوعیت، دائرہ کار اور عملی شکل سے متعلق کئی سوالات برقرار ہیں۔ مبصرین کے مطابق اگر یہ منصوبہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات صرف متعلقہ ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ علاقائی اور عالمی سلامتی کے منظرنامے میں بھی اہم تبدیلیوں کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔

    اسرائیلی میڈیا میں تشویش، خطرے کی گھنٹیاں بج گئیں

    مجوزہ اتحاد نے جہاں عالمی اسٹریٹجک حلقوں میں دلچسپی پیدا کی ہے، وہیں اسرائیلی میڈیا میں واضح تشویش بھی دیکھی جا رہی ہے۔ تل ابیب سے شائع ہونے والے اخبار نیوز 1 اور معروف جریدے معاریو نے اس ممکنہ دفاعی اتحاد کو اسرائیل کے لیے ایک اسٹریٹجک چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان ایسا معاہدہ عمل میں آ گیا تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے روایتی توازن کو یکسر بدل سکتا ہے۔

    اسرائیلی رپورٹس کے مطابق ایک ایسا اتحاد، جس میں پاکستان کی جوہری صلاحیت بالواسطہ طور پر شامل ہو، خطے میں خاص طور پر تل ابیب کے خلاف ایک مضبوط بازدار (Deterrent) کے طور پر ابھر سکتا ہے۔ اسرائیلی تجزیہ نگاروں نے یہاں تک لکھا ہے کہ اس صورت میں اسرائیل کو اپنی دفاعی منصوبہ بندی، عسکری تیاریوں اور علاقائی حکمتِ عملی پر ازسرِنو غور کرنا پڑے گا۔

    بھارت -اسرائیل گٹھ جوڑ اور   پاکستان -ترکیہ – سعودی عرب  سہہ فریقی اتحاد 

    اسرائیلی اخبار معاریو نے اپنے تجزیے میں لکھا ہے کہ اس ممکنہ اتحاد کے پس منظر میں ایک بنیادی حقیقت کارفرما ہے، اور وہ یہ کہ ترکیہ، سعودی عرب اور پاکستان کے مفادات اب جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ میں تیزی سے یکجا ہو رہے ہیں۔

    اسرائیل اور بھارت  ہمیشہ پاکستان کے خلاف        ایک دوسرے کے ساتھ تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں کیونکہ  ان دونوں ممالک کو معلوم ہے کہ پاکستان کی سب سے بڑی اسٹریٹجک پہچان یہ ہے کہ وہ دنیا کی واحد اسلامی جوہری طاقت ہے۔ یہ حیثیت محض علامتی نہیں بلکہ ایک مکمل، منظم اور قابلِ عمل نیوکلیئر ڈیٹرنس سسٹم پر مبنی ہے، جسے دنیا کے بڑے عسکری تھنک ٹینکس برسوں سے تسلیم کرتے آ رہے ہیں۔ پاکستان کا جوہری پروگرام نہ صرف دفاعی توازن قائم رکھتا ہے بلکہ پورے خطے میں جنگ کو روکنے کا بنیادی سبب بھی سمجھا جاتا ہے۔

    اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کی روایتی فوجی طاقت بھی کسی طور کم نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی افواج میں شمار ہونے والی پاکستانی مسلح افواج افرادی قوت، تربیت، تجربے اور جنگی صلاحیت کے لحاظ سے کئی یورپی، مشرقِ وسطیٰ اور ایشیائی ممالک سے کہیں آگے کھڑی ہیں۔ ایک ایسی فوج جو مسلسل دہشت گردی کے خلاف طویل جنگ لڑ چکی ہو، جدید ہائبرڈ وار فیئر سے نمٹنے کا عملی تجربہ رکھتی ہو، اور روایتی جنگ میں بھی اپنی برتری ثابت کر چکی ہو، اسے نظرانداز کرنا اب کسی کے لیے ممکن نہیں رہا۔

    بھارت برسوں سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت، علاقائی سپر پاور اور ناقابلِ شکست فوجی قوت کے طور پر پیش کرتا چلا آیا تھا۔ لیکن مئی 2025 میں ہونے والا چار روزہ تصادم اس بیانیے کے لیے سیاسی، عسکری اور نفسیاتی سطح پر تباہ کن ثابت ہوا۔

    دنیا نے پہلی بار کھلی آنکھوں سے دیکھا کہ جدید ہتھیاروں، بھاری بجٹ اور بڑے میڈیا نیٹ ورک کے باوجود بھارت نہ صرف اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا بلکہ پاکستان کے مؤثر، متوازن اور نپی تلی عسکری حکمتِ عملی کے سامنے پسپا ہوتا دکھائی دیا۔ عالمی میڈیا، عسکری ماہرین اور حتیٰ کہ مغربی تھنک ٹینکس نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا کہ اس مختصر مگر فیصلہ کن تصادم میں اسٹریٹجک برتری پاکستان کے ہاتھ رہی۔

    یہی وہ لمحہ تھا جس کے بعد دنیا بھر میں پاکستانی فوج کے بارے میں گفتگو کا لہجہ بدل گیا۔ جو فوج کل تک “ریجنل فورس” کہلاتی تھی، وہ آج ایک قابلِ بھروسا اسٹریٹجک پاور کے طور پر دیکھی جانے لگی۔

    خاص طور پر چین اور پاکستان کے مشترکہ طور پر تیار کردہ جدید جنگی طیارے جے ایف-17 تھنڈر میں دنیا کے مختلف ممالک کی دلچسپی نے پاکستان کی دفاعی صنعت کو عالمی نقشے پر لا کھڑا کیا۔ یہ محض ایک طیارہ نہیں بلکہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب صرف ہتھیار خریدنے والا ملک نہیں رہا بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی برآمد کرنے والا ملک بنتا جا رہا ہے۔

    یہی وہ پس منظر ہے جس میں سعودی عرب اور دیگر مسلم ممالک کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کی خواہش میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ پاکستان کی فوج اب صرف ایک قومی ادارہ نہیں بلکہ اسلامی دنیا کے لیے ایک حفاظتی ستون کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔

     رپورٹ کے مطابق ترکیہ اس اتحاد کو نہ صرف دفاعی طاقت بڑھانے کا ذریعہ سمجھتا ہے بلکہ اسے ایک ایسے عالمی منظرنامے میں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع بھی تصور کرتا ہے جہاں امریکی کردار اور نیٹو کی افادیت پر سوالات بڑھ رہے ہیں۔

    معاریو کے مطابق اگر یہ اتحاد عملی شکل اختیار کرتا ہے تو مشرقِ وسطیٰ میں ایک نیا دور شروع ہو سکتا ہے، جس میں “ترکیہ اندر ہوگا اور اسرائیل خود کو خارج از دائرہ محسوس کرے گا”۔

    ترکیہ: دفاعی صنعت کی خاموش سپر پاور

    اکیسویں صدی میں عسکری طاقت کا تصور صرف فوجیوں کی تعداد یا جنگی جہازوں تک محدود نہیں رہا۔ اصل طاقت اب ٹیکنالوجی، خود انحصاری، اسٹریٹجک خودمختاری اور فیصلہ کن صلاحیت سے جانی جاتی ہے۔ اس نئے عالمی تناظر میں اگر کوئی ملک غیر معمولی رفتار سے ابھرا ہے تو وہ ترکیہ ہے، جو آج محض ایک علاقائی قوت نہیں بلکہ دفاعی صنعت میں عالمی رجحانات متعین کرنے والا کھلاڑی بنتا جا رہا ہے۔

    دفاعی صنعت میں ترکیہ کا انقلابی سفر

    گزشتہ دو دہائیوں میں ترکیہ نے جس طرح دفاعی صنعت میں انقلابی پیش رفت کی ہے، اس کی مثال جدید تاریخ میں کم ہی ملتی ہے۔ ایک وقت تھا جب ترکیہ اپنے بنیادی دفاعی سازوسامان کے لیے بھی بیرونی طاقتوں پر انحصار کرتا تھا، مگر آج صورتِ حال یہ ہے کہ ترکیہ اپنے ڈرون، جنگی جہاز، میزائل، بحری جہاز اور الیکٹرانک وار فیئر سسٹمز خود تیار کر رہا ہے۔

    ترکیہ کے تیار کردہ ڈرونز، خصوصاً Bayraktar TB2 اور Akıncı، نے لیبیا، شام، آذربائیجان اور یوکرین جیسے تنازعات میں جنگ کے انداز کو ہی بدل کر رکھ دیا۔ ان ڈرونز نے ثابت کر دیا کہ کم لاگت مگر ذہانت پر مبنی ٹیکنالوجی، روایتی فوجی طاقت پر بھاری پڑ سکتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ترکیہ کا نام دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہو چکا ہے جن کی ڈرون ٹیکنالوجی کو گیم چینجر سمجھا جاتا ہے۔

    KAAN اور Kızılelma: فضائی برتری کی نئی علامتیں

    ترکیہ کا پانچویں نسل کا جنگی طیارہ KAAN محض ایک دفاعی منصوبہ نہیں بلکہ اس بات کا اعلان ہے کہ ترکیہ اب دنیا کے ان محدود ممالک کی صف میں شامل ہو رہا ہے جو اعلیٰ ترین فضائی ٹیکنالوجی کے مالک ہیں۔ اسی طرح بغیر پائلٹ کے تیار کیا جانے والا Kızılelma جنگی طیارہ مستقبل کی فضائی جنگ کا خاکہ پیش کرتا ہے، جہاں رفتار، اسٹیلتھ اور خودکار فیصلہ سازی کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔

    یہ وہ مرحلہ ہے جہاں ترکیہ محض صارف نہیں بلکہ ڈیزائنر، ڈیولپر اور برآمد کنندہ بن چکا ہے۔ یہی پہلو اسے پاکستان جیسے ممالک کے لیے ایک قدرتی اسٹریٹجک شراکت دار بناتا ہے، جو خود بھی دفاعی خود انحصاری کے سفر پر گامزن ہیں۔

    نیٹو میں ترکیہ: دوسری بڑی فوج، مگر آزاد فیصلہ سازی

    ترکیہ نیٹو کا رکن ہونے کے باوجود ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ یہ اتحاد کی دوسری بڑی عسکری قوت ہے، جس کی فوجی تعداد، آپریشنل تجربہ اور جغرافیائی محلِ وقوع اسے ناگزیر بناتا ہے۔ مگر ترکیہ نے حالیہ برسوں میں یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ نیٹو کا رکن ضرور ہے، مگر کسی بھی بلاک کی غیر مشروط پیروی اس کی خارجہ پالیسی کا حصہ نہیں۔

    یہی آزادانہ سوچ ترکیہ کو اسلامی دنیا اور ابھرتی ہوئی طاقتوں کے لیے قابلِ اعتماد بناتی ہے۔ چاہے روس کے ساتھ توازن ہو، چین کے ساتھ اقتصادی روابط ہوں، یا مسلم ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون، ترکیہ ہر محاذ پر خودمختار قومی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔

    پاکستان-ترکیہ عسکری ہم آہنگی: محض تعاون نہیں، فکری اتحاد

    پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات صرف دفاعی معاہدوں تک محدود نہیں۔ یہ ایک تاریخی، فکری اور اسٹریٹجک رشتہ ہے، جس کی جڑیں عوامی جذبات، مشترکہ چیلنجز اور یکساں وژن میں پیوست ہیں۔ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان مشترکہ مشقیں، ٹیکنالوجی کا تبادلہ اور دفاعی پیداوار میں شراکت داری اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ تعلق وقتی نہیں بلکہ طویل المدت اسٹریٹجک شراکت ہے۔

    پاکستان کی زمینی اور فضائی جنگ کا عملی تجربہ، اور ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی، مل کر ایک ایسا امتزاج بناتے ہیں جو کسی بھی مشترکہ دفاعی اتحاد کو غیر معمولی طاقت فراہم کر سکتا ہے۔

    اسلامی دنیا میں نئی عسکری امید

    آج جب مسلم دنیا کو بیک وقت کئی سمتوں سے خطرات لاحق ہیں، چاہے وہ فلسطین ہو، کشمیر ہو یا مشرقِ وسطیٰ کی عدم استحکام، ایسے میں ترکیہ اور پاکستان کا قریب آنا محض دو ممالک کا فیصلہ نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے لیے ایک نفسیاتی اور اسٹریٹجک سہارا ہے۔

    یہی وجہ ہے کہ ترکیہ کی دفاعی پیش رفت اور پاکستان کی عسکری ساکھ، دونوں کو یکجا کر کے دیکھا جا رہا ہے۔ اور یہی وہ بنیاد ہے جس پر اب سعودی عرب کی مالی قوت شامل ہو کر ایک تاریخی سہ فریقی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔

    سعودی عرب کی مالی قوت، سہ فریقی دفاعی اتحاد اور بھارت و اسرائیل میں بڑھتا خوف

    اکیسویں صدی کی عالمی سیاست میں طاقت کا توازن اب صرف بندوق اور بارود سے نہیں بلکہ سرمایہ، ٹیکنالوجی اور اسٹریٹجک شراکت داری سے طے ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر پاکستان کی عسکری قوت، ترکیہ کی دفاعی صنعت اور سعودی عرب کی بے مثال مالی طاقت ایک ہی اسٹریٹجک چھتری تلے جمع ہو جائیں تو یہ محض ایک اتحاد نہیں بلکہ عالمی طاقت کے نئے مرکز کا ظہور ہو سکتا ہے۔

    سعودی عرب: دولت سے اثر و رسوخ تک

    سعودی عرب آج دنیا کے امیر ترین ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ تیل کی دولت سے حاصل ہونے والا سرمایہ اب محض قومی خزانے تک محدود نہیں بلکہ عالمی مالیاتی نظام میں سعودی اثر و رسوخ کی بنیاد بن چکا ہے۔ امریکہ، یورپ اور ایشیا میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی، دفاعی صنعت اور انفراسٹرکچر منصوبوں میں شمولیت، یہ سب سعودی عرب کو محض ایک علاقائی طاقت نہیں بلکہ عالمی مالی کھلاڑی بناتے ہیں۔

    اسی مالی قوت کو اگر دفاعی حکمتِ عملی کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو نتائج غیر معمولی ہو سکتے ہیں۔ یہی وہ پہلو ہے جو سہ فریقی دفاعی اتحاد کو دنیا کے طاقتور ترین اتحادوں کی صف میں لا کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

    پاک -سعودی دفاعی معاہدہ: بنیاد پہلے ہی رکھ دی گئی

    یہ بات قابلِ غور ہے کہ حالیہ پاک-بھارت جنگ کے بعد پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان دفاعی تعاون کا ایک اہم معاہدہ پہلے ہی طے پا چکا ہے۔ اس معاہدے کو محض ایک دو طرفہ تعاون نہیں بلکہ وسیع تر دفاعی فریم ورک کی بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

    اب اطلاعات کے مطابق اسی معاہدے کو وسعت دی جا رہی ہے اور ترکیہ اس میں شمولیت اختیار کرنے جا رہا ہے۔ یوں یہ تعاون دو ممالک تک محدود نہ رہ کر ایک سہ فریقی دفاعی اتحاد کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جس میں فوجی تعاون، مشترکہ تربیت، دفاعی پیداوار اور اسٹریٹجک ہم آہنگی شامل ہوگی۔

    سہ فریقی اتحاد: طاقت کا نیا عالمی محور

    اگر اس ممکنہ اتحاد کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اس کی طاقت کے تین واضح ستون سامنے آتے ہیں:

    • پاکستان: واحد اسلامی ایٹمی طاقت، بڑی اور تجربہ کار فوج، حالیہ جنگ میں عملی برتری، اور دفاعی ساکھ
    • ترکیہ: جدید دفاعی صنعت، ڈرون اور فضائی ٹیکنالوجی میں عالمی قیادت، نیٹو کی دوسری بڑی فوج
    • سعودی عرب: بے پناہ مالی وسائل، عالمی سرمایہ کاری، اور اس اتحاد کو عملی جامہ پہنانے کی معاشی صلاحیت

    یہ امتزاج اس اتحاد کو محض علاقائی نہیں بلکہ عالمی سطح پر اثرانداز ہونے والا دفاعی بلاک بنا سکتا ہے۔

    بھارت: خودساختہ سپر پاور کا خواب بکھر گیا

    اس ممکنہ اتحاد کا سب سے بڑا نفسیاتی اثر بھارت پر پڑا ہے۔ بھارت جو برسوں سے خود کو ایک ابھرتی ہوئی عالمی طاقت اور خطے کا بلاشرکت غیرے حکمران سمجھتا تھا، مئی کی جنگ میں پاکستان کے ہاتھوں نہ صرف عسکری ناکامی سے دوچار ہوا بلکہ عالمی سطح پر سبکی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

    اب اگر پاکستان ایک مضبوط سہ فریقی اتحاد کا حصہ بن جاتا ہے تو بھارت کے لیے یہ محض ایک سفارتی چیلنج نہیں بلکہ اس کے اسٹریٹجک خوابوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بھارتی میڈیا اور دفاعی حلقوں میں اس اتحاد کو تشویش اور خوف کی نگاہ سے دیکھا جا رہا ہے۔

    اسرائیل: مسلم عسکری محور کا ابھار، خطرے کی گھنٹی

    اس اتحاد نے اسرائیل میں بھی واضح بے چینی پیدا کر دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا میں بار بار اس بات پر زور دیا جا رہا ہے کہ اگر ایک ایسا اتحاد وجود میں آ گیا جس میں پاکستان کی جوہری صلاحیت، ترکیہ کی عسکری ٹیکنالوجی اور سعودی عرب کے وسائل شامل ہوں تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل کی روایتی عسکری برتری کو چیلنج کر سکتا ہے۔

    اسرائیلی تجزیہ نگاروں کے مطابق یہ اتحاد ایک ایسے مسلم عسکری محور کی شکل اختیار کر سکتا ہے جو نہ صرف دفاعی بلکہ نفسیاتی اور اسٹریٹجک سطح پر بھی اسرائیل کے لیے چیلنج بنے گا۔ یہی وجہ ہے کہ تل ابیب میں دفاعی منصوبہ بندی پر نظرِ ثانی کی باتیں کھل کر سامنے آ رہی ہیں۔

    اسلامی دنیا کے لیے نیا اعتماد

    اس سہ فریقی اتحاد کا سب سے بڑا اور دیرپا اثر شاید اسلامی دنیا پر پڑے۔ ایک طویل عرصے سے مسلم ممالک عسکری طور پر بکھرے ہوئے تھے، مگر اب پہلی بار ایک ایسا امکان سامنے آ رہا ہے جس میں طاقت، ٹیکنالوجی اور سرمایہ ایک ہی سمت میں مجتمع ہو سکتے ہیں۔

    یہ اتحاد اگر عملی شکل اختیار کرتا ہے تو یہ مسلم دنیا کے لیے محض دفاعی تحفظ نہیں بلکہ اعتماد، خودداری اور اجتماعی قوت کی علامت بن سکتا ہے۔

    ایک نیا عالمی باب

    ترکیہ، پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ابھرتا ہوا دفاعی اتحاد محض ایک خبر نہیں بلکہ عالمی سیاست میں ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ اتحاد بھارت اور اسرائیل کے لیے تشویش، جبکہ اسلامی دنیا کے لیے امید کی کرن بن کر سامنے آ رہا ہے۔

    اگر یہ اتحاد حقیقت کا روپ دھار لیتا ہے تو آنے والے برسوں میں دنیا کو یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ طاقت کا محور بدل چکا ہے اور ایک نیا، مضبوط اور منظم اسلامی دفاعی بلاک عالمی اسٹیج پر اپنی موجودگی درج کرا چکا ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleعوام فوج کو اور فوج عوام کو گلے لگا ئے ، یہی وقت کا تقاضا اور ضرورت ہے ایک ایسا مصالحتی کالم جو سینسر کی نذر ہوگیا
    Next Article ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.