Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟
    پاکستان

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید26جنوری , 2026Updated:26جنوری , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔13 Mins Read
    بارڈ آف پیس
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ : ڈاکٹر فرقان حمید

    دنیا ایک بار پھر اس مقام پر کھڑی ہے جہاں طاقت، اخلاقیات، سفارت کاری اور مفادات آپس میں الجھ چکے ہیں۔ مشرقِ وسطیٰ میں غزہ کی جنگ ہو یا یوکرین کا بحران، عالمی نظام اس وقت شدید دباؤ، عدم اعتماد اور طاقت کے ازسرِنو تعین کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ‘بورڈ آف پیس’ کے قیام کا اعلان محض ایک امن منصوبہ نہیں بلکہ ایک ایسا سیاسی اقدام ہے جو موجودہ عالمی ڈھانچے، بالخصوص اقوام متحدہ کے کردار، پر براہِ راست سوالیہ نشان بن کر ابھرا ہے۔ یہ فورم ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا پہلے ہی کثیرالجہتی نظام پر عدم اطمینان، بڑی طاقتوں کی باہمی کشمکش اور عالمی اداروں کی افادیت پر بحث کا سامنا کر رہی ہے۔

    بورڈ آف پیس کا تصور بظاہر غزہ میں جنگ بندی، تعمیر نو اور استحکام کے لیے پیش کیا گیا، مگر جلد ہی یہ واضح ہو گیا کہ اس فورم کا دائرہ کار غزہ تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اسے ایک عالمی امن فریم ورک کی صورت دی جا رہی ہے۔ یہی نکتہ اس بورڈ کو محض ایک انسانی یا سفارتی کوشش کے بجائے ایک بڑے سیاسی تجربے میں بدل دیتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی ماضی کی اقوام متحدہ مخالف سوچ، اور اب اس فورم کی براہِ راست امریکی قیادت، دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا یہ واقعی عالمی تعاون کی کوشش ہے یا طاقت کے ارتکاز کی ایک نئی شکل۔

    بورڈ آف پیس کے چارٹر نے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے۔ چیئرمین کے طور پر صدر ٹرمپ کو غیر معمولی اختیارات دینا، فیصلوں پر ویٹو کا حق، ارکان کی رکنیت پر اثرانداز ہونے کی صلاحیت، اور مستقل رکنیت کے لیے ایک ارب ڈالر کی شرط ،  یہ سب ایسے عناصر ہیں جو اس فورم کو ایک روایتی بین الاقوامی تنظیم سے بالکل مختلف بناتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ سفارتی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھ رہا ہے کہ کیا یہ ادارہ واقعی اقوام متحدہ کی تکمیل کرے گا یا بتدریج اس کا متبادل بننے کی کوشش کرے گا۔

    بورڈ آف پیس اور بڑی طاقتوں کی محتاط خاموشی

    اسی پس منظر میں عالمی ردِعمل خاص طور پر قابلِ توجہ ہے۔ جہاں کئی ممالک نے بورڈ آف پیس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کی، وہیں متعدد اہم یورپی ممالک نے یا تو صاف انکار کر دیا یا فیصلہ مؤخر رکھا۔ برطانیہ، فرانس، ناروے اور سویڈن جیسے ممالک کا منفی رویہ یا انکار  اس بات کی علامت ہے کہ مغربی دنیا خود بھی اس فورم کے طویل المدتی اثرات اور قانونی حیثیت پر مطمئن نہیں۔ سلامتی کونسل کی جانب سے اس بورڈ کو صرف غزہ اور 2027 تک محدود منظوری دینا، اور روس و چین کا ووٹنگ سے دور رہنا، اس فورم کے گرد موجود بے یقینی کو مزید نمایاں کرتا ہے۔

    تاہم سب سے زیادہ معنی خیز پہلو یہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ اور مسلم دنیا کے بڑے اور بااثر رہنماؤں نے اس فورم میں براہِ راست شرکت سے گریز کیا۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان، مشرقِ وسطی کے ممالک میں سے  سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، متحدہ عرب امارات کے صدر محمد بن زاید النہیان، مصر کے صدر السیسی ، اردن کے شاہ عبداللہ دوئم،  قطر کے امیر الثانی    یہ سب وہ شخصیات ہیں جو خطے کی سیاست میں مرکزی کردار رکھتی ہیں، مگر انہوں نے خود بورڈ آف پیس کا حصہ بننے کے بجائے اپنے نمائندے یا وزرائے خارجہ بھیجنے کو ترجیح دی۔ یہ فیصلہ محض پروٹوکول یا مصروفیات کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک گہری سفارتی حکمتِ عملی کی عکاسی کرتا ہے۔

    ان رہنماؤں کا براہِ راست شرکت نہ کرنا دراصل اس امر کی علامت ہے کہ وہ اس فورم سے مکمل لاتعلقی بھی نہیں چاہتے، مگر مکمل وابستگی کا سیاسی بوجھ بھی اٹھانے کے لیے تیار نہیں۔ غزہ کا مسئلہ جذباتی، نظریاتی اور سیاسی لحاظ سے اس قدر حساس ہے کہ کسی بھی عالمی اقدام میں ذاتی سطح پر شمولیت مستقبل میں سیاسی ساکھ، علاقائی تعلقات اور عوامی رائے پر اثر ڈال سکتی ہے۔ چنانچہ نمائندوں کی سطح پر شرکت ایک محفوظ راستہ سمجھا گیا، جس کے ذریعے وہ اس عمل کا حصہ بھی رہیں اور خود کو کسی ممکنہ ناکامی یا تنازعے سے بھی بچا سکیں۔

    ترکیہ: اصولی مؤقف اور عملی احتیاط

    ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کا معاملہ اس تناظر میں خاص اہمیت رکھتا ہے۔ ایردوان طویل عرصے سے غزہ، فلسطین اور مسلم دنیا کے مسائل پر ایک جارحانہ اور واضح بیانیہ رکھتے آئے ہیں۔ ایسے میں اگر وہ خود بورڈ آف پیس کا حصہ بنتے تو یہ تاثر پیدا ہو سکتا تھا کہ ترکیہ ایک ایسے امریکی فریم ورک کی توثیق کر رہا ہے جس کی قیادت براہِ راست صدر ٹرمپ کے ہاتھ میں ہے، وہی ٹرمپ جن کی پالیسیوں کو ماضی میں خود ایردوان نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ اس تضاد سے بچنے کے لیے ترکیہ نے وزیر خارجہ حقان  فیدان کی سطح پر شرکت کو ترجیح دی، تاکہ ایک طرف وہ غزہ میں امن کے عمل سے وابستہ بھی رہیں اور دوسری طرف اپنی نظریاتی اور سیاسی خودمختاری بھی برقرار رکھ سکیں۔ ترکیہ کی جانب سے انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس میں شمولیت پر آمادگی ظاہر کرنا اس بات کا ثبوت ہے کہ انقرہ عملی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے، مگر کسی متنازعہ عالمی قیادت کے سائے تلے نہیں۔

    سعودی عرب: اثر و رسوخ کے ساتھ محتاط فاصلہ

    سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کی عدم شرکت بھی اسی سفارتی منطق کے تحت دیکھی جانی چاہیے۔ سعودی عرب خطے میں ایک کلیدی طاقت ہے اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات اسٹریٹجک نوعیت کے ہیں، مگر ولی عہد کی براہِ راست شرکت اس فورم کو غیر معمولی سیاسی وزن دے سکتی تھی۔ سعودی قیادت بخوبی جانتی ہے کہ بورڈ آف پیس کا مستقبل غیر یقینی ہے اور اگر یہ فورم اقوام متحدہ کے متوازی یا اس کے مقابلے میں کھڑا ہوا تو اس کے نتائج طویل المدتی ہو سکتے ہیں۔ چنانچہ نمائندے بھیج کر سعودی عرب نے یہ پیغام دیا کہ وہ غزہ میں امن اور استحکام کے حامی ہیں، مگر کسی ایسے ادارے سے مکمل وابستگی سے گریز کریں گے جو مستقبل میں تنازع یا ناکامی کی علامت بن سکتا ہو۔

    متحدہ عرب امارات، مصر، اردن  اور قطر: سفارت کاری میں توازن

    متحدہ عرب امارات، مصر، اردن  اور قطر کی حکمتِ عملی بھی کم و بیش اسی طرز کی رہی۔ مشرقِ وسطی کے یہ ممالک  خطے میں ایک فعال سفارتی کردار ادا  کرتے ہیں  اور امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات مضبوط ہیں، مگر ان ممالک نے  ایسے اقدام میں اپنی اعلیٰ قیادت کو آگے لانے سے پہلے اس کے نتائج کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے ۔ یہ  ممالک،  غزہ اور حماس کے حوالے سے پہلے ہی ایک حساس سفارتی کردار ادا کرتے چلے آئے ہیں اس بات سے بخوبی آگاہ  ہیں کہ براہِ راست شرکت انہیں   ایک ایسے سیاسی فریم میں مقید  کیا جاسکتا ہے  جہاں  ان کی غیر جانب دار ثالثی متاثر ہو۔ اسی لیے ان  ممالک نے محتاط فاصلہ رکھتے ہوئے شرکت کو ترجیح دی۔

    یورپ کی سرد مہری اور عالمی نظام کا سوال

    بورڈ آف پیس پر یورپی ردِعمل بھی اسی بڑی تصویر کا حصہ ہے۔ فرانس، ناروے اور سویڈن جیسے ممالک کا انکار، اور اٹلی میں آئینی خدشات کا اظہار، اس بات کی علامت ہیں کہ یورپ اس فورم کو محض ایک امن منصوبہ نہیں بلکہ عالمی طاقت کے توازن کے لیے ایک چیلنج کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ یورپی ریاستیں اقوام متحدہ کے کثیرالجہتی نظام کو عالمی استحکام کی بنیاد سمجھتی ہیں، اور کسی ایسے فورم سے محتاط ہیں جو اس نظام کو کمزور کر دے۔ یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے بورڈ آف پیس کو ممکنہ طور پر اقوام متحدہ کا متبادل قرار دینے کے اشاروں نے یورپ میں تشویش کی لہر دوڑا دی۔

    بورڈ آف پیس: امن یا طاقت کا نیا محور؟

    یہ سوال اب ناگزیر ہو چکا ہے کہ بورڈ آف پیس درحقیقت کس سمت جا رہا ہے۔ ایک طرف یہ غزہ میں تعمیر نو، جنگ بندی اور استحکام کا وعدہ کرتا ہے، دوسری طرف اس کا ڈھانچہ اور قیادت اسے ایک ایسے ادارے کی شکل دیتے ہیں جو طاقت کو مرکز میں سمیٹتا ہے۔ ایک ارب ڈالر کی مستقل رکنیت کی شرط، چیئرمین کے وسیع اختیارات اور ایگزیکٹو بورڈ میں غیر منتخب شخصیات کی شمولیت ،  یہ سب عناصر اس تاثر کو تقویت دیتے ہیں کہ یہ فورم روایتی عالمی اداروں سے مختلف بلکہ بعض حوالوں سے متصادم ہے۔

    پاکستان  کے لیے کٹھن  امتحان  

    پاکستان نے  اگرچہ اس فورم کو اپنے اصولی مؤقف ،  یعنی جنگ بندی، انسانی امداد اور فلسطینی ریاست ،  کے اظہار کے لیے ایک موقع کے طور پر استعمال کیا ہے۔ یہ فیصلہ اخلاقی اور سفارتی اعتبار سے قابلِ فہم ہے، مگر یہی نمایاں شرکت مستقبل میں اضافی سوالات اور دباؤ کو بھی جنم دے سکتی ہے۔

    پاکستان کے اندر یہ بحث شدت اختیار کر چکی ہے کہ آیا یہ شمولیت ناگزیر تھی یا نہیں۔ ناقدین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ جب ترکیہ اور مشرقِ وسطی کے تمام  اہم ممالک نے اپنے اعلیٰ ترین رہنماؤں کو آگے نہیں کیا تو پاکستان کا اس سطح پر سامنے آنا کہیں اسے غیر ضروری سیاسی بوجھ تلے نہ لے آئے۔ مزید یہ کہ اگر بورڈ آف پیس صدر ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ ہی غیر مؤثر ہو جاتا ہے یا عالمی سطح پر متنازعہ قرار پاتا ہے تو پاکستان کو اپنے فیصلے کا دفاع کرنا پڑے گا۔

    پاکستان نے اس مرحلے پر بورڈ آف پیس میں شمولیت اختیار کر کے خود کو عالمی توجہ کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف کی ذاتی شرکت اس بات کا اعلان ہے کہ اسلام آباد اس فورم کو سنجیدگی سے لے رہا ہے اور اسے غزہ کے مسئلے پر اپنی دیرینہ پالیسی کو عملی شکل دینے کے ایک موقع کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ پاکستان کا مؤقف واضح ہے: مستقل جنگ بندی، بلا رکاوٹ انسانی امداد، غزہ کی ازسرِنو تعمیر اور ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔ یہ مؤقف نہ صرف پاکستان کی خارجہ پالیسی کی تاریخی بنیادوں سے ہم آہنگ ہے بلکہ مسلم دنیا میں اس کے اخلاقی تشخص کو بھی مضبوط کرتا ہے۔

    تاہم سوال یہ ہے کہ کیا اخلاقی برتری ہمیشہ سفارتی فائدے میں ڈھلتی ہے؟ پاکستان کی براہِ راست شرکت اسے ایک ذمہ دار اور فعال ریاست کے طور پر پیش ضرور کرتی ہے، مگر اسی کے ساتھ وہ خطرات بھی منسلک ہیں جن سے دیگر علاقائی طاقتوں نے دانستہ فاصلہ رکھا۔ ترکیہ اور مشرقِ وسطی کے اہم ممالک  نے اس فورم میں شرکت تو کی، مگر اپنی اعلیٰ قیادت کو سامنے لا کر خود کو کسی ممکنہ ناکامی یا سیاسی تنازعے سے جوڑنے سے گریز کیا۔ یہ رویہ اس بات کا اظہار ہے کہ وہ بورڈ آف پیس کے مستقبل، اس کی قانونی حیثیت اور اس کے عالمی اثرات کے بارے میں مکمل طور پر مطمئن نہیں۔

    پاکستان کے لیے اصل آزمائش یہی ہے کہ وہ اس فورم میں اپنی شمولیت کو کس حد تک محدود اور متوازن رکھ پاتا ہے۔ اگر بورڈ آف پیس واقعی اقوام متحدہ کے دائرہ کار کے اندر رہتے ہوئے غزہ میں امن اور استحکام لانے میں کامیاب ہوتا ہے تو پاکستان اس کا ایک نمایاں فائدہ اٹھانے والا ملک ہو سکتا ہے۔ اس صورت میں اسلام آباد یہ دعویٰ کر سکے گا کہ اس نے نہ صرف اصولی مؤقف اپنایا بلکہ عملی نتائج کے حصول میں بھی کردار ادا کیا۔ تاہم اگر یہ فورم اقوام متحدہ کے متوازی یا اس کے خلاف ایک طاقت کے مرکز میں تبدیل ہو گیا، یا اگر یہ صدر ٹرمپ کی صدارت کے ساتھ ہی غیر مؤثر ہو گیا، تو پاکستان کو اپنے فیصلے کا دفاع ایک پیچیدہ سفارتی ماحول میں کرنا پڑے گا۔

    داخلی سطح پر بھی یہ فیصلہ پاکستان کے لیے ایک فکری امتحان ہے۔ ملک کے اندر اٹھنے والی تنقید اس بات کی یاد دہانی ہے کہ خارجہ پالیسی کے فیصلے صرف عالمی تناظر میں نہیں بلکہ داخلی سیاسی اور عوامی احساسات کے تناظر میں بھی پرکھے جاتے ہیں۔ ناقدین کا یہ خدشہ کہ پاکستان کسی ایسے ادارے کا حصہ بن رہا ہے جو ایک فردِ واحد کی سیاسی سوچ تک محدود ہو سکتا ہے، مکمل طور پر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح ایک ارب ڈالر کی مستقل رکنیت کی شرط جیسے نکات مستقبل میں مالی اور سیاسی دباؤ کا باعث بھی بن سکتے ہیں، اگرچہ پاکستان نے فی الحال اس حوالے سے کوئی حتمی اعلان نہیں کیا۔

    بورڈ آف پیس کیا اقوامِ  متحدہ کا  متبادل  ہے؟

    بورڈ آف پیس کا سب سے بڑا سوال اب بھی وہی ہے جو اس کے اعلان کے دن سے اٹھ رہا ہے: کیا یہ فورم واقعی عالمی امن کے فروغ کا ذریعہ بنے گا یا یہ طاقت کے نئے توازن کی ایک علامت ثابت ہوگا؟ سلامتی کونسل کی محدود منظوری، روس اور چین کی سرد مہری، اور یورپی ممالک کی تشویش اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ عالمی نظام خود اس تجربے کو پوری طرح قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ اس صورتحال میں بورڈ آف پیس کی کامیابی کا انحصار محض نیت پر نہیں بلکہ شفافیت، شمولیت اور عملی نتائج پر ہوگا۔

    پاکستان کے لیے اس پورے عمل میں سب سے دانشمندانہ راستہ یہی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنی شمولیت کو واضح اصولوں، اقوام متحدہ کے فریم ورک اور علاقائی ہم آہنگی کے ساتھ جوڑے رکھے۔ عرب اور مسلم ممالک کے ساتھ قریبی مشاورت، کسی بھی فوجی یا مالی ذمہ داری سے قبل پارلیمانی اور عوامی بحث، اور اپنے اصولی مؤقف پر غیر متزلزل رہنا وہ عناصر ہیں جو پاکستان کو اس پیچیدہ سفارتی بساط پر متوازن رکھ سکتے ہیں۔ پاکستان کو اس فورم میں اپنی موجودگی کو ایک اخلاقی آواز کے طور پر برقرار رکھنا ہوگا، نہ کہ کسی ایک طاقت کے ایجنڈے کا حصہ بننے کے تاثر کے ساتھ۔

    آخرکار، بورڈ آف پیس نہ تو مکمل طور پر امید کا استعارہ ہے اور نہ ہی محض خدشات کا مجموعہ۔ یہ ایک ایسا عالمی تجربہ ہے جس کی سمت، نوعیت اور اثرات ابھی تشکیل پا رہے ہیں۔ پاکستان نے اس تجربے میں قدم رکھ کر ایک واضح پیغام دیا ہے کہ وہ عالمی امن کے مباحث سے لاتعلق نہیں رہنا چاہتا۔ اب اصل امتحان یہ ہے کہ آیا وہ اس پلیٹ فارم کو اپنے اصولوں کے مطابق ڈھال پاتا ہے یا خود اس کے تقاضوں کے مطابق ڈھلنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔

    یہی وہ نکتہ ہے جہاں بورڈ آف پیس کا مستقبل اور پاکستان کی خارجہ پالیسی ایک دوسرے سے جڑ جاتے ہیں   اور یہی وہ مقام ہے جہاں وقت ہی اس فیصلے کی درستی یا خطا کا حتمی فیصلہ کرے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات
    Next Article او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.