Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»بھارت کی مئی 2025 کی عبرتناک شکست کے بعد نئی سازشیں ، طالبان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا محاذ کھول دیا
    پاکستان

    بھارت کی مئی 2025 کی عبرتناک شکست کے بعد نئی سازشیں ، طالبان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا محاذ کھول دیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید11نومبر , 2025Updated:11نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔14 Mins Read
    افغان طالبان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    آستین کے سانپوں   کے بر وقت سر کچلنے کا وقت آن پہنچا

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ احسان فراموش قوموں نے کبھی کسی کی دوستی کا حق ادا نہیں کیا۔ ان کے وجود میں وفا کی خوشبو نہیں بلکہ مفاد کی بدبو بسی ہوتی ہے۔ یہی حال افغانستان اور اس کے حکمرانوں کا ہے، جو گزشتہ سات دہائیوں سے پاکستان کے ہاتھوں کا نمک کھا کر انہی ہاتھوں کو کاٹنے میں مصروف ہیں۔ پاکستان نے ان کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ اگر کسی اور قوم کے لیے دی جاتیں تو شاید وہ قوم نسلوں تک احسان مند رہتی۔ مگر افسوس، افغانستان نے پاکستان کو ہمیشہ دھوکے، زخم اور غداری کے سوا کچھ نہیں دیا۔

    سانپ کا استعارہ ،  افغانستان کی حقیقت

    افغانستان اور طالبان کی مثال اس سانپ کی ہے جو اپنے مالک کے ہاتھوں دودھ پیتا ہے، گرمیوں میں اس کے سایے میں سوتا ہے، اور سردیوں میں اس کے گھر کی دیواروں میں پناہ لیتا ہے۔ مگر جیسے ہی اسے موقع ملتا ہے، وہ اسی ہاتھ کو ڈس لیتا ہے جس نے اسے پالا تھا۔

    پاکستان نے ان چالیس برسوں میں نہ صرف افغانوں کے لیے اپنے وسائل نچوڑ دیے، بلکہ اپنی سیکیورٹی، اپنی معیشت اور اپنے نوجوانوں کی جانیں تک قربان کر دیں۔ ہزاروں پاکستانی فوجی اس جنگ میں شہید ہوئے جو دراصل افغانستان کی جنگ تھی۔ مگر جب حالات سنبھلنے لگے، تو یہی افغان طالبان پاکستان کے خلاف سرحد پار سے حملے کرنے لگے، اور اب وہ بھارت کے ساتھ کھلے عام سفارتی اور خفیہ تعلقات قائم کر چکے ہیں۔

    پاکستان کا قیام اور افغان دشمنی کی بنیاد

    1947 میں جب برصغیر کے مسلمانوں نے قربانیوں کے بے مثال سلسلے کے بعد پاکستان حاصل کیا تو دنیا کے تقریباً تمام ممالک نے اس نئی ریاست کو دل سے تسلیم کیا۔ مگر افغانستان وہ واحد ملک تھا جس نے اقوام متحدہ میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت کی۔ یعنی آزادی کے پہلے ہی دن اس ہمسایہ ملک نے یہ اعلان کر دیا کہ وہ دل سے پاکستان کے وجود کو قبول کرنے کو تیار نہیں۔ اس لمحے سے لے کر آج تک افغانستان کی ریاست اور اس کے حکمران طبقے نے ہر ممکن کوشش کی کہ پاکستان کو نقصان پہنچایا جائے،  کبھی سرحدی جھگڑوں کے نام پر، کبھی پشتونستان کے نعرے کے ذریعے، اور کبھی اپنے خطے کو بھارت کے لیے پاکستان دشمن اڈا بنانے کے بہانے۔

    افغانستان کے بادشاہ شاہ ظاہر شاہ کے دور میں بھی تعلقات میں کبھی گرمی نہیں دیکھی گئی۔ اگرچہ ظاہراً سفارتی تعلقات موجود رہے، لیکن اندرونِ خانہ کابل حکومت پاکستان کے وجود کو ایک ’’مصنوعی ریاست‘‘ کے طور پر پیش کرتی رہی۔ اس دور میں پشتونستان کا شوشہ چھوڑ کر افغان قیادت نے پاکستان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی روایت ڈال دی — ایک ایسی روایت جو آج طالبان کی شکل میں پھر زندہ ہو چکی ہے۔

    سویت یونین کا حملہ اور پاکستان کا بے مثال کردار

    1979 میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی تو دنیا میں پہلی بار اتنی بڑی تعداد میں کسی ملک کے عوام نے ہجرت کی۔ لاکھوں افغان مرد، عورتیں اور بچے سرحد عبور کر کے پاکستان

     آئے۔ ان کی تعداد چار سے پانچ ملین کے درمیان تھی۔پاکستان نے انہیں نہ صرف اپنے ملک میں پناہ دی بلکہ ان کے لیے اسکول، اسپتال، خوراک، رہائش اور روزگار کے مواقع فراہم کیے۔ کسی دوسرے ملک نے کبھی اتنی بڑی انسانی ذمہ داری اتنی دیر تک نہیں نبھائی۔

    یہ کوئی چند ماہ یا چند سال کا بوجھ نہیں تھا ،  بلکہ چار دہائیوں پر محیط ایک طویل آزمائش تھی۔ پاکستان نے ان افغان پناہ گزینوں کو اپنے دل اور گھر میں جگہ دی۔ مگر ان کا صلہ کیا ملا؟ کلاشنکوف کلچر، منشیات، دہشت گردی، اور معاشی تباہی۔

    صدر ضیاء الحق کے دور میں افغانستان سے آنے والے عناصر نے پاکستان کی سڑکوں پر کلاشنکوف کلچر پھیلایا۔ اسی کے ساتھ ساتھ ہیروئن کا کاروبار عام ہوا، جس نے ہماری نئی نسلوں کو تباہ کر کے رکھ دیا۔ جو قومیں کسی کے دکھ میں اپنے دروازے کھولتی ہیں، وہ کم از کم اخلاقی شکرگزاری کی مستحق ہوتی ہیں، مگر افغانوں نے اس کے برعکس زہر اگل دیا۔

    احسان کے بدلے غداری

    افغان پناہ گزینوں کی تیسری نسل اب پاکستان میں پلی بڑھ چکی ہے۔ ان میں سے ہزاروں نے قانونی یا غیر قانونی طریقے سے پاکستانی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ حاصل کیے۔ جب یہ بیرونِ ملک غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پائے جاتے ہیں، تو ان کے پاکستانی پاسپورٹ کے باعث بدنامی پاکستان کے حصے میں آتی ہے۔ یہ وہی قوم ہے جسے ہم نے اپنے ہی گھر میں مہمان سمجھ کر رکھا۔

    ان افغانوں نے پاکستان کے خیرخواہ ہونے کا کبھی ثبوت نہیں دیا۔ طالبان کی حکومت نے جس طرح سرحد پار سے پاکستان کے فوجیوں پر حملے کیے، ان کی شہادتوں کا سلسلہ طویل ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ ایک ایسے ملک کی طرف سے ہورہا ہے جسے پاکستان نے ہمیشہ برادر اسلامی ملک  کہا۔

    بھارت تو کھلا دشمن ہے ، وہ سامنے سے وار کرتا ہے، دشمنی کا اعلان کرتا ہے، لہٰذا اس سے نمٹنا آسان ہے۔ مگر افغانستان کی دشمنی زہریلے سانپ کی مانند ہے جو دودھ پی کر بھی ڈستا ہے۔ یہ وہی سانپ ہے جسے پاکستان نے دودھ پلا کر پروان چڑھایا، مگر اب وہی سانپ اپنے محسن کے خون کا پیاسا ہو چکا ہے۔

    بھارت کی شکست اور نیا  کھیل

    مئی 2025ء میں صرف چار دن کے اندر پاکستان کے ہاتھوں بھارت کی تاریخی اور عبرتناک شکست نے پورے خطے کی سیاسی فضا بدل کر رکھ دی۔ یہ شکست نہ صرف عسکری میدان میں بھارت کے لیے ایک زلزلہ ثابت ہوئی بلکہ عالمی سطح پر اس کی سفارتی ساکھ بھی شدید متاثر ہوئی۔ دنیا کے میڈیا نے بھارتی دفاعی نظام کی ناکامی کو بے نقاب کیا، جبکہ عالمی طاقتوں میں یہ بحث چھڑ گئی کہ جنوبی ایشیا میں طاقت کا توازن یکسر پاکستان کے حق میں جھک چکا ہے۔

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے مسلسل بیانات، جن میں انہوں نے بھارت کے جدید ترین جنگی طیاروں کے ایک کے بعد ایک مار گرائے جانے کا ذکر کیا، نئی دہلی کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ثابت ہوئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں کہا کہ پاکستان کی فضائی برتری نے دنیا کو حیران کر دیا ہے، اور بھارت کو اپنے دفاعی نظریے پر ازسرنو غور کرنا چاہیے۔یہ الفاظ بھارتی میڈیا کے لیے کسی دھماکے سے کم نہ تھے۔

    بھارت  اور طالبان کا گٹھ جوڑ  اور  نیا کھیل

    اپنی اس ذلت آمیز شکست کے بعد بھارت نے اپنے سیاسی و عسکری عزائم کو نئے رخ پر ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اب وہ پاکستان سے براہِ راست جنگ کا خطرہ مول لینے کے بجائے افغان طالبان کو ایک پراکسی فورس کے طور پر استعمال کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

    طالبان کے وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کا حالیہ دورۂ بھارت اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے قریبی ذرائع کے مطابق، اس دورے کے دوران طالبان کو مختلف اقتصادی مراعات اور مالی امداد کی پیشکش کی گئی تاکہ انہیں پاکستان مخالف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا سکے۔

    بھارت کے سابق نیشنل سیکیورٹی ایڈوائزر اجیت دوول نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں کھلے الفاظ میں کہا تھا کہ  افغان طالبان کو پیسوں کے ذریعے اپنے مفادات کے لیے استعمال کرنا ہمارے لیے مشکل نہیں۔یہ بیان بھارتی پالیسی کے خطرناک عزائم کی عکاسی کرتا ہے، جس کے تحت وہ دہشت گردی کے پرانے کھیل کو نئے انداز میں شروع کرنا چاہتا ہے۔

    پاکستان کی اقتصادی ترقی: بھارت کی اصل پریشانی

    درحقیقت بھارت کی اصل پریشانی پاکستان کی بڑھتی ہوئی اقتصادی قوت ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے عالمی مالیاتی اداروں کے اعتماد کو بحال کیا، چین کے ساتھ سی پیک کے منصوبے تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں، اور خلیجی ممالک کی سرمایہ کاری میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

    پاکستان، جو حالیہ عسکری فتوحات کے بعد ایک نئی خود اعتمادی کے ساتھ دنیا کے سامنے آیا ہے، بھارت کے لیے سیاسی اور دفاعی چیلنج بن چکا ہے۔ نئی دہلی کو یہ اندیشہ لاحق ہے کہ اگر پاکستان اقتصادی استحکام حاصل کر لیتا ہے تو وہ خطے میں اپنی سفارتی اور عسکری حیثیت کو ناقابلِ شکست سطح تک لے جائے گا ،  وہی بھارت جو خود کو ایشیا کی تیسری بڑی معیشت سمجھتا ہے، اس وقت اندرونی سیاسی خلفشار اور دفاعی ناکامیوں کا شکار ہے۔

    مزید برآں، پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان بڑھتی ہوئی قربت، اور چین کی غیر متزلزل حمایت نے بھارت کے علاقائی بالادستی  کے خواب کو خاک میں ملا دیا ہے۔ چین ہمیشہ پاکستان کے شانہ بشانہ رہا ہے، اور ہر مشکل گھڑی میں اس کا ساتھ دینے کی پالیسی پر قائم ہے۔

    ترکیہ کی مثال: خود انحصاری اور دہشت گردی کا خاتمہ

    پاکستان کے لیے اس وقت سب سے مؤثر مثال ترکیہ ہے۔ ستر اور اسی کی دہائی میں ترکیہ بھی دہشت گردی کے عفریت کا شکار تھا۔ مغربی قوتیں اور انٹیلی جنس نیٹ ورکس PKK جیسے  دہشت گردوں کی پشت پناہی کرتے تھے۔ مگر ترکیہ نے اپنی عسکری خود انحصاری پر توجہ دی، ڈرون ٹیکنالوجی میں مہارت حاصل کی، اور دہشت گردوں کے خلاف بھرپور جوابی کارروائیاں کیں۔

    ترک ڈرونز نے عراق اور شام  کے اندر گھس کر جہاں جہاں  دہشت گردوں کے ٹھکانے  تھے تباہ کردیے اور بالآخر نصف صدی بعد PKK کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دیا۔ ترکیہ کے اس ماڈل نے دنیا کو دکھا دیا کہ اگر ایک ملک اپنے دفاع میں خود کفیل ہو جائے تو کوئی بیرونی طاقت اسے غیر مستحکم نہیں کر سکتی۔

    اب پاکستان کو بھی یہی پالیسی اپنانی ہوگی۔ پاکستان کے پاس ترکیہ اور چین کے تعاون سے جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی موجود ہے، جو سرحد پار سے آنے والے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو افغانستان میں جہاں جہاں  موجود ہیں  کو  نشانہ بنانے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہے۔ اگر دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوتے ہیں تو ان کے مراکز کو وہیں نشانہ بنایا جانا چاہیے جہاں سے وہ سازشوں کا جال بنتے ہیں۔

    افغانستان کی احسان فراموشی: تاریخ کا تلخ باب

    دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ احسان فراموش قومیں ہمیشہ اپنے محسنوں کے خلاف اٹھ کھڑی ہوتی ہیں۔ پاکستان نے افغانستان کے لیے جو قربانیاں دیں، وہ تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی جانی چاہئیں۔ چار ملین افغان پناہ گزینوں کی میزبانی، انسانی ہمدردی، اور اسلامی بھائی چارے کا وہ مظہر تھی جس کی مثال نہیں ملتی۔ مگر افسوس، افغان قیادت نے پاکستان کے بدلے میں دوستی کے بجائے دشمنی کا راستہ اپنایا۔

    تحریکِ طالبانِ پاکستان (TTP) کی دہشت گرد کارروائیاں، جن میں درجنوں پاکستانی فوجی اور شہری شہید ہوئے، افغانستان کے اندر سے منظم ہوئیں۔ اس سال کے دوران پانچ سو سے زائد پاکستانی شہریوں نے دہشت گردی کی بھینٹ چڑھ کر قربانی دی ،  ان میں تین سو سے زیادہ فوجی شامل ہیں۔

    پاکستان کا موقف دوٹوک ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کو پناہ دے رہا ہے، جبکہ کابل انتظامیہ اس حقیقت سے انکار کرتی ہے۔ مگر زمینی حقائق کچھ اور کہتے ہیں ،  دہشت گردانہ حملوں کی اکثریت سرحد پار سے منظم ہو رہی ہے۔

    استنبول مذاکرات: امید اور مایوسی کی سرحد

    اکتوبر 2025ء میں ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے استنبول مذاکرات ایک اہم موقع تھے۔ پاکستان نے امن کو ایک اور موقع دینے کے لیے اپنے وفد کو مذاکرات میں رکھا، حالانکہ وفد کی واپسی طے تھی۔ یہ اقدام پاکستان کی سنجیدگی، صبر، اور خطے کے امن کے لیے قربانی دینے کے جذبے کی علامت تھا۔

    تاہم، مذاکرات کے دوران طالبان کے رویّے میں تضاد کھل کر سامنے آیا۔ استنبول میں طالبان وفد بظاہر پاکستانی مؤقف سے اتفاق کرتا نظر آتا، مگر جیسے ہی وہ کابل سے ٹیلیفونک رابطہ کرتے، بھارتی دباؤ کے باعث اپنے موقف سے پیچھے ہٹ جاتے۔ پاکستانی وفد نے جب محسوس کیا کہ مذاکرات کا یہ سلسلہ محض وقت کا زیاں ہے، تو اس نے ترک حکام کو مذاکرات کے خاتمے سے آگاہ کر دیا۔

    ترک وفد نے اس موقع پر کھلے الفاظ میں پاکستان کے موقف کی حمایت کی اور طالبان کو سختی سے متنبہ کیا کہ دہشت گردی کو روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس اقدامات کیے جائیں۔

    بھارتی اثر و رسوخ: پسِ پردہ ڈوریاں

    ذرائع کے مطابق، طالبان وفد کے پیچھے دراصل بھارت کی خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ تھے۔ مذاکرات کی میز پر طالبان بیٹھے تھے، مگر فیصلے نئی دہلی سے ہو رہے تھے۔ بھارت کا مقصد یہ تھا کہ مذاکرات کو غیر نتیجہ خیز رکھا جائے تاکہ پاکستان پر سفارتی دباؤ برقرار رہے اور دہشت گردی کے ذریعے اسے اندرونی طور پر کمزور کیا جا سکے۔

    یہی وجہ ہے کہ پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اب وہ کسی بھی صورت میں دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ اگر طالبان نے چھ نومبر  کو ہونے والے اگلے دورِ مذاکرات میں تحریری ضمانت نہ دی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہو گی، تو پاکستان ترکیہ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے افغانستان کے اندر دہشت گردوں کے اڈوں کو نشانہ بنانے کے لیے تیار ہے۔

    امن کے لیے فیصلہ کن مرحلہ

    پاکستان کے لیے یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ دہائیوں سے جاری دہشت گردی نے نہ صرف ہزاروں قیمتی جانیں نگل لی ہیں بلکہ قومی معیشت اور بین الاقوامی ساکھ کو بھی نقصان پہنچایا ہے۔ مگر اب حالات بدل رہے ہیں۔ پاکستان ایک نئی خود اعتمادی کے ساتھ آگے بڑھ رہا ہے، اس کے اتحادی مضبوط ہیں، اور اس کے دشمن بوکھلاہٹ کا شکار۔

    ترکیہ کی مثال سامنے ہے ، جس طرح اس نے دہشت گردی کا قلع قمع کر کے اپنے وطن کو محفوظ بنایا، پاکستان بھی اسی راستے پر گامزن ہے۔ بھارت کی سازشیں وقتی ہیں، مگر پاکستان کی عسکری قوت، عوامی عزم اور سفارتی مہارت پائیدار ہیں۔

    اگر طالبان نے ہوش کے ناخن نہ لیے اور بھارت کی ڈور سے بندھے رہے تو انہیں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ پاکستان اب ماضی کا وہ ملک نہیں جو خاموشی سے زخم سہتا رہے۔ اب وہ دہشت گردی کے خلاف اپنے دفاع کے حق کو بھرپور انداز میں استعمال کرنے کا عزم کر چکا ہے۔

    باکو میں صدر ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات

    ترکیہ نے دونوں ممالک کے درمیان اختلافات کو دور کرنے کے لیے غیر معمولی سفارتی کوششیں کیں۔لیکن استنبول  مذاکرات کے ناکامی پر منتج ہونے کے بعد باکو میں آذربائیجان کے یومِ فتح کی تقریب کے دوران صدر رجب طیب ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی ملاقات میں  اس معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال ہوا۔ ذرائع کے مطابق صدر ایردوان نے اس موقع پر زور دیا کہ اسلامی دنیا کے دو برادر ممالک کے درمیان اختلافات دشمن قوتوں کے لیے فائدہ مند ثابت ہو سکتے ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ ترکیہ کی سربراہی میں ایک نئے فریم ورک کے تحت مذاکرات بحال کیے جائیں۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس تجویز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہمیشہ سے ترکیہ کی ثالثی پر اعتماد کرتا آیا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات ایمان، اعتماد اور دوستی کی بنیاد پر استوار ہیں۔

    اعلیٰ سطحی ترک حکام جلد پاکستان کا دورہ کریں گے  

    صدر ایردوان کے مطابق جلد ہی وزیرِ خارجہ حقان فیدان ، وزیرِ دفاع   یشار گیولر اور انٹیلیجنس کے سربراہ ابراہیم قالن پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد پاکستان کا خصوصی دورہ کرے گا تاکہ اسلام آباد اور کابل کے درمیان اعتماد سازی کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا جا سکے۔ترکیہ کی مسلسل کوششوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف علاقائی امن بلکہ اسلامی اتحاد کے قیام کو بھی اپنی سفارت کاری کا بنیادی مقصد سمجھتا ہے۔ انقرہ کی خواہش ہے کہ پاکستان اور افغانستان کے تعلقات دوبارہ اس بھائی چارے کی فضا میں لوٹ آئیں جو ماضی میں دونوں ممالک کی پہچان تھی۔

    تجزیہ نگاروں کے مطابق، باکو ملاقات اور ترکیہ کے مصالحتی وفد کے متوقع دورۂ پاکستان سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ خطے میں سفارتی عمل ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہا ہے۔ ترکیہ، پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطوں کی بحالی سے نہ صرف امن عمل میں تیزی آ سکتی ہے بلکہ وسطی ایشیا سے جنوبی ایشیا تک ایک نیا اسلامی سفارتی محور بھی وجود میں آ سکتا ہے۔

    ترکیہ کی یہ کوششیں دراصل صدر ایردوان کے اُس وژن کی عکاس ہیں جو مسلم دنیا کے اتحاد، علاقائی امن، اور مشترکہ دفاعی و اقتصادی تعاون پر مبنی ہے۔

    اگرچہ استنبول مذاکرات فوری طور پر کامیاب نہ ہو سکے، لیکن انقرہ کی مستقل سفارتی کوششوں نے ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا ہے کہ ترکیہ محض ثالث نہیں بلکہ اسلامی دنیا کا قابلِ اعتماد امن سفیر ہے۔ صدر ایردوان اور وزیراعظم شہباز شریف کی باکو ملاقات نے نہ صرف ایک نئے سفارتی باب کا آغاز کیا ہے بلکہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان امن کی نئی امید بھی پیدا کر دی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleاستنبول میں پاکستان- افغانستان مذاکرات ناکامی پر منتج، پاکستان ، مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا مشکور
    Next Article ترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد ، لغو اور بدنیتی پر مبنی گمراہ کن دعووں کو یکسر مسترد کردیا
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر ایردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، ایک دوسرے کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد

    26مئی , 2026

    ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا

    25مئی , 2026

    انقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد

    12مئی , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    Vinci Spin – Quick‑Hit Slots per Giocatori Veloci

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    30Bet: Quick‑Hit Casino Action for High‑Intensity Gamblers

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    Vinci Spin – Quick‑Hit Slots per Giocatori Veloci

    14جون , 2026

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    14جون , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.