Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ترکیہ جس نے پاک -ترک تزویراتی شراکت داری کا نیا باب رقم کیا
    پاکستان

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ترکیہ جس نے پاک -ترک تزویراتی شراکت داری کا نیا باب رقم کیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید21جولائی , 2026Updated:21جولائی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
    فیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ ترکیہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    بین الاقوامی سیاست میں کچھ دورے محض سفارتی سرگرمی نہیں ہوتے بلکہ وہ مستقبل کی سمت متعین کرنے والے تاریخی سنگِ میل ثابت ہوتے ہیں۔ پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ سرکاری دورۂ ترکیہ بھی انہی اہم واقعات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب دنیا تیزی سے ایک نئے جغرافیائی و تزویراتی دور میں داخل ہو رہی ہے، طاقت کا عالمی توازن تبدیل ہو رہا ہے، دفاعی ٹیکنالوجی جنگوں کی نوعیت بدل رہی ہے اور علاقائی اتحاد پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی، سیاسی اور تزویراتی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے لیے بلکہ پورے خطے کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔

    پاکستان – ترکیہ

    پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی بنیاد وقتی مفادات پر نہیں بلکہ تاریخ، تہذیب، مذہبی و ثقافتی قربت اور باہمی اعتماد پر استوار ہے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی جانب سے تحریکِ خلافت کے دوران ترک عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی سے لے کر مسئلۂ کشمیر پر ترکیہ کی مستقل حمایت اور شمالی قبرص کے معاملے پر پاکستان کے دوٹوک مؤقف تک، دونوں ممالک نے ہر اہم موقع پر ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان تعلقات کو اکثر ‘دو ریاستیں، ایک دل’ کی عملی مثال قرار دیا جاتا ہے۔

    تاہم اکیسویں صدی میں پاکستان اور ترکیہ کی دوستی صرف تاریخی جذبات تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے ایک مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی شکل اختیار کر لی ہے۔ دفاعی صنعت، عسکری تربیت، جدید ٹیکنالوجی، انسدادِ دہشت گردی، بحری سلامتی، فضائی دفاع اور مشترکہ تحقیق جیسے شعبے اب اس تعلق کی نئی شناخت بن چکے ہیں۔ یہی پس منظر فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے حالیہ دورۂ ترکیہ کو غیر معمولی اہمیت عطا کرتا ہے۔

    انقرہ میں ترک مسلح افواج کے سربراہ جنرل سیلچوق بائراکتار اولو  کی جانب سے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا فوجی اعزاز کے ساتھ استقبال محض ایک پروٹوکول نہیں تھا بلکہ اس اعتماد کا عملی اظہار تھا جو دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان گزشتہ کئی دہائیوں میں قائم ہوا ہے۔ فوجی بینڈ کی جانب سے دونوں ممالک کے قومی ترانوں کی دھنیں، گارڈ آف آنر، چاق و چوبند دستے کا معائنہ اور اس کے بعد اعلیٰ سطحی مذاکرات اس بات کی علامت تھے کہ اسلام آباد اور انقرہ اپنے عسکری تعلقات کو ایک نئے مرحلے میں داخل کرنا چاہتے ہیں۔

    صدر ایردوان-فیلڈ مارشل عاصم منیر

    اس دورے کی سب سے اہم بات یہ تھی کہ دونوں ممالک نے دفاعی تعاون کو صرف ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود رکھنے کے بجائے مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی پیداوار اور طویل المدتی صنعتی شراکت داری کی سمت آگے بڑھانے کے عزم کا اظہار کیا۔ جدید دور میں یہی وہ ماڈل ہے جسے کامیاب دفاعی تعاون کی بنیاد سمجھا جاتا ہے۔

    آج عالمی دفاعی صنعت تیزی سے بدل رہی ہے۔ مصنوعی ذہانت، بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، خودکار جنگی پلیٹ فارم، سائبر دفاع، خلائی نگرانی اور نیٹ ورک سینٹرک جنگ مستقبل کے عسکری منظرنامے کا حصہ بن چکے ہیں۔ ایسے حالات میں صرف اسلحہ خریدنا کافی نہیں رہتا بلکہ دفاعی ٹیکنالوجی میں مہارت، مقامی پیداوار اور مشترکہ تحقیق ہی حقیقی طاقت کا معیار بنتی جا رہی ہے۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ پاکستان اور ترکیہ نے اسی حقیقت کو بروقت سمجھتے ہوئے اپنی شراکت داری کو اسی سمت استوار کیا ہے۔

    ترکیہ گزشتہ دو دہائیوں میں دفاعی صنعت کے میدان میں ایک غیر معمولی کامیابی کی داستان رقم کر چکا ہے۔ ایک وقت تھا جب ترکیہ اپنی دفاعی ضروریات کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا تھا، لیکن آج وہ دنیا کے نمایاں دفاعی برآمد کنندگان میں شمار ہوتا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، بحری جنگی جہاز، بکتر بند گاڑیاں، فضائی دفاعی نظام، جدید میزائل، الیکٹرانک وارفیئر اور مصنوعی ذہانت پر مبنی عسکری نظام اس پیش رفت کی نمایاں مثالیں ہیں۔

    اسی تناظر میں پاکستان کے لیے ترکیہ صرف ایک دوست ملک نہیں بلکہ ایک ایسا قابلِ اعتماد اسٹریٹجک شراکت دار ہے جس کے ساتھ مشترکہ ترقی کے بے شمار امکانات موجود ہیں۔ پاکستان کی دفاعی صنعت، انجینئرنگ صلاحیت اور تجربہ، جبکہ ترکیہ کی جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور صنعتی مہارت، ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دونوں ممالک کا تعاون محض خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلق سے کہیں آگے سے بڑھ کر مشترکہ تیاری، مشترکہ سرمایہ کاری اور مشترکہ برآمدات کی سمت گامزن ہے۔

    جنرل سیلچوق بائراکتار اولو- فیلڈ مارشل عاصم منیر

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے دورے کے دوران ہونے والی ملاقاتوں سے یہ واضح پیغام سامنے آیا کہ پاکستان اور ترکیہ مستقبل کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ایک ایسے دفاعی فریم ورک کی تشکیل چاہتے ہیں جو صرف موجودہ چیلنجز کا جواب نہ ہو بلکہ آئندہ کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کی دفاعی خودمختاری اور علاقائی استحکام کی ضمانت بھی بن سکے۔

    یہی وجہ ہے کہ اس دورے کو محض ایک رسمی عسکری ملاقات قرار دینا اس کی اہمیت کو کم کرنا ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ دورہ ایک ایسے جامع اسٹریٹجک وژن کی عکاسی کرتا ہے جس میں دفاع، معیشت، جدید ٹیکنالوجی، سفارت کاری اور علاقائی استحکام ایک دوسرے سے جڑے ہوئے عناصر ہیں۔ اس سوچ نے پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کو روایتی سفارت کاری سے نکال کر ایک ایسی جامع شراکت داری میں تبدیل کر دیا ہے جو مستقبل کے عالمی منظرنامے میں دونوں ممالک کی حیثیت کو مزید مستحکم کر سکتی ہے۔

    دفاعی صنعت میں شراکت داری: خریدار اور فروخت کنندہ کے تعلق سے آگے

    پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعلقات کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ یہ محض ہتھیاروں کی خرید و فروخت تک محدود نہیں رہے بلکہ مشترکہ تحقیق، ٹیکنالوجی کی منتقلی، دفاعی پیداوار اور صنعتی تعاون کی صورت اختیار کر چکے ہیں۔ جدید دنیا میں وہی ممالک دفاعی میدان میں دیرپا کامیابی حاصل کرتے ہیں جو اپنی ضروریات پوری کرنے کے ساتھ ساتھ مشترکہ پیداوار، مقامی صنعت اور اعلیٰ ٹیکنالوجی کی ترقی پر سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ بھی اسی سمت میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

    ترکیہ کی دفاعی صنعت گزشتہ دو دہائیوں میں غیر معمولی ترقی کر چکی ہے۔ ایک زمانہ تھا جب ترکیہ اپنی بیشتر عسکری ضروریات کے لیے بیرونی ممالک پر انحصار کرتا تھا، لیکن آج وہ بغیر پائلٹ کے فضائی نظام، جنگی بحری جہاز، بکتر بند گاڑیاں، میزائل، الیکٹرانک وارفیئر سسٹمز، مصنوعی ذہانت پر مبنی عسکری پلیٹ فارم اور جدید فضائی ٹیکنالوجی تیار کرنے والے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ اس کامیابی نے نہ صرف ترکیہ کو دفاعی خود انحصاری کی جانب گامزن کیا بلکہ اسے عالمی دفاعی برآمد کنندگان کی صف میں بھی نمایاں مقام دلایا۔

    پاکستان کے لیے ترکیہ کا یہ تجربہ غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے پاس دفاعی پیداوار کا ایک مضبوط بنیادی ڈھانچہ موجود ہے، جبکہ ترک صنعت جدید ٹیکنالوجی، تحقیق اور صنعتی اختراع میں نمایاں مقام رکھتی ہے۔ اگر دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کریں تو نہ صرف اپنی دفاعی ضروریات بہتر انداز میں پوری کر سکتے ہیں بلکہ عالمی دفاعی منڈی میں بھی ایک مضبوط مشترکہ حیثیت حاصل کر سکتے ہیں۔

    بائیراکتار، قزل ایلما اور مستقبل کی جنگی حکمت عملی

    پاکستان اور ترکیہ کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا سب سے نمایاں پہلو جدید بغیر پائلٹ کے فضائی نظام (Unmanned Combat Aerial Systems) ہیں۔ بائیراکتار TB2 نے لیبیا، نگورنو کاراباخ اور یوکرین سمیت مختلف تنازعات میں اپنی غیر معمولی صلاحیت کا مظاہرہ کیا اور دنیا کو یہ باور کرایا کہ مستقبل کی جنگوں میں ڈرون ٹیکنالوجی فیصلہ کن کردار ادا کرے گی۔

    اسی تسلسل میں قزل ایلما (KIZILELMA) ترکیہ کے دفاعی وژن کی اگلی منزل ہے۔ یہ بغیر پائلٹ کا جنگی طیارہ مصنوعی ذہانت، تیز رفتار پرواز، خودکار مشن پلاننگ اور جدید فضائی جنگی صلاحیتوں سے لیس ہے۔ اگر مستقبل میں پاکستان اور ترکیہ کے درمیان اس شعبے میں تحقیق، تربیت یا صنعتی تعاون مزید فروغ پاتا ہے تو یہ دونوں ممالک کی فضائی قوت کو ایک نئی جہت دے سکتا ہے۔

    اسی طرح آقنجی (AKINCI) جیسے جدید جنگی ڈرون، الیکٹرانک وارفیئر پلیٹ فارم اور مصنوعی ذہانت پر مبنی دفاعی نظام آنے والے برسوں میں دونوں ممالک کے عسکری تعاون کو مزید گہرا کر سکتے ہیں۔ بدلتی ہوئی جنگی حکمتِ عملی میں جہاں انسانی جانوں کے تحفظ اور تیز رفتار فیصلہ سازی کو اہمیت حاصل ہے، وہاں یہ ٹیکنالوجیز غیر معمولی اہمیت اختیار کر چکی ہیں۔

    ملجیم: سمندری تعاون کی مضبوط بنیاد

    پاکستان اور ترکیہ کے دفاعی تعاون کا ایک روشن باب ملجیم (MILGEM) منصوبہ بھی ہے۔ پاک بحریہ کے لیے جدید جنگی جہازوں کی تعمیر صرف ایک دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ بحری ٹیکنالوجی، انجینئرنگ مہارت، مقامی پیداوار اور صنعتی اشتراک کی علامت ہے۔

    ملجیم منصوبے نے یہ ثابت کیا کہ دونوں ممالک محض درآمد و برآمد کے تعلق سے آگے بڑھ کر مشترکہ دفاعی پیداوار کے ماڈل کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ اس منصوبے کے ذریعے پاکستانی انجینئروں اور دفاعی ماہرین کو جدید بحری ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے کا موقع ملا، جبکہ مستقبل میں مزید مشترکہ منصوبوں کی راہ بھی ہموار ہوئی۔

    بحیرۂ عرب، بحیرۂ روم اور بحرِ ہند میں بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صورتحال کے تناظر میں پاک بحریہ اور ترک بحریہ کے درمیان تعاون نہ صرف دونوں ممالک بلکہ خطے کے سمندری استحکام کے لیے بھی اہم ثابت ہو سکتا ہے۔

    تبدیل ہوتی ہوئی دنیا اور پاکستان۔ترکیہ شراکت داری

    آج دنیا تیزی سے ایک نئی عالمی ترتیب کی جانب بڑھ رہی ہے۔ بڑی طاقتوں کے درمیان مسابقت، توانائی کے نئے راستے، بحری گزرگاہوں کی اہمیت، مصنوعی ذہانت، سائبر سلامتی اور دفاعی خود انحصاری عالمی پالیسیوں کا محور بن چکے ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان اور ترکیہ کا ایک دوسرے کے قریب آنا محض دوطرفہ تعلقات کا معاملہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر اسٹریٹجک حقیقت ہے۔

    دونوں ممالک دہشت گردی کے خلاف جنگ، علاقائی امن، مسلم دنیا کے اہم مسائل اور بین الاقوامی فورمز پر اکثر یکساں مؤقف رکھتے ہیں۔ یہی ہم آہنگی ان کے تعلقات کو دیگر روایتی سفارتی روابط سے ممتاز بناتی ہے۔

    وزیر دفاع یشارگیولر، جنرل سیلچوق بائراکتار اولو- فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستان اپنی جغرافیائی اہمیت، پیشہ ور مسلح افواج اور دفاعی تجربے کی وجہ سے خطے کا ایک اہم ملک ہے، جبکہ ترکیہ یورپ، ایشیا اور مشرق وسطیٰ کے سنگم پر واقع ہونے کے باعث ایک منفرد اسٹریٹجک حیثیت رکھتا ہے۔ جب یہ دونوں ممالک اپنی صلاحیتوں کو یکجا کرتے ہیں تو اس کے اثرات صرف دوطرفہ تعلقات تک محدود نہیں رہتے بلکہ وسیع تر علاقائی استحکام پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورہ: مستقبل کا ایک واضح پیغام

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا دورۂ ترکیہ اس حقیقت کا اعلان ہے کہ پاکستان اور ترکیہ اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر چکے ہیں۔ یہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد، عسکری ہم آہنگی اور مستقبل کے مشترکہ وژن کا مظہر ہے۔

    ترک مسلح افواج کی جانب سے دیا جانے والا اعلیٰ عسکری اعزاز اس امر کی علامت ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کو ترکیہ میں غیر معمولی احترام کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ یہ اعزاز صرف ایک فرد کے لیے نہیں بلکہ پاکستان کی عسکری صلاحیت، پیشہ ورانہ معیار اور دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ اعتماد کا اعتراف بھی ہے۔

    اگر دونوں ممالک موجودہ رفتار سے دفاعی صنعت، مشترکہ تحقیق، مصنوعی ذہانت، سائبر سکیورٹی، فضائی و بحری ٹیکنالوجی اور دفاعی پیداوار میں تعاون کو وسعت دیتے رہے تو آنے والے برسوں میں پاکستان اور ترکیہ نہ صرف اپنی قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکیں گے بلکہ اسلامی دنیا میں دفاعی خود انحصاری کے ایک کامیاب ماڈل کے طور پر بھی سامنے آ سکتے ہیں۔

    تاریخ گواہ ہے کہ مضبوط تعلقات صرف معاہدوں سے نہیں بلکہ مشترکہ اعتماد، یکساں وژن اور عملی تعاون سے پروان چڑھتے ہیں۔ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات اسی حقیقت کی روشن مثال ہیں۔ دونوں ممالک نے ہر آزمائش میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے، اور آج وہ اپنے اس تاریخی رشتے کو جدید دفاعی تعاون، صنعتی اشتراک اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کی نئی بنیادوں پر استوار کر رہے ہیں۔

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ترکیہ اسی سفر کا ایک اہم سنگِ میل ہے۔ اس دورے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اسلام آباد اور انقرہ کے تعلقات محض روایتی سفارت کاری تک محدود نہیں رہے بلکہ وہ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری میں تبدیل ہو چکے ہیں، جس کے ستون باہمی اعتماد، مشترکہ دفاعی مفادات، جدید ٹیکنالوجی، مشترکہ پیداوار اور خطے میں امن و استحکام کے مشترکہ عزم پر قائم ہیں۔

    اگر دونوں برادر ممالک اسی جذبے، دوراندیشی اور عملی تعاون کے ساتھ آگے بڑھتے رہے تو بعید نہیں کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور ترکیہ نہ صرف اپنے قومی مفادات کا مؤثر تحفظ کریں گے بلکہ مسلم دنیا میں دفاعی تعاون، تکنیکی خود انحصاری اور اسٹریٹجک اشتراک کا ایک ایسا قابلِ تقلید نمونہ بھی پیش کریں گے جسے مستقبل کی تاریخ ایک کامیاب اور بصیرت افروز شراکت داری کے طور پر یاد رکھے گی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    20جولائی , 2026

    ڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا

    18جولائی , 2026

    دنیا سانس روک کرفٹ بال ورلڈ کپ2026 کی فائنل کی منتظر ، پہلی بار کئی تاریخی لمحات کا مظاہرہ متوقع

    18جولائی , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ترکیہ جس نے پاک -ترک تزویراتی شراکت داری کا نیا باب رقم کیا

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    ڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا

    دنیا سانس روک کرفٹ بال ورلڈ کپ2026 کی فائنل کی منتظر ، پہلی بار کئی تاریخی لمحات کا مظاہرہ متوقع

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا حالیہ دورۂ ترکیہ جس نے پاک -ترک تزویراتی شراکت داری کا نیا باب رقم کیا

    21جولائی , 2026

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    20جولائی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.