Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد ، لغو اور بدنیتی پر مبنی گمراہ کن دعووں کو یکسر مسترد کردیا
    ترکیہ

    ترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد ، لغو اور بدنیتی پر مبنی گمراہ کن دعووں کو یکسر مسترد کردیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید13نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    ترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد دعوے کو مسترد کردیا
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    بھارت میں دہشت گردی کے الزامات پر ترکیہ کی سرکاری وضاحت

    بھارت میں حالیہ دہشت گردانہ حملے کے بعد کچھ بھارتی میڈیا اداروں کی جانب سے ترکیہ کو اس واقعے میں ملوث قرار دینے والے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ان دعووں میں کہا گیا کہ ترکیہ بھارت میں دہشت گرد کارروائیوں سے منسلک ہے اور بعض دہشت گرد گروہوں کو لاجسٹک، سفارتی اور مالی معاونت فراہم کرتا ہے۔ تاہم، ترکیہ کی جانب سے ان تمام الزامات کو سختی کے ساتھ مسترد کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ یہ بے بنیاد دعوے دراصل دونوں ممالک کے باہمی تعلقات کو نقصان پہنچانے کی ایک بدنیتی پر مبنی گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں۔

    ترکیہ کے انسدادِ گمراہ کن اطلاعات مرکز (Dezenformasyonla Mücadele Merkezi – DMM) کی جانب سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ ترکیہ ہر قسم کی دہشت گردی کو، چاہے وہ کہیں اور کسی کے ذریعے بھی کی جائے، سختی کے ساتھ مسترد کرتا ہے اور بین الاقوامی برادری کے ساتھ قریبی تعاون کے ذریعے دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر قیادت کا کردار ادا کر رہا ہے۔ مرکز نے مزید کہا کہ ترکیہ اقوامِ متحدہ کی انسدادِ دہشت گردی عالمی حکمت عملی (UN Global Counter-Terrorism Strategy) میں فعال حصہ لیتا ہے اور نیٹو (NATO) کی انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

    ترکیہ نے بھارت کے بےبنیاد دعوے کو مسترد کردیا

    بیان میں کہا گیا کہ ترکیہ کے بھارت یا کسی دیگر ملک میں مبینہ طور پر انتہاپسندانہ سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعوے سراسر بے بنیاد اور گمراہ کن ہیں اور ان کے پیچھے کوئی ٹھوس یا قابلِ تصدیق شواہد موجود نہیں۔

    ترکیہ کے موقف کے مطابق، بھارت میں کچھ میڈیا اداروں کی طرف سے یہ رپورٹیں جان بوجھ کر شائع کی گئیں تاکہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں دراڑ ڈالنے اور عوامی سطح پر غلط فہمیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ مرکز نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ ان قسم کے دعووں پر یقین نہ کریں، کیونکہ یہ خبریں ترکیہ کے عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے مثبت اور تعمیری اقدامات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔

    بھارت میں ترکیہ کے خلاف الزامات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ترکیہ اور پاکستان کے تعلقات  کی مضبوط بنیادیں عالمی سطح پر زیرِ توجہ ہیں۔ ترکیہ اور بھارت کے درمیان سفارتی تعلقات میں موجود کشیدگی، علاقائی سیاست اور عالمی طاقتوں کی اسٹریٹجک مفادات نے ایسی افواہوں کو ہوا دی ہے۔ ترکیہ، جو کہ خطے میں دہشت گردی کے خلاف مستقل اور فعال کردار ادا کر رہا ہے، ان الزامات کی روشنی میں اپنی ساکھ کو محفوظ رکھنے کے لیے سخت موقف اختیار کر رہا ہے۔

    ترکیہ کی جانب سے جاری بیان میں نہ صرف الزامات کی تردید کی گئی بلکہ عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اس کے مسلسل اقدامات کو اجاگر کیا گیا۔ ترکیہ نے ہمیشہ کہا ہے کہ دہشت گردی کسی بھی ملک، کسی بھی وقت یا کسی بھی فریق کے ذریعے کی جائے، وہ اس کی سخت مخالفت کرتا ہے۔ اس موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ ترکیہ عالمی سطح پر امن اور سلامتی کے لیے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر اپنی شناخت برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    مزید یہ کہ ترکیہ نے انسدادِ دہشت گردی کے عالمی حکمت عملی میں حصہ لے کر نہ صرف اقوامِ متحدہ کے معیارات کو آگے بڑھایا ہے بلکہ نیٹو کی انسدادِ دہشت گردی پالیسیوں کی تشکیل میں بھی مؤثر کردار ادا کیا ہے۔ یہ اقدامات ظاہر کرتے ہیں کہ ترکیہ دہشت گردی کے عالمی نیٹ ورک کے خلاف تعاون میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے اور کسی بھی ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی کے لیے مضبوط سفارتی اور قانونی اقدامات کرتا ہے۔

    تعلقات پر ممکنہ اثرات

    بھارت میں ترکیہ پر لگائے گئے الزامات دراصل دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہیں۔ خطے میں بڑھتی ہوئی سیاسی اور سفارتی حساسیت کی روشنی میں ایسے الزامات عوام میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر بھی تنازع کو ہوا دینے کا سبب بن سکتے ہیں۔ تاہم، ترکیہ نے واضح کیا ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی افواہوں یا بے بنیاد دعووں کے اثر میں نہیں آئے گا اور عالمی سطح پر اپنے موقف کی وضاحت جاری رکھے گا۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق، ترکیہ کی یہ باضابطہ وضاحت ایک مثبت قدم ہے جو نہ صرف اس کے موقف کو واضح کرتی ہے بلکہ بھارت کے بعض میڈیا میں پھیلائی جانے والی غلط معلومات کے خلاف عوامی شعور بیدار کرنے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ترکیہ عالمی سطح پر اپنی ساکھ اور بین الاقوامی تعلقات کو مستحکم رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہا ہے۔

    عالمی تعاون اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات

    ترکیہ نے اپنی پالیسیوں کے ذریعے یہ واضح کیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف عالمی سطح پر تعاون اس کی اولین ترجیح ہے۔ اس نے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی حکمت عملی میں فعال کردار ادا کیا ہے بلکہ نیٹو میں بھی دہشت گردی کے خلاف اقدامات کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ ترکیہ کے اس موقف سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خطے اور دنیا میں امن و استحکام کے لیے ایک ذمہ دار ملک کے طور پر کام کر رہا ہے اور عالمی سطح پر دہشت گردی کے خطرات کو کم کرنے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہا ہے۔

    مزید یہ کہ ترکیہ نے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے دہشت گرد گروہوں کی مالی معاونت، لاجسٹک سپورٹ یا دیگر سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے دعووں کو قطعی طور پر مسترد کیا ہے۔ یہ موقف ترکیہ کی اس پالیسی کی تصدیق کرتا ہے کہ وہ عالمی امن اور استحکام کے لیے ہر ممکن تعاون کے لیے تیار ہے اور کسی بھی ملک میں افواہوں یا جھوٹے الزامات کی بنیاد پر تعلقات کو نقصان نہیں پہنچنے دے گا۔

    عوام سے اپیل

    ترکیہ کے انسدادِ گمراہ کن اطلاعات مرکز نے عوام سے خصوصی طور پر اپیل کی ہے کہ وہ بھارت میں پھیلائی جانے والی جھوٹی خبریں یا ترکیہ کے خلاف افواہوں پر یقین نہ کریں۔ مرکز نے واضح کیا کہ یہ دعوے دراصل ترکیہ کی عالمی سطح پر مثبت کردار کو کمزور کرنے اور خطے میں کشیدگی بڑھانے کے لیے استعمال کیے جا رہے ہیں۔ عوامی شعور بیدار رکھنا اور معلومات کی تصدیق کرنا اس وقت نہایت اہمیت کا حامل ہے تاکہ دونوں ممالک کے تعلقات پر غیر ضروری اثر نہ پڑے۔

    بھارت میں دہشت گرد حملے کے بعد ترکیہ پر لگائے گئے الزامات ایک گمراہ کن مہم کا حصہ ہیں، جس کا مقصد دونوں ممالک کے تعلقات کو کمزور کرنا ہے۔ ترکیہ کی جانب سے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرنا، عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف اس کے اقدامات کو اجاگر کرنا اور عوام سے اپیل کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ ترکیہ عالمی امن، سلامتی اور استحکام کے لیے ایک ذمہ دار اور فعال ملک کے طور پر اپنی ساکھ برقرار رکھنا چاہتا ہے۔

    یہ وضاحت نہ صرف ترکیہ کے موقف کو واضح کرتی ہے بلکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ بے بنیاد الزامات اور افواہوں کے باوجود ترکیہ بین الاقوامی تعلقات اور دہشت گردی کے خلاف اقدامات میں مسلسل سرگرم ہے۔ عوام اور عالمی برادری کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس نوعیت کے دعووں پر یقین نہ کریں اور ترکیہ کی جانب سے کیے جانے والے مثبت اقدامات کی حقیقت کو سمجھیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleبھارت کی مئی 2025 کی عبرتناک شکست کے بعد نئی سازشیں ، طالبان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا محاذ کھول دیا
    Next Article کیا ترکیہ نے بھارت کا اپاچی ہیلی کاپٹر حاصل کرنے کا خواب پاش پاش کردیا؟
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.