Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا
    ترکیہ

    صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید15جولائی , 2026Updated:15جولائی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔20 Mins Read
    ایردوان کا طیارہ جو بحفاظت استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر لینڈ کرنے میں کامیاب رہا ایردوان کا طیارہ جو بحفاظت استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر لینڈ کرنے میں کامیاب رہا
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    15 جولائی 2016ء کی رات ترکیہ   کی جدید تاریخ کی ایک ایسی رات تھی جس نے نہ صرف اس ملک کے سیاسی مستقبل بلکہ پورے خطے کی جغرافیائی اور تزویراتی سمت پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے۔ یہ محض ایک فوجی بغاوت نہیں تھی، نہ ہی اقتدار کی روایتی کشمکش کا کوئی معمولی واقعہ؛ بلکہ یہ ایک ایسے ریاستی نظام پر ہمہ جہت حملہ تھا جس کا مقصد منتخب حکومت کا خاتمہ، آئینی اداروں کو مفلوج کرنا، عوامی مینڈیٹ کو پامال کرنا اور ترکیہ  کو ایک مرتبہ پھر فوجی سرپرستی کے دور میں دھکیل دینا تھا۔ اگر اس رات کے چند فیصلے، چند منٹ اور چند افراد مختلف انداز میں ردِعمل دیتے تو آج ترکیہ  کی سیاسی تاریخ شاید بالکل مختلف ہوتی۔

    15 جولائی 2016ء

    دس برس بعد، جب اس رات سے متعلق نئے فوجی ریڈار ریکارڈز، عدالتی دستاویزات، سرکاری تحقیقات اور عینی شاہدین کے بیانات سامنے آ رہے ہیں، تو یہ حقیقت پہلے سے کہیں زیادہ واضح ہو چکی ہے کہ 15 جولائی کی ناکام بغاوت صرف زمینی محاذ پر نہیں بلکہ فضا میں بھی لڑی گئی۔ مرمرہ کی فضائی حدود میں گزرنے والے چند فیصلہ کن منٹ، صدر رجب طیب ایردوان کے خصوصی طیارے کی خفیہ نقل و حرکت، وفادار فوجی افسران کی فوری حکمت عملی، اور عوام کی بے مثال مزاحمت نے مل کر تاریخ کا رخ بدل دیا۔

    یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ کسی بھی فوجی بغاوت کا فیصلہ صرف ٹینک، جنگی طیارے یا اسلحہ نہیں کرتے؛ اصل فیصلہ ریاستی اداروں کی وفاداری، سیاسی قیادت کے حوصلے، ذرائع ابلاغ کی فعالیت اور عوام کے اعتماد سے ہوتا ہے۔ 15 جولائی کی رات ترکیہ  میں یہی چار عناصر ایک دوسرے سے اس انداز میں جڑ گئے کہ ایک منظم اور خطرناک سازش چند گھنٹوں کے اندر اپنی ہی پیچیدگیوں کا شکار ہو گئی۔

    15 جولائی 2016ء

    ترکیہ  کی تاریخ میں فوج کئی مرتبہ براہِ راست یا بالواسطہ سیاست میں مداخلت کر چکی تھی۔ 1960ء، 1971ء، 1980ء اور 1997ء کی مداخلتوں نے منتخب حکومتوں کو کمزور کیا اور فوج کو ایک ایسے ادارے کے طور پر پیش کیا جو خود کو ریاست کا آخری محافظ سمجھتا تھا۔ تاہم 2002ء کے بعد، جب جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی (AK Party) اقتدار میں آئی، تو سیاسی نظام میں بنیادی تبدیلیاں شروع ہوئیں۔ فوج کا سیاسی کردار محدود کیا گیا، سول بالادستی کو آئینی تقویت ملی، اور یورپی یونین کے اصلاحاتی تقاضوں کے تحت ریاستی اداروں کی تشکیلِ نو کا عمل شروع ہوا۔

    15 جولائی 2016ء

    لیکن اسی دوران ایک اور خاموش قوت ریاستی اداروں کے اندر اپنی جڑیں مضبوط کر رہی تھی۔ فتح اللہ گولن کی سربراہی میں قائم تنظیم، جسے ترکیہ  آج فتح اللہ دہشت گرد تنظیم (FETÖ) قرار دیتا ہے، برسوں سے فوج، عدلیہ، پولیس، تعلیم، بیوروکریسی اور انٹیلی جنس سمیت ریاست کے حساس اداروں میں منظم انداز میں نفوذ کر رہی تھی۔ ابتدا میں اس تنظیم کو ایک مذہبی و تعلیمی تحریک سمجھا جاتا رہا، لیکن بعد ازاں ترک ریاست کے مطابق اس نے ایک متوازی ریاستی ڈھانچہ تشکیل دیا، جس کا مقصد مناسب وقت آنے پر ریاستی اقتدار پر قبضہ کرنا تھا۔

    2013ء کے بعد حکومت اور اس تنظیم کے درمیان اختلافات کھل کر سامنے آئے۔ عدالتی تحقیقات، خفیہ ریکارڈنگز، پولیس کارروائیاں اور ریاستی اداروں کے اندر اختیارات کی کشمکش نے اس تصادم کو مزید گہرا کر دیا۔ حکومت نے ریاستی اداروں سے اس تنظیم کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے کے لیے بڑے پیمانے پر اقدامات شروع کیے، جبکہ دوسری جانب یہ اطلاعات بھی سامنے آنے لگیں کہ تنظیم کے خفیہ نیٹ ورک اپنی بقا کے لیے آخری اور فیصلہ کن اقدام کی تیاری کر رہے ہیں۔

    15 جولائی 2016ء

    بعد میں سامنے آنے والی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ اصل منصوبہ اگست 2016ء میں عملی جامہ پہنانے کا تھا۔ اس وقت اعلیٰ فوجی شوریٰ (YAŞ) کا اجلاس ہونا تھا، جہاں متعدد اعلیٰ فوجی افسران کی ریٹائرمنٹ اور نئی تقرریاں متوقع تھیں۔ بغاوت کے منصوبہ سازوں کو خدشہ تھا کہ اگر یہ اجلاس منعقد ہو گیا تو ان کے متعدد اہم ساتھی فوج سے نکال دیے جائیں گے اور ان کا پورا نیٹ ورک بے نقاب ہو جائے گا۔ چنانچہ انہوں نے اس سے پہلے ہی حکومت کا تختہ الٹنے کا فیصلہ کر لیا۔

    تاہم قسمت نے اس منصوبے کا رخ اس وقت بدل دیا جب 15 جولائی کی دوپہر تقریباً دو بجے استنبول آرمی ایوی ایشن اسکول سے تعلق رکھنے والے ایک جونیئر فوجی افسر نے ترکیہ  کی قومی انٹیلی جنس تنظیم (MIT) کو ایک نہایت اہم اطلاع دی۔ اس نے خبردار کیا کہ رات کے وقت متعدد فوجی ہیلی کاپٹر مخصوص اہداف پر کارروائی کے لیے تیار کیے جا رہے ہیں اور غیر معمولی فوجی سرگرمیاں جاری ہیں۔

    یہ اطلاع بظاہر ایک مختصر فون کال تھی، مگر حقیقت میں یہی وہ لمحہ تھا جس نے آنے والے کئی گھنٹوں کی سمت متعین کر دی۔

    اطلاع ملتےہی اس وقت کے MIT کے سربراہ حقان فیدان(موجودہ وزیر خارجہ ) نے فوری طور پر چیف آف جنرل اسٹاف جنرل خلوصی آقار سے رابطہ کیا اور بغیر کسی تاخیر کے مسلح افواج کے ہیڈکوارٹر پہنچ گئے۔ وہاں بری فوج کے کمانڈر جنرل صالح ذکی چولاق بھی موجود تھے۔ اعلیٰ فوجی قیادت نے فوری طور پر ابتدائی معلومات کا جائزہ لیا اور آرمی ایوی ایشن اسکول کی سرگرمیوں کی تحقیقات کے احکامات جاری کیے۔

    لیکن اسی مقام پر ایک ایسا واقعہ پیش آیا جس نے پوری بغاوت کے شیڈول کو بدل کر رکھ دیا۔

    بعد ازاں سامنے آنے والی عدالتی کارروائیوں سے معلوم ہوا کہ چیف آف جنرل اسٹاف کے دفتر میں تعینات بعض فوجی افسران (چیف آف جنرل اسٹاف کے اے ڈی سی  سمیت   )بھی بغاوت کے منصوبہ سازوں سے وابستہ تھے۔ جیسے ہی انہیں معلوم ہوا کہ MIT کے سربراہ غیر معمولی ہنگامی ملاقات کے لیے فوجی ہیڈکوارٹر پہنچ چکے ہیں، انہوں نے یہ اطلاع فوراً باغی گروہ تک پہنچا دی۔ اس انکشاف نے منصوبہ سازوں کو یہ احساس دلایا کہ ان کا راز فاش ہو چکا ہے اور اگر مزید انتظار کیا گیا تو گرفتاریوں کا سلسلہ شروع ہو سکتا ہے۔

    چنانچہ وہ منصوبہ جو رات تین بجے شروع ہونا تھا، اچانک کئی گھنٹے پہلے، یعنی رات تقریباً دس بجے شروع کرنے کا فیصلہ کر لیا گیا۔یہ فیصلہ بظاہر ان کے لیے فوری ضرورت تھا، لیکن بعد کے واقعات نے ثابت کیا کہ یہی جلد بازی ان کی سب سے بڑی حکمتِ عملی کی غلطی بن گئی۔

    15 جولائی 2016ء

    فوجی بغاوتوں کی کامیابی کا بنیادی اصول اچانک پن، مکمل ہم آہنگی، ریاستی اداروں پر فوری قبضہ اور سیاسی قیادت کی گرفتاری ہوتا ہے۔ مگر اس رات باغیوں کو نہ مکمل تیاری کا موقع ملا، نہ تمام یونٹ ان کے ساتھ شامل ہو سکے، نہ ہی ملک بھر میں یکساں کاروائی ممکن ہو سکی۔ کئی فوجی یونٹ آخری لمحے تک اس کاروائی سے لاعلم رہے، جبکہ متعدد اعلیٰ کمانڈروں نے واضح طور پر آئینی حکومت کا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا۔

    یہ وہ لمحہ تھا جب ترکیہ  کی تاریخ ایک ایسے دوراہے پر کھڑی تھی جہاں ایک طرف منظم سازش تھی اور دوسری جانب ابھی تک خاموش لیکن متحرک ہوتی ہوئی آئینی ریاست۔

    کسی کو اندازہ نہیں تھا کہ اگلے چند گھنٹوں میں استنبول کے پل بند ہوں گے، پارلیمنٹ پر بمباری ہوگی، جنگی طیارے دارالحکومت کی فضاؤں میں گرجیں گے، قومی نشریاتی ادارہ TRT باغیوں کے قبضے میں چلا جائے گا، اور صدر(اُس وقت وزیراعظم )  رجب طیب ایردوان مرمریس سے ایک ایسے سفر کا آغاز کریں گے جس کے دوران مرمرہ کی فضاؤں میں صرف چند منٹ ترکیہ  کی پوری تاریخ کا فیصلہ کرنے والے ہوں گے۔

    15جولائی 2016ء کی شام تک ترکیہ  بظاہر اپنی معمول کی زندگی گزار رہا تھا۔ استنبول کی شاہراہوں پر ٹریفک رواں تھا، انقرہ میں سرکاری سرگرمیاں جاری تھیں اور بحیرۂ ایجیئن کے ساحل پر واقع مارماریس میں صدر رجب طیب ایردوان مختصر تعطیلات گزار رہے تھے۔ کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ چند گھنٹوں بعد یہی ملک اپنی جدید تاریخ کے سب سے بڑے داخلی بحران سے دوچار ہونے والا ہے۔

    جیسے ہی باغی گروہ نے اپنا منصوبہ وقت سے پہلے نافذ کرنے کا فیصلہ کیا، واقعات نے غیر معمولی تیزی اختیار کر لی۔ رات تقریباً دس بجے استنبول میں باسفورس اور فاتح سلطان محمد پلوں پر اچانک فوجی گاڑیاں، ٹینک اور مسلح دستے نمودار ہوئے۔ یورپ اور ایشیا کو ملانے والے یہ دونوں پل ٹریفک کے لیے بند کر دیے گئے۔ ابتدا میں شہریوں نے اسے دہشت گردی کے خدشے کے پیش نظر معمول کی حفاظتی کاروائی سمجھا، لیکن چند ہی لمحوں میں صورت حال کی سنگینی واضح ہونے لگی۔

    یہ فوجی اقدام دراصل ایک نفسیاتی حکمتِ عملی بھی تھا۔ بغاوت کرنے والے چاہتے تھے کہ عوام اور ریاستی اداروں پر یہ تاثر قائم ہو جائے کہ فوج نے اقتدار سنبھال لیا ہے اور مزاحمت بے معنی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ بیشتر فوجی بغاوتوں میں یہی ابتدائی نفسیاتی برتری فیصلہ کن ثابت ہوتی ہے۔ مگر اس رات یہ منصوبہ اس لیے ناکام ہوا کہ باغی پورے ملک پر بیک وقت اپنی گرفت قائم نہ کر سکے۔

    دوسری طرف انقرہ میں بھی غیر معمولی نقل و حرکت شروع ہو چکی تھی۔ فوجی ہیلی کاپٹر نچلی پروازیں کر رہے تھے، جنگی طیارے دارالحکومت کی فضاؤں میں گرج رہے تھے، جبکہ اہم ریاستی اداروں کے گرد مسلح سرگرمیوں میں اضافہ ہو رہا تھا۔ اس کے باوجود حکومت کی جانب سے چند گھنٹوں تک مکمل خاموشی رہی۔ یہ خاموشی بعد میں بعض حلقوں کی تنقید کا باعث بھی بنی، تاہم ریاستی ذرائع کے مطابق اس دوران وفادار فوجی قیادت، انٹیلی جنس ادارے اور حکومت حالات کا جائزہ لینے اور جوابی حکمتِ عملی مرتب کرنے میں مصروف تھے۔

    صدر ایردوان کی اتاترک ہوائی اڈے آمد

    ادھر باغیوں نے اپنے منصوبے کے مطابق سب سے پہلے ریاست کے اعصابی مراکز کو مفلوج کرنے کی کوشش کی۔ انقرہ میں پولیس اسپیشل فورسز کے ہیڈکوارٹر کو شدید فضائی حملے کا نشانہ بنایا گیا، جہاں درجنوں اہلکار شہید ہوئے۔ قومی انٹیلی جنس تنظیم (MIT) کی عمارت پر بھی حملہ کیا گیا تاکہ اطلاعات اور رابطے کا نظام درہم برہم ہو جائے۔ اسی دوران چیف آف جنرل اسٹاف جنرل خلوصی آقار کو یرغمال بنا کر آقنجی ایئر بیس منتقل کر دیا گیا۔

    بعد میں سامنے آنے والی عدالتی شہادتوں کے مطابق باغیوں نے جنرل آقار پر دباؤ ڈالا کہ وہ بغاوت کی حمایت کا اعلان کریں، نئی فوجی حکومت کی قیادت سنبھالیں اور یہاں تک کہ امریکہ میں مقیم فتح اللہ گولن سے ٹیلی فون پر بات کریں۔ لیکن جنرل آقار نے آئینی حکومت سے وفاداری ترک کرنے سے صاف انکار کر دیا۔ یہ انکار محض ایک شخص کا فیصلہ نہیں تھا بلکہ اس نے ترک مسلح افواج کی اکثریت کا رخ بھی واضح کر دیا، کیونکہ اعلیٰ فوجی قیادت کی اکثریت باغیوں کے ساتھ شامل ہونے پر آمادہ نہ ہوئی۔

    اسی دوران باغیوں نے ایک اور علامتی قدم اٹھایا۔ انہوں نے ترکیہ  کے قومی نشریاتی ادارے TRTپر قبضہ کر کے ایک سرکاری نیوز ریڈر سے بندوق کے سائے میں مارشل لا کا اعلامیہ پڑھوایا۔ اس اعلان میں کہا گیا کہ اقتدار فوج نے سنبھال لیا ہے، ملک میں کرفیو نافذ ہے اور تمام ریاستی اختیارات فوجی کونسل کے پاس منتقل ہو چکے ہیں۔

    اگر یہ اعلان ماضی کی کسی فوجی بغاوت کی طرح واحد ذریعۂ اطلاعات ہوتا تو شاید اس کے نتائج مختلف ہوتے، لیکن 2016ء کا ترکیہ  1980ء کا ترکیہ  نہیں تھا۔ نجی ٹیلی ویژن چینلز، سوشل میڈیا، اسمارٹ فون اور انٹرنیٹ نے اطلاعات کی دنیا کو یکسر بدل دیا تھا۔ باغیوں نے ترک سیٹ (Türksat) کے سیٹلائٹ مرکز کو بھی نشانہ بنایا تاکہ نجی چینلز کی نشریات بند ہو جائیں، لیکن وہ اپنے اس مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے۔ یہی ناکامی بعد کے واقعات میں ایک فیصلہ کن عنصر ثابت ہوئی۔

    ادھر مارماریس میں صدر ایردوان تک بغاوت کی اطلاعات مسلسل پہنچ رہی تھیں۔ حفاظتی حکام نے انہیں محفوظ مقام یا بیرون ملک منتقل ہونے سمیت مختلف تجاویز دیں۔ بعد میں سابق وزیرِ توانائی برات البیراک نے بتایا کہ بعض حلقوں نے حتیٰ کہ قریبی یونانی جزائر منتقل ہونے کا مشورہ بھی دیا، لیکن صدر نے یہ تجویز فوراً مسترد کر دی۔

    یہ فیصلہ سیاسی اعتبار سے انتہائی اہم تھا۔ اگر کسی منتخب صدر کا پہلا ردعمل ملک چھوڑ دینا ہوتا تو اس سے ریاستی مشینری اور عوام دونوں کے حوصلے متاثر ہو سکتے تھے۔ ایردوان نے اس کے برعکس ملک کے اندر رہ کر مزاحمت کی قیادت کرنے کا فیصلہ کیا۔

    روانگی سے قبل انہوں نے دو رکعت نماز ادا کی، اہلِ خانہ سے دعاؤں کی درخواست کی اور “بسم اللہ” کہہ کر ہیلی کاپٹر میں سوار ہو گئے۔ ہیلی کاپٹر کو ہدایت دی گئی کہ روشنی بند رکھی جائے، نچلی پرواز اختیار کی جائے اور حتی الامکان ریڈار کی نظروں سے بچتے ہوئے دالامان ہوائی اڈے تک پہنچا جائے۔

    ادھر ترکیہ  کی تاریخ کا شاید سب سے مؤثر ٹیلی وژن لمحہ جنم لینے والا تھا۔

    حاندہ فرات CNN-TÜRK

    رات تقریباً گیارہ بج کر تئیس منٹ پر CNN Türk کی اینکر ہانده فرات اپنے موبائل فون کے ذریعے صدر ایردوان سے رابطہ قائم کرنے میں کامیاب ہوئیں۔ اسمارٹ فون کی اس مختصر اسکرین پر ظاہر ہونے والی تصویر چند ہی لمحوں میں پوری دنیا نے دیکھی۔ صدر ایردوان نے عوام سے اپیل کی کہ وہ گھروں سے نکلیں، ہوائی اڈوں، چوراہوں اور عوامی مقامات پر پہنچ کر آئینی حکومت کا دفاع کریں۔

    یہ شاید دنیا کی پہلی بڑی سیاسی اور عسکری کشمکش تھی جس میں ایک منتخب صدر نے روایتی سرکاری نشریات کے بجائے FaceTime کے ذریعے قوم سے خطاب کیا۔ بظاہر یہ ایک معمولی تکنیکی رابطہ تھا، لیکن حقیقت میں اسی لمحے بغاوت کا نفسیاتی توازن بدلنا شروع ہو گیا۔

    چند ہی منٹوں میں مساجد سے اذانیں اور صلاۃ وسلام کی صدائیں بلند ہونے لگیں۔ سوشل میڈیا پر پیغامات گردش کرنے لگے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے کارکن، عام شہری، نوجوان، خواتین اور بزرگ ہزاروں کی تعداد میں سڑکوں پر نکل آئے۔ حیران کن امر یہ تھا کہ حکومت کے سخت سیاسی مخالفین کی ایک بڑی تعداد نے بھی فوجی مداخلت کو مسترد کرتے ہوئے جمہوری نظام کی حمایت کا اعلان کیا۔

    یہی وہ لمحہ تھا جہاں 15 جولائی کی رات ایک فوجی بغاوت سے بڑھ کر عوامی مزاحمت کی داستان میں تبدیل ہو گئی۔

    ترکیہ کی تاریخ میں  پہلی بار استنبول کے ہوائی اڈوں، پلوں اور مرکزی شاہراہوں پر عوام اور باغی فوجیوں کا براہِ راست آمنا سامنا شروع ہو گیا۔ بعض مقامات پر شہری خالی ہاتھ ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہو گئے، کئی جگہ پولیس اور عوام نے مشترکہ کاروائی کرتے ہوئے باغیوں کو گرفتار کرنا شروع کر دیا، جبکہTRTکی عمارت پر بھی شہریوں نے دھاوا بول کر باغیوں کا قبضہ ختم کرا دیا اور چند گھنٹوں کے اندر قومی نشریات دوبارہ بحال ہو گئیں۔

    اسی دوران ترک پارلیمنٹ کا ہنگامی اجلاس جاری تھا۔ جنگی طیاروں نے قومی اسمبلی پر بمباری کی۔ یہ جدید ترک جمہوریت کی تاریخ کا پہلا موقع تھا جب عوام کے منتخب نمائندوں کے ایوان کو اپنے ہی ملک کے فوجی طیاروں نے نشانہ بنایا۔ دھماکوں سے عمارت لرز رہی تھی، لیکن ارکانِ پارلیمنٹ نے اجلاس جاری رکھا۔ یہ منظر بھی اس رات کی علامت بن گیا کہ ریاستی ادارے خوف کے سامنے جھکنے پر آمادہ نہیں تھے۔

    لیکن انہی لمحوں میں، جب پوری قوم کی نظریں زمین پر جاری کشمکش پر مرکوز تھیں، فضاؤں میں بھی ایک خاموش مگر نہایت خطرناک معرکہ جاری تھا، جس کی مکمل حقیقت دس برس بعد سامنے آئی۔

    15جولائی 2016ء کی رات جب استنبول، انقرہ اور ازمیر کی سڑکوں پر عوام اور باغی فوجیوں کے درمیان کشمکش جاری تھی، اسی وقت ترکیہ  کی فضاؤں میں بھی ایک ایسا خاموش معرکہ برپا تھا جس کی مکمل حقیقت برسوں بعد سامنے آئی۔ دس سال بعد بحال ہونے والے فوجی ریڈار ریکارڈز، عدالتی دستاویزات اور تکنیکی تحقیقات نے ثابت کیا کہ اس رات صرف زمینی محاذ ہی نہیں بلکہ فضائی محاذ پر بھی چند ایسے فیصلہ کن لمحات آئے جنہوں نے ترکیہ  کی تاریخ کا رخ بدل دیا۔

    صدر ایردوان کا ہیلی کاپٹر

    مارماریس سے دالامان پہنچنے کے بعد صدر رجب طیب ایردوان اپنے اہلِ خانہ اور اُس وقت کے وزیرِ توانائی برات البیراک کے ہمراہ خصوصی طیارے TC-ATA میں سوار ہوئے۔ اس وقت تک باغی عناصر کو معلوم ہو چکا تھا کہ صدر مارماریس سے روانہ ہو چکے ہیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ یا تو صدر کو فضا ہی میں روک لیا جائے، یا استنبول پہنچنے سے پہلے گرفتار کر لیا جائے، تاکہ بغاوت کو ایک ناقابلِ واپسی حقیقت میں تبدیل کیا جا سکے۔

    صدر ایردوان کے طیارے کا کوڈ THY8456تبدیل کردیا گیا

    لیکن اسی مرحلے پر ریاست کے وفادار اہلکاروں نے ایسی حکمتِ عملی اختیار کی جس کی اہمیت کا اندازہ دس برس بعد سامنے آنے والے ریڈار ریکارڈز سے ہوا۔ ایسکی شہر کے مشترکہ فضائی آپریشن مرکز میں موجود قومی افسران نے صدر کے خصوصی طیارے کو فوجی پرواز کے بجائے ایک معمول کی ترک ایئرلائن کی پرواز THY8456 کے طور پر ریڈار نظام میں ظاہر کر دیا۔ بظاہر یہ ایک تکنیکی تبدیلی تھی، مگر عملی طور پر یہی اقدام باغیوں کی فضائی نگرانی کو دھوکا دینے میں کامیاب رہا۔ باغی ایف-16 طیارے ایک سرکاری طیارے کی تلاش میں تھے، جبکہ ان کے سامنے ایک عام مسافر پرواز کا کوڈ ظاہر ہو رہا تھا۔

    اسی دوران استنبول کے اتاترک ہوائی اڈے کی صورتحال مکمل طور پر محفوظ نہیں تھی، اس لیے صدر کے طیارے کو مرمرہ کے اوپر تقریباً چالیس منٹ تک فضائی چکر لگانے پڑے۔ بعد میں بحال ہونے والے ریڈار نقشوں نے اس Holding Pattern کو واضح طور پر ثابت کیا۔ یہی وہ مرحلہ تھا جہاں ترکیہ  کی تقدیر محض چند منٹوں کے فاصلے پر کھڑی تھی۔

    عدالتی تحقیقات کے مطابق بالیکسیر کی نویں مین جیٹ بیس سے پرواز کرنے والے دو باغی ایف-16 جنگی طیارے، جن کے پائلٹ بعد ازاں عمر قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہوئے، مرمرہ کی فضائی حدود میں اسی مقصد سے داخل ہوئے تھے کہ صدر کے طیارے کو تلاش کیا جا سکے۔ ریڈار ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ان میں سے ایک طیارہ استنبول کی سمت بڑھا، لیکن متوقع ہدف تک پہنچنے سے پہلے اچانک جنوب کی طرف مڑ گیا۔

    بعد میں فضائی ماہرین نے اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس جنگی طیارے کا ایندھن خطرناک حد تک کم ہو چکا تھا اور پائلٹ کو فضائی ایندھن حاصل کرنے کے لیے راستہ تبدیل کرنا پڑا۔ یہی وہ چند منٹ تھے جنہیں آج ترکیہ  کے عسکری ماہرین “مرمرہ کے فیصلہ کن پانچ منٹ“ قرار دیتے ہیں۔ اگر باغی ایف-16 چند منٹ پہلے اپنے ہدف تک پہنچ جاتا، یا اسے ایندھن حاصل کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی، تو ممکن ہے اس رات کی داستان مختلف ہوتی۔ لیکن تاریخ امکانات سے نہیں، واقعات سے لکھی جاتی ہے، اور واقعہ یہی ہے کہ انہی لمحوں میں صدر کا طیارہ بحفاظت اتاترک ہوائی اڈے پر اتر گیا۔

    صدر ایردوان کی استنبول آمد نے بغاوت کے نفسیاتی توازن کو مکمل طور پر بدل دیا۔ باغیوں کی پوری حکمتِ عملی اس مفروضے پر قائم تھی کہ سیاسی قیادت یا تو گرفتار ہو جائے گی یا ملک چھوڑ دے گی۔ لیکن جب پوری دنیا نے ٹیلی ویژن اسکرینوں پر صدر کو استنبول ہوائی اڈے پر ہزاروں شہریوں کے درمیان کھڑا دیکھا، تو یہ منظر بذاتِ خود بغاوت کی ناکامی کا اعلان بن گیا۔

    ادھر زمینی محاذ پر بھی حالات تیزی سے بدل رہے تھے۔ عوام، پولیس اور آئینی حکومت کے وفادار فوجی دستے ایک ایک کر کے اہم تنصیبات کا کنٹرول واپس لینے لگے۔ TRT کی نشریات بحال ہو گئیں، پل دوبارہ کھل گئے، صدارتی محل پر حملہ ناکام بنا دیا گیا، جبکہ اسپیشل فورسز نے آقنجی ایئر بیس پر کاروائی کرتے ہوئے چیف آف جنرل اسٹاف جنرل خلوصی آقار کو بازیاب کرا لیا۔ دوپہر تک وزیراعظم بن علی یلدرم اور جنرل آقار نے مشترکہ طور پر اعلان کر دیا کہ بغاوت کو مکمل طور پر کچل دیا گیا ہے۔

    یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ آخر ایسی منصوبہ بند بغاوت چند گھنٹوں میں کیوں ناکام ہو گئی؟

    اس کا پہلا سبب یہ تھا کہ بغاوت قبل از وقت شروع کرنا پڑی، جس سے باغیوں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا نہ ہو سکی۔

    دوسرا، ترک مسلح افواج کی اکثریت نے آئینی حکومت کا ساتھ دیا اور فوج بطور ادارہ تقسیم نہیں ہوئی۔

    تیسرا، قومی انٹیلی جنس تنظیم (MIT) کی بروقت اطلاع نے ریاستی قیادت کو مکمل طور پر بے خبر نہیں رہنے دیا۔

    چوتھا، نجی میڈیا اور سوشل میڈیا کو مکمل طور پر بند نہ کیا جا سکا، جس کے باعث اطلاعات کا بہاؤ جاری رہا اور صدر ایردوان عوام تک اپنا پیغام پہنچانے میں کامیاب ہوئے۔

    پانچواں، تمام بڑی سیاسی جماعتوں نے نظریاتی اختلافات کے باوجود فوجی اقتدار کو مسترد کر دیا۔ یہ ترکیہ  کی جمہوری تاریخ کا ایک اہم موڑ تھا۔

    چھٹا، لاکھوں شہریوں کا سڑکوں پر نکل آنا وہ عنصر ثابت ہوا جس کا اندازہ باغیوں نے نہیں لگایا تھا۔ ٹینکوں اور جنگی طیاروں کے سامنے غیر مسلح عوام کی مزاحمت نے بغاوت کا نفسیاتی ڈھانچہ توڑ دیا۔

    اور ساتواں، فضائی محاذ پر قومی اہلکاروں کی بروقت حکمتِ عملی، صدر کے طیارے کی شناخت کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ، اور مرمرہ کی فضاؤں میں پیش آنے والے چند فیصلہ کن منٹ، جنہوں نے بغاوت کے سب سے اہم ہدف کو ناکام بنا دیا۔

    دس برس بعد جب اس واقعے کو دیکھا جاتا ہے تو محسوس ہوتا ہے کہ 15 جولائی صرف ایک ناکام فوجی بغاوت کا نام نہیں۔ یہ جدید ترکیہ  کی سیاسی تشکیلِ نو کا نقطۂ آغاز بھی تھا۔ اس کے بعد ترکیہ  نے فوج کے اندر اصلاحات، انٹیلی جنس نظام کی ازسرِ نو تنظیم، دفاعی صنعت میں خود انحصاری، ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاع، سائبر سلامتی اور قومی سلامتی کے ڈھانچے میں غیر معمولی تبدیلیاں کیں۔ بائیراکتار ٹی بی-2 سے لے کر آقنجی، قزل ایلما، قاآن  اور دیگر قومی دفاعی منصوبوں تک، ترکیہ  نے یہ واضح پیغام دیا کہ قومی سلامتی صرف فوجی طاقت سے نہیں بلکہ مضبوط سیاسی اداروں، ٹیکنالوجی اور عوامی اعتماد سے بھی وابستہ ہے۔

    اس واقعے نے ایک اور حقیقت بھی آشکار کی کہ جمہوریت صرف آئینی دستاویزات کا نام نہیں، بلکہ عوام اور ریاست کے درمیان ایک ایسے عہد کا نام ہے جس کی حفاظت کے لیے کبھی کبھی عام شہریوں کو بھی غیر معمولی قربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ 15 جولائی کی رات ٹینکوں کے سامنے کھڑے ہونے والے وہ عام لوگ، جن کے ہاتھوں میں ہتھیار نہیں بلکہ قومی پرچم تھے، جدید ترکیہ  کی جمہوری تاریخ کا ہمیشہ کے لیے حصہ بن گئے۔

    دس برس گزرنے کے باوجود 15 جولائی 2016ء کی رات ترکیہ  کے قومی حافظے میں صرف ایک تاریخی واقعہ نہیں بلکہ ایک مسلسل یاد دہانی کے طور پر زندہ ہے۔ یہ یاد دہانی اس بات کی ہے کہ ریاستیں صرف فوجی قوت سے محفوظ نہیں ہوتیں، بلکہ ان کی اصل طاقت عوام کے اعتماد، آئین کی بالادستی، آزاد اداروں اور قومی یکجہتی میں پوشیدہ ہوتی ہے۔

    15 جولائی 2016 ناکام بغاوت

    مرمرہ کی فضاؤں میں گزرنے والے وہ فیصلہ کن چند منٹ، استنبول کی شاہراہوں پر ٹینکوں کے سامنے کھڑے عام شہری، پارلیمنٹ کی بمباری کے باوجود اجلاس جاری رکھنے والے منتخب نمائندے، جان کی بازی لگا کر آئینی حکومت کا دفاع کرنے والے پولیس اہلکار، اور اپنے حلف سے وفادار رہنے والے فوجی افسران، سب مل کر اس رات کی ایک ایسی تصویر تشکیل دیتے ہیں جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی رہے گی کہ جمہوریت کی حفاظت صرف حکومتوں کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ ذمہ داری ہوتی ہے۔

    15جولائی کی ناکام بغاوت نے ترکیہ  کو ایک گہرا زخم ضرور دیا، لیکن اسی آزمائش نے اس ملک کو ایک نئی سیاسی خود اعتمادی، مضبوط ریاستی اداروں اور قومی یکجہتی کی نئی قوت بھی عطا کی۔ اسی لیے یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ 15جولائی 2016ء کی رات صرف ایک بغاوت کی ناکامی کی تاریخ نہیں، بلکہ عوامی عزم، آئینی وفاداری اور قومی خودمختاری کی ایسی فتح کی تاریخ ہے جس نے جدید ترکیہ  کی سمت ہمیشہ کے لیے متعین کر دی۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleشوشا گلوبل میڈیا فورم میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت، ذمہ دار صحافت اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز زیرِ بحث
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    شوشا گلوبل میڈیا فورم میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت، ذمہ دار صحافت اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز زیرِ بحث

    15جولائی , 2026

    ڈی ایٹ سیکریٹریٹ کے زیر اہتمام زیرو ویسٹ مستقبل کے لیے پہلی ورچوئل نمائش کا افتتاح

    5جون , 2026

    بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہونے پر ڈی -ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تہنیتی پیغام

    5جون , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا

    شوشا گلوبل میڈیا فورم میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت، ذمہ دار صحافت اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز زیرِ بحث

    ڈی ایٹ سیکریٹریٹ کے زیر اہتمام زیرو ویسٹ مستقبل کے لیے پہلی ورچوئل نمائش کا افتتاح

    بنگلہ دیش کے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر خلیل الرحمٰن اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے صدر منتخب ہونے پر ڈی -ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے تہنیتی پیغام

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا

    15جولائی , 2026

    شوشا گلوبل میڈیا فورم میں 50 سے زائد ممالک کی شرکت، ذمہ دار صحافت اور مصنوعی ذہانت کے چیلنجز زیرِ بحث

    15جولائی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.