Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»کالم اور مضامین»ترکیہ میں صدی کی آفت کی تباہ کاریاں ، پاکستان امداد میں پیش پیش، انسانیت، یکجہتی، تعاون اور معجزات ایک ساتھ انتخابات سے قبل صدی کی یہ آفت، کیا صدر ایردوان کے لیے امتحان ثابت ہوگی؟
    کالم اور مضامین

    ترکیہ میں صدی کی آفت کی تباہ کاریاں ، پاکستان امداد میں پیش پیش، انسانیت، یکجہتی، تعاون اور معجزات ایک ساتھ

    انتخابات سے قبل صدی کی یہ آفت، کیا صدر ایردوان کے لیے امتحان ثابت ہوگی؟

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید15فروری , 2023Updated:15فروری , 20232 تبصرے7 Mins Read
    پاکستان اور ترکیہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email
    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

     

     

     

     

     

    6 فروری کو ترکیہ کے دس صوبوں (شہروں اور گردوں نواح  کے علاقوں  پر مبنی صوبے )    میں پہلے  صبح چار بجکر  17 منٹ پر اور پھر  دوپہر  ایک بج کر 24 منٹ پراوپر تلے   آنے والے دو زلزلوں نے   ترکیہ میں قیامتِ صغریٰ  برپا کردی   اور ان زلزلوں کو ” صدی کی آفت” قرار دے دیا گیا ہے۔ ان دونوں زلزلوں کے بعد بھی  مسلسل آفٹر شاکس  کا سلسلہ آج   بھی  جاری ہے۔ دوپہر تک  ترکیہ میں ہونے والی تباہی سے متعلق  صورتِ حال غیر واضح رہی لیکن   شام کو ترکیہ کے تمام ٹیلی ویژن چینلز  کی   براہ راست   نشریات  نے اس تباہی کے منظر کوسب کے سامنے لاکھڑا کیاجسے دیکھتے ہوئے پورا ترکیہ  سکتے میں آگیا  ۔ ترکیہ میں اس سے قبل  1939 میں  ارضنجان  میں اتنی شدت  کا زلزلہ آیا تھا  لیکن اس بار اتنی ہی شدت کےاوپر تلے دو زلزلوں  اتنے بڑے پیمانے پر ترکیہ میں  تباہی مچائی ہے جس کی تاریخ میں کوئی  مثال نہیں ملتی۔ تادم تحریر اس زلزلے کے نتیجے میں 30 ہزار سے زاہد افراد  ( صرف ترکیہ میں ) جان بحق ہوچکے اور مزید ہلاکتوں  کا خدشہ  ظاہر کیا جا ررہا ہے  ۔اس زلزلے میں  81 ہزار افراد زخمی  ہوئے ہیں جبکہ  دس صوبوں کی  عمارتوں کو  نہ صرف نقصان پہنچا ہے بلکہ  ان شہروں کو تین چو تھائی عمارتیں  ملبے کا ڈھیڑ بن چکی ہیں۔ اسی وجہ سے  ترکیہ کے صدر رجب  طیب ایردوان نے اپنے خطاب میں  اسے  تاریخ کا ایک المناک ترین  سانحہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ  دنیا میں ایسی مثالیں کم ہی   ملتی ہیں جہاں ایک ہی  دن میں دو ہولناک ترین زلزلوں نے  اتنے بڑے پیمانے  تباہی مچائی ہو۔ترکیہ  اور شام کے ان علاقوں میں  گذشتہ  ایک صدی سے اتنا  شدید زلزلہ نہیں آیا  بلکہ استنبول اور گردو نواح  کے علاقوں میں  سات اور آٹھ کی شدت کے زلزلے آنے کے بارے میں  ماہرین    کئی بار متنبہ  بھی  کرچکے ہیں   

    ترکیہ میں زلزلہ

    ترکیہ کے ان دس صوبوں میں ترکیہ اور غیر ممالک کی ریسکیو ٹیمیں جن میں پاکستان کی ریسکیو ٹیمیں پیش پیش ہیں  بڑے پیمانے   پر امدادی کاروائیاں جاری رکھےہوئے ہیں ۔ ریسکیو ٹیمیں  بڑی تندہی سے صبح شام جدید ٹیکنولوجی، ڈرانز، تھرمل کیمرہ اور تربیت یافتہ  کتوں کی مدد سے انسانوں کو ملبے تلے سے بچانے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔

    سفارتخانہ پاکستان کی امدادی کاروائیاں

    6 فروری  کو آنے والے   زلزلےکے بعد سے تادم تحریر    بڑی تعداد میں معجزے بھی رونما ہو رہے ہیں۔ 172   گھنٹے گزرنے کےحطائے سے 42 سالہ حبیب کو  اور اس سے قبل  دیگر علاقوں سے  45 سالہ جینگیز  پولات ، 50 سالہ، گیولر آرتمیش اور اس سے قبل بھی  20 کے قریب افراد کو زلزلے کے چھٹے اور ساتویں روز   زندہ بچالیا گیا ہے۔ترکیہ اور غیر ممالک کی ریسکیو ٹیموں نے جدید ٹیکنولوجی، ڈرانز، سیسیمک آلات  کو استعمال  کرتے ہوئےملبے تلے دبے ہوئے  انسانوں کی نشان دہی  کرتے  ہیں اور پھر اس کے بعد ہی متعلقہ جگہ  پر ملبے تلے سے انسان کو بچانے کی کاروائی کا آغاز کردیا جاتا ہے۔ جیسے ہی کسی انسان کو زندہ نکالا جاتا ہے ۔ اس وقت علاقے میں جمع تمام افراد نہ ریسکیو ٹیم والوں سے  خوشی کے  آنسووں  کے ساتھ  بغیر گیر ہوتے ہوئےنہ صرف  شکر گزار ہوتے ہیں بلکہ  نعرہ تکبیر  لگاتے ہوئے ( جو ایردوان دور سے قبل کھلے عام نعرہ تکبیر لگانا  ممنوع تھا ) ایک ایسی فضا قائم کردیتے ہیں جس سے متاثر نہ ہونا ممکن ہی نہیں۔ ۔  

    پاکستان-ترکیہ کے شانہ بشانہ

    اسی طرح پاکستان آرمی کی ٹیم   جو  ادیامان  میں  120 گھنٹوں سے ریسکیو آپریشن میں مسلسل مصروف عمل ہے نے  138 گھنٹے کے بعد ملبے سے 14 سالہ لڑکے کو زندہ بچایا، عالمی میڈیا بھی ترکیہ میں پاکستان آرمی کی سرچ اینڈ ریسکیو ٹیم کا معترف نظر آرہا ہے۔ پاکستان  کی الخدمت  ریسکیو ٹیم سے لے کر کئی   اور این جی اوز بھی اپنے تئیں  اپنے برادر ملک ترکیہ کی اس مشکل گھڑی میں   انسانوں کی مدد کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہیں ۔ یہاں پر میں اپنے قارئین کو یہ بھی بتاتا چلوں کہ پاکستان  اپنی خراب  معاشی  حالت کے باوجود  اپنے برادر ملک ترکیہ کی قطر کے بعد  سب سے زیادہ  مدد کرنے والا دوسرا بڑا ملک بن گیا ہے   جبکہ کویت سعودی عرب اور یورپی یونین کا نمبر اس کے بعد آتا ہے، یہ ہوتی ہے  محبت ، اسے کہتے ہیں بھائی چارہ، یک جان دو قالب ، دو ممالک  ایک قوم  کے الفاظ اسی لیے ان دونوں ممالک کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

    یہی وجہ ہےوزیرعظم پاکستان شہباز شریف  نے ترکیہ میں آنے والے زلزلوں کو “صدی کا سب سے بڑا زلزلہ” قرار دیا۔وزیراعظم  شہباز شریف نے  فوری طور پر وزیر خارجہ بلاوال بھٹو کے ہمراہ  ترکیہ کے ساتھ اظہار یکجتی کرنے کی غرض سےترکیہ کے دورے کا پروگرام فائنل بھی کرلیا تھا لیکن ناگزیر   وجوہات کی بنا  پر    آخری وقت میں ان کو اپنا  دورہ ملتوی کرنا پڑا  جبکہ آذربائیجان  کے  وزیر خارجہ، یونان کے وزیر خارجہ  اور اب قطر کے امیر ترکیہ کے دورے پر آچکے ہیں  تو اب کسی وقت  پھر وزیراعظم کے دورےہ ترکیہ کی توقع کی جاسکتی ہے تاہم انہوں  اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ “ترکیہ اور پاکستان دو ممالک ایک قوم ہیں”  اور پاکستان ترکیہ کی اس مشکل گھڑی میں  اپنے  ترک بھائیوں کےشانہ بشانہ کھڑا   ہے  اور اسے ہر ممکنہ امداد فراہم کرتا رہے گا۔  انہوں نے ترکیہ  کے لیے جاری ریسکیو اور ریلیف کی کوششوں کو ملک گیر  سطح پر ایک مہم میں تبدیل کرنے کے فیصلے سے بھی  آگاہ کیا۔ انہوں نے تمام صوبوں  کے وزرائے اعلیٰ  کو  ترکیہ میں زلزلہ متاثرین کے لیے شروع کی گئی قومی امدادی مہم  میں حصہ لینے اور  تعلیمی اداروں میں عطیات جمع کرنے کی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے ۔

    پاکستان ریسکیو ٹیمیں

    اس  دوران سفیرِ پاکستان یوسف  جنید   اور سفارتخانہ پاکستان کے تمام افسران اور سٹاف نے بھی انقرہ اور استنبول میں امدادی پیکیجز  خود اپنے ہاتھوں سے پہنچانے  کی مہم کو جاری رکھتے ہوئے  ترکوں کو دل جیتنے اور  ان کے ساتھ تعزیت  کرنے کا بھی کئی روز سے مسلسل سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

    اس  زلزلے کے دوران جس چیز نے مجھے متاثر کیا ہے وہ ترکوں میں  انسانیت اور تعاون کا جذبہ ہے۔ ایک دوسرے سے تعاون کرنے  اور مدد گار ہونے کے لیے  ترک آپس میں ایک دوسرے سے ریس لگائے ہوئے ہیں  حکومت کی جانب سے جیسے ہی  خون کا عطیہ دینے کی اپیل کی گئی  لوگوں نے جوق در جوق ترک قزلائی (ترک ہلالِ احمر ) کا رخ اختیار کیا اور اتنی بڑی مقدار میں خون  کا عطیہ دیا ہے کہ حکومت کو مزید خون  کی ضرورت محسوس نہ ہونے کا اعلان کرنا پڑا ہے۔ علاوہ ازیں حکومت کی جانب سے ریسکیو  میں مہارت رکھنے  والے افراد کی ضرورت محسوس ہونے  اور ان ایکسپرٹس  کو  متعلقہ علاقوں میں حکومت  کی جانب سے  پہنچانے کے اعلان کے بعد انقرہ، ازمیر اور استنبول کے ہوائی اڈوں پر رش دیکھنے والا  تھا جو   زلزلے سے متاثرہ علاقوں میں پہنچنے میں بے تاب تھے۔    

    امدادی کاروائیاں

    ترکیہ میں زلزلے سے تباہی ایک ایسے موقع پر ہوئی ہے جب صدر رجب طیب ایردوان جو اپنے دو دہائیوں پر مشتمل اقتدار کے دوران 14 مئی کو  مشکل ترین انتخابات لڑنےوالے ہیں۔اب یہ  انتخابات  صدر ایردوان کے لیے ایک بہت بڑے  امتحان کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں۔ اگرچہ زلزلے  کے پہلے ایک دو روز  حکومت کی جانب سے امدادی کاموں  میں کوتاہی ہونے کا اعتراف کیا گیا ہے۔  لیکن صدر ایردوان نے متاثرہ  افراد کو  یقین دلا یا ہے کہ ایک سال کے اندر اند  ان کو حکومت کی جانب سے تیار کردہ   نئے گھروں میں منتقل کردیا جائے گا جبکہ  قابلِ استعمال  گھروں کو پہنچنے والے نقصان کی مرمت کا کام جلد ہی شروع کردیا جائے گا ۔ صدر نے  منہدم ہونے والی عمارتوں کے مالکان کے خلاف قانونی چارہ جوئی  کرنے کا ابھی اعلان کیا ہے اور اس وقت تک 134 ٹھیکداروں کو حراست میں لیا جاچکا ہے جو  ملک سے فرار ہونے کی  ناکام کوشش کرہے تھے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Article

    آج رات آٹھ بجے سے ترکیہ بھر کے ٹیلی ویژن چینلز سے زلزلے کے متاثرین کےلیے ٹیلی تھون سروس کا آغاز

    پاکستانیوں کا ترکیہ سے اپنی محبت کے جذبے کے بڑھ چڑھ کر اظہار کا بہترین موقع

    Next Article وزیراعظم محمد شہباز شریف کی انقرہ پہنچنے پر صدارتی کمپلیکس میں صدر رجب طیب ایردوان سے ملاقات
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    16جنوری , 2026

    دنیا کے تواز ن کا پانسہ پلٹنے والے نئےدفاعی ستون، جلد ہی پاک-ترک -سعودی ا سلامی اتحادقائم کیے جانے کی توقع

    15جنوری , 2026

    2 تبصرے

    1. ملک امجد اسلام امجد on 15فروری , 2023 4:49 شام

      ترکی پاکستان کا برادر ملک ہے اور پاکستانی قوم کو ترکی دل وجان سے عَزیز ہے۔مشکل کی اس گھڑی میں پاک قوم اپنے بہن. بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان کی بحالی تک ہر ممکن مدد کرے گی۔ڈاکٹر فرقان بھائی آپ ترکی پر گہری نظر رکھتے ہیں اور ترک حالات سے پاک قوم کو مسلسل آگاہ رکھتے ہیں جس کے لیے ہم. آپ کے شکر گزار ہیں ۔اللہ آپ سب کو ہم سب کو اپنی امان میں رکھے آمین

      • ڈاکٹر فرقان حمید on 22مئی , 2023 10:11 صبح

        آمین

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.