Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»دنیا»قطر کی اسرائیل اور امریکہ نواز خوشامد نہ پالیسی بھی قطر کو اسرائیلی حملے سے نہ بچاسکی، اب اگلی باری کس ملک کی ہے؟عرب ممالک میں بھگڈرمچ گئی اسلامی ممالک میں نیٹو طرز عسکری اتحاد قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں
    دنیا

    قطر کی اسرائیل اور امریکہ نواز خوشامد نہ پالیسی بھی قطر کو اسرائیلی حملے سے نہ بچاسکی، اب اگلی باری کس ملک کی ہے؟عرب ممالک میں بھگڈرمچ گئی

    اسلامی ممالک میں نیٹو طرز عسکری اتحاد قائم کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید9ستمبر , 2025Updated:9ستمبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔7 Mins Read
    قطر پراسرائیل کا فضائی حملہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    قطر پر اسرائیل کا حملہ

    قطر پر اسرائیلی حملے نے ایک بار پھر عرب دنیا کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ کیا امریکہ پر انحصار ان کے تحفظ کی ضمانت بن سکتا ہے؟ تیل کی بے پناہ دولت رکھنے والے یہ ممالک اپنی سیکورٹی امریکہ اور بالواسطہ اسرائیل کے رحم و کرم پر چھوڑ بیٹھے ہیں، لیکن جب آزمائش کا وقت آیا تو امریکہ نے قطر کے ساتھ کھڑا ہونا تو درکنار، اسرائیل کو ہی حملے کی اجازت دی۔ اس تلخ حقیقت نے یہ واضح کر دیا ہے کہ مسلمانوں کی بقا اور دفاع کا راستہ مغرب کی غلامی سے نہیں بلکہ اپنی خودی کی بیداری سے نکلتا ہے۔

    پاکستان اپنی ایٹمی طاقت اور ناقابلِ تسخیر فوج کے باعث عالمِ اسلام کا قلعہ ہے، جبکہ ترکیہ جدید دفاعی پیداوار میں دنیا کے ترقی یافتہ ممالک سے ٹکر لینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہی وہ دو ممالک ہیں جو عرب دنیا کو امریکہ کے جھوٹے وعدوں سے نجات دلا سکتے ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ تیل کی دولت سے مالا مال عرب ممالک پاکستان اور ترکیہ کی قیادت میں نیٹو طرز کا ایک اسلامی عسکری اتحاد قائم کریں، جو اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں کو منہ توڑ جواب دینے کے قابل ہو۔

    یہ حملہ صرف قطر پر نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کے وقار پر حملہ ہے۔ اگر آج عرب دنیا نے اپنی آنکھیں نہ کھولیں تو کل یہ خطرہ ہر عرب ملک کے دروازے پر دستک دے گا۔ امریکہ اور اسرائیل کبھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ مسلمانوں کی بقا صرف اتحاد، غیرت اور اپنی عسکری طاقت پر بھروسے میں ہے۔

    امریکہ کا دوغلا کردار اور عرب دنیا کی حقیقت

     

     

     

    صدر ٹرمپ اور امیر قطر
    صدر ٹرمپ اور سعودی ولی عہد

    امریکہ نے ہمیشہ عرب دنیا کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا ہے۔ تیل کی دولت سے بھرے خزانوں کے باوجود سعودی عرب، قطر، کویت اور دیگر خلیجی ممالک نے اپنی حفاظت کے لیے امریکی اڈوں اور اسلحہ ساز کمپنیوں پر انحصار کیا۔ لیکن تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی اسرائیل نے جارحیت دکھائی، امریکہ نے نہ صرف خاموشی اختیار کی بلکہ پسِ پردہ اسرائیل کی پشت پناہی بھی کی۔

    قطر پر حالیہ حملے نے یہ سچائی کھول دی کہ امریکہ عرب دنیا کا محافظ نہیں بلکہ اسرائیل کا شراکت دار ہے۔ امریکی ہتھیار عربوں کو بیچے گئے مگر ان ہتھیاروں کا رخ کبھی اسرائیل کی طرف نہیں موڑا جا سکا۔ اس کے برعکس وہی ہتھیار یا تو بے کار ثابت ہوئے یا مسلمانوں کے آپس کے اختلافات میں استعمال کرائے گئے۔

    اسرائیل کا بڑھتا ہوا غرور اور مسلم دنیا کی کمزوری

    اسرائیلی وزیراعظم نتَن یا ہو

    اسرائیل سمجھتا ہے کہ مسلم دنیا منتشر ہے اور امریکہ کی چھتری کے نیچے دبک کر بیٹھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ بیک وقت فلسطین میں قتلِ عام بھی کرتا ہے، شام پر بمباری بھی، لبنان کو دھمکیاں بھی دیتا ہے اور اب قطر تک پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ اگر امت مسلمہ متحد اور عسکری لحاظ سے فعال ہوتی تو اسرائیل کبھی اتنی جرات نہ کرتا۔

    عرب دنیا کے کمزور فیصلے اور مغرب پر اندھا اعتماد اسرائیل کو مزید حوصلہ دے رہے ہیں۔ لیکن یہ حقیقت بھی ناقابلِ تردید ہے کہ جب تک پاکستان اور ترکیہ جیسی قوتیں آگے بڑھ کر قیادت نہیں کرتیں، تب تک عرب دنیا غلامی کے حصار سے نکل نہیں سکتی۔

    پاکستان: ایٹمی قلعہ اور امت کی امید

    پاک فوج ہمیشہ زندہ باد

    پاکستان وہ ملک ہے جس نے اسلام کے نام پر جنم لیا اور جس نے دنیا کو یہ دکھایا کہ مسلمان ایٹمی طاقت بن کر بھی کھڑا ہو سکتا ہے۔ 1998 کے ایٹمی دھماکوں نے صرف بھارت کو جواب نہیں دیا بلکہ پوری دنیا کو پیغام دیا کہ اسلام کے پاس بھی اپنی ڈھال اور اپنی تلوار ہے۔

    پاکستانی فوج دنیا کی بہترین افواج میں شمار ہوتی ہے۔ حالیہ برسوں میں پاکستان نے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف کامیاب جنگ لڑی بلکہ بھارت کو بھی کئی محاذوں پر ناکام بنایا۔ 7 مئی کی لڑائی میں پاکستان ایئر فورس کی شاندار کامیابی نے دنیا کو حیران کر دیا۔ یہ سب اس بات کا ثبوت ہے کہ اگر امت مسلمہ پاکستان کی عسکری طاقت پر اعتماد کرے تو کوئی طاقت اسرائیل یا بھارت کو جارحیت کی جرات نہیں دے سکتی۔

    ترکیہ: دفاعی صنعت کا قائد

    ترکیہ

    دوسری طرف ترکیہ صدر رجب طیب ایردوان کی قیادت میں دفاعی میدان میں حیرت انگیز ترقی کر چکا ہے۔ ڈرون ٹیکنالوجی، فضائی دفاعی نظام، جدید ٹینک اور بحری جہاز ترکیہ کو دنیا کے بڑے دفاعی پیدا کرنے والے ممالک میں شامل کر چکے ہیں۔

    ترکیہ نے اپنی دفاعی طاقت سے نہ صرف مغرب کو چونکایا بلکہ مسلم دنیا کو ایک نئی راہ دکھائی کہ اگر عزم اور قیادت ہو تو غلامی کے معاہدے توڑے جا سکتے ہیں۔ اسرائیل اور امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کرنے والا واحد مسلم لیڈر رجب طیب ایردوان ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے مسلمان ان پر اعتماد کرتے ہیں۔

    اسلامی عسکری اتحاد: وقت کی پکار

    اب سوال یہ ہے کہ امت مسلمہ کب تک امریکہ کے جھوٹے وعدوں اور اسرائیل کے ظلم برداشت کرتی رہے گی؟ وقت آ گیا ہے کہ نیٹو طرز کا ایک مضبوط اور فعال اسلامی عسکری اتحاد قائم کیا جائے۔

    پاکستان اور ترکیہ وہ دو ستون ہیں جن پر ایک نیا اسلامی اتحاد قائم ہو سکتا ہے۔ اگر تیل کی دولت ان ستونوں کو مضبوط کرے تو کوئی طاقت مسلمانوں کو زیر نہیں کر سکتی۔قطر پر حملہ ایک وارننگ ہے۔ یہ حملہ صرف ایک ملک پر نہیں بلکہ امتِ مسلمہ کی غیرت اور وقار پر ہوا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کبھی مسلمانوں کے خیرخواہ نہیں ہو سکتے۔ اگر بقا چاہیے تو مسلمانوں کو اپنی عسکری طاقت پر بھروسہ کرنا ہو گا، پاکستان اور ترکیہ کی قیادت پر اعتماد کرنا ہو گا اور نیٹو طرز کا اسلامی عسکری اتحاد قائم کرنا ہو گا۔

    یہ لمحہ عرب حکمرانوں کے  امتحان کا ہےیا یہ عرب حکمران  امریکہ کی غلامی کے زہر کو پیتے رہیں گے  یا پھر اپنی غیرت کا پرچم بلند کریں گے۔ قطر پر حملہ امت کی غیرت کو للکار رہا ہے۔ اگر آج بیداری نہ آئی تو کل یہ آگ ہر عرب شہر کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔وقت آ گیا ہے کہ امت مسلمہ ایک جسم کی طرح اٹھ کھڑی ہو۔ امت کو فیصلہ کرنا ہے: غلامی یا غیرت؟ امریکہ کی چھتری یا اسلامی اتحاد؟ قطر پر حملہ ہمیں جھنجھوڑ رہا ہے کہ جاگنے کا وقت آ گیا ہے۔ اب یا کبھی نہیں!

    یاد رکھو! دشمن تمہارے خزانوں سے نہیں ڈرتا، وہ ڈرتا ہے تمہارے اتحاد اور ایمان سے۔ یہ وقت ہے کہ تمہارے خزانوں کی چابیاں واشنگٹن نہیں بلکہ اسلام کے قلعے کو مضبوط کرنے میں استعمال ہوں۔

     یہ اتحاد صرف کاغذی نہیں بلکہ عملی ہو، جس میں مشترکہ کمانڈ، مشترکہ اسلحہ ساز صنعت اور مشترکہ دفاعی پالیسی ہو۔

    • پاکستان اپنی ایٹمی ڈھال فراہم کرے۔
    • ترکیہ اپنی دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری حکمتِ عملی شامل کرے۔
    • عرب دنیا اپنی بے پناہ تیل کی دولت سے مالی معاونت فراہم کرے۔

    اگر یہ اتحاد بن جائے تو نہ اسرائیل کی مجال ہو گی کہ وہ قطر پر حملہ کرے، نہ امریکہ مسلمانوں کو بلیک میل کر سکے گا۔ یہ اتحاد امت کی بقا کا ضامن بن سکتا ہے۔

    عرب دنیا کے لیے پیغام

    عرب ممالک

    عرب ممالک کو اب فیصلہ کرنا ہوگا کہ وہ کب تک دوسروں کی چھتری تلے غلام بن کر جئیں گے۔ آج قطر پر حملہ ہوا ہے، کل کو سعودی عرب، کویت یا امارات بھی اسی فہرست میں شامل ہو سکتے ہیں۔ امریکہ کا اصل مقصد صرف تیل کے ذخائر پر قابض ہونا اور اسرائیل کو خطے کا تھانیدار بنانا ہے۔

    اگر عرب حکمران اب بھی نہ جاگے تو آنے والی نسلیں انہیں معاف نہیں کریں گی۔ تاریخ کا سب سے بڑا سوال یہ ہو گا: جب امت کو اتحاد کی ضرورت تھی تو عرب دنیا نے کیا کیا؟

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر ایردوان :اسٹیل ڈوم کے ساتھ نئے دفاعی دور کا آغاز ، اسرائیل کے وزیراعظم پر کڑی تنقید ، اپوزیشن کو انتباہ ، نوجوان جوڑوں کے لیے خوشخبری
    Next Article

    اسرائیل کا پہلا ہدف قطر نہیں بلکہ ترکیہ تھا، نیٹو کی رکنیت اسرائیلی حملے کی راہ میں رکاوٹ، حماس کے اعلیٰ حکام کاترکیہ میں قیام اورایردوان سے رابطہ

    یہ حملہ صرف قطر پر نہیں بلکہ پوری امتِ مسلمہ پر حملہ ہے: صدر ایردوان

    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    وزیراعظم شہباز شریف اور ترک صدر ایردوان کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ، ایک دوسرے کو عیدالاضحیٰ کی مبارکباد

    26مئی , 2026

    ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا

    25مئی , 2026

    انقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد

    12مئی , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    Vinci Spin – Quick‑Hit Slots per Giocatori Veloci

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    30Bet: Quick‑Hit Casino Action for High‑Intensity Gamblers

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    Vinci Spin – Quick‑Hit Slots per Giocatori Veloci

    14جون , 2026

    Wonaco: The Quick‑Hit Playground for High‑Intensity Gamers

    14جون , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.