Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کردیے
    پاکستان

    ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں مذاکرات کے بعد پاکستان اور افغانستان نے جنگ بندی کے معاہدے پر دستخط کردیے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید19اکتوبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔5 Mins Read
    پاک-افغان جنگ بندی معاہدہ
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترکیہ   اور   قطر کی  کاوشوں سے افغانستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ 

    گزشتہ  کئی روز سے  جاری خونریز جھڑپوں کے بعد ترکیہ کی مؤثر سفارتی کوششوں اور ثالثی کے نتیجے میں افغانستان اور پاکستان نے ہنگامی جنگ بندی پر اتفاق کر لیا۔ دوحہ میں ہونے والے تاریخی مذاکرات میں دونوں ملکوں نے پائیدار امن اور استحکام کے لیے مشترکہ نظام اور رابطہ جاتی ڈھانچے قائم کرنے پر اتفاق کیا۔ اس پیش رفت کے بعد ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیاکہ ترکیہ، دونوں برادر ممالک اور خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔

    صدر ایردوان کی ہدایت پر خفیہ سروس (MIT)  کے سربراہ ابراہیم قالن کا کردار

    پاک-افغان جنگ بندی معاہدہ

    سلامتی سے متعلق باوثوق ذرائع کے مطابق، صدر ایردوان کے خصوصی حکم پر ایم آئی ٹی کے سربراہ ابراہیم کالن نے پاکستان اور افغانستان کے وفود کے ساتھ قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہونے والے مذاکرات میں براہِ راست شرکت کی۔
    ترکیہ اور قطر کی مشترکہ ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات کے دوران دونوں فریقین کے درمیان براہِ راست مکالمہ ممکن ہوا۔ بات چیت کا مقصد سرحدی کشیدگی کا خاتمہ اور دیرپا امن کا قیام تھا۔

    گزشتہ کئی دنوں سے جاری خونریز تصادم کے بعد قطر نے اعلان کیا کہ افغانستان اور پاکستان نے فوری جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کر دی ہے۔ دونوں ممالک، جن کے درمیان حالیہ جھڑپوں میں درجنوں افراد ہلاک اور سیکڑوں زخمی ہوئے، بحران کے آغاز کے بعد پہلی بار ایک ہی میز پر آمنے سامنے بیٹھے۔

    دوحہ میں تاریخی ملاقات: ترکیہ بطور ثالث

    ترک وزارتِ خارجہ کا بیان

    قطر کی وزارتِ خارجہ نے اتوار کے روز اعلان کیا کہ افغانستان اور پاکستان کے وفود دوحہ میں ایک اہم اجلاس میں شریک ہوئے۔ مذاکرات کے دوران فریقین نے دیرپا امن و استحکام کے لیے مشترکہ میکانزم تشکیل دینے اور آئندہ مذاکرات کے تسلسل پر اتفاق کیا۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان کئی دنوں سے جاری سرحدی جھڑپوں کے بعد بالآخر جنگ بندی کا فیصلہ سامنے آیا۔ اس پورے عمل میں صدر رجب طیب ایردوان کی ہدایت پر ترکیہ کی خفیہ ایجنسی (ایم آئی ٹی) نے فعال کردار ادا کیا۔

    دونوں ممالک کے خفیہ اداروں اور وزرائے دفاع کی شرکت

    جنگ بندی سے متعلق اس اہم اجلاس میں دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہان اور وزرائے دفاع شریک ہوئے۔ اجلاس کا مرکزی ایجنڈا حالیہ سرحدی جھڑپوں کے بعد جنگ بندی کے تسلسل اور پرتشدد واقعات کے پائیدار حل سے متعلق نکات پر مشتمل تھا۔
    مذاکرات رات گئے تک جاری رہے، اور ترکیہ، پاکستان اور قطر کے رہنماؤں کو لمحہ بہ لمحہ اس عمل سے آگاہ رکھا گیا۔

    جنگ بندی کے تکنیکی پہلو وں پر استنبول میں غور کیا جائے گا

    دوحہ مذاکرات کے اختتام پر فریقین اس بات پر متفق ہوئے کہ جنگ بندی کو پائیدار اور قابلِ تصدیق بنانے کے لیے ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی جائے۔یہ طے پایا کہ اس کمیٹی کا پہلا اجلاس استنبول میں منعقد ہوگا۔
    چودہ گھنٹے طویل مذاکرات کے بعد سامنے آنے والے فیصلے نے ایک بار پھر خطے میں استحکام اور مکالمے کے فروغ کے حوالے سے ترکیہ کے کلیدی کردار کو نمایاں کر دیا۔

    دہشت گردی، نقل مکانی اور سرحدی سلامتی زیرِ غور ہوں گے

    پاک-افغغان جنگ بندی معاہدہ

    استنبول میں ہونے والے آئندہ اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف اقدامات، پناہ گزینوں کے انتظام اور سرحدی سلامتی جیسے اہم امور پر تبادلۂ خیال کیا جائے گا۔ فریقین نے طویل المدتی حل کے لیے تکنیکی سطح پر مسلسل رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔

    11 اکتوبر کو تین ملکی انٹیلیجنس اجلاس ہوا تھا

    یہ پیش رفت اس ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے جو 11 اکتوبر کو استنبول میں ترکیہ، پاکستان اور قطر کے انٹیلیجنس سربراہان کے درمیان منعقد ہوئی تھی۔ اس دوران افغانستان کے ساتھ بھی بیک وقت رابطے جاری رکھے گئے تھے۔

    ایک ہفتے میں درجنوں ہلاکتیں اور سینکڑوں زخمی

    سرحدی علاقوں میں ایک ہفتے سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جھڑپوں میں دونوں جانب سے درجنوں فوجی اور شہری ہلاک ہوئے۔ افغانستان کے مشرقی صوبہ پکتیکا میں پاکستان کی فضائی کارروائی میں جاں بحق ہونے والوں کی نمازِ جنازہ میں ہزاروں افراد شریک ہوئے۔

    پاکستان کا مؤقف: کارروائیاں دہشت گردی کے خلاف ردِعمل تھیں

    پاکستانی حکام نے وضاحت کی کہ فضائی حملے سرحد پار سے ہونے والی دہشت گرد کارروائیوں کے خاتمے کے لیے کیے گئے تھے۔انہوں نے کہا کہ یہ حملے شدت پسند گروپ حافظ گل بہادر کے ٹھکانوں پر کیے گئے، جو ایک روز قبل خیبر پختونخوا میں ہونے والے خودکش حملے کے ردِعمل میں تھے۔

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ کا مؤقف

    ترکیہ کی وزارتِ خارجہ نے اپنے بیان میں کہا کہ ترکیہ، دونوں برادر ممالک اور پورے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے اپنی حمایت اور کوششیں جاری رکھے گا۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleپاکستان نے ہائیپر اسپیکٹرل سیٹلائٹ HS-1 کی کامیاب لانچ کے ذریعے ایک تاریخی سنگِ میل عبور کر لیا ہے
    Next Article 25 اکتوبر استنبول میں پاکستان- افغانستان تکنیکی مذاکرات کی تیاریوں کا آغاز، دہشت گردی کا مکمل قلع قمع کرنے پر غور
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    4مارچ , 2026

    صدر ایردوان کا ایسا قدم جو آج تک کوئی ترک رہنما نہ اٹھا سکا

    11فروری , 2026

    لاہور میں ڈی۔8 کمشنرز کا دوسرا غیر رسمی ریٹریٹ منعقد، 12ویں ڈی۔8 سربراہی اجلاس کی تیاریوں پر غور

    10فروری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    سیکریٹری جنرل ڈی۔8 سہیل محمود کا موسیاد کے عالمی کاروباری کردار کو خرا جِ تحسین

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    انقرہ میں ڈی۔8 کے سیکرٹری جنرل سہیل محمود کی نائب صدر ، وزیر خارجہ اور دیگر اعلیٰ حکام سے مذاکرات

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل کی جانب سے وزیراعظم طارق رحمان کو منصب سنبھالنے پر مبارکباد

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    سیکریٹری جنرل ڈی۔8 سہیل محمود کا موسیاد کے عالمی کاروباری کردار کو خرا جِ تحسین

    6مارچ , 2026

    اسرائیل اور امریکہ کا ایران کے بعد اگلا ہدف کیا پاکستان اور ترکیہ ہیں؟ سفارتی توازن کی باریک لکیر اور عوام کو لاحق خدشات

    4مارچ , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.