Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا
    ترکیہ

    ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید25مئی , 2026Updated:25مئی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔11 Mins Read
    ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP)
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ کی سیاست ایک مرتبہ پھر شدید ہلچل، غیر یقینی اور سیاسی کشمکش کے دور میں داخل ہوچکی ہے۔ اس مرتبہ سیاسی بحران کا مرکز صدر رجب طیب ایردوان  کی حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈولپمینٹ پارٹی(آق پارٹی ) نہیں بلکہ ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت Cumhuriyet Halk Partisi یعنی CHP بن چکی ہے، جو گزشتہ چند برسوں سے خود کو حکومت کے متبادل کے طور پر پیش کررہی تھی۔

    CHP وہ جماعت ہے جسے جدید ترکیہ کے بانی مصطفیٰ کمال اتاترک نے قائم کیا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ یہ جماعت نہ صرف ترکیہ کی قدیم ترین سیاسی جماعتوں میں شمار ہوتی ہے بلکہ ترکیہ کی سیکولر، جمہوری اور کمالسٹ سیاست کی علامت بھی سمجھی جاتی ہے۔ لیکن آج یہی جماعت شدید داخلی تقسیم، عدالتی مداخلت، قیادت کے بحران اور سیاسی غیر یقینی کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

    ترکیہ کی حالیہ سیاسی صورتِ حال کا سب سے اہم سوال یہی ہے کہ آخر CHP کے اندر ایسا کیا ہوا کہ پارٹی دو بڑے دھڑوں میں تقسیم ہوگئی؟ پارٹی کے سابق چیئرمین کمال کلیچدار اولو دوبارہ میدان میں کیوں آگئے؟ موجودہ چیئرمین اوزگور اوزیل کو کیوں کمزور کیا جارہا ہے؟ کیا واقعی عدالت کے فیصلے کے ذریعے پارٹی کی قیادت تبدیل کی جاسکتی ہے؟ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ آنے والے مہینوں میں CHP کے اندر کیا کچھ متوقع ہے؟

    یہ سوالات اس لیے بھی اہم ہیں کیونکہ CHP صرف ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ترکیہ کی اپوزیشن سیاست کا مرکزی ستون ہے۔ اگر یہ جماعت کمزور ہوتی ہے تو اس کے اثرات صرف پارٹی تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ترکیہ کی مجموعی اپوزیشن سیاست، جمہوری نظام اور 2028 کے صدارتی انتخابات تک محسوس کیے جائیں گے۔

    2023 کا تاریخی موڑ اور ‘تبدیلی’ کی سیاست

    CHP کے موجودہ بحران کو سمجھنے کے لیے 2023 کے صدارتی انتخابات اور اس کے بعد ہونے والے پارٹی کنونشن کی طرف جانا ضروری ہے۔

    2023 میں ترکیہ کی اپوزیشن نے چھ جماعتوں کے اتحاد کے ذریعے صدر ایردوان  کو اقتدار سے ہٹانے کی کوشش کی تھی۔ اس اتحاد کے صدارتی امیدوار CHP کے اُس وقت کے چیئرمین کمال کلیچدار اولو تھے۔ اپوزیشن کو یقین تھا کہ شدید معاشی بحران، مہنگائی اور عوامی بے چینی کے باعث اس مرتبہ ایردوان  کو شکست دی جاسکتی ہے۔

    لیکن نتائج اس کے برعکس آئے۔ صدر ایردوان  دوبارہ کامیاب ہوگئے جبکہ کلیچدار اولو کو شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ یہی شکست بعد میں CHP کے اندر شدید اختلافات کی بنیاد بنی۔پارٹی کے نوجوان اور متحرک حلقوں نے یہ سوال اٹھانا شروع کردیا کہ مسلسل انتخابی ناکامیوں کے باوجود پارٹی قیادت کیوں تبدیل نہیں ہوتی؟ خاص طور پر استنبول کے مقبول میئر اکرم امام اولو اور ان کے حامیوں نے پارٹی کے اندر ‘Değişim’ یعنی “تبدیلی” کی تحریک شروع کردی۔

    یہ صرف قیادت کی تبدیلی کا مطالبہ نہیں تھا بلکہ دراصل CHP کی سیاست، اندازِ قیادت اور حکمتِ عملی کو بدلنے کی کوشش تھی۔

    اکرم امام اولو اور ان کے حامی سمجھتے تھے کہ کلیچدار اولو اب عوامی سطح پر وہ کشش کھوچکے ہیں جو ایردوان  کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ دوسری طرف پارٹی کے روایتی حلقے کلیچدار اولو  کو ایک تجربہ کار اور اصولی رہنما سمجھتے تھے جنہوں نے مشکل ترین حالات میں پارٹی کو متحد رکھا۔

    اسی کشمکش کے نتیجے میں نومبر 2023 میں ہونے والے CHP کنونشن میں اوزگور اوزیل نے کلیچدار اولو  کو شکست دے دی اور پارٹی کے نئے چیئرمین منتخب ہوگئے۔

    یہ لمحہ CHP کی تاریخ کا ایک بڑا موڑ تھا۔ پہلی مرتبہ پارٹی کے اندر ‘پرانے گارڈ’ اور ‘نئی قیادت’ کے درمیان طاقت کی واضح تقسیم سامنے آئی۔

    اوزگور اوزیل کا عروج  اور نئی سیاست

    اوزگور اوزیل کو پارٹی کے اندر نسبتاً نرم مزاج، مصالحت پسند اور نوجوان قیادت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ ان کی کامیابی دراصل اکرم امام اولو  کی سیاسی حکمتِ عملی کی کامیابی بھی تھی کیونکہ امام اولو  نے پسِ پردہ اوزیل کی بھرپور حمایت کی تھی۔

    اوزیل کے اقتدار میں آنے کے بعد CHP نے نسبتاً جارحانہ اپوزیشن سیاست اپنائی۔ پارٹی نے معیشت، مہنگائی، عدلیہ، آزادیِ اظہار اور جمہوری حقوق جیسے موضوعات پر حکومت پر سخت تنقید شروع کردی۔

    پھر 2024 کے بلدیاتی انتخابات میں CHP نے حیران کن کامیابی حاصل کی۔ استنبول، انقرہ اور ازمیر سمیت کئی بڑے شہروں میں پارٹی نے اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنالی۔یہ نتائج CHP کے لیے نہایت اہم تھے کیونکہ پہلی مرتبہ ایسا محسوس ہونے لگا کہ اپوزیشن واقعی ایردوان  حکومت کے لیے ایک سنجیدہ خطرہ بن سکتی ہے۔خاص طور پر اکرم امام اولو  کا سیاسی قد تیزی سے بڑھنے لگا۔ کئی مبصرین انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات کے لیے اپوزیشن کا سب سے مضبوط امیدوار قرار دینے لگے۔

    لیکن شاید یہی وہ مرحلہ تھا جہاں CHP کے اندرونی اختلافات مزید گہرے ہونا شروع ہوگئے۔

    عدالت کا فیصلہ اور سیاسی دھماکہ

    2023 کے کنونشن کے بعد کلیچدار اولو  کے حامیوں نے عدالت سے رجوع کیا۔ ان کا مؤقف تھا کہ پارٹی کنونشن شفاف نہیں تھا، وفود پر دباؤ ڈالا گیا اور ووٹنگ کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئیں۔ابتدائی طور پر اس مقدمے کو محض داخلی سیاسی تنازع سمجھا جارہا تھا، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ یہ معاملہ ترکیہ کی سیاست کا مرکزی بحران بن گیا۔

    پھر مئی 2026 میں انقرہ کی اپیل عدالت نے ایک ایسا فیصلہ سنایا جس نے پورے ترکیہ کی سیاست کو ہلا کر رکھ دیا۔ عدالت نے CHP کے 2023 والے کنونشن کو “mutlak butlan” یعنی مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا۔

    اس فیصلے کے بعد اوزگور اوزیل کی قیادت قانونی طور پر معطل ہوگئی جبکہ کلیچدار اولو  اور ان کی پرانی انتظامیہ کو عارضی طور پر بحال کردیا گیا۔یہ فیصلہ CHP کے لیے سیاسی زلزلے سے کم نہیں تھا۔

    اوزگور اوزیل کے حامیوں نے فوراً اسے ‘عدالتی بغاوت’ قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت عدلیہ کے ذریعے اپوزیشن جماعت کو تقسیم کرنا چاہتی ہے۔ دوسری طرف کلیچدار اولو  کے حامیوں نے کہا کہ عدالت نے صرف قانونی بے ضابطگیوں کو درست کیا ہے۔اسی لمحے CHP عملی طور پر دو حصوں میں تقسیم ہوگئی۔

    کلیچدار اولو  کیوں واپس آئے؟

    یہ سوال اس وقت ترکیہ کی سیاست میں سب سے زیادہ زیرِ بحث ہے کہ آخر کمال کلیچدار اولو  دوبارہ کیوں متحرک ہوئے؟بظاہر اس کا جواب قانونی ہے کیونکہ عدالت نے ان کی قیادت بحال کردی۔ لیکن حقیقت اس سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہے۔کلیچدار اولو  صرف ایک سابق چیئرمین نہیں بلکہ CHP کے اندر ایک مکمل سیاسی مکتبِ فکر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ وہ پارٹی کے روایتی، ادارہ جاتی اور محتاط سیاسی انداز کے علمبردار سمجھے جاتے ہیں۔

    دوسری طرف اکرم امام اولو  اور اوزگور اوزیل زیادہ جارحانہ، عوامی اور جدید سیاسی انداز کی نمائندگی کرتے ہیں۔

    کلیچدار اولو  کے حامی سمجھتے ہیں کہ پارٹی بہت تیزی سے شخصی سیاست کی طرف جارہی تھی اور امام اولو  کا اثر حد سے زیادہ بڑھ رہا تھا۔ ان کے مطابق CHP کو کسی ایک مقبول شخصیت کے گرد نہیں بلکہ ادارہ جاتی ڈھانچے کے تحت چلنا چاہیے۔

    اسی لیے کلیچدار اولو  اب خود کو ‘پارٹی کی اصل شناخت’ کے محافظ کے طور پر پیش کررہے ہیں۔

    کیا حکومت اس بحران سے فائدہ اٹھارہی ہے؟ترکیہ کے سیاسی حلقوں میں اس وقت سب سے بڑی بحث یہی ہے کہ آیا حکومت اس پورے بحران سے سیاسی فائدہ اٹھارہی ہے یا نہیں۔

    CHP اور اپوزیشن کے کئی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اوزگور اوزیل اور اکرم امام اولو  کی بڑھتی ہوئی مقبولیت حکومت کے لیے خطرہ بن رہی تھی۔ خاص طور پر بلدیاتی انتخابات کے بعد اپوزیشن کا اعتماد کافی بڑھ گیا تھا۔ایسے میں عدالتی فیصلے کے ذریعے CHP کے اندر قیادت کا بحران پیدا ہونا حکومت کے لیے فائدہ مند سمجھا جارہا ہے۔

    البتہ حکومت اور صدر ایردوان  ہمیشہ یہی مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ عدلیہ آزاد ہے اور حکومت کا اس مقدمے سے کوئی تعلق نہیں۔

    تاہم ترکیہ میں عدلیہ اور سیاست کے تعلق پر ماضی سے ہی بحث جاری رہی ہے۔ اپوزیشن اکثر حکومت پر عدلیہ پر اثرانداز ہونے کے الزامات لگاتی رہی ہے جبکہ حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے۔

    پارٹی کارکن کس کے ساتھ ہیں؟

    یہ بھی ایک نہایت اہم سوال ہے۔زمینی سطح پر دیکھا جائے تو CHP کے نوجوان کارکنوں، شہری ووٹرز اور بڑے شہروں میں اوزگور اوزیل اور اکرم امام اولو  کو زیادہ حمایت حاصل دکھائی دیتی ہے۔خاص طور پر استنبول، انقرہ اور ازمیر جیسے شہروں میں پارٹی کے فعال حلقے ‘تبدیلی’ کے بیانیے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں۔

    دوسری طرف پارٹی کے پرانے اور نظریاتی حلقوں میں کلیچدار اولو  کا اثر اب بھی موجود ہے۔

    بہت سے بزرگ کارکن یہ سمجھتے ہیں کہ کلیچدار اولو  نے مشکل حالات میں پارٹی کو سنبھالا اور انہیں اس انداز میں الگ نہیں کیا جانا چاہیے تھا۔لیکن مجموعی طور پر حالیہ عوامی اجتماعات اور پارٹی ہیڈکوارٹر کے باہر مظاہروں سے یہی تاثر ملتا ہے کہ کارکنوں کی بڑی تعداد اوزگور اوزیل کے ساتھ کھڑی ہے۔

    کیا اوزگور اوزیل کو مستقل طور پر ہٹایا جاسکتا ہے؟

    قانونی طور پر اس کا جواب ‘ہاں’ہے، لیکن سیاسی طور پر معاملہ اتنا آسان نہیں۔اگر عدالت کا فیصلہ برقرار رہتا ہے تو اوزگور اوزیل کی چیئرمین شپ ختم ہوسکتی ہے۔ لیکن CHP اس فیصلے کے خلاف اعلیٰ عدالتوں میں اپیل کرچکی ہے۔اس کے علاوہ پارٹی کے اندر بھی شدید مزاحمت موجود ہے۔

    اگر اوزگور اوزیل کو مکمل طور پر ہٹانے کی کوشش کی گئی تو یہ امکان موجود ہے کہ پارٹی کے اندر باضابطہ علیحدگی یا نئے سیاسی دھڑے وجود میں آجائیں۔یہاں تک کہ بعض تجزیہ نگار یہ امکان بھی ظاہر کررہے ہیں کہ اکرم امام اولو  کے حامی مستقبل میں نئی سیاسی جماعت بنانے کی طرف جاسکتے ہیں اگر انہیں محسوس ہوا کہ CHP کے اندر ان کے لیے جگہ محدود ہوتی جارہی ہے۔

    آئندہ چند مہینوں میں کیا کچھ متوقع ہے؟

    یہ سوال اب ترکیہ کی سیاست کا سب سے اہم سوال بن چکا ہے۔آنے والے مہینوں میں کئی اہم امکانات سامنے آسکتے ہیں۔

    پہلا امکان: عدالتی فیصلہ برقرار رہتا ہے

    اگر اعلیٰ عدالتیں بھی موجودہ فیصلے کو برقرار رکھتی ہیں تو کلیچدار اولو  قانونی طور پر پارٹی کی قیادت مضبوط کرسکتے ہیں۔اس صورت میں اوزگور اوزیل اور امام اولو  کے حامی شدید ردعمل دے سکتے ہیں۔ پارٹی کے اندر احتجاج، بائیکاٹ یا نئی صف بندی کا امکان بڑھ جائے گا۔

    دوسرا امکان: اوزگور اوزیل کی واپسی

    اگر اپیل کامیاب ہوجاتی ہے تو اوزگور اوزیل مزید مضبوط ہوکر سامنے آسکتے ہیں۔اس صورت میں وہ اس بحران کو ‘جمہوریت کی فتح’ کے طور پر پیش کریں گے اور پارٹی کے اندر اپنی پوزیشن مزید مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے۔

    تیسرا امکان: نئے کنونشن کا انعقاد

    کئی مبصرین سمجھتے ہیں کہ بحران کا سب سے ممکنہ حل ایک نئے پارٹی کنونشن میں پوشیدہ ہے۔یعنی پارٹی دوبارہ انتخابات کروائے اور کارکن خود فیصلہ کریں کہ قیادت کس کے ہاتھ میں ہونی چاہیے۔

    لیکن سوال یہ ہے کہ کیا دونوں دھڑے اس پر متفق ہوں گے؟

    چوتھا امکان: اکرم امام اولو  کا کردار

    آنے والے مہینوں میں سب سے اہم کردار شاید اکرم امام اولو  کا ہوگا۔ اگر وہ کھل کر اوزگور اوزیل کے ساتھ کھڑے رہتے ہیں تو CHP کے اندر ‘تبدیلی’ کا دھڑا مضبوط رہ سکتا ہے۔لیکن اگر سیاسی دباؤ بڑھتا ہے یا عدالتی مسائل میں اضافہ ہوتا ہے تو اپوزیشن کی پوری حکمتِ عملی متاثر ہوسکتی ہے۔

    CHP کا بحران اور ترکیہ کا مستقبل

    CHP کا موجودہ بحران دراصل ترکیہ کی وسیع تر سیاسی کشمکش کی عکاسی کرتا ہے۔

    یہ صرف ایک جماعتی اختلاف نہیں بلکہ اس بات کی جنگ بھی ہے کہ ترکیہ کی اپوزیشن آئندہ کس سمت جائے گی۔کیا اپوزیشن روایتی اور محتاط سیاست جاری رکھے گی؟یا زیادہ جارحانہ، عوامی اور متحرک سیاسی انداز اپنائے گی؟یہ بحران اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ ترکیہ اس وقت شدید معاشی مشکلات، مہنگائی، سیاسی قطبیت اور علاقائی چیلنجز کا سامنا کررہا ہے۔ایسے وقت میں اپوزیشن کی کمزوری براہِ راست حکمران جماعت کے لیے فائدہ مند ثابت ہوسکتی ہے۔دوسری طرف اگر CHP اس بحران سے متحد ہوکر نکلتی ہے تو یہ پارٹی کو مزید مضبوط بھی بنا سکتا ہے۔

    CHP  کا مستقبل کیسا ہوگا؟

    ترکیہ کی ریپبلیکن پیپلز پارٹی اس وقت اپنی تاریخ کے شاید سب سے نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔کمال کلیچدار اولو  اور اوزگور اوزیل کے درمیان جاری کشمکش صرف دو شخصیات کی لڑائی نہیں بلکہ CHP کے مستقبل، ترکیہ کی اپوزیشن سیاست اور آئندہ صدارتی انتخابات کی سمت کا تعین بھی کرسکتی ہے۔

    عدالت کے فیصلے نے پارٹی کو شدید بحران میں دھکیل دیا ہے جبکہ اکرم امام اولو  کی بڑھتی ہوئی مقبولیت نے اس تنازع کو مزید پیچیدہ بنادیا ہے۔آنے والے چند مہینے CHP کے لیے فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔یا تو پارٹی اس بحران سے متحد ہوکر نکلے گی اور خود کو ایک مضبوط متبادل کے طور پر پیش کرے گی، یا پھر داخلی تقسیم اسے طویل سیاسی کمزوری کی طرف دھکیل دے گی۔

    ترکیہ کی سیاست اس وقت ایک ایسے موڑ پر کھڑی ہے جہاں CHP کے اندر ہونے والی ہر پیش رفت پورے ملک کی سیاسی سمت پر اثرانداز ہوسکتی ہے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleورلڈ اربن فورم: ڈی ایٹ قیادت کا پائیدار اور ماحول دوست شہروں کے قیام پر زور
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    ورلڈ اربن فورم: ڈی ایٹ قیادت کا پائیدار اور ماحول دوست شہروں کے قیام پر زور

    22مئی , 2026

    ڈی -ایٹ کے  سیکرٹری جنرل  سہیل محمود کی  باکو میں ورلڈ اربن فورم کے اجلاس میں شرکت

    20مئی , 2026

    سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے

    12مئی , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا

    ورلڈ اربن فورم: ڈی ایٹ قیادت کا پائیدار اور ماحول دوست شہروں کے قیام پر زور

    ڈی -ایٹ کے  سیکرٹری جنرل  سہیل محمود کی  باکو میں ورلڈ اربن فورم کے اجلاس میں شرکت

    سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    ترکیہ میں سیاسی بھونچال، ترکیہ کی مین اپوزیشن جماعت ری پبلیکن پیپلز پارٹی(CHP) دو دھڑوں میں تقسیم، ایردوان کا خاموش مگر ماسٹر اسٹروک جس نے CHPکو بھسم کرکے رکھدیا

    25مئی , 2026

    ورلڈ اربن فورم: ڈی ایٹ قیادت کا پائیدار اور ماحول دوست شہروں کے قیام پر زور

    22مئی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.