Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے
    ترکیہ

    سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید12مئی , 2026Updated:12مئی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    ڈی-ایٹ سیکرٹری جنرل سہیل محمود
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم (D-8) کے سیکریٹری جنرل، سہیل محمود نے استنبول میں منعقدہ 29ویں یوریشین اکنامک سمٹ سے خطاب کرتے ہوئے عالمی برادری کو درپیش سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے سفارت کاری، پائیدار ترقی اور بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ موجودہ دور میں عالمی امن، اقتصادی استحکام اور ماحولیاتی تحفظ کے اہداف صرف باہمی اعتماد، مکالمے اور اجتماعی حکمتِ عملی کے ذریعے ہی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

    29th Eurasian Economic Summit کا انعقاد Marmara Group Foundation کی جانب سے استنبول میں 11 سے 13 مئی تک کیا جا رہا ہے، جس کا مرکزی موضوع ‘عالمی ذمہ داری’ رکھا گیا ہے۔ اس بین الاقوامی سربراہی اجلاس میں سیاسی قائدین، سفارت کاروں، ماہرینِ معیشت، پالیسی سازوں، جامعات سے وابستہ شخصیات، کاروباری حلقوں اور سول سوسائٹی کے نمائندوں کی بڑی تعداد شریک ہے۔ اجلاس میں عالمی امن، بدلتی ہوئی عالمی معیشت، توانائی، ماحولیاتی بحران، پانی کی قلت، پائیدار ترقی، جمہوریت اور خواتین کے کردار جیسے اہم موضوعات زیر بحث ہیں۔

    افتتاحی اجلاس میں صدر رجب طیب ایردوان ،صدر شوکت مرزائیف  اور نوبیل انعام یافتہ سائنس دانعزیز سنجار  کے خصوصی پیغامات بھی پڑھ کر سنائے گئے، جبکہ مختلف علاقائی اور بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ نمائندوں نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔

    اپنے خطاب میں سیکریٹری جنرل سہیل محمود نے Akkan Suver اور مارمارا گروپ فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یوریشین اکنامک سمٹ نے یورپ، ایشیا، مشرقِ وسطیٰ اور دیگر خطوں کے درمیان مکالمے، فکری تبادلے اور تعلقات کے فروغ کے لیے ایک مؤثر عالمی پلیٹ فارم کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

    انہوں نے کہا کہ یہ سربراہی اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب دنیا کو بیک وقت متعدد پیچیدہ بحرانوں کا سامنا ہے۔ ان کے مطابق عالمی سطح پر جنگوں اور مسلح تنازعات میں اضافہ، بین الاقوامی قوانین اور کثیرالجہتی نظام کی کمزور ہوتی حیثیت، بڑھتا ہوا تجارتی تحفظ پسندی کا رجحان، عالمی تجارت اور سپلائی چین میں رکاوٹیں، معاشی سست روی، موسمیاتی تبدیلی، خوراک اور پانی کے بحران جیسے عوامل عالمی استحکام کے لیے بڑے خطرات بن چکے ہیں۔

    سہیل محمود نے اس بات پر زور دیا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون اور ترقیاتی شراکت داریوں کو فروغ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ D-8 تنظیم کے قیام کے بنیادی اصول — امن، مکالمہ، تعاون، انصاف، مساوات اور جمہوریت — آج کے غیر یقینی عالمی ماحول میں پہلے سے کہیں زیادہ اہمیت اختیار کر چکے ہیں۔

    انہوں نے بتایا کہ D-8 تنظیم، جس کے رکن ممالک کی مجموعی آبادی تقریباً 1.2 ارب ہے جبکہ مجموعی قومی پیداوار 5 کھرب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے، تجارت، سرمایہ کاری، زراعت، توانائی، گرین ٹرانزیشن، ڈیجیٹل تبدیلی اور جدت پر مبنی اقتصادی ترقی کے شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دے رہی ہے۔

    سیکریٹری جنرل نے اپنے خطاب میں تین بنیادی نکات پر خصوصی توجہ مرکوز کی۔
    انہوں نے کہا کہ دنیا کو بڑھتے ہوئے ترقیاتی تفاوت، مالیاتی کمزوریوں اور ٹیکنالوجی و بنیادی ڈھانچے تک غیر مساوی رسائی جیسے مسائل سے نمٹنے کے لیے جامع اور پائیدار اقتصادی ترقی کے ماڈل اختیار کرنا ہوں گے۔

    انہوں نے خبردار کیا کہ پانی کی قلت، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی صرف ماحولیاتی مسائل نہیں بلکہ عالمی امن، غذائی تحفظ اور طویل المدتی ترقی کے لیے بھی سنگین خطرات ہیں۔ ان کے مطابق گرین اکانومی اور ماحول دوست ترقی اب ایک انتخاب نہیں بلکہ عالمی ضرورت بن چکی ہے۔

    انہوں نے مزید کہا کہ جدید ٹیکنالوجی، علاقائی روابط، ڈیجیٹل تبدیلی اور خصوصاً جنوبی ممالک کے درمیان تعاون کو فروغ دے کر ہی ایک مضبوط، مستحکم اور خوشحال عالمی اقتصادی نظام کی بنیاد رکھی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق بدلتی ہوئی دنیا میں اقتصادی شراکت داری اور ٹیکنالوجی کے تبادلے کو فروغ دینا ناگزیر ہو چکا ہے۔

    سربراہی اجلاس کے موقع پر سہیل محمود نے مختلف ممالک اور بین الاقوامی اداروں کے اعلیٰ نمائندوں سے ملاقاتیں بھی کیں، جن میں علاقائی و عالمی صورتحال، اقتصادی تعاون اور گلوبل ساؤتھ کے ممالک کے درمیان شراکت داریوں کو مزید مستحکم بنانے کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

    تین روزہ یوریشین اکنامک سمٹ کے تفصیلی پروگرام میں عالمی امن، بدلتے ہوئے بین الاقوامی منظرنامے میں توانائی اور معیشت، موسمیاتی تبدیلی، پانی کے تحفظ، جمہوریت، خواتین کے کردار اور مستقبل میں پائیدار امن کے قیام جیسے موضوعات پر اعلیٰ سطحی اجلاس اور مذاکرے شامل ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleانقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    انقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد

    12مئی , 2026

    ڈی ایٹ (D-8) کے سیکریٹریٹ کے زیرِ اہتمام ویزا سہولت کاری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس

    11مئی , 2026

    ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں معرکۂ حق کی پر وقار تقریب

    8مئی , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے

    انقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد

    ڈی ایٹ (D-8) کے سیکریٹریٹ کے زیرِ اہتمام ویزا سہولت کاری سے متعلق ایک اعلیٰ سطحی ورچوئل اجلاس

    مئی 2025 کی چار روزہ جنگ: وہ لمحہ جب جنوبی ایشیا کا عسکری توازن بدل گیا،خصوصی تجزیہ: ڈاکٹر فرقان حمید

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    سہیل محمود: سنگین چیلنجز سے نمٹنے کے لیے پائیدار امن، سفارتی رابطوں، علاقائی یکجہتی، مؤثر عالمی تعاون ناگزیر ہے

    12مئی , 2026

    انقرہ یونیورسٹی میں پاک-ترک اہم ثقافتی و علمی پُر وقار تقریب کا انعقاد

    12مئی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.