Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»استنبول میں پاکستان- افغانستان مذاکرات ناکامی پر منتج، پاکستان ، مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا مشکور
    پاکستان

    استنبول میں پاکستان- افغانستان مذاکرات ناکامی پر منتج، پاکستان ، مذاکرات میں ثالثی پر ترکیہ اور قطر کا مشکور

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید7نومبر , 2025Updated:7نومبر , 2025کوئی تبصرہ نہیں ہے۔9 Mins Read
    استنبول میں پاکستان - افغانستان مذاکرات
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    تحریر: ڈاکٹر فرقان حمید

    پاکستان- افغانستان تعلقات

    افغانستان اور پاکستان کے درمیان استنبول میں طویل المدتی جنگ بندی معاہدے کے لیے جاری مذاکرات ایک بار پھر کسی نتیجے پر نہ پہنچ سکے۔ یہ مذاکرات، جو ابتدا میں خطے میں پائیدار امن کے امکان کی علامت بنے تھے، بالآخر بے نتیجہ ختم ہوئے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک بار پھر کشیدگی کے بادل منڈلانے لگے ہیں۔ ترکیہ اور قطر کی ثالثی میں ہونے والے یہ مذاکرات، جن سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ بین الاقوامی برادری کو بھی بڑی توقعات تھیں، اب سفارتی ناکامی کی ایک نئی مثال بن گئے ہیں۔

    سرحدی جھڑپوں سے مذاکرات تک

    گزشتہ چند ماہ کے دوران پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں نے صورتحال کو انتہائی نازک بنا دیا۔ سرحد پار سے دہشت گرد حملوں میں اضافے اور پاکستانی فورسز پر حملوں کے نتیجے میں درجنوں افراد جان سے گئے، جس پر اسلام آباد نے سخت ردِعمل ظاہر کیا۔پاکستان کا مؤقف واضح تھا کہ افغان سرزمین کو کالعدم تحریکِ طالبان پاکستان (TTP) جیسے گروہوں کے لیے پناہ گاہ کے طور پر استعمال نہیں ہونا چاہیے۔ دوسری جانب افغان حکام نے ایسے الزامات کی تردید کرتے ہوئے روایتی انداز میں غیر ریاستی عناصر کو موردِ الزام ٹھہرایا۔

    ان حالات میں ترکیہ اور قطر نے دونوں ممالک کے درمیان ثالثی کی پیشکش کی۔ ان مذاکرات کا پہلا دور دوحہ میں ہوا، جہاں 15 اکتوبر کو 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا۔یہ جنگ بندی اگرچہ محدود نوعیت کی تھی، مگر اس نے فوری طور پر حالات کو پُرامن بنانے میں مدد دی۔ مذاکراتی فریقین اور ثالث ممالک کو امید تھی کہ یہ عارضی معاہدہ ایک مستقل امن معاہدے میں بدل جائے گا۔

    دوحہ سے استنبول تک ،  امن کی امید کا سفر

    دوحہ کے مذاکرات کے بعد یہ طے پایا کہ تکنیکی سطح پر تفصیلی بات چیت ترکیہ کے شہر استنبول میں جاری رکھی جائے گی۔پاکستان نے واضح طور پر کہا کہ امن کی بنیاد صرف اسی صورت رکھی جا سکتی ہے جب افغان  سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کے لیے قابلِ تصدیق میکانزم  تشکیل دیا جائے۔اسلام آباد کا مطالبہ یہ بھی تھا کہ طالبان حکومت تحریری طور پر اس بات کی ضمانت دے کہ وہ پاکستان مخالف گروہوں کے خلاف عملی اقدامات کرے گی۔25 تا 28 اکتوبر تک جاری رہنے والے استنبول مذاکرات کے پہلے دور میں کوئی خاص پیشرفت نہیں ہو سکی۔ افغان وفد نے کئی معاملات پر زبانی یقین دہانیاں تو کرائیں، لیکن جب انہیں تحریری شکل دینے کی بات آئی تو وہ پس و پیش کرنے لگے۔پاکستانی وفد نے یہ مؤقف اپنایا کہ بین الاقوامی سطح کے مذاکرات میں زبانی وعدوں کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

    ترکیہ اور قطر کی ثالثی ،  نیک نیتی مگر ناکامی کے سائے

    ترکیہ اور قطر نے دونوں ممالک کو مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔ترک وزارتِ خارجہ اور قطری حکام نے پسِ پردہ رابطوں کے ذریعے فریقین کے درمیان اعتماد  سازی کی کوششیں  کی ہیں ۔ 

     ترکیہ، جو ہمیشہ پاکستان کا قریبی دوست اور برادر ملک رہا ہے، نے امن کے لیے غیر معمولی کردار ادا کیا۔تاہم، اختلافات کی خلیج اتنی گہری تھی کہ ثالثی کی تمام کوششیں رفتہ رفتہ کمزور پڑتی گئیں۔پاکستانی وفد کے مطابق، افغانستان کی طرف سے مذاکرات میں سنجیدگی کا فقدان نمایاں تھا۔ افغان نمائندے چاہتے تھے کہ پاکستان ان کے زبانی وعدوں پر بھروسہ کرے، جسے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے  ناقابلِ قبول قرار دیا۔انہوں نے واضح  طور پر کہا کہ بین الاقوامی مذاکرات میں فیصلے تحریری ہوتے ہیں، زبانی اعتبار کی کوئی گنجائش نہیں۔

    ترکیہ کی درخواست پر 6 نومبر کو  دوبارہ مذاکرات  آغاز

    اگرچہ اکتوبر کے اختتامی مذاکرات تقریباً ختم ہو چکے تھے، مگر ترکیہ نے امن کی آخری امید کے طور پر دونوں ممالک سے رابطہ کر کے مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے کی تجویز دی۔پاکستان نے ترکیہ کی درخواست قبول کی اور 6 نومبر کو ایک نئے طریقۂ کار کے تحت مذاکرات کا آغاز ہوا۔یہ مذاکرات روایتی فیس ٹو فیس انداز میں نہیں بلکہ بالواسطہ سفارتی رابطوں کے ذریعے آگے بڑھے۔
    ترکیہ اور قطر نے دونوں وفود سے علیحدہ علیحدہ بات چیت کی اور تجاویز کا تبادلہ کرایا۔

    تاہم،  دو  دن جاری رہنے والے ان غیرمستقیم مذاکرات کے باوجود کوئی قابلِ ذکر پیشرفت نہیں ہو سکی اور 7نومبر کو حکومتِ پاکستان نے باضابطہ طور پر ان مذاکرات کو ناکام قرار دے دیا۔

    پاکستانی مؤقف،  تحریری ضمانت

    وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف نے استنبول مذاکرات کے اختتام پر دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اب مذاکرات کے اگلے دور کا کوئی پروگرام نہیں۔ ثالثی کرنے والے ممالک ترکیہ اور قطر ہمارے مؤقف کے حامی ہیں۔ ہم ان کے شکر گزار ہیں کہ انہوں نے خلوص کے ساتھ کردار ادا کیا، مگر جب افغان وفد تحریری ضمانت دینے پر تیار نہ ہوا تو ثالثوں کے پاس بھی کہنے کو کچھ نہیں رہا۔

    خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر افغان سرزمین سے پاکستان پر کوئی حملہ ہوا تو اسلام آباد مؤثر اور فوری ردِعمل دے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ جب تک افغانستان کی طرف سے کوئی کاروائی نہیں ہوتی، ہمارے لیے سیز فائر قائم ہے، لیکن اگر خلاف ورزی ہوئی تو جواب ضرور دیا جائے گا اور خاموشی ہر گز اختیار نہیں کی جائے گی۔

    پاکستانی قیادت کے مطابق، ملک کا واحد مطالبہ یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے پاکستان پر حملوں کی اجازت نہ دے۔

    افغان وفد کا طرزِعمل ،  زبانی یقین دہانیاں مگر عملی اقدام سے گریز

    افغان وفد کی جانب سے مذاکرات میں بارہا یہ کہا گیا کہ طالبان حکومت امن چاہتی ہے، مگر جب ان سے تحریری یقین دہانی مانگی گئی تو وہ مؤخر کرتے رہے۔یہ طرزِعمل نہ صرف مذاکرات کی روح کے منافی تھا بلکہ ثالث ممالک کے لیے بھی مایوسی کا سبب بنا۔ترکیہ اور قطر دونوں نے اپنے طور پر تجاویز پیش کیں، مگر افغان فریق کی غیرلچکدار پالیسی نے تمام کوششیں ناکام بنا دیں۔

    افغان وفد  پر داخلی دباؤ

    کالعدم تنظیموں کے اثر و رسوخ، داخلی سیاسی کشمکش اور عالمی تنہائی کے باعث طالبان حکومت کسی بھی تحریری وعدے سے گریزاں رہی۔

    ترکیہ اور قطر کا کردار ،  خلوص، توازن اور شراکت داری

    ان مذاکرات میں ترکیہ اور قطر نے نہایت متوازن اور باوقار کردار ادا کیا۔ترکیہ نے ایک ذمہ دار ثالث کے طور پر دونوں ممالک کے درمیان براہ راست رابطوں کی بحالی کی کوشش کی۔پاکستانی حکام نے ترکیہ کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ ہم ترکیہ اور قطر کے خلوص اور بھائی چارے کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے پوری دیانتداری کے ساتھ امن کے لیے کام کیا، مگر حالات ایسے تھے کہ کسی نتیجے پر پہنچنا ممکن نہ ہو سکا۔ترکیہ کے وزیرِ خارجہ حقان فیدان کی ٹیم نے استنبول میں کئی غیرعلانیہ ملاقاتیں کرائیں،جبکہ قطری وفد نے دوحہ سے مسلسل رابطے میں رہتے ہوئے تجاویز کی ترسیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔

    پاکستان کا خیرسگالی پیغام

    وزیرِ اطلاعات عطاء اللّٰہ تارڑ نے کہا کہ پاکستان افغان عوام کے لیے خیرسگالی کے جذبات رکھتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن و استحکام قائم ہو۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ طالبان حکومت اگر ایسے اقدامات کرتی ہے جو خطے یا افغان عوام کے مفاد میں نہیں، تو پاکستان ان کی حمایت نہیں کرے گا۔ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور عوام کے تحفظ کے لیے ہر ضروری قدم اٹھاتا رہے گا۔

    خطے میں نئی صف بندی؟

    استنبول مذاکرات کی ناکامی کے بعد خطے میں سفارتی بساط ایک بار پھر تبدیل ہو رہی ہے۔پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ وہ اب زبانی وعدوں کے بجائے عملی اقدامات چاہتا ہے۔دوسری طرف طالبان حکومت کی سفارتی تنہائی مزید گہری ہو رہی ہے۔ترکیہ اور قطر، جنہوں نے طالبان کو عالمی برادری میں جگہ دلانے کے لیے سفارتی کوششیں کی تھیں، اب خود مایوس نظر آتے ہیں۔

    یہ صورتحال اس بات کی عکاس ہے کہ اگر افغان حکومت نے اپنے بین الاقوامی وعدوں، خصوصاً دوحہ امن معاہدے کے تقاضوں پر عمل نہ کیا تو نہ صرف پاکستان بلکہ پورا خطہ ایک بار پھر عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔

    پاکستان کا آئندہ لائحہ عمل ،  دفاع، سفارت اور علاقائی توازن

    پاکستان نے واضح کر دیا ہے کہ اگر افغان سرزمین سے دہشت گردی جاری رہی تو یکطرفہ اقدامات بھی خارج از امکان نہیں۔

    ذرائع کے مطابق اسلام آباد اب علاقائی سطح پر نئے سیکیورٹی انتظامات پر غور کر رہا ہے جن میں سرحدی نگرانی، خفیہ معلومات کا تبادلہ، اور بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کے طرزِعمل کو اجاگر کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

    ترکیہ کی سفارتی حمایت پاکستان کے لیے ایک مضبوط سہارا

    انقرہ نے ہر سطح پر پاکستان کے موقف کی تائید کی ہے اور اس امر پر زور دیا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کے خدشات جائز ہیں۔

    استنبول مذاکرات کا خاتمہ اگرچہ مایوس کن ہے، مگر یہ امن کے دروازے مکمل طور پر بند نہیں کرتا۔ترکیہ اور قطر جیسے برادر ممالک کی دلچسپی اور پاکستان کی سنجیدگی اس بات کی دلیل ہے کہ خطہ اب بھی پائیدار امن کی تلاش میں ہے۔

    تاہم، اس کے لیے افغان حکومت کو بین الاقوامی ذمہ داریوں کو تسلیم کرنا ہوگا اور اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے خاتمے کی عملی ضمانت دینا ہوگی۔

    پاکستان نے ایک بار پھر واضح کر دیا ہے کہ وہ امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔
    اسلام آباد کے لیے امن کا مطلب سلامتی، خودمختاری اور علاقائی استحکام ہے   اور اگر یہ شرائط پوری نہ ہوئیں تو مذاکرات کا تسلسل بے معنی ہو گا۔

    پاکستانی وفد کی استنبول سے روانگی

    پاکستانی وفد اب وطن واپس روانہ ہو چکا ہے، مگر یہ سفر سفارت کا اختتام نہیں بلکہ ایک نئے دور کی شروعات ہے۔استنبول کی فضا میں اب بھی وہ سوال گونج رہا ہے کہ کیا افغان قیادت اپنے وعدوں  کو  حقیقت میں بدل پائے گی؟ترکیہ اور قطر نے اپنا فرض ادا کر دیا ،  اب فیصلہ کابل کے ہاتھ میں   ہے۔  اگر طالبان حکومت نے خطے کے امن کے بجائے شدت پسندی کی راہ اختیار کی،تو پھر پاکستان اور اس کے اتحادی برادر ممالک کو سلامتی کی نئی حکمتِ عملی اپنانی پڑے گی۔استنبول مذاکرات کے اس انجام نے یہ واضح کر دیا ہے کہ امن کا راستہ نیک نیتی، تحریری ضمانتوں اور عملی اقدامات سے ہی گزرتا ہے ،  محض زبانی وعدوں سے نہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleوزیراعظم شہباز شریف سے ترک وزیر داخلہ علی یرلی قایا کی ملاقات، دوطرفہ تعاون کے فروغ پر اتفاق
    Next Article بھارت کی مئی 2025 کی عبرتناک شکست کے بعد نئی سازشیں ، طالبان کے ذریعے پاکستان میں دہشت گردی کا نیا محاذ کھول دیا
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    21جنوری , 2026

    Comments are closed.

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    ڈی ایٹ کے سیکرٹری جنرل(D8)سہیل محمود کی استنبول میں بحیرۂ اسود اقتصادی تعاون تنظیم (بی ایس ای سی) کے سیکرٹری جنرل اور رومانیہ کے سابق وزیرِ خارجہ، جنابِ عالی سفیر لازر کومانسکو سے ملاقات

    ترکیہ اسکالرشپس: دنیا کی جامع ترین ( fully funded)اسکالرشپس، آن لائن درخواستوں کا طوفان، ویب سائٹ کو کریش کے خدشات

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    او ٹی ایس اور ڈی-8 کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق سیکریٹری جنرلز کی ملاقات، ادارہ جاتی روابط مضبوط بنانے پر زور

    29جنوری , 2026

    بورڈ آف پیس،کیا پاکستان کے لیے کٹھن امتحان ہے؟ کیا ترکیہ ، مشرقِ وسطی ، سُپر قوتوں اور یورپی رہنماؤں کی عدم شرکت سےبورڈ آف پیس کو گہن لگ گیا ہے ؟

    26جنوری , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.