Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور
    ترکیہ

    ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید13اپریل , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔4 Mins Read
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترقی پذیر آٹھ ممالک کی تنظیم برائے اقتصادی تعاون (ڈی-8) نے تعلیم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے میدان میں باہمی اشتراک کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے پاکستان کی جامعات کو اپنے نمایاں پلیٹ فارم نیٹ ورک آف پائنیرز فار ریسرچ اینڈ انوویشن (NPRI) میں بھرپور شرکت کی دعوت دی ہے۔

    یہ پیغام ڈی-8 کے سیکریٹری جنرل، سفیر سہیل محمود نے استنبول میں تنظیم کے مرکزی سیکریٹریٹ میں پاکستان سے آئے ممتاز ماہرینِ تعلیم کے ایک اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کے دوران دیا۔ ملاقات میں تنظیم کے قیام سے لے کر اس کے ارتقائی سفر، مختلف شعبہ جات میں جاری تعاون، اور خصوصاً اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق کے فروغ کے لیے جاری اقدامات پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    پاکستانی وفد میں ملک کے تعلیمی و سائنسی حلقوں کی نمایاں شخصیات شامل تھیں، جن میں ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سیکٹر یونیورسٹیز آف پاکستان (فیڈرل چیپٹر) کے صدر ڈاکٹر عبدالباسط، پشاور کی سٹی یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے صدر صبور سیٹھی، اور او آئی سی-کامسٹیک اسلام آباد کے سی سی او ای و آؤٹ ریچ کے فوکل پرسن محمد مرتضیٰ نور شامل تھے۔ اس نمائندہ وفد کی موجودگی پاکستان کے تعلیمی شعبے کی وسعت اور عالمی سطح پر بڑھتے ہوئے کردار کی عکاس قرار دی جا رہی ہے۔

    اپنے خطاب میں سفیر سہیل محمود نے واضح کیا کہ ڈی-8 کے رکن ممالک کے درمیان تعلیم، سائنس اور ٹیکنالوجی وہ بنیادی ستون ہیں جن پر پائیدار ترقی کی عمارت استوار کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانا اور مشترکہ تحقیقی منصوبوں کو فروغ دینا موجودہ دور کی اہم ضرورت ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب عالمی معیشت تیزی سے علم پر مبنی نظام کی جانب بڑھ رہی ہے۔

    انہوں نے خصوصی طور پر ڈی-8 کے نیٹ ورک آف پائنیرز فار ریسرچ اینڈ انوویشن (NPRI) کو ایک کلیدی اور فعال پلیٹ فارم قرار دیا، جو رکن ممالک کی ممتاز جامعات اور تحقیقی اداروں کو ایک مربوط فریم ورک میں یکجا کرتا ہے۔ اس نیٹ ورک میں اس وقت 28 نمایاں ادارے شامل ہیں، جو مشترکہ تحقیق، اختراعی منصوبوں اور علمی تبادلوں کے ذریعے باہمی ترقی کی راہیں ہموار کر رہے ہیں۔ سیکریٹری جنرل نے پاکستانی جامعات کو تلقین کی کہ وہ متعلقہ قومی وزارتوں کے ذریعے اس نیٹ ورک میں شمولیت اختیار کر کے اس سے بھرپور استفادہ کریں۔

    اس موقع پر انہوں نے پاکستان کے اس نمایاں کردار کو بھی سراہا جو وہ ڈی-8 کے اہم ذیلی اداروں کی میزبانی کے ذریعے ادا کر رہا ہے۔ ان اداروں میں اسلام آباد کی کامسیٹس یونیورسٹی میں قائم ڈی-8 NPRI سیکریٹریٹ اور زرعی یونیورسٹی فیصل آباد میں قائم ڈی-8 ریسرچ سینٹر برائے زراعت و غذائی تحفظ شامل ہیں، جو تحقیق اور پالیسی سازی کے میدان میں اہم خدمات انجام دے رہے ہیں۔

    ملاقات کے دوران پاکستانی وفد کے اراکین نے ڈی-8 سیکریٹریٹ کی علمی و سائنسی روابط کے فروغ کے لیے کاوشوں کو سراہتے ہوئے اس امر پر زور دیا کہ پاکستان کی جامعات اور تحقیقی ادارے اس پلیٹ فارم کے ذریعے نہ صرف علاقائی بلکہ عالمی سطح پر اپنی موجودگی کو مزید مؤثر بنا سکتے ہیں۔ انہوں نے NPRI کے دائرہ کار میں تعاون بڑھانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا اور اسے مشترکہ ترقی کے لیے ایک اہم ذریعہ قرار دیا۔

    وفد کے اراکین اس وقت ترکیہ میں منعقدہ یوریشیا ہائر ایجوکیشن سمٹ (EURIE) 2026 میں شرکت کے سلسلے میں موجود ہیں، جہاں دنیا بھر سے جامعات اور تعلیمی اداروں کی وسیع نمائندگی دیکھی جا رہی ہے۔ یہ شرکت پاکستان کے تعلیمی شعبے کی بین الاقوامی سطح پر بڑھتی ہوئی شمولیت اور عالمی تعاون کے عزم کا عملی اظہار ہے۔

    ماہرین کے مطابق ڈی-8 جیسے پلیٹ فارمز کے ذریعے علم، تحقیق اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں اشتراک نہ صرف رکن ممالک کی معاشی و سائنسی ترقی کو مہمیز دے سکتا ہے بلکہ ایک ایسے مربوط علمی نظام کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہو سکتا ہے جو مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

    اس ملاقات نے ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کیا کہ ڈی-8 رکن ممالک علم پر مبنی معیشت کے قیام، تحقیق و اختراع کے فروغ، اور اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں قریبی تعاون کے ذریعے ایک مشترکہ اور پائیدار ترقی کے سفر کو آگے بڑھانے کے لیے پرعزم ہیں۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleصدر ایردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت ، سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    صدر ایردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت ، سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے

    12اپریل , 2026

    ڈی ایٹ کے ممالک میں سے پاکستان ، ترکیہ اور مصر ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ رکوانے کی کوششوں میں مصرف ہیں : سہیل محمود

    11اپریل , 2026

    ڈی  ایٹ (D-8) تنظیم برائے اقتصادی تعاون کا انٹرا بلاک تجارت کے فروغ کی جانب اہم پیش رفت

    31مارچ , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور

    صدر ایردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت ، سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے

    پاکستان کی سفارتی معرکہ آرائی: ناممکن سے ممکن تک کا سفر اور عالمی سیاست کا نیا رخ

    ڈی ایٹ کے ممالک میں سے پاکستان ، ترکیہ اور مصر ، ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ رکوانے کی کوششوں میں مصرف ہیں : سہیل محمود

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور

    13اپریل , 2026

    صدر ایردوان کی اسرائیل پر حملے سے متعلق خبر من گھڑت ، سراسر بے بنیاد اور حقائق کے منافی ہے

    12اپریل , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.