Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»پاکستان»پاکستان اور ترکیہ: یک جان دو قالب،ا یک روح، ایک عزم ، تاریخ، اعتماد اور حکمتِ عملی کی شراکت کا لازوال باب
    پاکستان

    پاکستان اور ترکیہ: یک جان دو قالب،ا یک روح، ایک عزم ، تاریخ، اعتماد اور حکمتِ عملی کی شراکت کا لازوال باب

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید17اپریل , 2026Updated:17اپریل , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔8 Mins Read
    وزیراعظم شہباز شریف- صدر ایردوان
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    خصوصی تجزیہ : ڈاکٹر فرقان حمید

    ترکیہ اور پاکستان کا   تاریخ کے آئینے میں ایک منفرد رشتہ

    عالمی سیاست کے پیچیدہ، پر آشوب اور تیزی سے بدلتے ہوئے منظرنامے میں، جہاں ریاستوں کے تعلقات محض وقتی مفادات، جغرافیائی ضرورتوں اور معاشی لین دین کے گرد گھومتے ہیں، وہاں پاکستان اور ترکیہ کا تعلق ایک ایسی درخشندہ مثال ہے جس کی نظیر عصری تاریخ میں ملنا محال ہے۔ یہ محض دو ملکوں کے درمیان سفارتی پروٹوکول یا جغرافیائی اتحاد کا نام نہیں، بلکہ یہ دو ایسی قوموں کی کہانی ہے جن کے دل ایک ساتھ دھڑکتے ہیں، جن کی تہذیب کی جڑیں ایک ہی مٹی میں پیوست ہیں اور جن کا مستقبل ایک دوسرے کی کامیابیوں سے جڑا ہوا ہے۔

    پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات کی بنیادیں کسی حالیہ معاہدے یا دفاعی ڈیل پر استوار نہیں ہوئیں، بلکہ یہ اس روحانی وابستگی کا تسلسل ہے جو خلافتِ عثمانیہ کے کڑے وقت میں برصغیر کے مسلمانوں کی تڑپ سے شروع ہوا تھا۔ جب ترک قوم اپنی بقا کی جنگ لڑ رہی تھی، تو لاہور سے لے کر ڈھاکا تک کے مسلمانوں نے اپنے پیٹ کاٹ کر اپنے ترک بھائیوں کی مدد کی تھی۔ یہی وہ “خون کا رشتہ” ہے جو آج ایک ایسی تناور دیوار بن چکا ہے جسے وقت کی کوئی آندھی متزلزل نہیں کر سکتی۔

    شہباز شریف اور ایردوان: ایک مثالی کیمسٹری اور برادرانہ مراسم

    موجودہ دور میں اس لازوال رشتے کو جس شخصیت نے نئی جلا بخشی ہے، وہ وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور ترک صدر رجب طیب ایردوان ہیں۔ ان دونوں رہنماؤں کے درمیان تعلق محض دو سربراہانِ مملکت کا نہیں، بلکہ دو سگے بھائیوں جیسا ہے۔ صدر ایردوان کی پاکستان سے محبت کسی سے ڈھکی چھپی نہیں، اور وزیراعظم شہباز شریف کا ترک ماڈلِ ترقی اور ترک قیادت پر غیر متزلزل اعتماد ان تعلقات کو ایک نئی بلندی پر لے گیا ہے۔

    وزیراعظم شہباز شریف کا حالیہ دورۂ ترکیہ اور انطالیہ ڈپلومیسی فورم میں شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی کے محور میں ترکیہ کو کلیدی اہمیت دیتا ہے۔ صدر ایردوان کی خصوصی دعوت پر انطالیہ پہنچنا اس گہری ذاتی دوستی کا مظہر ہے جو ان دونوں رہنماؤں کے درمیان برسوں سے قائم ہے۔ یہ کیمسٹری ہی ہے جو دونوں ممالک کو مشکل ترین حالات میں بھی ایک دوسرے کے قریب رکھتی ہے۔ جب دنیا کے دیگر ممالک کے درمیان مفادات کی جنگ میں سرد مہری آ جاتی ہےلیکن دنیا کے یہ دو ممالک ہمیشہ پر ایک دوسرے کے شانہ بشانہ کھڑے ہوتے ہیں۔

    انطالیہ ڈپلومیسی فورم: عالمی سفارت کاری کا نیا مرکز اور پاکستان کا کردار

    انطالیہ ڈپلومیسی فورم آج کے دور میں عالمی سطح پر ایک ایسا پلیٹ فارم بن چکا ہے جہاں دنیا کے مستقبل کے فیصلے ہوتے ہیں۔ اس فورم میں وزیراعظم شہباز شریف کی شرکت محض ایک رسمی حاضری نہیں، بلکہ یہ پاکستان کے اس نئے بیانیے کی عکاسی ہے جس کے تحت پاکستان اب دفاعی پوزیشن سے نکل کر ایک “ثالث” اور “امن کار” کے طور پر ابھر رہا ہے۔

    اس فورم کے “لیڈرز پینل” میں پاکستان کی نمائندگی اس بات کا اعتراف ہے کہ عالمی برادری پاکستان کو ایک ذمہ دار اور بااثر ایٹمی قوت تسلیم کرتی ہے جو علاقائی تنازعات کے حل میں کلیدی کردار ادا کر سکتی ہے۔ یہاں وزیراعظم کی مختلف عالمی رہنماؤں سے ملاقاتیں، خاص طور پر صدر ایردوان کے ساتھ ون آن ون مشاورت، آنے والے دنوں میں خطے کی سیاست کا رخ متعین کرے گی۔

    ایران-امریکہ مذاکرات: پاکستان کی خاموش مگر مؤثر سفارت کاری

    اس وقت پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر لگی ہوئی ہیں، اور اس کی وجہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مشرقِ وسطیٰ یا عالمِ اسلام میں تناؤ بڑھا ہے، پاکستان نے ہمیشہ آگ بجھانے والے کا کردار ادا کیا ہے۔ اسلام آباد میں منعقد ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور نے اگرچہ کوئی حتمی معاہدہ پیدا نہیں کیا، لیکن اس نے دہائیوں سے جمی برف کو پگھلا دیا ہے۔

    مذاکرات کا پہلا مرحلہ ایک ایسی ٹھوس بنیاد فراہم کر چکا ہے جس پر اب ایک جامع عالمی معاہدے کی عمارت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ پاکستان کی اس کامیابی نے اسے عالمی سفارت کاری کے صفِ اول میں لا کھڑا کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب اور قطر کے دوروں کے بعد ترکیہ پہنچنا اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ وہ چاہتے ہیں کہ ایران اور امریکہ کے درمیان دوسرے مرحلے کے مذاکرات سے پہلے تمام برادر ممالک اور علاقائی طاقتوں کو اعتماد میں لیا جائے۔

    پاکستان کی سفارتکاری پاکستان کے شایانِ شان  ہے: ایردوان

    ایران-امریکہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کے لیے پاکستان تیار ہے۔ توقع ہے کہ یہ اہم دور آئندہ ہفتے اسلام آباد میں شروع ہوگا۔ اس نازک موڑ پر ترکیہ کی حمایت اور مشورہ پاکستان کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ترکیہ، جو خود نیٹو کا رکن ہونے کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کی ایک توانا آواز ہے، اس موقع پر پاکستان میں ان مذاکرات  کو کامیاب بنانےمیں اپنےسفارتکاری کے تجربات سے پاکستان  کو مستفید کرسکتا ہے۔ 

    وزیراعظم شہباز شریف اور صدر ایردوان کے درمیان انطالیہ میں ہونے والی ملاقات کا اصل ایجنڈا یہی ہے کہ کس طرح تہران اور واشنگٹن کو ایک ایسے نکتے پر لایا جائے جہاں سے عالمی امن کی نئی راہ نکل سکے۔ ترکیہ کا اثر و رسوخ اور پاکستان کی غیر جانبدارانہ ثالثی مل کر ایک ایسی قوت بن سکتے ہیں جو ناممکن کو ممکن بنا دے۔انطالیہ ہی میں  پاکستان ، مصر، سعودی  عرب اور ترکیہ کے وزرائے  خارجہ بھی  اپنے  اجلاس میں  اس صورتِ حال میں پاکستان  سے مشاورت کرتے  ہوئے دنیا کے لیے امن کی راہ ہموار کرسکتے ہیں  جس کا بیڑہ پاکستان نے ان ہی وزراء  کی تلقین پر اٹھا رکھا  ہے۔

    دفاعی اور معاشی شراکت داری: بیانیے سے عمل تک

    پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات اب صرف جذباتی تقاریر تک محدود نہیں رہے۔ دفاعی شعبے میں دونوں ممالک ایک دوسرے کے دست و بازو بن چکے ہیں۔ “ملجم” کلاس بحری جہازوں کی تیاری ہو، یا جدید ترین ڈرون ٹیکنالوجی اور “قاآن” (KAAN) جیسے پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں میں تعاون، پاکستان اور ترکیہ اب دفاعی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

    معاشی محاذ پر، وزیراعظم شہباز شریف کا وژن واضح ہے: وہ دوطرفہ تجارت کو 5 ارب ڈالر کے ہدف تک لے جانا چاہتے ہیں۔ ترکیہ کی تعمیراتی کمپنیوں کا پاکستان میں بڑھتا ہوا کردار اور پاکستان کی افرادی قوت کا ترکیہ میں استعمال، دونوں معیشتوں کو استحکام بخش رہا ہے۔ یہ معاشی تعاون ہی وہ حصار ہے جو سیاسی تبدیلیوں کے باوجود ان تعلقات کو محفوظ رکھتی ہے۔

    بلا اختلاف رفاقت: دنیا کے لیے ایک منفرد مثال

    عالمی تعلقات کی تاریخ میں یہ بات حیران کن ہے کہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان کبھی بھی، کسی بھی سطح پر کوئی اختلاف پیدا نہیں ہوا۔ چاہے پاکستان میں کسی بھی جماعت کی حکومت ہو یا ترکیہ میں قیادت بدلے، ریاست کا ریاست سے اور عوام کا عوام سے رشتہ ہمیشہ مضبوط سے مضبوط تر ہوا ہے۔ یہ دنیا کے ان چند نادر تعلقات میں سے ہے جہاں “سرد مہری” کا لفظ کبھی لغت میں شامل نہیں ہوا۔

    کشمیر کے دیرینہ مسئلے پر ترکیہ کی دو ٹوک حمایت اور قبرص کے معاملے پر پاکستان کا اصولی موقف، یہ ظاہر کرتا ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے مفادات کو اپنا مفاد سمجھتے ہیں۔ یہ “ون نیشن، ٹو سٹیٹس” کا عملی نمونہ ہے۔

    چیلنجز اور مستقبل کا وژن

    یقیناً اس سفر میں چیلنجز بھی ہیں۔ عالمی طاقتوں کا دباؤ، بلاک پالیٹکس اور معاشی رکاوٹیں موجود ہیں، لیکن شہباز شریف اور ایردوان کی قیادت میں دونوں ممالک نے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے کرنے میں آزاد ہیں۔ پاکستان کا ایران-امریکہ مذاکرات میں کلیدی کردار ادا کرنا اس بات کا اعلان ہے کہ پاکستان اب کسی کے زیرِ اثر نہیں بلکہ خود ایک “انفلونسر” بن چکا ہے۔

    آئندہ ہفتے اسلام آباد میں ہونے والا مذاکرات کا دوسرا دور نہ صرف پاکستان کی سفارتی تاریخ کا ایک بڑا امتحان ہوگا بلکہ یہ پاکستان اور ترکیہ کی مشترکہ بصیرت کی فتح بھی ثابت ہو سکتا ہے۔ اگر پاکستان اس تعطل کو ختم کرنے میں کامیاب ہو گیا، تو اس کا کریڈٹ ان برادرانہ مشاورتوں کو جائے گا جو اس وقت انطالیہ کے ساحلوں پر ہو رہی ہیں۔

    تاریخ کا نیا رخ

    پاکستان اور ترکیہ کی یہ لازوال رفاقت آج ایک ایسے مقام پر ہے جہاں سے عالمی سیاست کا ایک نیا بیانیہ جنم لے رہا ہے۔ یہ بیانیہ انصاف، خود مختاری اور باہمی احترام پر مبنی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی متحرک سفارت کاری اور صدر ایردوان کا بلند و آہنگ موقف مل کر امتِ مسلمہ اور تیسری دنیا کے لیے امید کی ایک نئی کرن بن رہے ہیں۔

    جب ہم پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں، تو تحریکِ خلافت کے وہ جذبے آج بھی زندہ نظر آتے ہیں۔ اور جب ہم آگے دیکھتے ہیں، تو ایک مستحکم، خوشحال اور متحد پاکستان اور ترکیہ نظر آتے ہیں جو نہ صرف اپنے عوام بلکہ پوری دنیا کے لیے امن کا پیغامبر ہیں۔ یہ دوستی دائمی ہے، یہ رشتہ الہامی ہے، اور یہ اتحاد ناگزیر ہے۔ پاکستان اور ترکیہ کی یہ جوڑی آنے والی صدیوں تک عالمی سیاست کے ماتھے کا جھومر رہے گی۔

    پاک-ترک  دوستی  زندہ باد

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleمصر کے شہر اسوان کو 2026 کے لیے ‘سیاحتی شہر ‘قرار دینا عالمی اہمیت کا حامل ہے
    Next Article سہیل محمود: ٹوٹ پھوٹ کے شکار عالمی نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    سہیل محمود: ٹوٹ پھوٹ کے شکار عالمی نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے

    17اپریل , 2026

    مصر کے شہر اسوان کو 2026 کے لیے ‘سیاحتی شہر ‘قرار دینا عالمی اہمیت کا حامل ہے

    15اپریل , 2026

    ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور

    13اپریل , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    سہیل محمود: ٹوٹ پھوٹ کے شکار عالمی نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے

    پاکستان اور ترکیہ: یک جان دو قالب،ا یک روح، ایک عزم ، تاریخ، اعتماد اور حکمتِ عملی کی شراکت کا لازوال باب

    مصر کے شہر اسوان کو 2026 کے لیے ‘سیاحتی شہر ‘قرار دینا عالمی اہمیت کا حامل ہے

    ڈی-8 تعاون کا نیا افق: تحقیق و جدت کے عالمی نیٹ ورک میں پاکستان کی فعال شمولیت پر زور

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    سہیل محمود: ٹوٹ پھوٹ کے شکار عالمی نظام کو فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے

    17اپریل , 2026

    پاکستان اور ترکیہ: یک جان دو قالب،ا یک روح، ایک عزم ، تاریخ، اعتماد اور حکمتِ عملی کی شراکت کا لازوال باب

    17اپریل , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.