Close Menu
Tr-Urdu
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Facebook X (Twitter) Instagram
    Tr-Urdu
    Subscribe
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    Tr-Urdu
    You are at:Home»ترکیہ»ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور
    ترکیہ

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    ڈاکٹر فرقان حمیدBy ڈاکٹر فرقان حمید20جولائی , 2026کوئی تبصرہ نہیں ہے۔6 Mins Read
    ڈی-8 وزرائے ماحولیات
    پوسٹ شئیر کریں
    Facebook Twitter LinkedIn Email

    ترقی پذیر آٹھ اسلامی ممالک کی تنظیم (ڈی-8) نے ماحولیاتی اور موسمیاتی تعاون کے میدان میں ایک نئے باب کا آغاز کرتے ہوئے اپنی تاریخ کا پہلا وزارتی اجلاس برائے ماحولیات کامیابی سے منعقد کر لیا۔ ‘سی او پی 31 کی تیاری: بین الاقوامی تعاون کے ذریعے موسمیاتی اقدامات پر مؤثر عمل درآمد’  کے عنوان سے ہونے والا یہ اہم اجلاس 17 جولائی 2026ء کو استنبول میں منعقد ہوا، جس کی صدارت ترکیہ کے وزیر ماحولیات، شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلی اور COP31 کے نامزد صدر مراد کورم نے کی۔

    ڈی-8 وزرائے ماحولیات کا اجلاس

    اجلاس سے ایک روز قبل سینئر حکام کا اجلاس بھی منعقد ہوا، جس کے بعد ڈی-8 کے تمام نو رکن ممالک کے وزرائے ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی سے متعلق ذمہ دار وزراء اور اعلیٰ حکام نے وزارتی اجلاس میں شرکت کی۔ یہ ڈی-8 کی تاریخ کا پہلا ایسا اعلیٰ سطحی پلیٹ فارم تھا جو مکمل طور پر ماحولیات، موسمیاتی تبدیلی اور پائیدار ترقی کے موضوعات کے لیے مختص کیا گیا۔

    افتتاحی خطاب میں مراد کورم نے کہا کہ جغرافیائی وسعت، آبادی اور اقتصادی صلاحیت کے اعتبار سے ڈی-8 عالمی موسمیاتی ایجنڈے میں ایک مؤثر اور فیصلہ کن کردار ادا کرنے کی بھرپور استعداد رکھتا ہے۔ انہوں نے COP31 کی آئندہ صدارت کی ترجیحات اور جامع ایکشن ایجنڈا پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس مرتبہ توجہ صرف نئے وعدوں پر نہیں بلکہ پہلے سے کیے گئے عالمی وعدوں پر مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنانے پر مرکوز ہوگی۔ ان کے بقول، ڈی-8 ممالک کا مشترکہ عزم ترقی پذیر دنیا کی آواز کو عالمی موسمیاتی مذاکرات میں مزید مضبوط بنا سکتا ہے۔

    ڈی-8 وزرائے ماحولیات کا اجلاس

    ڈی-8 کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے اپنے خطاب میں کہا کہ موسمیاتی تبدیلی اب محض ایک ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی، سماجی اور ترقیاتی حکمت عملیوں کے لیے ایک بنیادی چیلنج کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ انہوں نے COP31 کی ترک صدارت کی جانب سے عمل درآمد پر مبنی حکمت عملی، موسمیاتی موافقت، موسمیاتی مالیات، نقصان و تلافی اور منصفانہ منتقلی کو دی جانے والی ترجیح کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہی وہ شعبے ہیں جن پر ترقی پذیر ممالک کی توقعات مرکوز ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی، ماحولیات کا تحفظ اور موسمیاتی لچک ایک دوسرے سے جدا نہیں بلکہ ایک ہی ترقیاتی عمل کے لازم و ملزوم عناصر ہیں۔ ان مقاصد کے حصول کے لیے ٹیکنالوجی کی منتقلی، سائنسی و فنی معلومات کا تبادلہ، جدید مالیاتی ذرائع اور جنوب-جنوب تعاون کو مزید وسعت دینا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی موسمیاتی پالیسی اب اعلانات سے آگے بڑھ کر عملی اقدامات کے مرحلے میں داخل ہونی چاہیے۔

    ڈی-8 وزرائے ماحولیات کا اجلاس

    سیکریٹری جنرل نے تجویز پیش کی کہ COP31 سے قبل ڈی-8 ممالک کے درمیان ایک مؤثر رابطہ اور مشاورتی نظام قائم کیا جائے تاکہ مشترکہ مؤقف اور ترجیحات کو مربوط انداز میں پیش کیا جا سکے۔ انہوں نے انطالیہ میں COP31 کے دوران مشترکہ ڈی-8 پویلین اور خصوصی ضمنی تقریبات کے انعقاد کی بھی تجویز دی، جہاں رکن ممالک اپنی کامیاب پالیسیوں، جدید ٹیکنالوجیز، موسمیاتی منصوبوں اور عملی تجربات کو عالمی برادری کے سامنے پیش کر سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ڈی-8 سیکریٹریٹ ترک صدارت اور تمام رکن ممالک کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھے گا۔

    اجلاس میں شریک وزراء اور مندوبین نے اپنے اپنے ممالک کے قومی حالات، ترقیاتی ترجیحات اور موسمیاتی پالیسیوں کا جائزہ پیش کرتے ہوئے اس امر پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کے چیلنج سے نمٹنے کے لیے اجتماعی اور مربوط حکمت عملی وقت کی اہم ضرورت ہے۔

    شرکاء نے اس بات کو بھی نمایاں کیا کہ مصر میں COP27، آذربائیجان میں COP29 اور اب 9 سے 20 نومبر 2026ء تک ترکیہ کے شہر انطالیہ میں ہونے والی COP31 کی میزبانی اس حقیقت کی عکاس ہے کہ ڈی-8 ممالک عالمی موسمیاتی حکمرانی میں مسلسل زیادہ فعال اور مؤثر کردار ادا کر رہے ہیں۔

    وزارتی اجلاس کے اختتام پر متفقہ طور پر “استنبول اعلامیہ“ منظور کیا گیا، جسے ڈی-8 میں ماحولیاتی اور موسمیاتی تعاون کے ایک جامع اور مستقبل بین لائحہ عمل کی حیثیت حاصل ہے۔

    اعلامیے میں ترکیہ کی COP31 کی میزبانی اور صدارت کی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ عالمی موسمیاتی ایجنڈے کو وعدوں اور اعلانات سے نکال کر عملی اقدامات کی جانب منتقل کیا جائے۔ اس مقصد کے لیے قابل رسائی موسمیاتی مالی وسائل، جدید ٹیکنالوجی کی منتقلی، استعداد کار میں اضافہ اور بین الاقوامی تعاون کو ناگزیر قرار دیا گیا۔

    اعلامیے کے تحت ڈی-8 ایڈاپٹیشن ایکشن فریم ورک (2026-2030) کی تیاری شروع کرنے، ڈی-8 ماحولیات و موسمیاتی تعاون پلیٹ فارم کے قیام کا خیرمقدم کرنے اور ماحولیات کے شعبے میں طویل المدتی تعاون کے لیے ایک عملی روڈ میپ تیار کرنے پر اتفاق کیا گیا۔ اس روڈ میپ میں موسمیاتی موافقت، نقصان و تلافی، منصفانہ منتقلی، موسمیاتی مالیات، زیرو ویسٹ، سرکلر اکانومی، موسمیاتی لحاظ سے محفوظ شہر، صاف توانائی، گرین اکانومی اور ماحولیاتی تعلیم جیسے شعبوں کو شامل کیا جائے گا۔

    اعلامیے میں “استنبول انیشی ایٹو برائے موسمیاتی اقدامات اور پائیدار ترقی“ کو بھی ایک رضاکارانہ فریم ورک کے طور پر متعارف کرایا گیا، جس کا مقصد موسمیاتی لچک، پائیدار ترقی، گرین سرمایہ کاری، ٹیکنالوجی کے تبادلے اور عمل درآمد پر مبنی شراکت داری کو فروغ دینا ہے۔

    ڈی-8 وزرائے ماحولیات کا اجلاس

    وزراء نے اس امر پر بھی اتفاق کیا کہ چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے (MSMEs)، نجی شعبہ، جامعات اور نوجوان مستقبل کی سبز معیشت، اختراع اور پائیدار ترقی کے بنیادی محرک ہیں، لہٰذا انہیں موسمیاتی حکمت عملیوں میں مؤثر شراکت دار بنایا جانا چاہیے۔

    اجلاس کو ڈی-8 کی تاریخ کا ایک اہم سنگ میل قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا گیا کہ تنظیم نے پہلی مرتبہ ماحولیات اور موسمیاتی تبدیلی کو اقتصادی تعاون کے ساتھ اپنی مستقل ترجیحات میں شامل کیا ہے، جس سے رکن ممالک کے درمیان تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے اور عالمی ماحولیاتی حکمرانی میں تنظیم کا کردار مزید مضبوط ہوگا۔

    اجلاس کے موقع پر ڈی-8 کے سیکریٹری جنرل سفیر سہیل محمود نے ترک وزیر ماحولیات مراد کورم سے علیحدہ ملاقات بھی کی۔ ملاقات میں ڈی-8 اور ترکیہ کی وزارت ماحولیات کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو مزید مستحکم بنانے، COP31 کی تیاریوں، وزارتی اجلاس کے فیصلوں پر عمل درآمد، موسمیاتی لچک، پائیدار شہری ترقی، سرکلر اکانومی، ماحولیاتی نظم و نسق اور گرین گروتھ کے شعبوں میں مشترکہ منصوبوں پر تبادلۂ خیال کیا گیا۔

    سفیر سہیل محمود نے اس تاریخی اجلاس کے انعقاد پر وزیر مراد کورم کی قائدانہ صلاحیتوں کو سراہتے ہوئے ترکیہ کی حکومت، بالخصوص وزارت ماحولیات، شہری ترقی اور موسمیاتی تبدیلی کا کامیاب میزبانی پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے ڈی-8 کے تمام رکن ممالک کی فعال شرکت اور تعمیری کردار کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ استنبول اجلاس کے فیصلے نہ صرف COP31 کی کامیابی میں معاون ثابت ہوں گے بلکہ ڈی-8 کے اندر ماحولیات اور موسمیاتی تعاون کو بھی ایک نئی سمت عطا کریں گے۔

    Share. Facebook Twitter Pinterest LinkedIn Tumblr Email
    Previous Articleڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا
    ڈاکٹر فرقان حمید

    Related Posts

    ڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا

    18جولائی , 2026

    دنیا سانس روک کرفٹ بال ورلڈ کپ2026 کی فائنل کی منتظر ، پہلی بار کئی تاریخی لمحات کا مظاہرہ متوقع

    18جولائی , 2026

    صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا

    15جولائی , 2026
    Leave A Reply Cancel Reply

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    ٹیگز
    #اسرائیل #حقان فیدان #حماس #سیاحت #غزہ #فلسطین آئی ٹی استنبول اسلام آباد افراطِ زر الیکشن 2024 انتخابات انقرہ اپوزیشن ایردوان بھونچال بیسٹ ماڈل آف ترکیہ ترقی ترک صدی ترک میڈیا ترکیہ تعلیم حزبِ اختلاف دنیا دہماکہ دی اکانومسٹ روس سلائِڈر سلائیڈر--- شہباز شریف صدر ایردوان صدر ایردوان، وزیراعظم شہباز شریف، پاکستان، ترکیہ عدلیہ عمران خان فیچرڈ قاتلانہ حملہ لانگ مارچ مغربی میڈیا ملت اتحاد وزیراعظم وزیراعظم شہباز شریف وزیراعظم شہباز شریف، صدر ایردوان، پاکستان، امداد پاکستان پاک فوج یورپ
    • Facebook
    • Twitter
    • Instagram
    اہم خبریں

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    ڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا

    دنیا سانس روک کرفٹ بال ورلڈ کپ2026 کی فائنل کی منتظر ، پہلی بار کئی تاریخی لمحات کا مظاہرہ متوقع

    صدر ایردوان کے وفادار فوجیوں نے کس طرح باغی فوجیوں کو چکمہ دے کر طیارے کو استنبول اتاترک ہوائی اڈے پر بحفاظت اتارکر ترکیہ میں بغاوت کو ناکام بنا یا

    کیٹگریز
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • ترکیہ
    • تعلیم
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • ویڈیو
    مقبول پوسٹس

    ڈی-8 کی تاریخ میں پہلی بار وزرائے ماحولیات کا اجلاس، استنبول اعلامیہ متفقہ طور پر منظور

    20جولائی , 2026

    ڈی-8 میڈیا ایکسی لینس سینٹر، پی ٹی وی کے لیے عالمی اشتراک کے نئے دروازے کھولے گا

    18جولائی , 2026
    Tr-Urdu All Rights Reserved © 2022
    • صفحہ اول
    • ترکیہ
    • پاکستان
    • پاکستان کمیونٹی
    • کالم اور مضامین
    • میگزین
    • تعلیم
    • ویڈیو
    • دلچسپ حقائق
    • دنیا

    Type above and press Enter to search. Press Esc to cancel.